❮
❯
حدیث نمبر: 8924
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنِّي مَرَرْتُ بِمَسْجِدٍ مِنْ مَسَاجِدِ بَنِي حَنِيفَةَ فَسَمِعْتُهُمْ يَقْرَءُونَ شَيْئًا لَمْ يُنْزِلْهُ اللهُ: الطَّاحِنَاتُ طَحْنَا، الْعَاجِنَاتُ عَجْنًا، الْخَابِزَاتُ خَبْزًا، اللَّاقِمَاتُ لَقْمًا، قَالَ: فَقَدّمَ ابْنُ مَسْعُودٍ ابْنَ النَّوَّاحَةَ إِمَامَهُمْ فَقَتَلَهُ، وَاسْتَكْثَرَ الْبَقِيَّةَ، وَقَالَ: «لَا أَجْزُرُهُمُ الْيَوْمَ الشَّيْطَانَ، سَيِّرُوهُمْ إِلَى الشَّامِ حَتَّى يَرْزُقَهُمُ اللهُ تَوْبَةً أَوْ يُفْنِيهِمُ الطَّاعُونُ»
قَالَ: وَأَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: إِنَّ هَذَا - لِابْنِ النَّوَّاحَةِ - أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبَعَثَهُ إِلَيْهِ مُسَيْلِمَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ قَاتِلًا رَسُولًا لَقَتَلْتُكَ»
ترجمہ

قیس بن ابی حازم رحمہ اللہ کہتے ہیں: ایک آدمی سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں بنو حنیفہ کی ایک مسجد کے پاس سے گزرا تو میں نے انہیں ایسی چیز پڑھتے سنا جو اللہ نے نازل نہیں کی تھی: ”آٹا پیسنے والیاں پیس رہی تھیں، آٹا گوندھنے والیاں گوندھ رہی تھیں، روٹی پکانے والیاں پکا رہی تھیں، اور لقمہ دینے والیاں کھلا رہی تھیں۔“ (راوی کہتے ہیں) پھر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کے امام ابن نواحہ کو آگے کیا اور اسے قتل کر دیا، اور باقی لوگوں کو (ان کی کثرت دیکھتے ہوئے) چھوڑ دیا، اور فرمایا: ”میں آج شیطان کے لیے انہیں ذبح نہیں کروں گا، انہیں شام کی طرف بھیج دو یہاں تک کہ اللہ انہیں توبہ کی توفیق دے یا طاعون انہیں ختم کر دے۔“
(راوی نے) بیان کیا: مجھے اسماعیل نے قیس بن ابی حازم سے خبر دی کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ - یعنی ابن نواحہ - رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تھا، مسیلمہ نے اسے آپ ﷺ کی طرف بھیجا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر میں کسی قاصد کو قتل کرنے والا ہوتا تو تجھے قتل کر دیتا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8924
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 194، حدیث 8956