حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سُتْرَةِ الْحُجْرَةِ، وَفِي يَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ هَذَا يَنْتَظِرُنِي حَتَّى آتِيَهُ، لَطَعَنْتُ بِالْمِدْرَى فِي عَيْنِهِ، وَهَلْ جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ إِلَّا مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ»
ترجمہ
…ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ کو حجرے کے پردے کی جگہ سے جھانکا، جبکہ نبی کریم ﷺ کے ہاتھ میں ایک کنگھی تھی، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہ میرا انتظار کر رہا ہے تاکہ میں اس کے پاس آؤں تو میں یہ کنگھی اس کی آنکھ میں گھونپ دیتا، اور اجازت طلب کرنا تو صرف نگاہ کے لیے ہی مقرر کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْحُجْرَةِ، وَفِي يَدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى، فَقَالَ: «لَوْ أَعْلَمُ أَنَّ هَذَا يَنْتَظِرُنِي حَتَّى آتِيَهُ، لَطَعَنْتُ بِالْمِدْرَى فِي عَيْنَيْهِ، وَهَلْ جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ إِلَّا مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ کو حجرے سے جھانکا، جبکہ نبی کریم ﷺ کے ہاتھ میں ایک کنگھی تھی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ یہ میرا انتظار کر رہا ہے تاکہ میں اس کے پاس آؤں تو میں یہ کنگھی اس کی آنکھوں میں گھونپ دیتا، اور اجازت طلب کرنا تو صرف نگاہ کے لیے ہی مقرر کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، ح وَحَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْتَظِرُنِي، لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ مِنْ قِبَلِ الْبَصَرِ»
ترجمہ
…ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے دروازے کے سوراخ سے جھانکا، جبکہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک کنگھی تھی جس سے آپ اپنا سر کھجا رہے تھے، جب رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا تو فرمایا: ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو میرا انتظار کر رہا ہے تو میں یہ تیری آنکھ میں گھونپ دیتا، اجازت طلب کرنا تو صرف نگاہ کی وجہ سے ہی مقرر کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، قَالَا: ثنا سُفْيَانُ، ثنا الزُّهْرِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ يَقُولُ: اطَّلَعَ رَجُلٌ مِنْ حُجْرَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْتَظِرُنِي، لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ» ،
ترجمہ
زہری کہتے ہیں: میں نے سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا: ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ کے حجرے سے جھانکا، جبکہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ ایک کنگھی تھی جس سے آپ اپنا سر کھجا رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو میرا انتظار کر رہا ہے تو میں یہ تیری آنکھ میں گھونپ دیتا، اجازت طلب کرنا تو صرف نگاہ کی وجہ سے ہی مقرر کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا عَمِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَابِلْتِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَحُكُّ رَأْسَهُ بِمِدْرًى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ عَلِمْتُ أَنَّكَ تَنْتَظِرُنِي، لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ»
ترجمہ
…ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے دروازے کے سوراخ سے جھانکا، جبکہ رسول اللہ ﷺ کنگھی سے اپنا سر کھجا رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو میرا انتظار کر رہا ہے تو میں یہ تیری آنکھ میں گھونپ دیتا، اجازت طلب کرنا تو صرف نگاہ کی وجہ سے ہی مقرر کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي جُحْرٍ مِنْ بَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يُرَجِّلُ، أَوْ يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْتَظِرُنِي، لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ»
ترجمہ
…ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے دروازے کے سوراخ سے جھانکا، جبکہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک کنگھی تھی جس سے آپ اپنے بال سنوار رہے تھے، یا اپنا سر کھجا رہے تھے (راوی کو شک ہے)، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو میرا انتظار کر رہا ہے تو میں یہ تیری آنکھ میں گھونپ دیتا، اجازت طلب کرنے کا حکم تو صرف نگاہ کی وجہ سے ہی دیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَنَا خَالِدٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ فِي جُحْرٍ فِي بَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْتَظِرُنِي، لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ السِّتْرُ لِلْإِذْنِ» أَوْ قَالَ: «مِنْ أَجْلِ النَّظَرِ»
ترجمہ
…ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ کے دروازے کے سوراخ سے جھانکا، جبکہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک کنگھی تھی جس سے آپ اپنا سر کھجا رہے تھے، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو میرا انتظار کر رہا ہے تو میں یہ تیری آنکھ میں گھونپ دیتا، پردہ تو اجازت کے لیے ہی رکھا گیا ہے“ - یا فرمایا: ”نگاہ کی وجہ سے“ (راوی کو الفاظ میں شک ہے)۔
حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ زَكَرِيَّا وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، قَالَا: ثنا عِيسَى بْنُ عُثْمَانَ الْكِسَائِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُجْرَتِهِ مَعَهُ مِدْرًى، يُسَرِّحُ بِهِ لِحْيَتَهُ، إِذْ جَاءَ إِنْسَانٌ فَاطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي حُجْرَتِهِ، فَأَبْصَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْتَظِرُنِي، لَفَقَأْتُ بِهَذَا الْمِدْرَى عَيْنَكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ» ، " أَبُو سَلَمَةَ هَذَا رَوَى عَنْهُ سُفْيَانُ هُوَ: مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ "
ترجمہ
…ایک بار نبی کریم ﷺ اپنے حجرے میں تھے، آپ کے پاس ایک کنگھی تھی جس سے آپ اپنی داڑھی سنوار رہے تھے، اتنے میں ایک آدمی آیا اور حجرے کے سوراخ سے جھانکنے لگا، نبی کریم ﷺ نے اسے دیکھ لیا اور فرمایا: ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو میرا انتظار کر رہا ہے تو میں یہ کنگھی تیری آنکھ میں پھوڑ دیتا، اجازت طلب کرنا تو صرف نگاہ کی وجہ سے ہی مقرر کیا گیا ہے۔“
(سند سے متعلق نوٹ:) یہ ابوسلمہ، جن سے سفیان روایت کرتے ہیں، دراصل محمد بن ابی حفصہ ہیں۔
(سند سے متعلق نوٹ:) یہ ابوسلمہ، جن سے سفیان روایت کرتے ہیں، دراصل محمد بن ابی حفصہ ہیں۔
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هَاشِمٍ الْبَغَوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «لَوْ أَنِّي أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُ، لَقُمْتُ حَتَّى أَطْعَنَ بِهِ فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے سوراخ سے نبی کریم ﷺ کی طرف جھانکا، جبکہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک کنگھی تھی جس سے آپ اپنا سر کھجا رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو جھانک رہا ہے تو میں کھڑا ہو کر یہ تیری آنکھ میں گھونپ دیتا، اجازت طلب کرنا تو صرف نگاہ کی وجہ سے ہی مقرر کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ رِشْدِينَ الْمِصْرِيُّ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى كَاتَبُ الْعُمَرِيِّ، ثنا رِشْدِينَ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: اطَّلَعَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ، وَفِي يَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُودٌ أَوْ مِدْرًى، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُنِي، لَفَقَأْتُ عَيْنَكَ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کی طرف جھانکا، جبکہ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں ایک لکڑی یا کنگھی تھی (راوی کو شک ہے)، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو مجھے دیکھ رہا ہے تو میں تیری آنکھ پھوڑ دیتا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ حُمَيْدٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي بَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يَحُكُّ بِهِ رَأْسَهُ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تُبْصِرُنِي، لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الِاسْتِئْذَانُ مِنْ أَجْلِ الْبَصَرِ»
ترجمہ
…ایک آدمی نے نبی کریم ﷺ کے دروازے کے سوراخ سے جھانکا، جبکہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک کنگھی تھی جس سے آپ اپنا سر کھجا رہے تھے، جب رسول اللہ ﷺ نے اسے دیکھا تو فرمایا: ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو مجھے دیکھ رہا ہے تو میں یہ تیری آنکھ میں گھونپ دیتا، اجازت طلب کرنا تو صرف نگاہ کی وجہ سے ہی مقرر کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَدَقَةَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: نَظَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ يَنْظُرُ فِي بَيْتِهِ، وَفِي يَدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يُرَجِّلُ بِهِ رَأْسَهُ، فَقَالَ: «لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تُبْصِرُنِي، لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو دیکھا جو آپ ﷺ کے گھر میں جھانک رہا تھا، جبکہ رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ میں ایک کنگھی تھی جس سے آپ اپنے بال سنوار رہے تھے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو مجھے دیکھ رہا ہے تو میں یہ تیری آنکھ میں گھونپ دیتا۔“
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَزِيزٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا سَلَامَةُ بْنُ رَوْحٍ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ، أَنَّ رَجُلًا اطَّلَعَ مِنْ جُحْرٍ فِي بَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِدْرًى يُرَجِّلُ بِهِ رَأْسَهُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَعْلَمُ أَنَّكَ تَنْظُرُنِي، لَطَعَنْتُ بِهِ فِي عَيْنِكَ، إِنَّمَا جُعِلَ الْإِذْنُ مِنْ أَجْلِ النَّظَرِ»
ترجمہ
…ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے دروازے کے سوراخ سے جھانکا، جبکہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک کنگھی تھی جس سے آپ اپنے بال سنوار رہے تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تو مجھے دیکھ رہا ہے تو میں یہ تیری آنکھ میں گھونپ دیتا، اجازت طلب کرنا تو صرف نگاہ کی وجہ سے ہی مقرر کیا گیا ہے۔“
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنِ الْمُلَاعَنَةِ، وَعَنِ السُّنَّةِ فِيهَا، عَنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي شَأْنِهِ مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ أَمْرِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ قَضَى اللهُ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ» ، قَالَ: فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنَا شَاهِدٌ، فَلَمَّا فَرَغَا، قَالَ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ فَرَغَا مِنَ التَّلَاعُنِ، فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَلِكَ التَّفْرِيقُ بَيْنَ كُلِّ مُتَلَاعِنَيْنِ» ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ قَصِيرًا، كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ، فَلَا أُرَاهَا إِلَّا قَدْ صَدَقَتْ وَكَذَبَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ أَعْيَنَ ذَا أَلْيَتَيْنِ، فَلَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا» ، فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى الْمَكْرُوهِ مِنْ ذَلِكَ
ترجمہ
…یا وہ کیسے کرے؟ اس پر اللہ عزوجل نے اس کے بارے میں وہ آیات نازل فرمائیں جو قرآن میں متلاعنین (باہم لعنت کرنے والوں) کے معاملے میں مذکور ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اللہ نے تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں فیصلہ فرما دیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ دونوں نے مسجد میں لعان کیا، اور میں اس کا گواہ تھا، جب دونوں فارغ ہوئے تو اس نے کہا: یا رسول اللہ! اگر میں اسے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ باندھا ہوگا۔ چنانچہ اس نے لعان سے فارغ ہوتے ہی، نبی کریم ﷺ کے حکم دینے سے پہلے ہی، اسے تین طلاقیں دے دیں، اور نبی کریم ﷺ کے سامنے ہی اس سے جدائی اختیار کر لی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہی ہر لعان کرنے والے جوڑے کے درمیان جدائی کا طریقہ ہے۔“ اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ سرخی مائل، پستہ قد بچہ جنے، گویا وہ چھپکلی کی طرح ہو، تو میں سمجھتا ہوں کہ عورت نے سچ کہا اور مرد نے اس پر جھوٹ باندھا، اور اگر وہ سیاہ رنگ، موٹی آنکھوں والا اور بڑے سرینوں والا بچہ جنے، تو میں سمجھتا ہوں کہ مرد نے اس کے بارے میں سچ کہا۔“ چنانچہ اس نے اسی ناپسندیدہ صورت میں بچہ جنا۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرَ بْنَ أَشْقَرَ الْعَجْلَانِيَّ أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيَّ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَاصِمُ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟، سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ أَتَاهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ: لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ قَطُّ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا، فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ، حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي وَسَطِ النَّاسِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَنْزَلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَائْتِ بِهَا» . فَقَالَ سَهْلٌ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا عُوَيْمِرٌ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: «فَكَانَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ»
ترجمہ
…نبی کریم ﷺ کے پاس آیا جبکہ آپ ﷺ لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے، تو اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا کیا خیال ہے اس آدمی کے بارے میں جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے، کیا وہ اسے قتل کر دے تو تم اسے بدلے میں قتل کرو گے، یا وہ کیا کرے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے اور تیری ساتھی کے بارے میں آیت نازل ہو گئی ہے، جاؤ اسے لے آؤ۔“ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ دونوں نے لعان کیا اور میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا۔ جب دونوں فارغ ہوئے تو عویمر نے کہا: اگر میں اسے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ باندھا ہوگا۔ چنانچہ عویمر نے رسول اللہ ﷺ کے حکم دینے سے پہلے ہی اسے تین طلاقیں دے دیں۔ ابن شہاب کہتے ہیں: ”پھر یہی متلاعنین کا طریقہ بن گیا۔“
حَدَّثَنَا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءٍ، ثنا جُوَيْرِيَةُ بْنُ أَسْمَاءٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُوَيْمِرًا مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَعْمَلُ؟ فَسَلْ لِي عَنْ ذَلِكَ يَا عَاصِمُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ بنو عجلان کے عویمر، عاصم بن عدی کے پاس آئے اور کہا: اے عاصم! آپ کا کیا خیال ہے اس آدمی کے بارے میں جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے، کیا وہ اسے قتل کر دے تو تم اسے بدلے میں قتل کرو گے، یا وہ کیا کرے؟ اے عاصم! میرے لیے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے پوچھیے۔ - پھر راوی نے اسی طرح کی حدیث بیان کی جیسی پہلے گزر چکی ہے۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ عُوَيْمِرًا أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ وَكَانَ سَيِّدَ بَنِي الْعَجْلَانِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَقُولُ فِي رَجُلٍ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ وَقَالَ: سَلْ لِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَتَى عَاصِمٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَجُلٌ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ، فَسَأَلَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَجَاءَ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَجُلٌ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ» ، وأمَرَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُلَاعَنَةِ بِمَا بَيَّنَهَا اللهُ فِي كِتَابِهِ، فَتَلَاعَنَا، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ حَبَسْتُهَا فَقَدْ ظَلَمْتُهَا، قَالَ: ثُمَّ طَلَّقَهَا، فَكَانَتْ سُنَّةً لِمَنْ جَاءَ بَعْدَهُمَا مِنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْظُرُوا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ، فَلَا أَحْسَبُ إِلَّا عُوَيْمِرٌ قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ، كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ، فَلَا أَحْسَبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا قَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا» ، قَالَ: فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَصْدِيقِ عُوَيْمِرٍ، وَكَانَ نَسَبُ هَذَا إِلَى أُمِّهِ
ترجمہ
…راوی کہتے ہیں: پھر عویمر آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے، کیا وہ اسے قتل کر دے تو تم اسے قتل کرو گے، یا وہ کیا کرے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے اور تیری ساتھی کے بارے میں قرآن نازل ہو چکا ہے۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے انہیں لعان کا حکم دیا جیسا کہ اللہ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے، چنانچہ دونوں نے لعان کیا۔ پھر عویمر نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں اسے روکوں تو میں نے اس پر ظلم کیا ہوگا۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے اسے طلاق دے دی، اور یہی بعد میں آنے والے تمام لعان کرنے والوں کے لیے طریقہ بن گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دیکھو، اگر وہ سیاہ رنگ، بڑی سرمگیں آنکھوں والا، بڑے سرینوں والا اور موٹی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو میں سمجھتا ہوں کہ عویمر نے اس کے بارے میں سچ کہا، اور اگر وہ سرخی مائل بچہ جنے، گویا وہ چھپکلی کی طرح ہو، تو میں سمجھتا ہوں کہ عویمر نے اس پر جھوٹ باندھا۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ اس نے اسی وصف کے مطابق بچہ جنا جو رسول اللہ ﷺ نے عویمر کی تصدیق کے طور پر بیان فرمایا تھا، اور اس بچے کا نسب اس کی ماں کی طرف کر دیا گیا۔
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ السَّدُوسِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْمَرْوَزِيُّ قَالَا: ثنا عَاصِمُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ عُوَيْمِرًا جَاءَ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ بِهِ، سَلْ يَا عَاصِمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ عَاصِمٌ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، فَرَجَعَ، فَأَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: فَوَاللهِ لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَ وَقَدْ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ خَلْفَ عَاصِمٍ، فَسَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أُنْزِلَ فِيكُمْ قُرْآنٌ» ، فَدَعَاهُمَا فَتَقَدَّمَا فَتَلَاعَنَا، ثُمَّ قَالَ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا فَفَارَقَهَا وَمَا أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِفِرَاقِهَا، فَجَرَتْ سُنَّةُ الْمُتلَاعِنَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْظُرُوا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَحْمَرَ قَصِيرًا مِثْلَ الْوَحْرَةِ، فَلَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَعْيَنَ ذَا أَلْيَتَيْنِ، فَلَا أَحْسَبُهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا» ، فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى الْأَمْرِ الْمَكْرُوهِ
ترجمہ
…عویمر نے کہا: اللہ کی قسم! میں ضرور رسول اللہ ﷺ کے پاس جاؤں گا۔ چنانچہ وہ آئے، اور اس وقت تک عاصم کے پیچھے قرآن نازل ہو چکا تھا، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا، تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے بارے میں قرآن نازل ہو چکا ہے۔“ چنانچہ آپ ﷺ نے دونوں کو بلایا، وہ آگے آئے اور لعان کیا۔ پھر عویمر نے کہا: یا رسول اللہ! اگر میں اسے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ باندھا ہوگا۔ چنانچہ انہوں نے اسے جدا کر دیا، حالانکہ نبی کریم ﷺ نے انہیں جدا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، تو یہی لعان کرنے والوں کا طریقہ بن گیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”دیکھو، اگر وہ سرخی مائل، پستہ قد بچہ جنے، چھپکلی کی طرح، تو میں سمجھتا ہوں کہ اس نے اس پر جھوٹ باندھا، اور اگر وہ سیاہ رنگ، سرمگیں آنکھوں والا اور بڑے سرینوں والا بچہ جنے، تو میں سمجھتا ہوں کہ اس نے اس کے بارے میں سچ کہا۔“ چنانچہ اس نے اسی ناپسندیدہ صورت میں بچہ جنا۔
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي عَقِيلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ قَالَ: إِنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي شَأْنِهِ مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنَ التَّلَاعُنِ، فَقَالَ: «قَدْ قُضِيَ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ» قَالَ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا شَاهِدٌ، ثُمٌّ فَارَقَهَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِيهِمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَكَانَتْ حَامِلًا فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا، فَكَانَ ابْنُهَا يُدْعَى إِلَى أُمِّهِ، ثُمَّ جَرَتِ السُّنَّةُ فِي الْمِيرَاثِ، أَنَّهُ يَرِثُهَا ابْنُهَا وَتَرِثُ مِنْهُ مَا فُرِضَ لَهَا،
ترجمہ
…اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا کیا خیال ہے اس آدمی کے بارے میں جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے، کیا وہ اسے قتل کر دے؟ اس پر اللہ عزوجل نے اس کے بارے میں وہ آیات نازل فرمائیں جو قرآن میں لعان کے متعلق مذکور ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ دونوں نے لعان کیا اور میں اس کا گواہ تھا، پھر اس نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ہی اسے جدا کر دیا، اور اس کے بعد یہی طریقہ بن گیا کہ لعان کرنے والوں کے درمیان جدائی کروا دی جائے۔ وہ عورت حاملہ تھی، تو اس نے اس کے حمل کا انکار کر دیا، چنانچہ اس بچے کو اس کی ماں کی طرف منسوب کیا جانے لگا، پھر وراثت میں بھی یہی طریقہ رائج ہوا کہ بیٹا اس ماں کا وارث بنے گا اور وہ ماں اس بیٹے سے اتنا وراثت پائے گی جتنا اللہ نے اس کے لیے مقرر کیا ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ بْنِ نُمَيْرٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَقِيلٍ وَرِشْدِينَ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَقِيلٍ وَقُرَّةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ اللَّيْثِ، عَنْ عَقِيلٍ
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: آپ کا کیا خیال ہے اس آدمی کے بارے میں جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے؟ - پھر راوی نے ابوصالح کی، لیث سے، عقیل کے واسطے سے، روایت کردہ حدیث جیسی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ كَتَبَ يَذْكُرُ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُوَيْمِرًا قَالَ لِابْنِ عَمِّهِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ أَنِّي وَجَدْتُ عِنْدَ أَهْلِي رَجُلًا، أَقْتُلُهُ؟، فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلَهُ، فَرَجَعَ فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: لَأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لَهُ وَإِنْ كَرِهَ، فَأَتَاهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُ عِنْدَ أَهْلِي رَجُلًا، فَقَالَ: «ائْتِ بَامْرَأَتِكَ فَإِنَّهُ قَدْ نَزَلَ فِيكُمَا» ، فَجَاءَ بِهَا فَتَلَاعَنَا، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي قَدِ افْتَرَيْتُ عَلَيْهَا، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: «فَكَانَتْ سُنَّةً فِي الْمُسْلِمِينَ فِرَاقُهُ إِيَّاهَا»
ترجمہ
…کیا وہ اسے قتل کرے؟ رسول اللہ ﷺ نے اس کی بات کو ناپسند فرمایا، تو وہ واپس چلا گیا۔ عویمر نے کہا: میں یہ بات ضرور خود ان سے کہوں گا، چاہے وہ اسے ناپسند ہی کیوں نہ فرمائیں۔ چنانچہ عویمر خود آپ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اپنی بیوی کے پاس کسی مرد کو پاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی بیوی کو لے آؤ، تم دونوں کے بارے میں آیت نازل ہو چکی ہے۔“ چنانچہ وہ اسے لے آئے اور دونوں نے لعان کیا۔ پھر عویمر نے کہا: میں نے اس پر بہتان باندھا ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان دونوں میں جدائی کروا دی۔ ابن شہاب کہتے ہیں: ”پھر یہی مسلمانوں میں اس کا اسے جدا کرنا طریقہ بن گیا۔“
أَبُو مُسْلِمٍ الْكَشِّيُّ، ثنا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، ح وَحَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ قَالَ: جَاءَ عُوَيْمِرٌ الْعَجْلَانِيُّ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، سَلْ لِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتَهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ، أَيُقْتَلُ بِهِ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عنْ ذَلِكَ، فَعَابَ الْمَسَائِلَ، وَكَرِهَهُ، فَجَاءَ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ مَا صَنَعْتَ؟ فَقَالَ: مَا صَنَعْتُ؟ إِنَّكَ لَمْ تَأْتِ بِخَيْرٍ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَابَ الْمَسَائِلَ، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللهِ لَآتِيَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَأَسْأَلَنَّهُ، فَأَتَاهُ فَوَجَدَهُ قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ فِيهِمَا، فَدَعَاهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَاعَنَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: لَئِنِ انْطَلَقْتُ بِهَا لَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا، فَفَارَقَهَا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. - قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: فَصَارَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ -، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْظُرُوهَا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ الْعَيْنَيْنِ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ، فَلَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ، فَلَا أُرَاهُ إِلَّا كَاذِبًا» ، فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الْمَكْرُوهِ، وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ الْحُمَيْدِيِّ
ترجمہ
…اس نے نبی کریم ﷺ کے حکم دینے سے پہلے ہی اسے جدا کر دیا۔ - ابن شہاب کہتے ہیں: پھر یہی لعان کرنے والوں کا طریقہ بن گیا - پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دیکھو، اگر وہ سیاہ رنگ، بڑی سرمگیں آنکھوں والا اور بڑے سرینوں والا بچہ جنے، تو میں سمجھتا ہوں کہ اس مرد نے اس کے بارے میں سچ کہا، اور اگر وہ سرخی مائل بچہ جنے، گویا وہ چھپکلی کی طرح ہو، تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ جھوٹا ہے۔“ چنانچہ اس نے اسی ناپسندیدہ صورت میں بچہ جنا - اور یہ الفاظ حمیدی کی روایت کے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَنْبَرٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ بِهِ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ بِهِ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمَا مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنَ التَّلَاعُنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ قُضِيَ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ» ، قَالَ: فَتَلَاعَنَا، وَأَنَا شَاهِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا، فَفَارَقَهَا، فَجَرَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِيهِمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَكَانَتْ حَامِلًا، فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا، وَكَانَ يُدْعَى إِلَيْهَا، وَجَرَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِي الْمِيرَاثِ، أَنْ يَرِثَهَا فَتَرِثَ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللهُ لَهَا
ترجمہ
…کیا وہ اسے قتل کرے تو تم اسے بدلے میں قتل کرو گے، یا وہ کیا کرے؟ اس پر اللہ عزوجل نے ان دونوں کے بارے میں وہ آیات نازل فرمائیں جو قرآن میں لعان کے متعلق مذکور ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ دونوں نے لعان کیا اور میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اس کا گواہ تھا۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں اسے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ باندھا ہوگا۔ چنانچہ اس نے اسے جدا کر دیا، اور اس کے بعد یہی طریقہ بن گیا کہ لعان کرنے والوں کے درمیان جدائی کروا دی جائے۔ وہ عورت حاملہ تھی، تو اس نے اس کے حمل کا انکار کر دیا، چنانچہ وہ بچہ اسی ماں کی طرف منسوب کیا جانے لگا، اور اس کے بعد وراثت میں بھی یہی طریقہ رائج ہوا کہ وہ بیٹا اس کا وارث بنے اور وہ ماں اس سے اتنا وراثت پائے جتنا اللہ نے اس کے لیے مقرر کیا ہے۔
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسَنِ الْخَفَّافُ الْمِصْرِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْفِهْرِيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، «أَنَّ الْمُلَاعِنَ طَلَّقَهَا ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْفَذَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مَا صُنِعَ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَّةً» ، قَالَ سَهْلٌ: «حَضَرْتُ هَذَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَضَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا» ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: «وَقَالَ الرَّجُلُ عِنْدَ ذَلِكَ، بِئْسَ عَبْدُ اللهِ أَنَا إِنْ كَذَبْتُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وتَحَمَّلْتُ فِرْيَةً»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لعان کرنے والے شوہر نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ہی اسے تین طلاقیں دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے نافذ کر دیا، اور جو کچھ رسول اللہ ﷺ کے سامنے کیا گیا وہی طریقہ بن گیا۔ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کے سامنے ہی موجود تھا، پھر اس کے بعد لعان کرنے والوں کے بارے میں یہی طریقہ رائج ہوا کہ ان دونوں کے درمیان جدائی کروا دی جائے، پھر وہ کبھی اکٹھے نہ ہوں۔“ ابن شہاب کہتے ہیں: ”اس وقت اس آدمی نے کہا: میں کتنا برا بندہ ہوں اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے جھوٹ بولا اور بہتان کا بوجھ اٹھایا۔“
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْحَسنِ الْخَفَّافُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: حَضَرْتُ لِعَانَهُمَا عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلَاعُنِهِمَا قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَذَبْتُ عَلَيْهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا، قَالَ: «فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا» ، وَقَالَ: وَاللهِ لَئِنْ كَذَبْتُ، لَقَدْ تَحَمَّلْتُ فِرْيَةً، ثُمَّ مَرَّتْ حَامِلًا، وَكَانَ الْوَلَدُ إِلَى أُمِّهِ
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے ان دونوں کے لعان کے وقت موجود تھا، اور اس وقت میری عمر پندرہ سال تھی۔ جب دونوں لعان سے فارغ ہوئے تو شوہر نے کہا: یا رسول اللہ! اگر میں اسے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ باندھا ہوگا۔ راوی کہتے ہیں: تو اس نے اسے تین طلاقیں دے دیں، اور کہا: اللہ کی قسم! اگر میں نے جھوٹ بولا ہو تو میں نے بہتان کا بوجھ اٹھایا ہوگا۔ پھر وہ حاملہ حالت میں چلی گئی، اور بچہ اپنی ماں کی طرف منسوب کیا گیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ الْمَلْطِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَمِّعٍ ح، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ كَرَامَةَ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ يَعْنِي ابْنَ مُجَمِّعٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: جَاءَ عُوَيْمِرٌ - رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ - إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، فَقَالَ: سَلِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَقَتَلَهُ، أَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَلَبِثَ الرَّجُلُ شَيْئًا، ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، مَا صَنَعْتَ فِيمَا قُلْتُ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ: إِنَّكَ لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ قَطُّ، سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَابَ الْمَسَائِلَ، فَلَمْ تُقِرَّهُ نَفْسُهُ، حَتَّى جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ مِثْلَ مَا قَالَ لِعَاصِمٍ، فَقَالَ: «تَعَالَ فَقَدْ أَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ» ، فَدَعَاهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَاعَنَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: يَا نَبِيَّ اللهِ، كَذَبْتُ عَلَيْهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا بَعْدَ أَنْ لَاعَنْتُهَا، فَجَرَتِ السُّنَّةُ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ فِي أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَهُمَا
ترجمہ
…میں نے نبی کریم ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے فضول سوالات کرنے کو ناپسند فرمایا، مگر اس کا دل مطمئن نہ ہوا، یہاں تک کہ وہ خود رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور اس نے آپ ﷺ سے وہی بات کہی جو عاصم سے کہی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آؤ، تمہارے اور تمہاری ساتھی کے بارے میں اللہ عزوجل نے آیت نازل فرما دی ہے۔“ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے دونوں کو بلایا اور ان کے درمیان لعان کروایا۔ عویمر نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! اگر لعان کے بعد میں اسے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ باندھا ہوگا۔ چنانچہ لعان کرنے والوں کے درمیان جدائی کروانے کا طریقہ رائج ہو گیا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، «أَنَّهُ حَضَرَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَأَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَّقَ بَيْنَهُمَا»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ لعان کرنے والے دونوں میاں بیوی کے موقع پر موجود تھے، اور رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان جدائی کروا دی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو عَامِرٍ النَّحْوِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ عُوَيْمِرٌ لِعَاصِمٍ: رَجُلٌ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ سَلْ لِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عنْ ذَلِكَ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَكَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، فَعَظُمَ ذَلِكَ عَلَى عَاصِمٍ وَكَبُرَ فِي نَفْسِهِ، فَأَتَاهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: سَأَلْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي أَمَرْتُكَ بِهِ؟ فَقَالَ: لَمْ تَجِئْنِي بِخَيْرٍ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْ مَالِي وَلَمْ أَسْأَلْهُ شَأْنَكَ بَامْرَأَتِكَ، فَأَتَى عُوَيْمِرٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَجُلٌ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَقَالَ: «قَدْ أَنْزَلَ اللهُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاعْجَلْ بِهَا» ، فَقَدَّمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَأَنَا مَعَ النَّاسِ أَنْظُرُ، فَتَلَاعَنَا، فَلَمَّا فَرَغَا، وَقَفَ عُوَيْمِرٌ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ظَلَمْتُهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَهِيَ طَالِقٌ الْبَتَّةَ
ترجمہ
…چنانچہ عویمر رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے، کیا وہ اسے قتل کر دے تو تم اسے قتل کرو گے، یا وہ کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے اور تیری ساتھی کے بارے میں اللہ نے آیت نازل فرما دی ہے، اسے جلدی لے آؤ۔“ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے عصر کے بعد مسجد میں پیش کیا، اور میں لوگوں کے ساتھ دیکھ رہا تھا، تو دونوں نے لعان کیا۔ جب دونوں فارغ ہوئے تو عویمر رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں اسے رکھوں تو میں نے اس پر ظلم کیا ہوگا، لہٰذا یہ حتمی طور پر طلاق شدہ ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ عُوَيْمِرًا لَمَّا لَاعَنَ امْرَأَتَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَفَ عُوَيْمِرٌ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ظَلَمْتُهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَهِيَ طَالِقٌ الْبَتَّةَ ،
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب عویمر نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اپنی بیوی سے لعان کیا، تو عویمر رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں اسے رکھوں تو میں نے اس پر ظلم کیا ہوگا، لہٰذا یہ حتمی طور پر طلاق شدہ ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ، قَالَ: جَاءَ عُوَيْمِرٌ - رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ - فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، نَحْوَ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ عاصم بن عدی نے کہا: عویمر - بنو عجلان کے ایک آدمی - آئے۔ - پھر راوی نے ابراہیم بن سعد کی روایت جیسی حدیث بیان کی۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ غَنَّامٍ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، " أَنَّهُ شَهِدَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُرِّقَ بَيْنَهُمَا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَذَبْتُ عَلَيْهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا "
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں لعان کرنے والے دونوں میاں بیوی کے موقع پر موجود تھے، ان کے درمیان جدائی کروا دی گئی، اور شوہر نے کہا: یا رسول اللہ! اگر میں اسے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ باندھا ہوگا۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ الْمَاجِشُونَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي الْعَجْلَانِ إِلَى عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ سَلْ لِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ، جَاءَ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ: قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتَ عَنْهَا، فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ حَتَّى سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَسَطِ النَّاسِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ قَالَ: «قَدْ نَزَلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَائْتِ بِهَا» ، قَالَ سَهْلٌ: فَتَلَاعَنَا، وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَا مِنْ تَلَاعُنِهِمَا، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَذَبْتُ عَلَيْهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا، قَالَ: فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِطَلَاقِهَا، وَكَانَ فِرَاقُهُ إِيَّاهَا سُنَّةً بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ
ترجمہ
…عویمر آئے یہاں تک کہ انہوں نے لوگوں کے درمیان رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا کیا خیال ہے اس آدمی کے بارے میں جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے، کیا وہ اسے قتل کر دے تو تم اسے قتل کرو گے، یا وہ کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے اور تیری ساتھی کے بارے میں آیت نازل ہو چکی ہے، جاؤ اسے لے آؤ۔“ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ دونوں نے لعان کیا اور میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا۔ جب دونوں لعان سے فارغ ہوئے تو عویمر نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں اسے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ باندھا ہوگا۔ راوی کہتے ہیں: چنانچہ اس نے رسول اللہ ﷺ کے طلاق کا حکم دینے سے پہلے ہی اسے طلاق دے دی، اور یہی اس کا اسے جدا کرنا لعان کرنے والوں کے درمیان طریقہ بن گیا۔
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خُنَيْسٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَلْقَاوِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، فحَانَ وَقْتُ الصَّلَاةِ، فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَقَالَ: أَتُصَلِّي لِلنَّاسِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ فَخَلُصَ، حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ مَعَ النَّاسِ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ، الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وأشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ يَدَهُ، فَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ، حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ، فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ؟» ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: مَا كَانَ يَنْبَغِي لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمْ مِنَ التَّصْفِيقِ، مَنْ رَابَهُ شَيْءٌ فِي الصَّلَاةِ فَلْيُسَبِّحْ، فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتَفَتَ إِلَيْهِ، وإِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ»
ترجمہ
…اللہ عزوجل کی رضا کی خاطر، جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس کا حکم دیا تھا، پھر وہ پیچھے ہٹ گئے یہاں تک کہ صف میں برابر ہو گئے، تو نبی کریم ﷺ آگے بڑھے اور نماز پڑھائی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں امامت پر قائم رہنے کا حکم دیا تھا تو تمہیں کس چیز نے روکا؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ابن ابی قحافہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے آگے نماز پڑھائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے کیا ہوا کہ میں نے تم لوگوں کو بہت زیادہ تالی بجاتے دیکھا؟ جسے نماز میں کوئی بات پیش آئے تو وہ سبحان اللہ کہے، کیونکہ جب وہ سبحان اللہ کہے گا تو امام اس کی طرف متوجہ ہو جائے گا، تالی بجانا تو صرف عورتوں کے لیے ہے۔“
حَدَّثَنَا مَسْعَدَةُ بْنُ سَعْدٍ الْعَطَّارُ الْمَكِّيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عَنْبَرٍ الْبَصْرِيُّ قَالَا: ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُلَيْحٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَومَ أُحُدٍ: «اللهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن فرمایا: ”اے اللہ! میری قوم کو معاف فرما دے، کیونکہ وہ نہیں جانتے۔“
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «إِنَّمَا رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُتْعَةِ لِحَاجَةِ كَانَتْ بِالنَّاسِ شَدِيدَةٍ، ثُمَّ نَهَى عَنْهَا بَعْدُ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”رسول اللہ ﷺ نے ہمیں متعہ کی اجازت صرف اس سخت ضرورت کی بنا پر دی تھی جو لوگوں کو پیش آئی تھی، پھر بعد میں اس سے منع فرما دیا۔“
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَذُوعِيُّ، ثنا أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: " إِنَّمَا كَانَ قَوْلُ الْأَنْصَارِ: الْمَاءُ مِنَ الْمَاءِ فِي أَوَّلِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ كَانَ الْغُسْلُ بَعْدَهُ
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”ابتدائے اسلام میں انصار کا قول تھا: پانی (نکلنے) ہی سے پانی (غسل) لازم آتا ہے، پھر اس کے بعد (انزال کے بغیر ملاپ پر بھی) غسل کا حکم آیا۔“