حدیث نمبر: 8959
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: «تَدْرُونَ كَيْفَ يَنْقُصُ الْإِسْلَامُ؟» قَالُوا: كَمَا يَنْقُصُ صِبْغُ الثَّوْبِ، وَكَمَا يَنْقُصُ مِنَ الدَّابَّةِ، وَكَمَا يَقْسُو الدِّرْهَمُ عَنْ طُولِ الْحَبْيِ، قَالَ: «إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْهُ، وَأَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ مَوْتُ أَوْ ذَهَابُ الْعُلَمَاءِ»
ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو اسلام کس طرح کم ہوتا ہے؟“ لوگوں نے کہا: جیسے کپڑے کا رنگ ماند پڑ جاتا ہے، اور جیسے جانور (کمزور ہو کر) گھٹ جاتا ہے، اور جیسے طویل عرصہ رکھے رہنے سے درہم کھردرا ہو جاتا ہے۔ فرمایا: ”یہ بھی اس (کمی) میں سے ہے، لیکن اس سے بڑھ کر علماء کی موت یا ان کا اٹھ جانا ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8959
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 203، حدیث 8991