المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حدیث نمبر: 8955
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى السَّاجِيُّ، ثنا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: «مَا بَيْنَ السَّمَاءِ الدُّنْيَا وَالَّتِي تَلِيهَا مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ، وَمَا بَيْنَ كُلِّ سَمَاءٍ مَسِيرَةُ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ، وَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ السَّابِعَةِ وَالْكُرْسِيِّ مَسِيرَةَ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ، وَمَا بَيْنَ الْكُرْسِيِّ، وَالْمَاءِ مَسِيرَةَ خَمْسِ مِائَةِ عَامٍ، وَالْعَرْشُ عَلَى الْمَاءِ، وَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى الْعَرْشِ يَعْلَمُ مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ»ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”پہلے آسمان اور اس سے اگلے آسمان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے، اور ہر آسمان کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے، اور ساتویں آسمان اور کرسی کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے، اور کرسی اور پانی کے درمیان پانچ سو سال کی مسافت ہے، اور عرش پانی پر ہے، اور اللہ عزوجل عرش پر ہے، جو کچھ تم کر رہے ہو وہ جانتا ہے۔“