❮
❯
حدیث نمبر: 5654
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، وَحَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عُوَيْمِرَ بْنَ أَشْقَرَ الْعَجْلَانِيَّ أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ الْأَنْصَارِيَّ، فَقَالَ لَهُ: يَا عَاصِمُ أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟، سَلْ لِي يَا عَاصِمُ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ عَنْ ذَلِكَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى كَبُرَ عَلَى عَاصِمٍ مَا سَأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلَى أَهْلِهِ أَتَاهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا عَاصِمُ، مَاذَا قَالَ لَكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ عَاصِمٌ لِعُوَيْمِرٍ: لَمْ تَأْتِنِي بِخَيْرٍ قَطُّ، قَدْ كَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْأَلَةَ الَّتِي سَأَلْتُهُ عَنْهَا، فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَهُ عَنْهَا، فَأَقْبَلَ عُوَيْمِرٌ، حَتَّى أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي وَسَطِ النَّاسِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أَنْزَلَ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ، فَاذْهَبْ فَائْتِ بِهَا» . فَقَالَ سَهْلٌ: فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَيْمِرٌ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا عُوَيْمِرٌ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: «فَكَانَتْ سُنَّةَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ»
ترجمہ

عویمر بن اشقر عجلانی، عاصم بن عدی انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا: اے عاصم! تمہارا کیا خیال ہے اس آدمی کے بارے میں جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی (غیر) مرد کو پائے، کیا وہ اسے قتل کر دے تو تم اسے بدلے میں قتل کرو گے، یا وہ کیا کرے؟ اے عاصم! میرے لیے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھو۔ چنانچہ عاصم نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے اس طرح کے سوالات کرنے کو ناپسند فرمایا اور ان پر عیب لگایا، یہاں تک کہ عاصم پر یہ بات گراں گزری کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کیوں کیا۔ جب عاصم اپنے گھر والوں کے پاس واپس لوٹے تو عویمر ان کے پاس آئے اور کہا: اے عاصم! رسول اللہ ﷺ نے تم سے کیا فرمایا؟ عاصم نے عویمر سے کہا: تم میرے پاس کبھی کوئی اچھی بات لے کر نہیں آئے، رسول اللہ ﷺ نے اس سوال کو ناپسند فرمایا جو میں نے آپ ﷺ سے کیا تھا۔ عویمر نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس وقت تک باز نہیں آؤں گا جب تک آپ ﷺ سے خود نہ پوچھ لوں۔ چنانچہ عویمر آگے بڑھے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، جبکہ آپ ﷺ لوگوں کے درمیان تشریف فرما تھے، تو انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کا کیا خیال ہے اس آدمی کے بارے میں جو اپنی بیوی کے ساتھ کسی (غیر) مرد کو پائے، کیا وہ اسے قتل کر دے تو تم اسے بدلے میں قتل کرو گے، یا وہ کیا کرے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے اور تیری ساتھی کے بارے میں آیت نازل ہو گئی ہے، جاؤ اسے لے آؤ۔“ سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ دونوں نے لعان کیا اور میں لوگوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھا۔ جب دونوں فارغ ہوئے تو عویمر نے کہا: اگر میں اسے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ باندھا ہوگا۔ چنانچہ عویمر نے رسول اللہ ﷺ کے حکم دینے سے پہلے ہی اسے تین طلاقیں دے دیں۔ ابن شہاب کہتے ہیں: ”پھر یہی متلاعنین کا طریقہ بن گیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5654
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 113، حدیث 5675