❮
❯
حدیث نمبر: 5672
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خُنَيْسٍ الدِّمْيَاطِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْبَلْقَاوِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، حَدَّثَنِي سَهْلُ بْنُ سَعْدٍ السَّاعِدِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ إِلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ لِيُصْلِحَ بَيْنَهُمْ، فحَانَ وَقْتُ الصَّلَاةِ، فَجَاءَ الْمُؤَذِّنُ إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَقَالَ: أَتُصَلِّي لِلنَّاسِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَصَلَّى أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ، فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فِي الصَّلَاةِ فَخَلُصَ، حَتَّى وَقَفَ فِي الصَّفِّ مَعَ النَّاسِ فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ لَا يَلْتَفِتُ فِي صَلَاتِهِ، فَلَمَّا أَكْثَرَ النَّاسُ التَّصْفِيقَ، الْتَفَتَ فَرَأَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وأشَارَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنِ امْكُثْ مَكَانَكَ، فَرَفَعَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ يَدَهُ، فَحَمِدَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى مَا أَمَرَهُ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ، ثُمَّ اسْتَأْخَرَ، حَتَّى اسْتَوَى فِي الصَّفِّ، فَتَقَدَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ مَا مَنَعَكَ أَنْ تَثْبُتَ إِذْ أَمَرْتُكَ؟» ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ تَعَالَى عَنْهُ: مَا كَانَ يَنْبَغِي لِابْنِ أَبِي قُحَافَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا لِي رَأَيْتُكُمْ أَكْثَرْتُمْ مِنَ التَّصْفِيقِ، مَنْ رَابَهُ شَيْءٌ فِي الصَّلَاةِ فَلْيُسَبِّحْ، فَإِنَّهُ إِذَا سَبَّحَ الْتَفَتَ إِلَيْهِ، وإِنَّمَا التَّصْفِيقُ لِلنِّسَاءِ»
ترجمہ

رسول اللہ ﷺ بنو عمرو بن عوف کے پاس ان کے درمیان صلح کرانے کے لیے تشریف لے گئے، اسی دوران نماز کا وقت آ گیا۔ مؤذن سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے؟ انہوں نے کہا: ہاں۔ چنانچہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے نماز شروع کرا دی۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ تشریف لائے جبکہ لوگ نماز میں تھے، آپ ﷺ (صفوں کو چیرتے ہوئے) آگے بڑھے یہاں تک کہ لوگوں کے ساتھ صف میں کھڑے ہو گئے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی نماز میں (پیچھے) توجہ نہیں دیتے تھے، جب لوگوں نے بکثرت تالی بجانا شروع کی تو انہوں نے متوجہ ہو کر دیکھا تو رسول اللہ ﷺ کو پایا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اشارہ کیا کہ اپنی جگہ پر ہی رہو۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اللہ عزوجل کی حمد بیان کی، اس بات پر جس کا رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا تھا، پھر وہ پیچھے ہٹ گئے یہاں تک کہ صف میں برابر ہو گئے، تو نبی کریم ﷺ آگے بڑھے اور نماز پڑھائی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے ابوبکر! جب میں نے تمہیں امامت پر قائم رہنے کا حکم دیا تھا تو تمہیں کس چیز نے روکا؟“ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: ابن ابی قحافہ کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے آگے نماز پڑھائے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے کیا ہوا کہ میں نے تم لوگوں کو بہت زیادہ تالی بجاتے دیکھا؟ جسے نماز میں کوئی بات پیش آئے تو وہ سبحان اللہ کہے، کیونکہ جب وہ سبحان اللہ کہے گا تو اس کی طرف توجہ کی جائے گی، تالی بجانا تو صرف عورتوں کے لیے ہے۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5672
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 120، حدیث 5693