المعجم الكبير للطبراني
باب العين— حرف عین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 8564–9729) باب: (احادیث 8564 تا 9729)
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا الْمَسْعُودِيُّ، عَنِ الْقَاسِمِ، قَالَ: أُتِيَ عَبْدُ اللهِ، فَقِيلَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّ هَهُنَا نَاسٌ يَقْرَءُونَ قِرَاءَةَ مُسَيْلِمَةَ، فَرَدَّهُ عَبْدُ اللهِ فَلَبِثَ مَا شَاءَ اللهُ أَنْ يَلْبَثَ، ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ: وَالَّذِي أَحْلِفُ بِهِ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لَقَدْ تَرَكْتُهُمُ الْآنَ فِي دَارٍ، وَإِنَّ ذَلِكَ الْمُصْحَفَ لَعِنْدَهُمْ، فَأَمَرَ قَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ فَسَارَ بِالنَّاسِ مَعَهُ، فَقَالَ: «ائْتِ بِهِمْ» ، فَلَمَّا أَتَى بِهِمْ، قَالَ عَبْدُ اللهِ: «مَا هَذَا بَعْدَ اسْتِفَاضِ الْإِسْلَامِ؟» قَالُوا: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، نَسْتَغْفِرُ اللهَ، وَنَتُوبُ إِلَيْهِ، وَنَشْهَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ هُوَ الْكَذَّابُ الْمُفْتَرِي عَلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، قَالَ: فَاسْتَتَابَهُمْ عَبْدُ اللهِ، وَسَيَّرَهُمْ إِلَى الشَّامِ، وَإِنَّهُمْ لَقَرِيبٌ مِنْ ثَمَانِينَ رَجُلًا، وَأَبَى ابْنُ النَّوَّاحَةِ أَنْ يَتُوبَ فَأَمَرَ بِهِ قَرَظَةَ بْنَ كَعْبٍ فَأَخْرَجَهُ إِلَى السُّوقِ فَضَرَبَ عُنُقَهُ، وَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ رَأْسَهُ فَيُلْقِيَهُ فِي حِجْرِ أُمِّهِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللهِ: فَلَقِيتُ شَيْخًا مِنْهُمْ كَبِيرًا بَعْدَ ذَلِكَ بِالشَّامِ، فَقَالَ: لِيَرْحَمِ اللهُ أَبَاكَ، وَاللهِ لَوْ قَتَلْنَا يَوْمَئِذٍ لَدَخَلْنَا النَّارَ كُلُّنَا…پھر وہ شخص ان کے پاس آیا اور کہا: اس ذات کی قسم جس کی قسم کھاتا ہوں، اے ابوعبدالرحمن! میں نے ابھی انہیں ایک گھر میں چھوڑا ہے، اور وہ مصحف ابھی ان کے پاس ہے۔ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے قرظہ بن کعب کو حکم دیا، وہ لوگوں کو لے کر ان کے ساتھ روانہ ہوئے، اور فرمایا: ”انہیں لے آؤ۔“ جب انہیں لایا گیا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اسلام کے پھیل جانے کے بعد یہ کیا ہے؟“ انہوں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! ہم اللہ سے استغفار کرتے اور اس کی طرف توبہ کرتے ہیں، اور گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ جھوٹا اور اللہ اور اس کے رسول پر افترا کرنے والا ہے۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے توبہ کروائی اور انہیں شام کی طرف بھیج دیا، اور وہ تقریباً اسّی آدمی تھے۔ ابن نواحہ نے توبہ کرنے سے انکار کر دیا، تو قرظہ بن کعب کو حکم دیا، اس نے اسے بازار میں لے جا کر اس کی گردن اڑا دی، اور اسے حکم دیا کہ اس کا سر لے جا کر اس کی ماں کی گود میں ڈال دے۔ عبدالرحمن بن عبداللہ کہتے ہیں: میں بعد میں شام میں ان میں سے ایک بوڑھے شخص سے ملا تو اس نے کہا: اللہ تمہارے والد پر رحم فرمائے، اللہ کی قسم! اگر ہم اس دن قتل کر دیے جاتے تو ہم سب جہنم میں داخل ہو جاتے۔