المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 5639–5675) باب: (احادیث 5639 تا 5675)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّبَرِيُّ، أَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، عَنِ الْمُلَاعَنَةِ، وَعَنِ السُّنَّةِ فِيهَا، عَنْ حَدِيثِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَخِي بَنِي سَاعِدَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي شَأْنِهِ مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنْ أَمْرِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ قَضَى اللهُ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ» ، قَالَ: فَتَلَاعَنَا فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنَا شَاهِدٌ، فَلَمَّا فَرَغَا، قَالَ: كَذَبْتُ عَلَيْهَا يَا رَسُولَ اللهِ إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَأْمُرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حِينَ فَرَغَا مِنَ التَّلَاعُنِ، فَفَارَقَهَا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَلِكَ التَّفْرِيقُ بَيْنَ كُلِّ مُتَلَاعِنَيْنِ» ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ قَصِيرًا، كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ، فَلَا أُرَاهَا إِلَّا قَدْ صَدَقَتْ وَكَذَبَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْوَدَ أَعْيَنَ ذَا أَلْيَتَيْنِ، فَلَا أُرَاهُ إِلَّا قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا» ، فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى الْمَكْرُوهِ مِنْ ذَلِكَ…یا وہ کیسے کرے؟ اس پر اللہ عزوجل نے اس کے بارے میں وہ آیات نازل فرمائیں جو قرآن میں متلاعنین (باہم لعنت کرنے والوں) کے معاملے میں مذکور ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”اللہ نے تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں فیصلہ فرما دیا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ دونوں نے مسجد میں لعان کیا، اور میں اس کا گواہ تھا، جب دونوں فارغ ہوئے تو اس نے کہا: یا رسول اللہ! اگر میں اسے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ باندھا ہوگا۔ چنانچہ اس نے لعان سے فارغ ہوتے ہی، نبی کریم ﷺ کے حکم دینے سے پہلے ہی، اسے تین طلاقیں دے دیں، اور نبی کریم ﷺ کے سامنے ہی اس سے جدائی اختیار کر لی۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”یہی ہر لعان کرنے والے جوڑے کے درمیان جدائی کا طریقہ ہے۔“ اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اگر وہ سرخی مائل، پستہ قد بچہ جنے، گویا وہ چھپکلی کی طرح ہو، تو میں سمجھتا ہوں کہ عورت نے سچ کہا اور مرد نے اس پر جھوٹ باندھا، اور اگر وہ سیاہ رنگ، موٹی آنکھوں والا اور بڑے سرینوں والا بچہ جنے، تو میں سمجھتا ہوں کہ مرد نے اس کے بارے میں سچ کہا۔“ چنانچہ اس نے اسی ناپسندیدہ صورت میں بچہ جنا۔