المعجم الكبير للطبراني
باب السين— حرف سین سے شروع ہونے والے صحابہ کی مسانید
باب (أحاديث 5639–5675) باب: (احادیث 5639 تا 5675)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفِرْيَابِيُّ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنِي الزُّهْرِيُّ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ عُوَيْمِرًا أَتَى عَاصِمَ بْنَ عَدِيٍّ وَكَانَ سَيِّدَ بَنِي الْعَجْلَانِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَقُولُ فِي رَجُلٍ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ وَقَالَ: سَلْ لِي رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَتَى عَاصِمٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَجُلٌ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ قَالَ: فَكَرِهَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ، فَسَأَلَهُ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَرِهَ الْمَسَائِلَ وَعَابَهَا، قَالَ عُوَيْمِرٌ: وَاللهِ لَا أَنْتَهِي حَتَّى أَسْأَلَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، قَالَ: فَجَاءَ عُوَيْمِرٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، رَجُلٌ وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا، أَيَقْتُلُهُ فَتَقْتُلُونَهُ، أَمْ كَيْفَ يَصْنَعُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «قَدْ أُنْزِلَ الْقُرْآنُ فِيكَ وَفِي صَاحِبَتِكَ» ، وأمَرَهُمَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْمُلَاعَنَةِ بِمَا بَيَّنَهَا اللهُ فِي كِتَابِهِ، فَتَلَاعَنَا، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنْ حَبَسْتُهَا فَقَدْ ظَلَمْتُهَا، قَالَ: ثُمَّ طَلَّقَهَا، فَكَانَتْ سُنَّةً لِمَنْ جَاءَ بَعْدَهُمَا مِنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «انْظُرُوا، فَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أَسْحَمَ أَدْعَجَ عَظِيمَ الْأَلْيَتَيْنِ خَدَلَّجَ السَّاقَيْنِ، فَلَا أَحْسَبُ إِلَّا عُوَيْمِرٌ قَدْ صَدَقَ عَلَيْهَا، وَإِنْ جَاءَتْ بِهِ أُحَيْمِرَ، كَأَنَّهُ وَحَرَةٌ، فَلَا أَحْسَبُ عُوَيْمِرًا إِلَّا قَدْ كَذَبَ عَلَيْهَا» ، قَالَ: فَجَاءَتْ بِهِ عَلَى النَّعْتِ الَّذِي نَعَتَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَصْدِيقِ عُوَيْمِرٍ، وَكَانَ نَسَبُ هَذَا إِلَى أُمِّهِ…راوی کہتے ہیں: پھر عویمر آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ! ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو پائے، کیا وہ اسے قتل کر دے تو تم اسے قتل کرو گے، یا وہ کیا کرے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے اور تیری ساتھی کے بارے میں قرآن نازل ہو چکا ہے۔“ اور رسول اللہ ﷺ نے انہیں لعان کا حکم دیا جیسا کہ اللہ نے اپنی کتاب میں بیان فرمایا ہے، چنانچہ دونوں نے لعان کیا۔ پھر عویمر نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگر میں اسے روکوں تو میں نے اس پر ظلم کیا ہوگا۔ راوی کہتے ہیں: پھر انہوں نے اسے طلاق دے دی، اور یہی بعد میں آنے والے تمام لعان کرنے والوں کے لیے طریقہ بن گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دیکھو، اگر وہ سیاہ رنگ، بڑی سرمگیں آنکھوں والا، بڑے سرینوں والا اور موٹی پنڈلیوں والا بچہ جنے تو میں سمجھتا ہوں کہ عویمر نے اس کے بارے میں سچ کہا، اور اگر وہ سرخی مائل بچہ جنے، گویا وہ چھپکلی کی طرح ہو، تو میں سمجھتا ہوں کہ عویمر نے اس پر جھوٹ باندھا۔“ راوی کہتے ہیں: چنانچہ اس نے اسی وصف کے مطابق بچہ جنا جو رسول اللہ ﷺ نے عویمر کی تصدیق کے طور پر بیان فرمایا تھا، اور اس بچے کا نسب اس کی ماں کی طرف کر دیا گیا۔