حدیث نمبر: 5662
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَنْبَرٍ الْبَصْرِيُّ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَرَأَيْتَ رَجُلًا رَأَى مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ بِهِ، أَمْ كَيْفَ يَفْعَلُ بِهِ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِمَا مَا ذُكِرَ فِي الْقُرْآنِ مِنَ التَّلَاعُنِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ قُضِيَ فِيكَ وَفِي امْرَأَتِكَ» ، قَالَ: فَتَلَاعَنَا، وَأَنَا شَاهِدٌ عِنْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَقَدْ كَذَبْتُ عَلَيْهَا، فَفَارَقَهَا، فَجَرَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِيهِمَا أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، وَكَانَتْ حَامِلًا، فَأَنْكَرَ حَمْلَهَا، وَكَانَ يُدْعَى إِلَيْهَا، وَجَرَتِ السُّنَّةُ بَعْدُ فِي الْمِيرَاثِ، أَنْ يَرِثَهَا فَتَرِثَ مِنْهُ مَا فَرَضَ اللهُ لَهَا
ترجمہ

…کیا وہ اسے قتل کرے تو تم اسے بدلے میں قتل کرو گے، یا وہ کیا کرے؟ اس پر اللہ عزوجل نے ان دونوں کے بارے میں وہ آیات نازل فرمائیں جو قرآن میں لعان کے متعلق مذکور ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: ”تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ دونوں نے لعان کیا اور میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اس کا گواہ تھا۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں اسے رکھوں تو میں نے اس پر جھوٹ باندھا ہوگا۔ چنانچہ اس نے اسے جدا کر دیا، اور اس کے بعد یہی طریقہ بن گیا کہ لعان کرنے والوں کے درمیان جدائی کروا دی جائے۔ وہ عورت حاملہ تھی، تو اس نے اس کے حمل کا انکار کر دیا، چنانچہ وہ بچہ اسی ماں کی طرف منسوب کیا جانے لگا، اور اس کے بعد وراثت میں بھی یہی طریقہ رائج ہوا کہ وہ بیٹا اس کا وارث بنے اور وہ ماں اس سے اتنا وراثت پائے جتنا اللہ نے اس کے لیے مقرر کیا ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5662
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 116، حدیث 5683