حدیث نمبر: 1402
«أمني جبريل عند البيت مرتين فصلى بي الظهر حين زالت الشمس وكانت قدر الشراك وصلى بي العصر حين كان ظله مثله وصلى بي المغرب حين أفطر الصائم وصلى بي العشاء حين غاب الشفق وصلى بي الفجر حين حرم الطعام والشراب على الصائم فلما كان الغد صلى بي الظهر حين كان ظله مثله وصلى بي العصر حين كان ظله مثليه وصلى بي المغرب حين أفطر الصائم وصلى بي العشاء إلى ثلث الليل وصلى بي الفجر فأسفر ثم التفت إلي وقال: يا محمد هذا وقت الأنبياء من قبلك والوقت ما بين هذين الوقتين»
ترجمہ

(نبی کریم ﷺ نے فرمایا:)
”جبریل (علیہ السلام) نے بیت اللہ کے پاس دو مرتبہ میری امامت کروائی، پس انہوں نے مجھے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب سورج ڈھل گیا اور سایہ جوتے کے تسمے کے برابر تھا، اور عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، اور مغرب کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار افطار کرتا ہے، اور عشاء کی نماز اس وقت پڑھائی جب شفق غائب ہو گئی، اور فجر کی نماز اس وقت پڑھائی جب روزہ دار پر کھانا پینا حرام ہو جاتا ہے۔ پھر جب اگلا دن ہوا تو انہوں نے مجھے ظہر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا، اور عصر کی نماز اس وقت پڑھائی جب ہر چیز کا سایہ دگنا ہو گیا، اور مغرب کی نماز اسی وقت پڑھائی جب روزہ دار افطار کرتا ہے، اور عشاء کی نماز رات کے ایک تہائی حصے تک پڑھائی، اور فجر کی نماز روشنی پھیلنے پر پڑھائی۔ پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اے محمد! یہ آپ سے پہلے انبیاء کا وقت ہے، اور (نماز کا) وقت ان دونوں وقتوں کے درمیان ہے۔“

حوالہ حدیث صحیح الجامع الصغیر / حرف الألف / حدیث: 1402
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح
تخریج حدیث [حم د ت ك] عن ابن عباس. صحيح أبي داود ٤٢٦، الإرواء ٢٤٩.