حدیث نمبر: 8950
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ، قَالَ: مَا خَطَبَ عَبْدُ اللهِ بِالْكُوفَةِ خُطْبَةً إِلَّا شَهِدْتُهَا فَسَمِعْتُهُ يَوْمًا، وَسُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ يُطَلِّقُ ثَمَانِيًا وَأَشْبَاهَ ذَلِكَ، فَقَالَ: هُوَ كَمَا قَالَ، ثُمَّ قَالَ: «إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْزَلَ كِتَابَهُ وَبَيَّنَ بَيَانَهُ، فَمَنْ أَتَى الْأَمْرَ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَقَدْ بَيَّنَ لَهُ، وَمَنْ خَالَفَ فَوَاللهِ مَا نُطِيقُ كُلَّ خِلَافِكُمْ»
ترجمہ

نزال بن سبرہ کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کوفہ میں جو بھی خطبہ دیا میں اس میں حاضر رہا، تو میں نے ایک دن انہیں سنا، ان سے اس آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جو (اپنی بیوی کو) آٹھ طلاقیں دے دے اور اس طرح کے (دیگر) مسائل، تو انہوں نے فرمایا: ”جیسا اس نے کہا ویسا ہی ہو گیا۔“ پھر فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب نازل فرمائی اور اسے واضح طور پر بیان کر دیا، تو جو شخص کسی معاملے میں اس کے صحیح رخ سے آئے اس کے لیے حکم واضح کر دیا گیا ہے، اور جو مخالفت کرے تو اللہ کی قسم! ہم تمہاری ہر مخالفت کی طاقت نہیں رکھتے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8950
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 201، حدیث 8982