حدیث نمبر: 8961
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ الثَّوْرِيِّ، وَمَعْمَرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَجِيلَةَ إِلَى عَبْدِ اللهِ، فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ جَارِيَةً بِكْرًا، وَإِنِّي قَدْ خَشِيتُ أَنْ تَفْرِكَنِي، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ: «إِنَّ الْإِلْفَ مِنَ اللهِ، وَإِنَّ الْفَرْكَ مِنَ الشَّيْطَانِ، لِيُكَرِّهَ إِلَيْهِ مَا أَحَلَّ اللهُ لَهُ، فَإِذَا دَخَلْتَ عَلَيْهَا فَمُرْهَا فَلْتُصَلِّ خَلْفَكَ رَكْعَتَيْنِ» قَالَ الْأَعْمَشُ: فَذَكَرْتُهُ لِإِبْرَاهِيمَ، فَقَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ: " وَقُلْ: اللهُمَّ بَارِكْ لِي فِي أَهْلِي، وَبَارِكْ لَهُمْ فِيَّ، اللهُمَّ ارْزُقْنِي مِنْهُمْ وَارْزُقْهُمْ مِنِّي، اللهُمَّ اجْمَعَ بَيْنَنَا مَا جَمَعْتَ إِلَى خَيْرٍ، وَفَرِّقْ بَيْنَنَا إِذَا فَرَّقْتَ إِلَى خَيْرٍ "
ترجمہ

…ابووائل کہتے ہیں: بجیلہ قبیلے کا ایک آدمی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے ایک کنواری لڑکی سے نکاح کیا ہے اور مجھے ڈر ہے کہ وہ مجھ سے بیزار ہو جائے۔ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”الفت اللہ کی طرف سے ہے، اور بیزاری شیطان کی طرف سے، تاکہ وہ اسے اس چیز سے متنفر کر دے جو اللہ نے اس کے لیے حلال کی ہے۔ جب تم اس کے پاس جاؤ تو اسے حکم دو کہ وہ تمہارے پیچھے دو رکعتیں پڑھے۔“ اعمش کہتے ہیں: میں نے یہ بات ابراہیم سے ذکر کی تو انہوں نے بتایا کہ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اور یہ دعا کرو: اے اللہ! میرے گھر والوں میں میرے لیے برکت دے، اور مجھ میں ان کے لیے برکت دے، اے اللہ! مجھے ان سے رزق دے اور انہیں مجھ سے رزق دے، اے اللہ! ہمیں اکٹھا رکھ تو بھلائی کی طرف، اور اگر جدا کرے تو بھلائی کی طرف جدا کر۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8961
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 204، حدیث 8993