❮
❯
حدیث نمبر: 5660
حَدَّثَنَا مُطَّلِبُ بْنُ شُعَيْبٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ كَتَبَ يَذْكُرُ، أَنَّ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ، أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُوَيْمِرًا قَالَ لِابْنِ عَمِّهِ عَاصِمِ بْنِ عَدِيٍّ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَرَأَيْتَ لَوْ أَنِّي وَجَدْتُ عِنْدَ أَهْلِي رَجُلًا، أَقْتُلُهُ؟، فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَوْلَهُ، فَرَجَعَ فَقَالَ عُوَيْمِرٌ: لَأَذْكُرَنَّ ذَلِكَ لَهُ وَإِنْ كَرِهَ، فَأَتَاهُ عُوَيْمِرٌ فَقَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ وَجَدْتُ عِنْدَ أَهْلِي رَجُلًا، فَقَالَ: «ائْتِ بَامْرَأَتِكَ فَإِنَّهُ قَدْ نَزَلَ فِيكُمَا» ، فَجَاءَ بِهَا فَتَلَاعَنَا، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي قَدِ افْتَرَيْتُ عَلَيْهَا، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: «فَكَانَتْ سُنَّةً فِي الْمُسْلِمِينَ فِرَاقُهُ إِيَّاهَا»
ترجمہ

عویمر نے اپنے چچازاد بھائی عاصم بن عدی سے کہا: ہمیں لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس چلو۔ پھر عرض کیا: آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اپنی بیوی کے پاس کسی (غیر) مرد کو پاؤں، کیا میں اسے قتل کر دوں؟ رسول اللہ ﷺ نے ان کی اس بات کو ناپسند فرمایا، تو وہ واپس چلے گئے۔ عویمر نے کہا: میں یہ بات ضرور خود آپ ﷺ سے کہوں گا، چاہے آپ ﷺ اسے ناپسند ہی کیوں نہ فرمائیں۔ چنانچہ عویمر خود آپ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اپنی بیوی کے پاس کسی (غیر) مرد کو پاؤں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی بیوی کو لے آؤ، تم دونوں کے بارے میں آیت نازل ہو چکی ہے۔“ چنانچہ وہ اسے لے آئے اور دونوں نے لعان کیا۔ پھر عویمر نے کہا: میں نے اس پر بہتان باندھا ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے ان دونوں میں جدائی کروا دی۔ ابن شہاب کہتے ہیں: ”پھر یہی مسلمانوں میں اس کے جدا کرنے کا طریقہ بن گیا۔“

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5660
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 115، حدیث 5681