المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قُطْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ عَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ، وَالْجَمَاعَةِ فَإِنَّهُمَا حَبْلُ اللهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ، وَإِنَّ مَا تَكْرَهُونَ فِي الطَّاعَةِ وَالْجَمَاعَةِ خَيْرٌ مِمَّا تُحِبُّونَ فِي الْفُرْقَةِ، وَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَخْلُقْ شَيْئًا إِلَّا جَعَلَ لَهُ نِهَايَةً يَنْتَهِي إِلَيْهَا، وَإِنَّ الْإِسْلَامَ قَدْ أَقْبَلَ لَهُ ثَبَاتٌ، وَإِنَّهُ يُوشِكُ أَنْ يَبْلُغَ نُهْيَتَهُ ثُمَّ يَرْتَدَّ، وَيَنْقُصَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنْ تَكْثُرَ الْفَاقَةُ، وَيُقْطَعَ الْأَرْحَامُ، حَتَّى لَا يَجِدَ الْفَقِيرُ مَنْ يَعُودُ عَلَيْهِ، وَحَتَّى يَرَى الْغَنِيُّ أَنَّهُ لَا يَكْفِيهِ مَا عِنْدَهُ وَحَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَشْكُو إِلَى أَخِيهِ، وَابْنِ عَمِّهِ، وَلَا يَعُودُ عَلَيْهِ بِشَيْءٍ، وَحَتَّى إِنَّ السَّائِلَ لَيَمْشِي بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ مَا يُوضَعُ فِي يَدِهِ شَيْءٌ، حَتَّى إِذَا كَانَ ذَلِكَ خَارَتِ الْأَرْضُ خَوْرَةً لَا يَرَوْنَ أَهْلُ كُلِّ سَاحَةٍ إِلَّا أَنَّهَا خَارَتْ بِسَاحَتِهِمْ، ثُمَّ تَهْدَأُ عَلَيْهِمْ مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ تَفْجَؤُهُمُ الْأَرْضُ تَقِيءُ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا» قِيلَ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمَا أَفْلَاذُ كَبِدِهَا؟، قَالَ: «أَسَاطِينُ ذَهَبٍ، وَفِضَّةٍ، فَمِنْ يَوْمَئِذٍ لَا يُنْتَفَعُ بِذَهَبٍ، وَلَا فِضَّةٍ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ»سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”لوگو! اطاعت اور جماعت کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ دونوں اللہ کی وہ رسی ہیں جس کا اس نے حکم دیا ہے، اور اطاعت و جماعت میں جو چیز تمہیں ناپسند ہو وہ اس سے بہتر ہے جو تمہیں تفرقے میں پسند ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز پیدا نہیں کی مگر اس کی ایک انتہا مقرر کر دی جس تک وہ پہنچے گی، اور اسلام کو ابھی ثبات و استحکام حاصل ہے، اور قریب ہے کہ وہ اپنی انتہا کو پہنچ کر پلٹ جائے اور قیامت تک کم ہوتا جائے، اور اس کی نشانی یہ ہے کہ فاقہ بڑھ جائے گا اور رشتے ناطے کاٹے جائیں گے، یہاں تک کہ فقیر کو کوئی مہربانی کرنے والا نہیں ملے گا، اور مالدار یہ سمجھے گا کہ جو کچھ اس کے پاس ہے وہ اس کے لیے کافی نہیں، یہاں تک کہ آدمی اپنے بھائی اور چچازاد سے شکایت کرے گا اور وہ اس کے ساتھ کوئی بھلائی نہیں کرے گا، اور سائل دو جمعوں کے درمیان چلتا پھرے گا مگر اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں رکھا جائے گا، یہاں تک کہ جب ایسا ہو جائے گا تو زمین ایک بار گرجے گی، ہر صحن والے یہی سمجھیں گے کہ یہ آواز ان کے صحن میں گرجی ہے، پھر جب تک اللہ چاہے گا خاموشی رہے گی، پھر زمین اچانک اپنے جگر کے ٹکڑے قے کر دے گی۔“ عرض کیا گیا: اے ابوعبدالرحمن! زمین کے جگر کے ٹکڑوں سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”سونے اور چاندی کے ستون، اس دن کے بعد قیامت تک سونے اور چاندی سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جائے گا۔“