حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَتِيقُ بْنُ يَعْقُوبَ الزُّبَيْرِيُّ، ثنا أُبَيُّ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ الِاسْتِطَابَةِ، فَقَالَ: «أَوَلَا يَجِدُ أَحَدُكُمْ ثَلَاثَةَ أَحْجَارٍ، حَجَرَانِ لَلصَّفْحَتَيْنِ، وَحَجَرٌ للمَسْرُبَةِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے استنجا کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کوئی تین پتھر نہیں پاتا؟ دو پتھر دونوں طرفوں کے لیے، اور ایک پتھر پیشاب کی جگہ کے لیے۔“
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُحَيْمٍ، ثنا أَبِي، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے نبی کریم ﷺ پر درود نہیں بھیجا، اس کا وضو کامل نہیں۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْعُتْبِيُّ الْمِصْرِيُّ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِيِّ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا وُضُوءَ لَهُ، وَلَا وُضُوءَ لِمَنْ لَمْ يَذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَلَيْهِ، وَلَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا صَلَاةَ لِمَنْ لَا يُحِبُّ الْأَنْصَارَ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کا وضو نہیں، اس کی نماز نہیں، اور جس نے اس پر اللہ کا نام نہیں لیا، اس کا وضو نہیں، اور جو نبی کریم ﷺ پر درود نہیں بھیجتا، اس کی نماز نہیں، اور جو انصار سے محبت نہیں رکھتا، اس کی نماز نہیں۔“
حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّوْفَلِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا مَعْنُ بْنُ عِيسَى، عَنْ أُبَيِّ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: " كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَسٌ فِي حَائِطٍ يُقَالُ لَهُ: اللُّحَيْفُ "
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ کا ایک گھوڑا ایک باغ میں تھا، جسے ”لُحیف“ کہا جاتا تھا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: كَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُلَّ لَيْلَةٍ مِنْ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ صَحْفَةٌ، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ النِّسَاءَ وَيَقُولُ: «لَكِ كَذَا وَكَذَا، وجَفْنَةُ سَعْدٍ تَدُورُ مَعِي إِلَيْكِ كُلَّمَا دُرْتُ»
ترجمہ
…نبی کریم ﷺ کو ہر رات سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے کھانے کی ایک رکابی آیا کرتی تھی، تو نبی کریم ﷺ نکاح کے لیے عورتوں کو پیغام دیتے ہوئے فرماتے: ”تمہیں یہ اور یہ ملے گا، اور سعد کی رکابی بھی جہاں میں پھروں گا میرے ساتھ تمہاری طرف آتی رہے گی۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْأَنَاةُ مِنَ اللهِ، وَالْعَجَلَةُ مِنَ الشَّيْطَانِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ٹھہراؤ اللہ کی طرف سے ہے، اور جلد بازی شیطان کی طرف سے۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً عَنْ يَمِينِهِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی دائیں طرف ایک سلام پھیرا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَرَّكَ فِي بِئْرِ بُضَاعَةَ وبَصَقَ فِيهَا»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بئرِ بضاعہ میں برکت کی دعا کی اور اس میں لعاب دہن ڈالا۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: «كَانَ اسْمَهُ حَزْنٌ، فَسَمَّاهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْلٌ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میرا نام حزن تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے میرا نام سہل رکھ دیا۔“
وَبِإِسْنَادِهِ أنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «إِنَّ فِي الْجَنَّةِ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ أَحَدٍ»
ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں وہ کچھ ہے جسے نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، اور نہ کسی کے دل میں اس کا خیال گزرا۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا شُؤْمَ، وَإِنْ يَكُ شُؤْمٌ فَفِي الْفَرَسِ وَالْمَرْأَةِ وَالْمَسْكَنِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”کوئی نحوست نہیں ہے، اور اگر کہیں نحوست ہو سکتی ہے تو گھوڑے، عورت اور گھر میں۔“
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ قَالَا: ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ اخْتِنَاثِ الْأَسْقِيَةِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مشکیزوں کا منہ موڑ کر (سیدھا) پینے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أَحِبُّوا قُرَيْشًا، فَإِنَّهُ مَنْ أَحَبَّهُمْ، أَحَبَّهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قریش سے محبت رکھو، کیونکہ جو ان سے محبت رکھے گا، اللہ عزوجل بھی اس سے محبت رکھے گا۔“
وعنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اسْتَحْدِثُوا الْإِسْلَامَ بِحُبِّ الْأَنْصَارِ، فَإِنَّهُ لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يُبْغِضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انصار کی محبت کے ذریعے اپنے ایمان کو تازہ رکھو، کیونکہ ان سے صرف مومن ہی محبت رکھتا ہے اور ان سے صرف منافق ہی بغض رکھتا ہے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ كَاسِبٍ، ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «إِنِّي لَحَاضِرٌ يَوْمَ أُحُدٍ وَإِنِّي لَأَنْظُرُ حِينَ رُمِيَ وَجْهُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجُرِحَ، وَإِنِّي لَأَعْرِفُ مَنْ كَانَ يَغْسِلُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَنْ كَانَ يَحْمِلُ الْمَاءَ فِي الْمِجَنِّ، فَأَبَى الْكَلْمُ أَنْ يَرْقَأَ، حَتَّى أَحْرَقَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَصِيرًا خَلِقًا، فَجَعَلَتْ رَمَادَهُ عَلَيْهِ فَرَقَأَ، إِنَّ الَّذِي يَحْمِلُ الْمَاءَ فِي، الْمِجَنِّ لَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَفَاطِمَةُ الَّتِي تَغْسِلُ الدَّمَ وتُدَاوِيهِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”میں احد کے دن موجود تھا، اور میں دیکھ رہا تھا جب رسول اللہ ﷺ کے چہرے پر پتھر مارا گیا اور آپ ﷺ زخمی ہو گئے، اور میں جانتا ہوں کہ رسول اللہ ﷺ کے چہرے سے خون کون دھو رہا تھا اور ڈھال میں پانی کون لا رہا تھا۔ زخم بند ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا، یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ایک پرانی چٹائی جلائی اور اس کی راکھ زخم پر لگا دی تو خون بند ہو گیا۔ ڈھال میں پانی لانے والے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے، اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا خون دھو کر اس کا علاج کر رہی تھیں۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى ذُبَابٍ» قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: «بَلَغَنِي أَنَّ ذُبَابَ جَبَلٌ بِالْحِجَازِ، وَقَوْلُهُ صَلَّى عَلَيْهِ يَعْنِي بَارَكَ عَلَيْهِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ”ذباب“ کے لیے دعا فرمائی۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم ہوا ہے کہ ذباب حجاز کا ایک پہاڑ ہے، اور آپ ﷺ کے ”صلی علیہ“ فرمانے کا مطلب ہے کہ آپ ﷺ نے اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔
امام طبرانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے معلوم ہوا ہے کہ ذباب حجاز کا ایک پہاڑ ہے، اور آپ ﷺ کے ”صلی علیہ“ فرمانے کا مطلب ہے کہ آپ ﷺ نے اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الْحَارِثِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: صَلَّى عَلَى ذُبَابٍ "
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ”ذباب“ کے لیے دعا فرمائی۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: «كُنَّا نَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ، كَانَتْ عَجُوزٌ مِنَّا تُرْسِلُ إِلَى قُضَاعَةَ، فَتَأْخُذُ مِنْ فُرُوعِ السَّلْقِ، فَتَحُسُّ عَلَيْهِ حِفْنَةً مِنْ شَعِيرٍ، فَتَطْبُخُهُ فَتُقَدِّمُهُ إِلَيْنَا، فَنَلْعَقُهَا، فَنَفْرَحُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ لِذَلِكَ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”ہم جمعہ کے دن سے خوش ہوا کرتے تھے، ہم میں سے ایک بوڑھی عورت قُضاعہ کی طرف بھیجتی، وہ چقندر کی شاخیں لاتا، وہ ان پر جَو کی ایک مٹھی ڈال کر پکاتی اور ہمارے سامنے پیش کرتی، تو ہم اسے چاٹ چاٹ کر کھاتے، اسی وجہ سے ہم جمعہ کے دن سے خوش ہوا کرتے تھے۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الْحَارِثِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، «أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَأْتُونَ الْعَالِيَةَ، فَيُدْرِكُونَ الْمَغْرِبَ عِنْدَ مِرْبَدِ النَّعَمِ، فَيَتَيَمَّمُونَ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے صحابہ عوالی کی طرف جاتے تو مربدِ نعم کے پاس مغرب کا وقت ہو جاتا، تو وہ تیمم کر لیتے تھے۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ الْمَكِّيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ قَالَ: «مَوْضِعُ سَوْطٍ فِي الْجَنَّةِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جنت میں ایک کوڑے کے برابر جگہ دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سب سے بہتر ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ أَنَّهُ: «حَضَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے بارے میں روایت ہے کہ وہ احد کے دن نبی کریم ﷺ کے ساتھ موجود تھے۔
وَبِإِسْنَادِهِ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ لِسَعْدِ بْنِ سَعْدٍ بِسَهْمٍ يَوْمَ بَدْرٍ، وَهُوَ أَخُو سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ»
ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے بدر کے دن سعد بن سعد کا غنیمت میں سے ایک حصہ مقرر فرمایا، اور وہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے۔
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: «أَوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أنْ يُحْسَنَ إِلَى مُحْسِنِنَا، وَأَنْ يُتَجَاوَزَ عَنْ مُسِيئِنَا»
ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے وصیت فرمائی کہ ہمارے نیکو کار کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے اور ہمارے برے کی خطاؤں سے درگزر کیا جائے۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَقْبَلَ مِنْ تَبُوكَ، وَكَانَ عَلَى الثَّنِيَّةِ، قَالَ: «اللهُ أَكْبَرُ» فَلَمَّا نَظَرَ إِلَى أُحُدٍ قَالَ: «هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ» ، ثُمَّ الْتَفَتَ فَقَالَ: «هَلْ تُحِبُّونَ أَنْ أُخْبِرَكُمْ بِدُورِ الْأَنْصَارِ؟» ، قَالُوا: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ: «خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ عَبْدُ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ دَارُ بَلْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ دَارُ بَنِي سَاعِدَةَ» ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللهِ، جَعَلْتَنَا آخِرَ الْقَبَائِلِ؟ فَقَالَ: «إِذَا كُنْتَ مِنَ الْخِيَارِ فَحَسْبُكَ» ، وَاللَّفْظُ لِحَدِيثِ أَبِي مُصْعَبٍ
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب تبوک سے واپس تشریف لائے اور گھاٹی پر تھے تو فرمایا: ”اللہ اکبر۔“ پھر جب احد پر نظر پڑی تو فرمایا: ”یہ ایک ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت رکھتا ہے اور ہم اس سے محبت رکھتے ہیں۔“ پھر متوجہ ہو کر فرمایا: ”کیا تم پسند کرتے ہو کہ میں تمہیں انصار کے بہترین گھرانوں کے بارے میں بتاؤں؟“ صحابہ نے عرض کیا: جی ہاں، یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے فرمایا: ”انصار کے بہترین گھرانے بنو عبدالاشہل ہیں، پھر بنو حارث بن خزرج کا گھرانا، پھر بنو نجار کا گھرانا، پھر بنو ساعدہ کا گھرانا۔“ اس پر سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ نے ہمیں سب قبیلوں میں آخر پر رکھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم بہترین لوگوں میں سے ہو تو یہی تمہارے لیے کافی ہے۔“ - اور یہ الفاظ ابومصعب کی روایت کے ہیں۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ التُّسْتَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ، ح وَحَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، قَالَا: ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «تَمَضْمَضُوا مِنَ اللَّبَنِ فَإِنَّ لَهُ دَسَمًا»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دودھ پینے کے بعد کلی کر لیا کرو، کیونکہ اس میں چکنائی ہوتی ہے۔“
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنْ يُنْفَخَ فِي الشَّرَابِ، وَأَنْ يُشْرَبَ مِنْ ثَلَمَةِ الْقَدَحِ أَوْ أُذُنِهِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے مشروب میں پھونک مارنے سے، اور برتن کے ٹوٹے ہوئے کنارے یا اس کے دستے کی جانب سے پینے سے منع فرمایا۔
وَبِإِسْنَادِهِ «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْمُرُ بِالْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ»
ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ موزوں پر مسح کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ عَامِرَ بْنَ الطُّفَيْلِ قَدِمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ، فَرَاجَعَ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ وَارْتَفَعَ صَوْتُهُ، وَثَابِتُ بْنُ قَيْسٍ قَائِمٌ بِسَيْفِهِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَقَالَ: يَا عَامِرُ، غُضَّ مِنْ صَوْتِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَقَالَ: وَمَا أَنْتَ وَذَاكَ؟ فَقَالَ ثَابِتٌ: أَمَا وَالَّذِي أَكْرَمَهُ، لَوْلَا أَنْ يَكْرَهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، لَضَرَبْتُ بِهَذَا السَّيْفِ رَأْسَكَ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ عَامِرٌ وَهُوَ جَالِسٌ وَثَابِتٌ قَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ: أَمَا وَاللهِ يَا ثَابِتُ، لَئِنْ عُرِضَتْ نَفْسُكَ لِي لَتُوَلِّيَنَّ عَنِّي، فَقَالَ ثَابتٌ: أَمَا وَاللهِ يَا عَامِرُ، لَئِنْ عُرِضَتْ نَفْسُكَ لِلِسَانِي لَتَكَرَهَنَّ حَيَاتِي، فَعَطَسَ ابْنُ أَخٍ لِعَامِرٍ، فَحَمِدَ اللهَ، فَشَمَّتَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ عَطَسَ عَامِرٌ، فَلَمْ يَحْمَدِ اللهَ، فَلَمْ يُشَمِّتْهُ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَقَالَ عَامِرٌ: شَمَّتَّ هَذَا الصَّبِيَّ وَتَرَكْتَنِي؟ قَالَ: «إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللهَ» ، فَقَالَ: فَمَحْلُوفَةٌ، لَأَمْلَأَنَّهَا عَلَيْكَ خَيْلًا وَرِجَالًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «يَكْفِينِيكَ اللهُ وَابْنَا قِيْلَةَ» ، ثُمَّ خَرَجَ عَامِرٌ، فَجَمَعَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ، فَاجْتَمَعَ إِلَيْهِ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ أَبْطُنٌ ثَلَاثَةٌ، هُمُ الَّذِينَ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عَلَيْهِمْ: عُصَيَّةُ وَذَكْوَانُ وَرِعْلٌ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو عَلَيْهِمْ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ: «اللهُمَّ الْعَنْ لِحْيَانًا وَرِعْلًا وَذَكْوَانَ وَعُصَيَّةَ عَصَتِ اللهَ وَرَسُولَهُ، اللهُ أَكْبَرُ» ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، فَلَمَّا سَمِعَ أَنَّ عَامِرًا قَدْ جَمَعَ لَهُ، بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِمْ عَمْرَو بْنَ أُمَيَّةَ الضَّمْرِيَّ وسَائِرُهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ وَأَمِيرُهُمُ الْمُنْذِرُ بْنُ عَمْرٍو، فَمَضَوْا حَتَّى نَزَلُوا بِئْرَ مَعُونَةَ، فَأَقْبَلَ، حَتَّى هَجَمَ عَلَيْهِمْ، فَقَتَلَهُمْ كُلَّهُمْ، فَلَمْ يُفْلِتْ مِنْهُمْ إِلَّا عَمْرُو بْنُ أُمَيَّةَ، كَانَ فِي الرِّكَابِ، فَأَوْحَى اللهُ إِلَى نَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَومَ قُتِلُوا خَبَرَ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ: «قَدْ قُتِلَ أَصْحَابُكُمْ فَرُوا رَأْيَكُمْ» ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَامِرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ: «اللهُمَّ اكْفِنِي عَامِرًا» ، فَكَفَاهُ اللهُ إِيَّاهُ، فَأَقْبَلَ حَتَّى نَزَلَ بِفِنَائِهِ، فَرَمَاهُ اللهُ بَالذَّبْحَةِ فِي حَلْقِهِ فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ سَلُولٍ، وَأَقْبَلَ يَنْزُو وَهُوَ يَقُولُ: يَا لِعَامِرٍ مِنْ غُدَّةٍ كَغُدَّةِ الْجَمَلِ، فِي بَيْتِ سَلُولِيَّةٍ، يَرْغَبُ أَنْ يَمُوتَ فِي بَيْتِهَا، فَلَمْ يَزَلْ كَذَلِكَ حَتَّى مَاتَ فِي بَيْتِهَا، وَكَانَ أَرْبَدُ بْنُ قَيْسٍ أَصَابَتْهُ صَاعِقَةٌ فَاحْتَرَقَ فَمَاتَ، وَرَجَعَ مَنْ كَانَ مَعَهُمْ
ترجمہ
…نبی کریم ﷺ نے اس (لڑکے) کا جواب دیا، پھر عامر کو چھینک آئی تو اس نے الحمد للہ نہ کہا، تو نبی کریم ﷺ نے اسے جواب نہ دیا۔ عامر نے کہا: آپ نے اس بچے کا جواب دیا اور مجھے چھوڑ دیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے اللہ کی حمد بیان کی تھی۔“ اس پر اس نے کہا: قسم ہے! میں اسے گھوڑوں اور سواروں سے بھر دوں گا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اللہ اور قَیلہ کے دونوں بیٹے (اوس و خزرج) مجھے تیرے شر سے کافی ہیں۔“ پھر عامر نکلا اور نبی کریم ﷺ کے خلاف لشکر جمع کیا، تو بنو سلیم کے تین قبیلے اس کے ساتھ جمع ہو گئے، یہی وہ تھے جن پر رسول اللہ ﷺ بددعا کیا کرتے تھے: عُصیہ، ذکوان اور رِعل۔ نبی کریم ﷺ فجر کی نماز میں ان پر یہ بددعا کیا کرتے تھے: ”اے اللہ! لحیان، رِعل، ذکوان اور عُصیہ پر لعنت فرما، انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی، اللہ اکبر۔“ نبی کریم ﷺ نے سترہ راتوں تک یہ بددعا کی۔ پھر جب آپ ﷺ نے سنا کہ عامر نے آپ ﷺ کے خلاف لشکر جمع کر لیا ہے، تو نبی کریم ﷺ نے ان کی طرف عمرو بن امیہ ضمری اور باقی انصار کو بھیجا، اور ان کے امیر منذر بن عمرو تھے۔ وہ چل کر بئرِ معونہ پر اترے، تو وہ دشمن آ گیا یہاں تک کہ ان پر اچانک حملہ کر دیا اور ان سب کو قتل کر دیا، ان میں سے کوئی نہ بچا سوائے عمرو بن امیہ کے، جو رکاب میں تھے۔ اللہ نے اپنے نبی ﷺ کو، جس دن وہ قتل ہوئے، اسی دن اپنے ساتھیوں کی خبر کی وحی فرمائی، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے ساتھی شہید کر دیے گئے ہیں، اپنی رائے پیش کرو۔“ چنانچہ نبی کریم ﷺ نے عامر کے خلاف بددعا فرمائی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! عامر کے شر سے مجھے کافی ہو جا۔“ تو اللہ نے اسے اس کے شر سے کافی ہو گیا۔ چنانچہ وہ آیا یہاں تک کہ اپنے صحن میں اترا، تو اللہ نے اس کے گلے میں غدود کی بیماری ڈال دی، بنو سلول کی ایک عورت کے گھر میں۔ اور وہ اچھلتا ہوا کہتا رہا: ”ہائے عامر! اونٹ کی سی غدود کی بیماری، ایک سلولی عورت کے گھر میں!“ وہ چاہتا تھا کہ اسی کے گھر میں مر جائے، چنانچہ وہ اسی حال میں رہا یہاں تک کہ اسی کے گھر میں مر گیا۔ اور اربد بن قیس کو بجلی نے آ لیا تو وہ جل کر مر گیا، اور جو ان کے ساتھ تھے وہ واپس لوٹ آئے۔
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو مُصْعَبٍ، ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ، عَنْ جَدِّهِ، «أَنَّهُ بَايَعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، هُوَ وَأَبُو ذَرٍّ وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ وَرَجُلٌ آخَرُ، عَلَى أَنْ لَا يَأْخُذَهُمْ فِي اللهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے، ابوذر، ابوسعید خدری اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہم اور ایک اور آدمی نے، رسول اللہ ﷺ سے اس بات پر بیعت کی کہ اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت انہیں حق کہنے سے نہیں روکے گی۔
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ رَاهَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ جَدِّي قَالَ: «كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يَبْنِيَ الْمَسْجِدَ يُصَلِّي إِلَى خَشَبَةٍ، فَلَمَّا بَنَى الْمَسْجِدَ، بَنَى لَهُ مِحْرَابٌ، فَتَقَدَّمَ إِلَيْهِ فَحَنَّتِ الْخَشَبَةُ حَنِينَ الْبَعِيرِ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَيْهَا فَسَكَنَتْ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”مسجد کی تعمیر سے پہلے رسول اللہ ﷺ ایک لکڑی کی طرف کھڑے ہو کر نماز پڑھاتے تھے، پھر جب مسجد تعمیر ہوئی تو آپ ﷺ کے لیے محراب بنایا گیا، آپ ﷺ اس کی طرف آگے بڑھے تو وہ لکڑی اونٹ کی طرح رونے لگی، تو رسول اللہ ﷺ نے اس پر اپنا ہاتھ رکھا تو وہ ساکت ہو گئی۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْخَلَّالُ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ: «حَمَلَ دَرَجَةً مِنْ دَرَجِ الْمِنْبَرِ مِنَ الْغَابَةِ، حَتَّى وَضَعَهَا فِي الْمَسْجِدِ، وَأَنَّ عُودَ الْمِنْبَرِ مِنْ أَثَلٍ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے منبر کے زینے کا ایک زینہ غابہ (جنگل) سے اٹھا کر مسجد میں رکھا، اور منبر کی لکڑی اَثل (ایک قسم کے درخت) کی تھی۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مَنْدَهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي النَّضْرِ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، ثنا عَبْدُ الْمُهَيْمِنِ بْنُ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ قَتَلِ النَّمْلَةِ وَالنَّحْلَةِ وَالْهُدْهُدِ وَالصُّرَدِ وَالضُّفْدَعِ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے چیونٹی، شہد کی مکھی، ہُدہُد، لَٹورا اور مینڈک کو مارنے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرٍ التُّسْتَرِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الْحَارِثِيُّ، ثنا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الْمُهَيْمِنِ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: " كَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ أَبِي ثَلَاثَةُ أَفْرَاسٍ يَعْلِفُهُنَّ، قَالَ: وَسَمِعْتُ أَبِي يُسَمِّيهِنَّ اللَّدَانَ، وَاللَّحِيفَ، وَالطَّرَبَ "
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”نبی کریم ﷺ کے تین گھوڑے میرے والد کے پاس تھے، وہ انہیں چارا دیتے تھے۔“ وہ کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کو انہیں لَدّان، لُحیف اور طَرَب کے ناموں سے پکارتے سنا۔
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ، وَنَحْنُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخَذَ الرَّايَةَ فَقَالَ: «أُعْطِي هَذِهِ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللهَ وَرَسُولَهُ» ، فَتَطَاوَلَ النَّاسُ يَنْظُرُونَ مَنْ يُعْطِيهَا فَدَعَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَعَلِيٌّ أَرْمَدُ، فَبَصَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَيْنَيْهِ، ثُمَّ أَعْطَاهَا إِيَّاهُ، فَفَتَحَ اللهُ عَلَيْهِ
ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب خیبر کا دن تھا اور ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھے، تو آپ ﷺ نے جھنڈا اٹھایا اور فرمایا: ”یہ جھنڈا میں اس شخص کو دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے۔“ لوگ گردنیں اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے کہ آپ ﷺ یہ کسے دیتے ہیں، تو آپ ﷺ نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو بلایا، جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آنکھیں دُکھ رہی تھیں، تو نبی کریم ﷺ نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایا، پھر انہیں جھنڈا دے دیا، تو اللہ نے ان کے ہاتھوں فتح عطا فرمائی۔
وَبِإِسْنَادِهِ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، اتَّقُوا اللهَ، فَإِنَّكُمْ إِنِ اتَّقَيْتُمُ اللهَ، يُوشِكُ اللهُ أَنْ يُشْبِعَكُمْ مِنْ زَيْتِ الشَّامِ وقَمْحِ الشَّامِ»
ترجمہ
اسی سند سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے سنا: ”اے لوگو! اللہ سے ڈرو، اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو عنقریب اللہ تمہیں شام کے تیل اور شام کے گندم سے سیر کر دے گا۔“
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَنِدُ إِلَى جِذْعٍ، فَلَمَّا كَثُرَ النَّاسُ قَالَ: «إِنَّ النَّاسَ قَدْ كَثُرُوا، فَلَوْ كَانَ مِنْبَرٌ أَقْعُدُ عَلَيْهِ» ، قَالَ عَبَّاسٌ: فَذَهَبَ أَبِي فَقَطَعَ عِيدَانَ الْمِنْبَرِ مِنَ الْغَابَةِ، فَلَا أَدْرِي عَمِلَهَا أَوِ اسْتَعْمَلَهَا
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک کھجور کے تنے سے ٹیک لگایا کرتے تھے، پھر جب لوگ زیادہ ہو گئے تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوگ بہت ہو گئے ہیں، کاش کوئی منبر ہوتا جس پر میں بیٹھتا۔“ عباس کہتے ہیں: تو میرے والد گئے اور منبر کی لکڑیاں غابہ سے کاٹ لائے، مجھے یاد نہیں کہ انہوں نے خود اسے بنایا یا کسی اور سے بنوایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ بَزِيعٍ، ثنا فُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَسْلَمِيُّ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ سَهْلٍ قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمْ بَالخَنْدَقِ، فَأَخَذَ الْكِرْزِينَ، فَحَفَرَ بِهِ، فَصَادَفَ حَجَرًا فَضَحِكَ، فَقِيلَ مَا يُضْحِكُكَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «ضَحِكْتُ مِنْ نَاسٍ يَأْتُونَكُمْ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ، ويُسَاقُونَ إِلَى الْجَنَّةِ وَهُمْ كَارِهُونَ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں خندق کے موقع پر نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھا، آپ ﷺ نے کدال پکڑ کر کھدائی کی، تو ایک پتھر آ گیا، آپ ﷺ ہنس پڑے۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! آپ کس چیز پر ہنسے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں ان لوگوں پر ہنسا جو تمہارے پاس مشرق کی طرف سے آئیں گے، اور جنت کی طرف ہانکے جائیں گے جبکہ وہ ناپسند کرنے والے ہوں گے۔“
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي الطَّاهِرِ بْنِ السَّرْحِ الْمِصْرِيُّ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، أَخْبَرَنِي الْعَبَّاسُ بْنُ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا تَلَاعَنَّا، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اقْبِضْهَا إِلَيْكَ حَتَّى تَلِدَ، فَإِنْ تَلِدْهُ أَحْمَرَ مِثْلَ وَحَرَةٍ، فَهُوَ لِأَبِيهِ عُوَيْمِرٍ الَّذِي انْتَفَى مِنْهُ، وَإِنْ تَلِدْهُ أَسْوَدَ اللِّسَانِ وَالشَّعْرِ، فَهُوَ لِابْنِ السَّحْمَاءِ» ، الرَّجُلِ الَّذِي يَرْمِي بِهِ، قَالَ عُوَيْمِرٌ: فَلَمَّا وَلَدَتْهُ أَتَيْتُ بِهِ، فَاسْتَقْبَلَنِي مِثْلَ الْفَرْوَةِ السَّوْدَاءِ، ثُمَّ أَخَذْتُ بِلِحْيَيْهِ، فَاسْتَقْبَلَنِي لِسَانُهُ مِثْلُ التَّمْرَةِ، فَقُلْتُ: صَدَقَ اللهُ وَرَسُولُهُ
ترجمہ
سیدنا سہل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب ہم نے لعان کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اسے اپنے پاس رکھو یہاں تک کہ وہ بچہ جنے، اگر وہ سرخی مائل بچہ جنے، چھپکلی کی طرح، تو وہ اس کے باپ عویمر کا ہے جس نے اس سے انکار کیا، اور اگر وہ سیاہ زبان اور بالوں والا بچہ جنے تو وہ ابن سحماء کا ہے“ - یعنی اس مرد کا جس پر تہمت لگائی گئی تھی۔ عویمر کہتے ہیں: جب وہ (بیوی) نے اسے جنا تو میں اسے لے آیا، تو وہ ایک سیاہ کھال کی طرح میرے سامنے آیا، پھر میں نے اس کے جبڑے پکڑے تو اس کی زبان کھجور کی طرح میرے سامنے آئی، تو میں نے کہا: اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو الرَّبَالِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ، ثنا عَبْدُ الْحَكِيمِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي فَرْوَةَ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا ذَهَبَ أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ، فَلَا يَسْتَقْبِلِ الْقِبْلَةَ وَلَا يَسْتَدْبِرْهَا»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کے لیے جائے تو نہ قبلہ رخ ہو اور نہ اس کی پشت کی طرف۔“
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ خَالِدِ بْنِ حَيَّانَ الرَّقِّيُّ، وَأَبُو الزِّنْبَاعِ رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ، قَالَا: ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ سَهْلٍ، يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «خَيْرُ قَبَائِلِ الْأَنْصَارِ دُورُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ بَنِي الْحَارِثِ، ثُمَّ بَنِي سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ»
ترجمہ
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”انصار کے بہترین قبیلے بنو نجار کے گھرانے ہیں، پھر بنو عبدالاشہل، پھر بنو حارث، پھر بنو ساعدہ، اور تمام انصار میں خیر ہے۔“
…