حدیث نمبر: 8939
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَارِمٌ أَبُو النُّعْمَانِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قُطْبَةَ الْمُزَنِيِّ، قَالَ: خَطَبَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْعُودٍ يَوْمًا خُطْبَةً لَمْ يَخْطُبْنَا مِثْلَهَا قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا، قَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا اللهَ، وَعَلَيْكُمْ بِالطَّاعَةِ، وَالْجَمَاعَةِ فَإِنَّهُمَا حَبْلُ اللهِ الَّذِي أَمَرَ بِهِ، وَإِنَّ مَا تَكْرَهُونَ فِي الطَّاعَةِ، وَالْجَمَاعَةِ خَيْرٌ مِمَّا تُحِبُّونَ فِي الْفُرْقَةِ، وَإِنَّ اللهَ لَمْ يَخْلُقْ شَيْئًا مِنَ الدُّنْيَا إِلَّا جَعَلَ لَهُ نُهْيَةً يَنْتَهِي إِلَيْهِ، ثُمَّ يَنْقُصُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، أَلَا إِنَّ عُرَى الْإِسْلَامِ قَدْ أُثْبِتَ، وَيُوشِكُ أَنْ يَنْقُصَ، وَيُدْبِرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَآيَةُ ذَلِكَ أَنْ تَقْطَعُوا أَرْحَامَكُمْ، وَأَنْ تَفْشُوَ الْفَاقَةُ حَتَّى لَا يَخَافُ الْغَنِيُّ إِلَّا الْفَقْرَ، وَحَتَّى لَا يَجِدَ الْفَقِيرُ مَنْ يَعْطِفُ عَلَيْهِ، وَحَتَّى يَقُومَ السَّائِلُ بَيْنَ الْجُمُعَتَيْنِ فَلَا يَقَعُ فِي يَدِهِ شَيْءٌ، فَبَيْنَمَا النَّاسُ كَذَلِكَ إِذْ خَارَتِ الْأَرْضُ خَارَةً مِثْلَ خُوَارِ الْبَقَرِ يَحْسِبُ كُلُّ قَوْمٍ أَنَّهَا خَارَتْ مِنْ سَاحَتِهِمْ، ثُمَّ يَكُونُ رُجُوعٌ فَتَخُورُ الثَّانِيَةَ أَفْلَاذَ كَبِدِهَا» ، فَقِيلَ لَهُ: وَمَا أَفْلَاذُ كَبِدِهَا؟ قَالَ: «أَمْثَالُ هَذِهِ السَّوَارِي مِنَ الذَّهَبِ، وَالْفِضَّةِ، فَمِنْ يَوْمَئِذٍ لَا يَنْفَعُ الذَّهَبُ وَالْفِضَّةُ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، وَلَا يَجِدُ مَنْ يَقْبَلُ مِنْهُ صَدَقَةَ مَالِهِ»
ترجمہ

ثابت بن قطبہ مزنی کہتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک دن ہمیں ایسا خطبہ دیا جیسا نہ اس سے پہلے دیا تھا نہ اس کے بعد دیا۔ فرمایا: ”لوگو! اللہ سے ڈرو، اور اطاعت اور جماعت کو لازم پکڑو، کیونکہ یہ دونوں اللہ کی وہ رسی ہیں جس کا اس نے حکم دیا ہے، اور اطاعت و جماعت میں تمہیں جو چیز ناپسند ہو وہ اس چیز سے بہتر ہے جو تمہیں تفرقے میں پسند ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے دنیا کی کوئی چیز پیدا نہیں کی مگر اس کی ایک انتہا مقرر کر دی ہے جس تک وہ پہنچے گی، پھر قیامت تک کم ہوتی جائے گی۔ خبردار! اسلام کی گرہیں مضبوط کی جا چکی ہیں، اور قریب ہے کہ وہ کم ہونے لگیں اور قیامت تک پیچھے ہٹتی جائیں، اور اس کی نشانی یہ ہے کہ تم اپنے رشتے ناطے کاٹنے لگو گے، اور فاقہ اس قدر پھیل جائے گا کہ مالدار کو صرف فقر کا خوف رہے گا، اور فقیر کو کوئی مہربانی کرنے والا نہیں ملے گا، یہاں تک کہ سائل دو جمعوں کے درمیان کھڑا رہے گا اور اس کے ہاتھ میں کچھ نہیں پڑے گا۔ پھر لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ زمین گائے کی سی آواز کے ساتھ ایک بار گرجے گی، ہر قوم یہی سمجھے گی کہ یہ آواز ان کے صحن سے آئی ہے، پھر رک کر دوبارہ گرجے گی اور اپنے جگر کے ٹکڑے اگل دے گی۔“ ان سے پوچھا گیا: زمین کے جگر کے ٹکڑوں سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: ”ان ستونوں جیسے سونے چاندی کے ڈھیر، اس دن کے بعد قیامت تک سونا چاندی کسی کام نہیں آئے گا، اور کوئی اپنے مال کا صدقہ قبول کرنے والا نہیں ملے گا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب العين / حدیث: 8939
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 9، صفحہ 198، حدیث 8971