حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنِّي مَرَرْتُ بِمَسْجِدٍ مِنْ مَسَاجِدِ بَنِي حَنِيفَةَ فَسَمِعْتُهُمْ يَقْرَءُونَ شَيْئًا لَمْ يُنْزِلْهُ اللهُ: الطَّاحِنَاتُ طَحْنَا، الْعَاجِنَاتُ عَجْنًا، الْخَابِزَاتُ خَبْزًا، اللَّاقِمَاتُ لَقْمًا، قَالَ: فَقَدّمَ ابْنُ مَسْعُودٍ ابْنَ النَّوَّاحَةَ إِمَامَهُمْ فَقَتَلَهُ، وَاسْتَكْثَرَ الْبَقِيَّةَ، وَقَالَ: «لَا أَجْزُرُهُمُ الْيَوْمَ الشَّيْطَانَ، سَيِّرُوهُمْ إِلَى الشَّامِ حَتَّى يَرْزُقَهُمُ اللهُ تَوْبَةً أَوْ يُفْنِيهِمُ الطَّاعُونُ»
قَالَ: وَأَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: إِنَّ هَذَا - لِابْنِ النَّوَّاحَةِ - أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَعَثَهُ إِلَيْهِ مُسَيْلِمَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ قَاتِلًا رَسُولًا لَقَتَلْتُكَ»
قَالَ: وَأَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: إِنَّ هَذَا - لِابْنِ النَّوَّاحَةِ - أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَعَثَهُ إِلَيْهِ مُسَيْلِمَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ قَاتِلًا رَسُولًا لَقَتَلْتُكَ»
ترجمہ
قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک آدمی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں بنو حنیفہ کی ایک مسجد کے پاس سے گزرا تو میں نے انہیں ایسی چیز پڑھتے سنا جو اللہ نے نازل نہیں کی تھی: ”آٹا پیسنے والیاں پیس رہی تھیں، آٹا گوندھنے والیاں گوندھ رہی تھیں، روٹی پکانے والیاں پکا رہی تھیں، اور لقمہ دینے والیاں کھلا رہی تھیں۔“ (راوی کہتے ہیں) پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کے امام ابن نواحہ کو آگے کیا اور اسے قتل کر دیا، اور باقی لوگوں کو (ان کی کثرت دیکھتے ہوئے) چھوڑ دیا، اور فرمایا: ”میں آج شیطان کے لیے انہیں ذبح نہیں کروں گا، انہیں شام کی طرف بھیج دو یہاں تک کہ اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے یا طاعون انہیں ختم کر دے۔“
(راوی نے) بیان کیا: مجھے اسماعیل نے قیس بن ابی حازم سے خبر دی کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ - یعنی ابن نواحہ - رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تھا، مسیلمہ نے اسے آپ ﷺ کی طرف بھیجا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں کسی قاصد کو قتل کرنے والا ہوتا تو تجھے قتل کر دیتا۔“
(راوی نے) بیان کیا: مجھے اسماعیل نے قیس بن ابی حازم سے خبر دی کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ - یعنی ابن نواحہ - رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تھا، مسیلمہ نے اسے آپ ﷺ کی طرف بھیجا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں کسی قاصد کو قتل کرنے والا ہوتا تو تجھے قتل کر دیتا۔“
حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَسْفَاطِيٌّ، وَأَبُو خَلِيفَةَ، قَالَا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، أَنَّهُ: أَتَى عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: مَا بَيْنِي، وَبَيْنَ أَحَدٍ مِنَ الْعَرَبِ إِحْنَةٌ، وَإِنِّي مَرَرْتُ بِمَسْجِدٍ لِبَنِي حَنِيفَةَ، فَإِذَا هُمْ يُؤْمِنُونَ بِمُسَيْلِمَةَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِمْ عَبْدُ اللهِ فَجِيءَ بِهِمْ، فَاسْتَتَابَهُمْ غَيْرَ ابْنِ النَّوَّاحَةِ، فَقَالَ لَهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْلَا أَنَّكَ رَسُولٌ لَضَرَبْتُ عُنُقَكَ» ، فَأَنْتَ الْيَوْمَ لَيْسَ بِرَسُولٍ فَأَمَرَ قَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ فَضَرَبَ عُنُقَهُ فِي السُّوقِ، ثُمَّ قَالَ: مَنْ أَرَادَ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى ابْنِ النَّوَّاحَةِ قَتِيلًا بِالسُّوقِ
ترجمہ
حارثہ بن مضرب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: میرے اور عرب کے کسی شخص کے درمیان کوئی دشمنی نہیں، اور میں بنو حنیفہ کی ایک مسجد کے پاس سے گزرا تو دیکھا کہ وہ مسیلمہ پر ایمان رکھتے ہیں۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف (آدمی) بھیجا اور انہیں لایا گیا، تو ابن نواحہ کے سوا سب سے توبہ کرائی، اور اس سے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: اگر تو قاصد نہ ہوتا تو میں تیری گردن اڑا دیتا، اور آج تو قاصد نہیں رہا۔“ چنانچہ قرظہ بن کعب کو حکم دیا تو اس نے بازار میں اس کی گردن اڑا دی، پھر فرمایا: ”جو ابن نواحہ کو بازار میں مقتول دیکھنا چاہے، دیکھ لے۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ لِابْنِ النَّوَّاحَةِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْلَا أَنَّكَ رَسُولٌ لَقَتَلْتُكَ» ، فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَسْتَ بِرَسُولٍ، يَا حَرَشَةُ، قُمْ فَاضْرِبْ عُنُقَهُ، فَقَامَ إِلَيْهِ فَضَرَبَ عُنُقَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ابن نواحہ سے فرمایا: ”میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: اگر تو قاصد نہ ہوتا تو میں تجھے قتل کر دیتا، لیکن آج تو قاصد نہیں رہا۔“ پھر فرمایا: ”اے حرشہ! اٹھ اور اس کی گردن اڑا دے۔“ چنانچہ وہ اس کی طرف اٹھا اور اس کی گردن اڑا دی۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِابْنِ النَّوَّاحَةِ: «أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللهِ؟» قَالَ: أَتَشْهَدُ أَنْتَ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللهِ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا أَنَّكَ رَسُولٌ لَقَتَلْتُكَ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابن نواحہ سے فرمایا: ”کیا تم گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ اس نے کہا: کیا آپ گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر تو قاصد نہ ہوتا تو میں تجھے قتل کر دیتا۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: أُتِيَ عَبْدُ اللهِ، فَقِيلَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ هَهُنَا نَاسٌ يَقْرَءُونَ قِرَاءَةَ مُسَيْلِمَةَ، فَرَدَّهُ عَبْدُ اللهِ فَلَبِثَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَلْبَثَ، ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ: وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لَقَدْ تَرَكْتُهُمُ الْآنَ فِي دَارٍ، وَإِنَّ ذَلِكَ الْمُصْحَفَ لَعِنْدَهُمْ، فَأَمَرَ قَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ فَسَارَ بِالنَّاسِ مَعَهُ، فَقَالَ: «ائْتِ بِهِمْ» ، فَلَمَّا أَتَى بِهِمْ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: «مَا هَذَا بَعْدَ اسْتِفَاضِ الْإِسْلَامِ؟» قَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، نَسْتَغْفِرُ اللهَ، وَنَتُوبُ إِلَيْهِ، وَنَشْهَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ هُوَ الْكَذَّابُ الْمُفْتَرِي عَلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، قَالَ: فَاسْتَتَابَهُمْ عَبْدُ اللهِ، وَسَيَّرَهُمْ إِلَى الشَّامِ، وَإِنَّهُمْ لَقَرِيبٌ مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا، وَأَبَى ابْنُ النَّوَّاحَةِ أَنْ يَتُوبَ فَأَمَرَ بِهِ قَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ فَأَخْرَجَهُ إِلَى السُّوقِ فَضَرَبَ عُنُقَهُ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ رَأْسَهُ فَيُلْقِيَهُ فِي حِجْرِ أُمِّهِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ: فَلَقِيتُ شَيْخًا مِنْهُمْ كَبِيرًا بَعْدَ ذَلِكَ بِالشَّامِ، فَقَالَ: لِيَرْحَمِ اللهُ أَبَاكَ، وَاللهِ لَوْ قَتَلْنَا يَوْمَئِذٍ لَدَخَلْنَا النَّارَ كُلُّنَا
ترجمہ
قاسم رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کے پاس آیا گیا اور ان سے کہا گیا: اے ابوعبدالرحمٰن! یہاں کچھ لوگ ہیں جو مسیلمہ کی قراءت پڑھتے ہیں۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسے ٹال دیا، پھر جتنا وقت اللہ نے چاہا وہ ٹھہرا رہا، پھر وہ شخص ان کے پاس آیا اور کہا: اس ذات کی قسم جس کی قسم کھاتا ہوں، اے ابوعبدالرحمن! میں نے ابھی انہیں ایک گھر میں چھوڑا ہے، اور وہ مصحف ابھی ان کے پاس ہے۔ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرظہ بن کعب کو حکم دیا، وہ لوگوں کو لے کر ان کے ساتھ روانہ ہوئے، اور فرمایا: ”انہیں لے آؤ۔“ جب انہیں لایا گیا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسلام کے پھیل جانے کے بعد یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! ہم اللہ سے استغفار کرتے اور اس کی طرف توبہ کرتے ہیں، اور گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ جھوٹا اور اللہ اور اس کے رسول پر افترا کرنے والا ہے۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے توبہ کروائی اور انہیں شام کی طرف بھیج دیا، اور وہ تقریباً اسّی آدمی تھے۔ ابن نواحہ نے توبہ کرنے سے انکار کر دیا، تو قرظہ بن کعب کو حکم دیا، اس نے اسے بازار میں لے جا کر اس کی گردن اڑا دی، اور اسے حکم دیا کہ اس کا سر لے جا کر اس کی ماں کی گود میں ڈال دے۔ عبدالرحمن بن عبداللہ کہتے ہیں: میں بعد میں شام میں ان میں سے ایک بوڑھے شخص سے ملا تو اس نے کہا: اللہ تمہارے والد پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! اگر ہم اس دن قتل کر دیے جاتے تو ہم سب جہنم میں داخل ہو جاتے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: «أَوَّلُ مَنْ أَفْشَى الْقُرْآنَ مِنْ فِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ، وَأَوَّلُ مَنْ بَنِي مَسْجِدًا يُصَلَّى فِيهِ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ، وَأَوَّلُ مَنْ أَذَّنَ بِلَالٌ، وَأَوَّلُ مَنْ غَدَا بِهِ فَرَسُهُ فِي سَبِيلِ اللهِ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ، وَأَوَّلُ مَنْ رَمَى فِي سَبِيلِ اللهِ سَعْدٌ، وَأَوَّلُ مَنْ قُتِلَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ بَدْرٍ مَهْجَعُ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وَأَوَّلُ حَيٍّ أَلِفُوا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُهَيْنَةُ، وَأَوَّلُ مَنْ أَدَّوُا الصَّدَقَةَ طَائِعِينَ مِنْ قِبَلِ أَنْفُسِهِمْ بَنُو عُذْرَةَ بْنِ سَعْدٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے قرآن سب سے پہلے پھیلانے والے عبداللہ بن مسعود تھے، سب سے پہلے ایسی مسجد بنانے والے جس میں نماز پڑھی جاتی تھی عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ تھے، سب سے پہلے اذان دینے والے بلال رضی اللہ عنہ تھے، سب سے پہلے جس کا گھوڑا اللہ کی راہ میں صبح سویرے نکلا وہ مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ تھے، سب سے پہلے اللہ کی راہ میں تیر چلانے والے سعد رضی اللہ عنہ تھے، بدر کے دن سب سے پہلے شہید ہونے والے مسلمان مہجع، عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے غلام تھے، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سب سے پہلے الفت پیدا کرنے والا قبیلہ جہینہ تھا، اور اپنی طرف سے خوشی سے صدقہ ادا کرنے والے سب سے پہلے بنو عذرہ بن سعد تھے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ أَشْعَثَ بْنِ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ زِيَادٍ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: «قُمْتُ إِلَى جَنْبِ عَبْدِ اللهِ، فِي الظُّهْرِ، أَوِ الْعَصْرِ، فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ»
ترجمہ
عبداللہ بن زیاد اسدی کہتے ہیں: میں ظہر یا عصر کی نماز میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پہلو میں کھڑا ہوا تو میں نے انہیں (قرآن) پڑھتے سنا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنِي مَنْ رَأَى، ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: «كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ، وَهُوَ سَاجِدٌ فَجَافَى مِرْفَقَيْهِ حَتَّى كِدْتُ أَنْ أَرَى بَيَاضَ إِبْطَيْهِ»
ترجمہ
یزید بن ابی زیاد کہتے ہیں: مجھے اس شخص نے بتایا جس نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا، اس نے کہا: گویا میں اب بھی انہیں دیکھ رہا ہوں کہ وہ سجدے میں تھے اور اپنی کہنیاں (پہلوؤں سے) اتنی دور رکھتے تھے کہ قریب تھا میں ان کی بغلوں کی سفیدی دیکھ لوں۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُرَّةَ، قَالَ: دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ، فَقُلْتُ: أُصَلِّي عِنْدَ كُلِّ سَارِيَةٍ، فَجِئْتُ إِلَى عَبْدِ اللهِ وَهُوَ جَالِسٌ، وَعِنْدَهُ أَصْحَابُهُ وَهُمْ فِي حَدِيثِي، فَقَالَ: «لَوْ عَلِمَ أَنَّ رَبَّهُ عِنْدَ السَّارِيَةِ الْأُولَى مَا تَرَكَهَا حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ»
ترجمہ
مرہ کہتے ہیں: میں مسجد میں داخل ہوا تو میں نے (دل میں) کہا: میں ہر ستون کے پاس نماز پڑھوں گا، پھر میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، وہ بیٹھے تھے اور ان کے ساتھی موجود تھے اور وہ میرے بارے میں بات کر رہے تھے، تو انہوں نے فرمایا: ”اگر نمازی کو معلوم ہو کہ اس کا رب پہلے ہی ستون کے پاس ہے تو وہ اسے نہ چھوڑے یہاں تک کہ اپنی نماز پوری کر لے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُرَّةَ الْهَمْدَانِيِّ، قَالَ: حُدَّثْتُ نَفْسِي أَنْ أُصَلِّيَ خَلْفَ كُلِّ سَارِيَةٍ فِي مَسْجِدِ الْكُوفَةِ، فَبَيْنَمَا أَنَا أُصَلِّي إِذْ أَتَانَا ابْنُ مَسْعُودٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَأَتَيْتُهُ لِأُخْبِرَهُ بِأَمْرِي فَسَبَقَنِي رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ بِالَّذِي أَصْنَعُ، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: «لَوْ يَعْلَمُ هَذَا أَنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ عِنْدَ أَدْنَى سَارِيَةٍ مَا جَاوَزَهَا حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ»
ترجمہ
مرہ ہمدانی رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے اپنے دل میں ٹھان لیا کہ کوفہ کی مسجد کے ہر ستون کے پیچھے نماز پڑھوں گا، تو میں نماز پڑھ ہی رہا تھا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ مسجد میں تشریف لائے، میں انہیں اپنے (اس عمل کے) بارے میں بتانے کے لیے گیا تو ایک آدمی مجھ سے پہلے پہنچ کر انہیں بتا چکا کہ میں کیا کر رہا ہوں۔ تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر اسے معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ قریب ترین ستون کے پاس ہے تو وہ اسے نہ چھوڑے یہاں تک کہ اپنی نماز پوری کر لے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الْبَرَّادِ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: «لَأَنْ أَطَأَ عَلَى جَمْرَةٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أَطَأَ عَلَى قَبْرِ مُسْلِمٍ»
ترجمہ
ابوعبداللہ براد کہتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا تو انہوں نے فرمایا: ”میرے لیے دہکتے انگارے پر پاؤں رکھنا اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر پاؤں رکھوں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «الْوَلِيمَةُ أَوَّلُ يَوْمٍ حَقٌّ، وَالثَّانِي فَضْلٌ، وَالثَّالِثُ رِيَاءٌ وَسُمْعَةٌ، وَمَنْ يُسَمِّعْ يُسَمِّعِ اللهُ بِهِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ولیمہ پہلے دن حق ہے، دوسرے دن فضل (زائد نیکی) ہے، اور تیسرے دن ریاکاری اور شہرت طلبی ہے، اور جو ریاکاری کرے، اللہ اسے رسوا کر دیتا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ، وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ كَلَامٌ، فَقَالَتْ: مَا أُدْمُكَ وَأُدْمُ عِيَالِكَ إِلَّا مِنْ لَبَنِ شَاتِي، فَأَقْسَمَ أَنْ لَا يَأْكُلَ مِنْ لَبَنِهَا شَيْئًا، فَضَافَهُمْ ضَيْفٌ فَأَدْمَتْ لَهُ بِلَبَنِ شَاتِهَا، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ عَلِمْتِ أَنِّي لَا آكُلُهُ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: وَاللهِ لَئِنْ لَمْ تَأْكُلْ لَا آكُلُ، فَقَالَ الضَّيْفُ: وَاللهِ لَئِنْ لَمْ تَأْكُلَا لَا آكُلُ، فَبَاتُوا بِغَيْرِ عَشَاءٍ، فَنَمَى الْحَدِيثُ إِلَى عَبْدِ اللهِ، فَجَاءَ إِلَى عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: «مَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ أَهْلِكَ؟» قَالَ: أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ طَلَاقٌ، وَلَا ظِهَارٌ، وَلَا إِيلَاءٌ، ثُمَّ قَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: «أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِذَا رَجَعْتَ إِلَى أَهْلِكَ أَنْ يَكُونَ أَوَّلَ مَا تَصْنَعُ أَنْ تَأْكُلَ مِنْ لَبَنِ هَذِهِ الشَّاةِ، وَقَدْ أَرَى أَنَّ أَطْيَبَ لِنَفْسِكَ أَنْ تُكَفِّرَ عَنْ يَمِينِكَ»
ترجمہ
ابو البختری رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کے ایک ساتھی اور اس کی بیوی کے درمیان کچھ بات چیت ہوئی، تو اس نے کہا: تمہارا اور تمہارے بال بچوں کا سالن میری بکری کے دودھ کے سوا اور کچھ نہیں ہے، تو اس نے قسم کھا لی کہ وہ اس کے دودھ میں سے کچھ نہیں کھائے گا۔ اتفاق سے ان کے پاس ایک مہمان آ گیا، تو اس نے اس کے لیے اپنی بکری کے دودھ سے سالن بنایا، تو آدمی نے کہا: تمہیں تو معلوم ہے کہ میں یہ نہیں کھاتا۔ عورت نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم نہیں کھاؤ گے تو میں بھی نہیں کھاؤں گی۔ مہمان نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم دونوں نہیں کھاؤ گے تو میں بھی نہیں کھاؤں گا، چنانچہ وہ رات کو بغیر کھانے کے سو گئے۔ یہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو وہ شخص ان کے پاس آیا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: ”تیرے اور تیرے گھر والوں کے درمیان کیا رکاوٹ حائل ہوئی؟“ اس نے کہا: نہ طلاق ہوئی، نہ ظہار، نہ ایلاء، پھر اس نے پورا واقعہ بیان کیا۔ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”میں تجھ پر قسم دیتا ہوں کہ جب تو اپنے گھر والوں کے پاس واپس جائے تو سب سے پہلے کام یہ کرنا کہ اس بکری کے دودھ میں سے پی لینا، اور میں سمجھتا ہوں کہ تیرے لیے بہتر یہی ہے کہ تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، يَقُولُ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنَزِّلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ دَوَاءً إِلَّا الْمَوْتُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے جو بھی بیماری اتاری اس کی دوا بھی اتاری، سوائے موت کے۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الصَّائِغُ الْمَكِّيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَمْرٍو الْفُقَيْمِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ هانئٍ الْمُرَادِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ قَيْسٍ، قَالَ: قَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ: «يَا حَارِثَ بْنَ قَيْسٍ، أَلَيْسَ يَسُرُّكَ أَنْ تَسْكُنَ وَسَطَ الْجَنَّةِ؟» قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: «فَالْزَمْ جَمَاعَةَ النَّاسِ»
ترجمہ
حارث بن قیس کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے مجھ سے فرمایا: ”اے حارث بن قیس! کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تم جنت کے درمیان میں رہو؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں۔ فرمایا: ”تو (مسلمانوں کی) جماعت کے ساتھ رہو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قُطْبَةَ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: خَطَبَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ يَوْمًا خُطْبَةً لَمْ يَخْطُبْنَا مِثْلَهَا قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا، قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا اللهَ، وَعَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ، وَالْجَمَاعَةِ فَإِنَّهُمَا حَبْلُ اللهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ، وَإِنَّ مَا تَكْرَهُونَ فِي الطَّاعَةِ، وَالْجَمَاعَةِ خَيْرٌ مِمَّا تُحِبُّونَ فِي الْفُرْقَةِ، وَإِنَّ اللهَ لَمْ يَخْلُقْ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا جَعَلَ لَهُ نُهْيَةً يَنْتَهِي إِلَيْهِ، ثُمَّ يَنْقُصُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، أَلَا إِنَّ عُرَى الْإِسْلَامِ قَدْ أُثْبِتَ، وَيُوشِكُ أَنْ يَنْقُصَ، وَيُدْبِرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنْ تَقْطَعُوا أَرْحَامَكُمْ، وَأَنْ تَفْشُوَ الْفَاقَةُ حَتَّى لَا يَخَافُ الْغَنِيُّ إِلَّا الْفَقْرَ، وَحَتَّى لَا يَجِدَ الْفَقِيرُ مَنْ يَعْطِفُ عَلَيْهِ، وَحَتَّى يَقُومَ السَّائِلُ بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ فَلَا يَقَعُ فِي يَدِهِ شَيْءٌ، فَبَيْنَمَا النَّاسُ كَذَلِكَ إِذْ خَارَتِ الْأَرْضُ خَارَةً مِثْلَ خُوَارِ الْبَقَرِ يَحْسِبُ كُلُّ قَوْمٍ أَنَّهَا خَارَتْ مِنْ سَاحَتِهِمْ، ثُمَّ يَكُونُ رُجُوعٌ فَتَخُورُ الثَّانِيَةَ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا» ، فَقِيلَ لَهُ: وَمَا أَفْلَاذُ كَبِدِهَا؟ قَالَ: «أَمْثَالُ هَذِهِ السَّوَارِي مِنَ الذَّهَبِ، وَالْفِضَّةِ، فَمِنْ يَوْمَئِذٍ لَا يَنْفَعُ الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُ مِنْهُ صَدَقَةَ مَالِهِ»
ترجمہ
ثابت بن قطبہ مزنی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک دن ہمیں ایسا خطبہ دیا جیسا نہ اس سے پہلے دیا تھا نہ اس کے بعد دیا۔ فرمایا: ”لوگو! اللہ سے ڈرو، اور اطاعت اور جماعت کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ دونوں اللہ کی وہ رسی ہیں جس کا اس نے حکم دیا ہے، اور اطاعت و جماعت میں تمہیں جو چیز ناپسند ہو وہ اس چیز سے بہتر ہے جو تمہیں تفرقے میں پسند ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے دنیا کی کوئی چیز پیدا نہیں کی مگر اس کی ایک انتہا مقرر کر دی ہے جس تک وہ پہنچے گی، پھر قیامت تک کم ہوتی جائے گی۔ خبردار! اسلام کی گرہیں مضبوط کی جا چکی ہیں، اور قریب ہے کہ وہ کم ہونے لگیں اور قیامت تک پیچھے ہٹتی جائیں، اور اس کی نشانی یہ ہے کہ تم اپنے رشتے ناطے کاٹنے لگو گے، اور فاقہ اس قدر پھیل جائے گا کہ مالدار کو صرف فقر کا خوف رہے گا، اور فقیر کو کوئی مہربانی کرنے والا نہیں ملے گا، یہاں تک کہ سائل دو جمعوں کے درمیان کھڑا رہے گا اور اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں پڑے گا۔ پھر لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ زمین گائے کی سی آواز کے ساتھ ایک بار گرجے گی، ہر قوم یہی سمجھے گی کہ یہ آواز ان کے صحن سے آئی ہے، پھر رک کر دوبارہ گرجے گی اور اپنے جگر کے ٹکڑے اگل دے گی۔“ ان سے پوچھا گیا: زمین کے جگر کے ٹکڑوں سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ان ستونوں جیسے سونے چاندی کے ڈھیر، اس دن کے بعد قیامت تک سونا چاندی کسی کام نہیں آئے گا، اور کوئی اپنے مال کا صدقہ قبول کرنے والا نہیں ملے گا۔“
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قُطْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ، وَالْجَمَاعَةِ فَإِنَّهُمَا حَبْلُ اللهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ، وَإِنَّ مَا تَكْرَهُونَ فِي الطَّاعَةِ وَالْجَمَاعَةِ خَيْرٌ مِمَّا تُحِبُّونَ فِي الْفُرْقَةِ، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَخْلُقْ شَيْئًا إِلَّا جَعَلَ لَهُ نِهَايَةً يَنْتَهِي إِلَيْهَا، وَإِنَّ الْإِسْلَامَ قَدْ أَقْبَلَ لَهُ ثَبَاتٌ، وَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَبْلُغَ نُهْيَتَهُ ثُمَّ يَرْتَدَّ، وَيَنْقُصَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنْ تَكْثُرَ الْفَاقَةُ، وَيُقْطَعَ الْأَرْحَامُ، حَتَّى لَا يَجِدَ الْفَقِيرُ مَنْ يَعُودُ عَلَيْهِ، وَحَتَّى يَرَى الْغَنِيُّ أَنَّهُ لَا يَكْفِيهِ مَا عِنْدَهُ وَحَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْكُو إِلَى أَخِيهِ، وَابْنِ عَمِّهِ، وَلَا يَعُودُ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، وَحَتَّى إِنَّ السَّائِلَ لَيَمْشِي بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ مَا يُوضَعُ فِي يَدِهِ شَيْءٌ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَلِكَ خَارَتِ الْأَرْضُ خَوْرَةً لَا يَرَوْنَ أَهْلُ كُلِّ سَاحَةٍ إِلَّا أَنَّهَا خَارَتْ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ تَهْدَأُ عَلَيْهِمْ مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ تَفْجَؤُهُمُ الْأَرْضُ تَقِيءُ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا» قِيلَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمَا أَفْلَاذُ كَبِدِهَا؟، قَالَ: «أَسَاطِينُ ذَهَبٍ، وَفِضَّةٍ، فَمِنْ يَوْمَئِذٍ لَا يُنْتَفَعُ بِذَهَبٍ، وَلَا فِضَّةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لوگو! اطاعت اور جماعت کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ دونوں اللہ کی وہ رسی ہیں جس کا اس نے حکم دیا ہے، اور اطاعت و جماعت میں جو چیز تمہیں ناپسند ہو وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں تفرقے میں پسند ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز پیدا نہیں کی مگر اس کی ایک انتہا مقرر کر دی جس تک وہ پہنچے گی، اور اسلام کو ابھی ثبات و استحکام حاصل ہے، اور قریب ہے کہ وہ اپنی انتہا کو پہنچ کر پلٹ جائے اور قیامت تک کم ہوتا جائے، اور اس کی نشانی یہ ہے کہ فاقہ بڑھ جائے گا اور رشتے ناطے کاٹے جائیں گے، یہاں تک کہ فقیر کو کوئی مہربانی کرنے والا نہیں ملے گا، اور مالدار یہ سمجھے گا کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ اس کے لیے کافی نہیں، یہاں تک کہ آدمی اپنے بھائی اور چچازاد سے شکایت کرے گا اور وہ اس کے ساتھ کوئی بھلائی نہیں کرے گا، اور سائل دو جمعوں کے درمیان چلتا پھرے گا مگر اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں رکھا جائے گا، یہاں تک کہ جب ایسا ہو جائے گا تو زمین ایک بار گرجے گی، ہر صحن والے یہی سمجھیں گے کہ یہ آواز ان کے صحن میں گرجی ہے، پھر جب تک اللہ چاہے گا خاموشی رہے گی، پھر زمین اچانک اپنے جگر کے ٹکڑے قے کر دے گی۔“ عرض کیا گیا: اے ابوعبدالرحمن! زمین کے جگر کے ٹکڑوں سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”سونے اور چاندی کے ستون، اس دن کے بعد قیامت تک سونے اور چاندی سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءَ، أَنَا زَائِدَةُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي قُطْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «الْزَمُوا هَذِهِ الْجَمَاعَةَ فَإِنَّهُ حَبْلُ اللهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ، وَإِنَّ مَا تَكْرَهُونَ فِي الْجَمَاعَةِ خَيْرٌ مِمَّا تُحِبُّونَ فِي الْفُرْقَةِ، وَإِنَّ اللهَ لَمْ يَخْلُقْ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا جَعَلَ لَهُ مُنْتَهًى، وَإِنَّ هَذَا الدِّينَ قَدْ تَمَّ، وَإِنَّهُ صَائِرٌ إِلَى نُقْصَانٍ، وَإِنَّ أَمَارَةَ ذَلِكَ أَنْ يُقْطَعَ الْأَرْحَامُ، وَيُؤْخَذَ الْمَالُ مِنْ غَيْرِ حَقِّهِ، وَتُسْفَكَ الدِّمَاءُ، وَيَشْكِي ذُو الْقَرَابَةِ إِلَى قَرَابَتِهِ لَا يَعُودُ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، وَيَطُوفُ السَّائِلُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ مَا يُوضَعُ فِي يَدِهِ شَيْءٌ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ خَارَتِ الْأَرْضُ خُوَارَ الْبَقَرِ إِذْ قَذَفَتْ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا فَلَا يُنْتَفَعُ بَعْدَهُ بِذَهَبٍ، وَلَا فِضَّةٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس جماعت کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ اللہ کی وہ رسی ہے جس کا اس نے حکم دیا ہے، اور جماعت میں جو چیز تمہیں ناپسند ہو وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں تفرقے میں پسند ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز پیدا نہیں کی مگر اس کی ایک انتہا مقرر کر دی، اور یہ دین اب مکمل ہو چکا ہے، اور عنقریب کمی کی طرف جانے والا ہے، اور اس کی نشانی یہ ہے کہ رشتے ناطے کاٹے جائیں گے، مال ناحق طریقے سے لیا جائے گا، خون بہائے جائیں گے، رشتہ دار اپنے رشتہ دار سے شکایت کرے گا مگر وہ اس کے ساتھ کوئی بھلائی نہیں کرے گا، اور سائل دو جمعوں کے درمیان گھومتا رہے گا مگر اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں رکھا جائے گا۔ پھر وہ اسی حال میں ہوں گے کہ زمین گائے کی سی آواز کے ساتھ گرجے گی اور اپنے جگر کے ٹکڑے نکال پھینکے گی، اس کے بعد سونے چاندی سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جائے گا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «مَنْ أَقَامَ الصَّلَاةَ، وَلَمْ يُؤْتِ الزَّكَاةَ فَلَا صَلَاةَ لَهُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جس نے نماز قائم کی مگر زکاۃ ادا نہیں کی، اس کی نماز نہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ خُلَيْدَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ دَخَلَ عَلَيْهِ، وَقَدْ نَصَبَ مَتَاعًا فِي بَيْتِهِ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «اسْتَخْفِ مِنْ شُوَارِ بَيْتِكَ فَإِنَّ النَّاسَ يُوشِكُوا أَنْ يَكُونُوا أَهْلَ قَتَبٍ»
ترجمہ
محمد بن زید بن خلیدہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے، اور انہوں نے اپنے گھر میں سامان سجا رکھا تھا، تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اپنے گھر کا سامان چھپا کر رکھو، کیونکہ عنقریب لوگ (سفر کے لیے) کجاوے والے بن جائیں گے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «إِنَّ المُؤْمِنَ مَأْلَفٌ وَلَا خَيْرَ فِيمَنْ لَا يَأْلَفُ، وَلَا يُؤْلَفُ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مومن گھلنے ملنے والا ہوتا ہے، اور اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جو نہ کسی سے گھلے ملے اور نہ کوئی اس سے گھلے ملے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءَ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ كَانَ يَسْتَعِيذُ مِنَ أَرْبَعٍ، يَقُولُ: «اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ غِنًى يُطْغِينِي، وَمِنْ فَقْرٍ يُنْسِيَنِي، وَمِنْ هَوًى يُرْدِينِي، وَمِنْ عَمِلٍ يُحْزِنُنِي»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ چار چیزوں سے پناہ مانگا کرتے تھے، فرماتے: ”اے اللہ! میں تجھ سے اس مال داری سے پناہ مانگتا ہوں جو مجھے سرکش بنا دے، اس فقر سے جو مجھے (تجھے) بھلا دے، اس خواہش سے جو مجھے ہلاک کر دے، اور اس عمل سے جو مجھے غمگین کر دے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ كَانَ يَقُولُ: «إِيَّاكُمْ وِصِعَابَ الْقَوْلِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے: ”سخت اور کڑوی باتوں سے بچو۔“
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءَ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ لِأَصْحَابِهِ حِينَ قَدِمُوا عَلَيْهِ: «هَلْ تَجَالَسُونَ؟» قَالُوا: لَيْسَ نَتْرُكُ ذَلِكَ، قَالَ: «فَهَلْ تَزَاوَرُونَ؟» قَالُوا: نَعَمْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ الرَّجُلَ مِنَّا لَيَفْقِدُ أَخَاهُ فَيَمْشِي فِي طَلَبِهِ إِلَى آخِرِ الْكُوفَةِ حَتَّى يَلْقَاهُ، قَالَ: «فَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ»
ترجمہ
عون بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: جب کچھ لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے پوچھا: ”کیا تم آپس میں بیٹھتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ہم یہ نہیں چھوڑتے۔ فرمایا: ”کیا تم ایک دوسرے سے ملنے جاتے ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، اے ابوعبدالرحمن! ہم میں سے کوئی اپنے بھائی کو نہ پائے تو کوفے کے آخری کنارے تک اسے ڈھونڈتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اسے پا لے۔ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم ہمیشہ بھلائی پر رہو گے جب تک ایسا کرتے رہو گے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زِيَادِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَكَنٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «لَا تَأْكُلُوا مِنَ الْجُبْنِ إِلَّا مَا صَنَعَ الْمُسْلِمُونَ، وَأَهْلُ الْكِتَابِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”پنیر صرف وہی کھاؤ جو مسلمانوں یا اہل کتاب نے بنایا ہو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، «أَنَّ عَبْدَ اللهِ كَانَ إِذَا قَامَ فِي الصَّلَاةِ خَفَضَ فِيهَا صَوْتَهُ، وَيَدَهُ، وَبَصَرَهُ»
ترجمہ
ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنی آواز، اپنا ہاتھ اور اپنی نظر نیچی رکھتے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، قَالَ: مَا خَطَبَ عَبْدُ اللهِ بِالْكُوفَةِ خُطْبَةً إِلَّا شَهِدْتُهَا فَسَمِعْتُهُ يَوْمًا، وَسُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ ثَمَانِيًا وَأَشْبَاهَ ذَلِكَ، فَقَالَ: هُوَ كَمَا قَالَ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ كِتَابَهُ وَبَيَّنَ بَيَانَهُ، فَمَنْ أَتَى الْأَمْرَ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَقَدْ بَيَّنَ لَهُ، وَمَنْ خَالَفَ فَوَاللهِ مَا نُطِيقُ كُلَّ خِلَافِكُمْ»
ترجمہ
نزال بن سبرہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں جو بھی خطبہ دیا میں اس میں حاضر رہا، تو میں نے ایک دن انہیں سنا، ان سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو (اپنی بیوی کو) آٹھ طلاقیں دے دے اور اس طرح کے (دیگر) مسائل، تو انہوں نے فرمایا: ”جیسا اس نے کہا ویسا ہی ہو گیا۔“ پھر فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اسے واضح طور پر بیان کر دیا، تو جو شخص کسی معاملے میں اس کے صحیح رخ سے آئے اس کے لیے حکم واضح کر دیا گیا ہے، اور جو مخالفت کرے تو اللہ کی قسم! ہم تمہاری ہر مخالفت کی طاقت نہیں رکھتے۔“
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا شُعْبَةُ، قَالَ يَحْيَى بْنُ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ: أَخْبَرَنِي عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سُئِلَ ابْنُ مَسْعُودٍ، عَنْ صَوْمِ الدَّهْرِ فَكَرِهَهُ، وَقَالَ: «صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ»
ترجمہ
یحییٰ بن عمرو بن سلمہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے صومِ دہر (سارا سال روزے رکھنے) کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اسے ناپسند کیا اور فرمایا: ”ہر مہینے میں تین دن کے روزے (کافی ہیں)۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «صَوْمُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ يُذْهِبْنَ وَحَرَ الصَّدْرِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہر مہینے میں تین دن کے روزے سینے کی جلن (کینہ و غصہ) دور کر دیتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللهِ يَقُولُ بَعْدَ الرُّكُوعِ: «اللهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ مِلْءَ السَّمَاوَاتِ وَمِلْءَ الْأَرْضِ وَمِلْءَ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْءٍ بَعْدُ، أَهْلَ الثَّنَاءِ وَالْمَجْدِ، لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ»
ترجمہ
ابوعبیدہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ رکوع کے بعد کہا کرتے تھے: ”اے اللہ! تیرے ہی لیے حمد ہے، آسمانوں بھر، زمین بھر، اور اس کے بعد جو کچھ تو چاہے اس بھر، اے ثنا اور بزرگی کے لائق! جو تو عطا کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں، اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں، اور کسی مال دار کا مال تیرے مقابلے میں اسے کچھ فائدہ نہیں دیتا۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِي، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ وَائِلِ بْنِ رَبِيعَةَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: «مَا بَيْنَ السَّمَاءِ، وَالْأَرْضِ مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”آسمان اور زمین کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: «مَا بَيْنَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَالَّتِي تَلِيهَا مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ، وَمَا بَيْنَ كُلِّ سَمَاءٍ مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ، وَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ وَالْكُرْسِيِّ مَسِيرَةَ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ، وَمَا بَيْنَ الْكُرْسِيِّ، وَالْمَاءِ مَسِيرَةَ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ، وَالْعَرْشُ عَلَى الْمَاءِ، وَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الْعَرْشِ يَعْلَمُ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”پہلے آسمان اور اس سے اگلے آسمان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے، اور ہر آسمان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے، اور ساتویں آسمان اور کرسی کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے، اور کرسی اور پانی کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے، اور عرش پانی پر ہے، اور اللہ عزوجل عرش پر ہے، جو کچھ تم کر رہے ہو وہ جانتا ہے۔“
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: «تَطْلُعُ الشَّمْسُ مِنْ جَهَنَّمَ فِي قَرْنِ شَيْطَانٍ، وَبَيْنَ قَرْنِ شَيْطَانٍ، فَمَا تَرْتَفِعُ فِي السَّمَاءِ قَضْمَةً إِلَّا فُتِحَ بَابٌ مِنْ أَبْوَابِ النَّارِ، فَإِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فُتِحَتْ أَبْوَابُهَا كُلُّهَا»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”سورج جہنم کی حدت کے ساتھ شیطان کے سینگ سے، اور شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان سے طلوع ہوتا ہے، اور وہ آسمان میں ذرا سا بھی اوپر نہیں اٹھتا مگر جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ کھول دیا جاتا ہے، پھر جب گرمی شدید ہو جاتی ہے تو اس کے سارے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمَّارٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، قَالَ: رَأَى عَبْدُ اللهِ مَعَ رَجُلٍ دَرَاهِمَ، فَقَالَ: «مَا تَصْنَعُ بِهَا؟» قَالَ: أَشْتَرِي بِهَا فِرْقَ سَمْنٍ، فَقَالَ: «أَعْطِهَا امْرَأَتَكَ تَضَعْهَا تَحْتَ فِرَاشِهَا ثُمَّ اشْتَرِي كُلَّ يَوْمٍ لَحْمًا بِدِرْهَمٍ»
ترجمہ
ابوعمرو شیبانی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک آدمی کے پاس کچھ درہم دیکھے تو پوچھا: ”ان کا کیا کرو گے؟“ اس نے کہا: میں ان سے کچھ گھی خریدوں گا۔ فرمایا: ”یہ اپنی بیوی کو دے دو، وہ اسے اپنے بستر کے نیچے رکھ لے، پھر روزانہ ایک درہم کا گوشت خریدا کرو۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَخْلَاقَكُمْ كَمَا قَسَمَ بَيْنَكُمْ أَرْزَاقَكُمْ، وَإِنَّ اللهَ يُعْطِي الْمَالَ مَنْ يُحِبُّ وَمَنْ لَا يُحِبُّ، وَلَا يُعْطِي الْإِيمَانَ إِلَّا مَنْ يُحِبُّ، فَإِذَا أَحَبَّ اللهُ عَبْدًا أَعْطَاهُ الْإِيمَانَ، فَمَنْ ضَمِنَ بِالْمَالِ أَنْ يُنْفِقَهُ، وَهَابَ الْعَدُوَّ أَنْ يُجَاهِدَهُ، وَاللَّيْلَ أَنْ يُكَابِدَهُ فَلْيُكْثِرْ مِنْ قَوْلِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَاللهُ أَكْبَرُ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَسُبْحَانَ اللهِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان تمہارے اخلاق اسی طرح تقسیم کیے ہیں جیسے تمہارے رزق تقسیم کیے ہیں، اور اللہ تعالیٰ مال اسے بھی دیتا ہے جسے وہ پسند کرتا ہے اور اسے بھی جسے پسند نہیں کرتا، لیکن ایمان صرف اسی کو دیتا ہے جسے پسند کرتا ہے، پس جب اللہ کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے ایمان عطا کرتا ہے۔ چنانچہ جو شخص مال خرچ کرنے کی ذمہ داری اٹھائے، اور دشمن سے جہاد کرنے سے ڈرے، اور رات (عبادت میں) گزارنے سے گھبرائے، تو اسے چاہیے کہ وہ کثرت سے یہ کلمات کہے: ”اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں“، ”اللہ سب سے بڑا ہے“، ”تمام تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں“، اور ”اللہ پاک ہے“۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «تَدْرُونَ كَيْفَ يَنْقُصُ الْإِسْلَامُ؟» قَالُوا: كَمَا يَنْقُصُ صِبْغُ الثَّوْبِ، وَكَمَا يَنْقُصُ مِنَ الدَّابَّةِ، وَكَمَا يَقْسُو الدِّرْهَمُ عَنْ طُولِ الْحَبْيِ، قَالَ: «إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْهُ، وَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ مَوْتُ أَوْ ذَهَابُ الْعُلَمَاءِ»
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو اسلام کس طرح کم ہوتا ہے؟“ لوگوں نے کہا: جیسے کپڑے کا رنگ ماند پڑ جاتا ہے، اور جیسے جانور (کمزور ہو کر) گھٹ جاتا ہے، اور جیسے طویل عرصہ رکھے رہنے سے درہم کھردرا ہو جاتا ہے۔ فرمایا: ”یہ بھی اس (کمی) میں سے ہے، لیکن اس سے بڑھ کر علماء کی موت یا ان کا اٹھ جانا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " يُوضَعُ الصِّرَاطُ عَلَى سَوَاءِ جَهَنَّمَ مِثْلَ حَدِّ السَّيْفِ الْمُرْهَفِ، مَدْحَضَةٌ مَزِلَّةٌ، عَلَيْهِ كَلَالِيبٌ مِنْ نَارٍ يُخْتَطَفُ بِهَا فَمُمْسَكٌ يَهْوِي فِيهَا، وَمَصْرُوعٌ، وَمِنْهُمْ مَنْ يَمُرُّ كَالْبَرْقِ فَلَا يَنْشَبُ ذَاكَ أَنْ يَنْجُوَ، ثُمَّ كَالرِّيحِ وَلَا يَنْشَبُ ذَاكَ أَنْ يَنْجُوَ، ثُمَّ كَجَرْيِ الْفَرَسِ، ثُمَّ كَسَعْيِ الرَّجُلِ، ثُمَّ كَرَمَلِ الرَّجُلِ، ثُمَّ كَمَشْيِ الرَّجُلِ، حَتَّى يَكُونَ آخِرَهُمْ إِنْسَانًا رَجُلٌ قَدْ لَوَّحَتْهُ النَّارُ وَلَقِيَ فِيهَا شَرًّا حَتَّى يُدْخِلَهُ اللهُ الْجَنَّةَ بِفَضْلِ رَحْمَتِهِ، فَيُقَالُ لَهُ: تَمَنَّ وَسَلْ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَتَهْزَأُ مِنِّي، وَأَنْتَ رَبُّ الْعِزَّةِ، فَيُقَالُ لَهُ: تَمَنَّ وَسَلْ، قَالَ: حَتَّى إِذَا انْقَطَعَتِ الْأَمَانِيُّ قَالَ: لَكَ مَا سَأَلْتَ مِثْلَهُ مَعَهُ " قَالَ: وَحَدَّثَنِي أَبُو صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: وَعَشَرَةُ أَمْثَالِهِ مَعَهُ
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”پل صراط جہنم کے بیچوں بیچ تیز دھار تلوار کی طرح رکھا جائے گا، پھسلنے اور لڑکھڑانے والا، اس پر آگ کے آنکڑے ہوں گے جو لوگوں کو اچک لیں گے، تو کوئی (آنکڑے میں) پکڑا جا کر اس میں گر پڑے گا، کوئی گرا دیا جائے گا، اور کچھ لوگ بجلی کی طرح گزر جائیں گے تو انہیں نجات پانے میں دیر نہیں لگے گی، پھر کچھ ہوا کی طرح گزریں گے تو انہیں بھی دیر نہیں لگے گی، پھر کچھ گھوڑے کی دوڑ کی طرح، پھر کچھ آدمی کی دوڑ کی طرح، پھر کچھ آدمی کی تیز چال کی طرح، پھر کچھ آدمی کے چلنے کی طرح، یہاں تک کہ ان میں سب سے آخری شخص وہ ہو گا جسے آگ نے جھلسا دیا ہو گا اور اس میں سخت تکلیف پائی ہو گی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اسے اپنی رحمت کے فضل سے جنت میں داخل کر دے گا۔ اس سے کہا جائے گا: ”آرزو کر اور مانگ۔“ وہ کہے گا: اے رب! کیا تو میرے ساتھ ہنسی کرتا ہے، حالانکہ تو عزت والا رب ہے! تو اس سے (پھر) کہا جائے گا: ”آرزو کر اور مانگ۔“ یہاں تک کہ جب اس کی آرزوئیں ختم ہو جائیں گی تو فرمائے گا: ”تیرے لیے وہی ہے جو تو نے مانگا، اور اس کے ساتھ اتنا ہی اور بھی۔““ (راوی نے) کہا: اور مجھے ابوصالح نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ انہوں نے کہا: اور اس کے ساتھ دس گنا اور بھی۔
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَمَعْمَرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ إِلَى عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ جَارِيَةً بِكْرًا، وَإِنِّي قَدْ خَشِيتُ أَنْ تَفْرِكَنِي، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «إِنَّ الْإِلْفَ مِنَ اللهِ، وَإِنَّ الْفَرْكَ مِنَ الشَّيْطَانِ، لِيُكَرِّهَ إِلَيْهِ مَا أَحَلَّ اللهُ لَهُ، فَإِذَا دَخَلْتَ عَلَيْهَا فَمُرْهَا فَلْتُصَلِّ خَلْفَكَ رَكْعَتَيْنِ» قَالَ الْأَعْمَشُ: فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " وَقُلْ: اللهُمَّ بَارِكْ لِي فِي أَهْلِي، وَبَارِكْ لَهُمْ فِيَّ، اللهُمَّ ارْزُقْنِي مِنْهُمْ وَارْزُقْهُمْ مِنِّي، اللهُمَّ اجْمَعَ بَيْنَنَا مَا جَمَعْتَ إِلَى خَيْرٍ، وَفَرِّقْ بَيْنَنَا إِذَا فَرَّقْتَ إِلَى خَيْرٍ "
ترجمہ
ابو وائل رحمہ اللہ کہتے ہیں: بجیلہ قبیلے کا ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے ایک کنواری لڑکی سے نکاح کیا ہے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھ سے بیزار ہو جائے۔ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”الفت اللہ کی طرف سے ہے، اور بیزاری شیطان کی طرف سے، تاکہ وہ اسے اس چیز سے متنفر کر دے جو اللہ نے اس کے لیے حلال کی ہے۔ جب تم اس کے پاس جاؤ تو اسے حکم دو کہ وہ تمہارے پیچھے دو رکعتیں پڑھے۔“ اعمش کہتے ہیں: میں نے یہ بات ابراہیم سے ذکر کی تو انہوں نے بتایا کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اور یہ دعا کرو: اے اللہ! میرے گھر والوں میں میرے لیے برکت دے، اور مجھ میں ان کے لیے برکت دے، اے اللہ! مجھے ان سے رزق دے اور انہیں مجھ سے رزق دے، اے اللہ! ہمیں اکٹھا رکھ تو بھلائی کی طرف، اور اگر جدا کرے تو بھلائی کی طرف جدا کر۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، وَإِنِّي أَخَافُ الْفَرْكَ، قَالَ: " إِذَا أَتَيْتَ بِهَا فَصَلِّ رَكْعَتَيْنِ وَقُلْ: اللهُمَّ بَارِكْ لِي فِي أَهْلِي، وَبَارِكْ لَهُمْ فِيَّ، اللهُمَّ اجْمَعَ بَيْنَنَا مَا جَمَعْتَ بِخَيْرٍ، وَفَرِّقْ بَيْنَنَا إِذَا فَرَّقْتَ إِلَى خَيْرٍ "
ترجمہ
ابوعبدالرحمن سلمی کہتے ہیں: ایک آدمی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے ایک عورت سے نکاح کیا ہے اور مجھے (اس کی) بیزاری کا ڈر ہے۔ فرمایا: ”جب تم اس کے پاس جاؤ تو دو رکعتیں پڑھو اور کہو: اے اللہ! میرے گھر والوں میں میرے لیے برکت دے اور مجھ میں ان کے لیے برکت دے، اے اللہ! ہمیں اکٹھا رکھ تو بھلائی کے ساتھ اکٹھا رکھ، اور اگر جدا کرے تو بھلائی کی طرف جدا کر۔“
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ، مِنْ أَصْحَابِهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: " عَسَى رَجُلٌ أَنْ يَقُولَ: إِنَّ اللهَ أَمَرَ بِكَذَا وَنَهَى عَنْ كَذَا فَيَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ: كَذَبْتَ، أَوْ يَقُولُ: إِنَّ اللهَ حَرَّمَ كَذَا وَأَحَلَّ كَذَا فَيَقُولُ اللهُ لَهُ: كَذَبْتَ "
ترجمہ
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ممکن ہے کوئی آدمی کہے: اللہ نے فلاں چیز کا حکم دیا اور فلاں سے منع کیا، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے: تو نے جھوٹ کہا۔ یا وہ کہے: اللہ نے فلاں چیز حرام کی اور فلاں حلال کی، تو اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے: تو نے جھوٹ کہا۔“
…