المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، قَالَ: كَانَ بَيْنَ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللهِ، وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ كَلَامٌ، فَقَالَتْ: مَا أُدْمُكَ وَأُدْمُ عِيَالِكَ إِلَّا مِنْ لَبَنِ شَاتِي، فَأَقْسَمَ أَنْ لَا يَأْكُلَ مِنْ لَبَنِهَا شَيْئًا، فَضَافَهُمْ ضَيْفٌ فَأَدْمَتْ لَهُ بِلَبَنِ شَاتِهَا، فَقَالَ الرَّجُلُ: لَقَدْ عَلِمْتِ أَنِّي لَا آكُلُهُ، فَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: وَاللهِ لَئِنْ لَمْ تَأْكُلْ لَا آكُلُ، فَقَالَ الضَّيْفُ: وَاللهِ لَئِنْ لَمْ تَأْكُلَا لَا آكُلُ، فَبَاتُوا بِغَيْرِ عَشَاءٍ، فَنَمَى الْحَدِيثُ إِلَى عَبْدِ اللهِ، فَجَاءَ إِلَى عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: «مَا الَّذِي حَالَ بَيْنَكَ وَبَيْنَ أَهْلِكَ؟» قَالَ: أَمَا إِنَّهُ لَمْ يَكُنْ طَلَاقٌ، وَلَا ظِهَارٌ، وَلَا إِيلَاءٌ، ثُمَّ قَصَّ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: «أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ إِذَا رَجَعْتَ إِلَى أَهْلِكَ أَنْ يَكُونَ أَوَّلَ مَا تَصْنَعُ أَنْ تَأْكُلَ مِنْ لَبَنِ هَذِهِ الشَّاةِ، وَقَدْ أَرَى أَنَّ أَطْيَبَ لِنَفْسِكَ أَنْ تُكَفِّرَ عَنْ يَمِينِكَ»ابو البختری رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ کے ایک ساتھی اور اس کی بیوی کے درمیان کچھ بات چیت ہوئی، تو اس نے کہا: تمہارا اور تمہارے بال بچوں کا سالن میری بکری کے دودھ کے سوا اور کچھ نہیں ہے، تو اس نے قسم کھا لی کہ وہ اس کے دودھ میں سے کچھ نہیں کھائے گا۔ اتفاق سے ان کے پاس ایک مہمان آ گیا، تو اس نے اس کے لیے اپنی بکری کے دودھ سے سالن بنایا، تو آدمی نے کہا: تمہیں تو معلوم ہے کہ میں یہ نہیں کھاتا۔ عورت نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم نہیں کھاؤ گے تو میں بھی نہیں کھاؤں گی۔ مہمان نے کہا: اللہ کی قسم! اگر تم دونوں نہیں کھاؤ گے تو میں بھی نہیں کھاؤں گا، چنانچہ وہ رات کو بغیر کھانے کے سو گئے۔ یہ بات سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تک پہنچی تو وہ شخص ان کے پاس آیا، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا: ”تیرے اور تیرے گھر والوں کے درمیان کیا رکاوٹ حائل ہوئی؟“ اس نے کہا: نہ طلاق ہوئی، نہ ظہار، نہ ایلاء، پھر اس نے پورا واقعہ بیان کیا۔ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا: ”میں تجھ پر قسم دیتا ہوں کہ جب تو اپنے گھر والوں کے پاس واپس جائے تو سب سے پہلے کام یہ کرنا کہ اس بکری کے دودھ میں سے کھا لینا، اور میں سمجھتا ہوں کہ تیرے لیے بہتر یہی ہے کہ تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے۔“