حدیث نمبر: 8941
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ الضَّبِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءَ، أَنَا زَائِدَةُ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي قُطْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، قَالَ: «الْزَمُوا هَذِهِ الْجَمَاعَةَ فَإِنَّهُ حَبْلُ اللهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ، وَإِنَّ مَا تَكْرَهُونَ فِي الْجَمَاعَةِ خَيْرٌ مِمَّا تُحِبُّونَ فِي الْفُرْقَةِ، وَإِنَّ اللهَ لَمْ يَخْلُقْ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا جَعَلَ لَهُ مُنْتَهًى، وَإِنَّ هَذَا الدِّينَ قَدْ تَمَّ، وَإِنَّهُ صَائِرٌ إِلَى نُقْصَانٍ، وَإِنَّ أَمَارَةَ ذَلِكَ أَنْ يُقْطَعَ الْأَرْحَامُ، وَيُؤْخَذَ الْمَالُ مِنْ غَيْرِ حَقِّهِ، وَتُسْفَكَ الدِّمَاءُ، وَيَشْكِي ذُو الْقَرَابَةِ إِلَى قَرَابَتِهِ لَا يَعُودُ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، وَيَطُوفُ السَّائِلُ مَا بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ مَا يُوضَعُ فِي يَدِهِ شَيْءٌ، فَبَيْنَمَا هُمْ كَذَلِكَ إِذْ خَارَتِ الْأَرْضُ خُوَارَ الْبَقَرِ إِذْ قَذَفَتْ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا فَلَا يُنْتَفَعُ بَعْدَهُ بِذَهَبٍ، وَلَا فِضَّةٍ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس جماعت کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ اللہ کی وہ رسی ہے جس کا اس نے حکم دیا ہے، اور جماعت میں جو چیز تمہیں ناپسند ہو وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں تفرقے میں پسند ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز پیدا نہیں کی مگر اس کی ایک انتہا مقرر کر دی، اور یہ دین اب مکمل ہو چکا ہے، اور عنقریب کمی کی طرف جانے والا ہے، اور اس کی نشانی یہ ہے کہ رشتے ناطے کاٹے جائیں گے، مال ناحق طریقے سے لیا جائے گا، خون بہائے جائیں گے، رشتہ دار اپنے رشتہ دار سے شکایت کرے گا مگر وہ اس کے ساتھ کوئی بھلائی نہیں کرے گا، اور سائل دو جمعوں کے درمیان گھومتا رہے گا مگر اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں رکھا جائے گا۔ پھر وہ اسی حال میں ہوں گے کہ زمین گائے کی سی آواز کے ساتھ گرجے گی اور اپنے جگر کے ٹکڑے نکال پھینکے گی، اس کے بعد سونے چاندی سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جائے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8941
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 199، حدیث 8973