المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حدیث نمبر: 8947
حَدَّثَنَا أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ رَجَاءَ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ عَوْنٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ لِأَصْحَابِهِ حِينَ قَدِمُوا عَلَيْهِ: «هَلْ تَجَالَسُونَ؟» قَالُوا: لَيْسَ نَتْرُكُ ذَلِكَ، قَالَ: «فَهَلْ تَزَاوَرُونَ؟» قَالُوا: نَعَمْ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ الرَّجُلَ مِنَّا لَيَفْقِدُ أَخَاهُ فَيَمْشِي فِي طَلَبِهِ إِلَى آخِرِ الْكُوفَةِ حَتَّى يَلْقَاهُ، قَالَ: «فَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا بِخَيْرٍ مَا فَعَلْتُمْ ذَلِكَ»ترجمہ
عون بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھی ان کے پاس آئے تو انہوں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: ”کیا تم آپس میں بیٹھتے ہو؟“ انہوں نے کہا: ہم یہ نہیں چھوڑتے۔ فرمایا: ”کیا تم ایک دوسرے سے ملنے جاتے ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، اے ابوعبدالرحمن! ہم میں سے کوئی اپنے بھائی کو نہ پائے تو کوفے کے آخری کنارے تک اسے ڈھونڈتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ اسے پا لے۔ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم ہمیشہ بھلائی پر رہو گے جب تک ایسا کرتے رہو گے۔“