❮
❯
حدیث نمبر: 5667
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو عَامِرٍ النَّحْوِيُّ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: قَالَ عُوَيْمِرٌ لِعَاصِمٍ: رَجُلٌ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ سَلْ لِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عنْ ذَلِكَ، فَسَأَلَ عَاصِمٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَكَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، فَعَظُمَ ذَلِكَ عَلَى عَاصِمٍ وَكَبُرَ فِي نَفْسِهِ، فَأَتَاهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: سَأَلْتَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي أَمَرْتُكَ بِهِ؟ فَقَالَ: لَمْ تَجِئْنِي بِخَيْرٍ، سَأَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، حَتَّى وَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْ مَالِي وَلَمْ أَسْأَلْهُ شَأْنَكَ بَامْرَأَتِكَ، فَأَتَى عُوَيْمِرٌ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَجُلٌ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَقَالَ: «قَدْ أَنْزَلَ اللهُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ فَاعْجَلْ بِهَا» ، فَقَدَّمَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَسْجِدِ بَعْدَ الْعَصْرِ، وَأَنَا مَعَ النَّاسِ أَنْظُرُ، فَتَلَاعَنَا، فَلَمَّا فَرَغَا، وَقَفَ عُوَيْمِرٌ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، ظَلَمْتُهَا إِنْ أَمْسَكْتُهَا، فَهِيَ طَالِقٌ الْبَتَّةَ
ترجمہ

عویمر نے عاصم سے کہا: ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی (غیر) مرد کو پائے، کیا وہ اسے قتل کر دے تو تم اسے بدلے میں قتل کرو گے، یا وہ کیا کرے؟ میرے لیے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھو۔ چنانچہ عاصم نے رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے اس طرح کے سوالات کو ناپسند فرمایا اور ان پر عیب لگایا، یہ بات عاصم پر گراں اور بھاری گزری۔ عویمر ان کے پاس آئے اور کہا: کیا تم نے رسول اللہ ﷺ سے وہ سوال کیا جو میں نے تمہیں کرنے کا کہا تھا؟ عاصم نے کہا: تم میرے پاس کوئی اچھی بات لے کر نہیں آئے، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا تو آپ ﷺ نے اسے ناپسند فرمایا اور اس پر عیب لگایا، یہاں تک کہ میں نے چاہا کہ کاش میں اپنا سارا مال دے کر بھی تمہارے اور تمہاری بیوی کے معاملے میں سوال نہ کرتا۔ چنانچہ عویمر خود رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی (غیر) مرد کو پائے، کیا وہ اسے قتل کر دے تو تم اسے بدلے میں قتل کرو گے، یا وہ کیا کرے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے اور تیری ساتھی کے بارے میں اللہ نے آیت نازل فرما دی ہے، اسے جلدی لے آؤ۔“ چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے عصر کے بعد مسجد میں پیش کیا، اور میں (سہل رضی اللہ عنہ) لوگوں کے ساتھ دیکھ رہا تھا، تو دونوں نے لعان کیا۔ جب دونوں فارغ ہوئے تو عویمر رسول اللہ ﷺ کے سامنے کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں اسے رکھوں تو میں نے اس پر ظلم کیا ہوگا، لہٰذا یہ حتمی طور پر طلاق شدہ ہے۔

حوالہ حدیث المعجم الكبير للطبراني / باب السين / حدیث: 5667
تخریج حدیث المعجم الكبير للطبراني (مطبوعہ): جلد 6، صفحہ 118، حدیث 5688