کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: جنگ جمل ، جنگ صفین اور دیگر میں جو کچھ ہوا ، اس کا بیان
عَنِ الْحَسَنِ - يَعْنِي الْبَصْرِيَّ - قَالَ : سَمِعْتُ جُنْدُبًا يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " كَيْفَ أَنْتُمْ بِأَقْوَامٍ يَدْخُلُ قَادَتُهُمُ الْجَنَّةَ ، وَيَدْخُلُ أَتْبَاعُهُمُ النَّارَ ؟ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنْ عَمِلُوا بِمِثْلِ أَعْمَالِهِمْ ؟ فَقَالَ : " وَإِنْ عَمِلُوا بِمِثْلِ أَعْمَالِهِمْ " . قَالُوا : وَأَنَّى يَكُونُ ذَلِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " يَدْخُلُ قَادَتُهُمُ الْجَنَّةَ بِمَا سَبَقَ لَهُمْ ، وَيَدْخُلُ الْأَتْبَاعُ النَّارَ بِمَا أَحْدَثُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الصَّلْتُ بْنُ دِينَارٍ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
حسن بصری بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا جندب رضی اللہ عنہ کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا ؟ جب تم ایسے لوگوں میں ہو گے کہ جن کی قیادت کرنے والے لوگ جنت میں جائیں گے اور اُن ( قائدین ) کی پیروی کرنے والے جہنم میں جائیں گے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگرچہ وہ ان کی مانند عمل کرتے ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ انہوں نے ان کی مانند عمل کیا ہو ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ کیسے ہو گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کو قیادت کرنے والے اُس چیز کے حوالے سے جنت میں جائیں گے جو کام وہ پہلے کر چکے ہوں گے اور پیروی کرنے والے اس وجہ سے جہنم میں جائیں گے ، جو کام انہوں نے بعد میں کیا ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صلت بن دینار ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12019
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَكُونُ لِأَصْحَابِي زَلَّةٌ يَغْفِرُهَا اللَّهُ لَهُمْ بِصُحْبَتِهِمْ ، وَسَيَتَأَسَّى بِهِمْ قَوْمٌ بَعْدَهُمْ يَكُبُّهُمُ اللَّهُ عَلَى مَنَاخِرِهِمْ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْفَيَّاضِ ، قَالَ ابْنُ يُونُسَ : يَرْوِي عَنْ أَشْهَبَ مَنَاكِيرَ ، قُلْتُ : وَهَذَا مِمَّا رَوَاهُ عَنْ أَشْهَبَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” میرے اصحاب سے لغزش ہو گی ، اللہ تعالیٰ ان کے صحابی ہونے کی وجہ سے ان کی مغفرت کر دے گا اور ان کے بعد کچھ لوگ ان کی پیروی کریں گے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو نتھنوں کے بل جہنم میں اوندھے منہ ڈال دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن فیاض ہے ، ابن یونس کہتے ہیں : اس نے اشہب سے منکر روایات نقل کی ہیں ، میں یہ کہتا ہوں : یہ ان روایات میں سے ایک ہے جو اس نے اشہب سے نقل کی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12020
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ حُذَيْفَةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيَدْخُلَنَّ أَمِيرُ فِتْنَةٍ الْجَنَّةَ ، وَلَيَدْخُلَنَّ مَنْ مَعَهُ النَّارَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مَوْقُوفًا وَمَرْفُوعًا عَلَى حُذَيْفَةَ ، وَرِجَالُ الْمَوْقُوفِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِي الْمَرْفُوعِ عُمَرُ بْنُ حَبِيبٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” فتنے کا امیر ضرور جنت میں داخل ہو گا اور اُس ( امیر ) کا ساتھ دینے والا ، ضرور جہنم میں داخل ہو گا ۔ “
یہ روایت امام بزار نے موقوف اور مرفوع ، دونوں روایات کے طور پر سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے نقل کی ہے ، موقوف روایت کے رجال صحیح کے رجال ہیں اور مرفوع روایت کی سند میں ایک راوی عمر بن حبیب ہے ، جو انتہائی ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12021
درجۂ حدیث محدثین: موقوف سند کے رجال صحیح ہیں، جبکہ مرفوع سند ضعیف جداً ہے
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3277 و 3278)»
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : قِيلَ : مَا مَنَعَكَ أَنْ لَا تَكُونَ قَاتَلْتَ يَوْمَ الْجَمَلِ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَخْرُجُ قَوْمٌ هَلْكَى لَا يُفْلِحُونَ ، قَائِدُهُمُ امْرَأَةٌ ، قَائِدُهُمْ فِي الْجَنَّةِ " . قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ : هَلَكَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ الْهَجَنَّعِ ، ذَكَرَ الذَّهَبِيُّ فِي تَرْجَمَتِهِ هَذَا الْحَدِيثَ فِي مُنْكَرَاتِهِ ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَبَّاسِ ، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ : لَمْ يَكُنْ بِالْكُوفَةِ أَكْذَبَ مِنْهُ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ منقول ہے : اُن سے کہا: گیا : کیا وجہ ہے کہ آپ نے جنگ جمل میں لڑائی میں حصہ نہیں لیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کچھ ہلاکت کا شکار ہونے والے لوگ نکلیں گے ، وہ کامیاب نہیں ہوں گے ، اُن کی قیادت کرنے والی ایک عورت ہو گی ، اور ان کی قیادت کرنے والے لوگ جنت میں جائیں گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں یہ بات منقول ہے : وہ قوم ہلاکت شکار ہو جائے گی ، جو اپنی امیر کسی عورت کو بنا لیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ہجنع ہے ، امام ذہبی نے اس راوی کے حالات میں یہ حدیث نقل کی ہے جو اس کی منکر روایات میں سے ایک ہے اور ایک راوی عبدالجبار بن عباس ہے ، ابونعیم کہتے ہیں : کوفہ میں اس سے زیادہ جھوٹا اور کوئی نہیں تھا ، جبکہ ابوحاتم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12022
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3276)»
وَعَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّهُ سَيَكُونُ [ بَعْدِي ] اخْتِلَافٌ وَأَمْرٌ ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ السِّلْمَ فَافْعَلْ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” عنقریب میرے بعد اختلاف ہو گا اور وہ حکومت کے بارے میں ہو گا اگر تم سے ہو سکے کہ تم اس سے بچ کے رہو تو تم ایسا کر لینا ۔ “
یہ روایت عبداللہ نامی راوی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12023
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : " إِنَّهُ سَيَكُونُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ عَائِشَةَ أَمْرٌ " . قَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : أَنَا أَشْقَاهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنْ إِذَا كَانَ ذَلِكَ فَارْدُدْهَا إِلَى مَأْمَنِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ” عنقریب تمہارے اور عائشہ کے درمیان اختلاف ہو گا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایسی صورت میں تو میں سب سے زیادہ بدنصیب ہوؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! البتہ جب یہ صورت حال ہو ، تو تم عائشہ کو اس کی جائے امان کی طرف لوٹا دینا ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12024
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3272) اخرجه احمد فى المسند (393/6)»
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ عَائِشَةَ لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى الْحَوْأَبِ سَمِعَتْ نُبَاحَ الْكِلَابِ ، فَقَالَتْ : مَا أَظُنُّنِي إِلَّا رَاجِعَةً ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَنَا : " أَيَّتُكُنَّ يَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ " . فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ : تَرْجِعِينَ ، عَسَى اللَّهُ أَنْ يُصْلِحَ بِكِ بَيْنَ النَّاسِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ” حوأب “ نامی جگہ پر پڑاؤ کیا اور وہاں کتوں کے بھونکنے کی آواز سنی تو انہوں نے فرمایا : مجھے واپس چلے جانا چاہیے ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم ( یعنی ازواج مطہرات ) سے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کون وہ خاتون ہو گی ، جس پر حوأب کے کتے بھونکیں گے ۔ “ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ واپس چلی جائیں ، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ آپ کی وجہ سے لوگوں کے درمیان صلح کروا دے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12025
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3275) اخرجه أبو يعلى فى المسند (4868) أخرجه احمد فى المسند (52/6)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِنِسَائِهِ : " لَيْتَ شِعْرِي ، أَيَّتُكُنَّ صَاحِبَةُ الْجَمَلِ الْأَدْبَبِ ، تَخْرُجُ فَيَنْبَحُهَا كِلَابُ حَوْأَبٍ ، يُقْتَلُ عَنْ يَمِينِهَا وَعَنْ يَسَارِهَا قَتْلَى كَثِيرٌ ، ثُمَّ تَنْجُو بَعْدَمَا كَادَتْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے فرمایا : ” افسوس کی بات ہے ! تم میں سے کون عورت اس اونٹ والی ہو گی ، جس کے چہرے پر بہت سے داغ ہوں گے ، وہ نکلے گی اور اس پر ” حوأب “ کے کتے بھونکیں گے ، اس کے دائیں اور بائیں بہت سے لوگ قتل کیے جائیں گے اور پھر اس کے بعد وہ نجات پا جائے گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12026
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3273 و 3274)»
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ : كُنَّا عِنْدَ بَيْتِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نَفَرٍ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخِيَارِكُمْ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . قَالَ : " خِيَارُكُمُ الْمُوفُونَ الْمُطِيبُونَ ، إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْحَفِيَّ التَّقِيَّ " ، قَالَ : وَمَرَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، فَقَالَ : " الْحَقُّ مَعَ ذَا الْحَقُّ مَعَ ذَا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں موجود تھے ، کچھ مہاجرین اور انصار تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں تم لوگوں کو تمہارے بہترین لوگوں کے بارے میں بتاؤں ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے بہترین لوگ وہ ہیں جو ( عہد ، یا اپنے فرض کو ) پورا کرنے والے نیک خصلت لوگ ہوں ، بے شک اللہ تعالیٰ پوشیدہ رہنے والے ، پرہیزگار شخص کو پسند کرتا ہے ، راوی کہتے ہیں : اسی دوران سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ وہاں سے گزرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” حق ، اس کے ساتھ ہو گا ، حق ، اس کے ساتھ ہو گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12027
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (1052)»
وَعَنْ أَبِي جَرْوٍ الْمَازِنِيِّ قَالَ : شَهِدْتُ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ حِينَ تَوَاقَفَا ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : يَا زُبَيْرُ ، أَنْشُدُكَ اللَّهَ ، أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّكَ تُقَاتِلُ وَأَنْتَ ظَالِمٌ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ ، وَلَمْ أَذْكُرْ إِلَّا فِي مَوْقِفِي هَذَا ثُمَّ انْصَرَفَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ الْبُخَارِيُّ : لَمْ يَصِحَّ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین
ابوجرو مازنی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا ، جب یہ دونوں صاحبان ایک دوسرے کے سامنے آ کے ٹھہرے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا: اے زبیر ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، کہ کیا آپ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم ( علی کے ساتھ ) جنگ کرو گے اور تم ظلم کرنے والے ہو گے “ تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! لیکن مجھے یہ بات یہاں کھڑے ہو کر یاد آئی ہے ، پھر وہ واپس چلے گئے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن مسلم ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث مستند نہیں ہوتی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12028
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (666)»
وَعَنْ عَلِيٍّ أَنَّهُ صَعِدَ الْمِنْبَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَخَطَبَ ، ثُمَّ قَامَ إِلَيْهِ الْأَشْعَثُ فَقَالَ : غَلَبَتْنَا عَلَيْكَ الْحُمَيْرَاءُ . فَقَالَ : " مَنْ يَعْذُرُنِي مِنْ هَؤُلَاءِ الضَّيَارِطَةِ ؟ يَتَخَلَّفُ أَحَدُهُمْ يَتَقَلَّبُ عَلَى حَشَايَاهُ ، وَهَؤُلَاءِ يَهْجُرُونَ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ، إِنْ طَرَدْتُهُمْ إِنِّي إِذًا لِمِنَ الظَّالِمِينَ " ، وَاللَّهِ لَقَدْ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لَيَضْرِبُنَّكُمْ عَلَى الدِّينِ عَوْدًا كَمَا ضَرَبْتُمُوهُمْ عَلَيْهِ بَدْءًا " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ : فِيهِ نَظَرٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جمعہ کے دن انہوں نے منبر پر خطبہ دیا ، تو اشعث اُن کے سامنے کھڑا ہوا اور بولا: یہ خاتون ہمارے حوالے سے آپ پر غالب آ گئی ہیں ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” ان نالائق لوگوں کے حوالے سے کون میرے سامنے عذر بیان کرے گا ؟ ان میں سے کوئی ایک شخص پیچھے رہ جاتا ہے اور اپنے بستر پر کروٹیں بدلتا رہتا ہے ، جبکہ وہ دوسرے لوگ اللہ کے ذکر کی طرف جلدی چلے جاتے ہیں ، اگر میں انہیں پرے کر دوں تو ایسی صورت میں تو میں ظلم کرنے والوں میں سے ہو جاؤں گا ، اللہ کی قسم ! میں نے انہیں یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” وہ دین کی بنیاد پر تمہارے ساتھ ضرور لڑائی کریں گے ، جس طرح تم نے آغاز میں ، اس ( دین ) کی بنیاد پر ان کے ساتھ لڑائی کی تھی ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن عبداللہ اسدی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12029
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلى فى المسند (399)»
وَعَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ كَانَ مَعَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ ، وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرٍ مِنْ آجُرٍّ ، وَالْمَوَالِي حَوْلَهُ ، فَقَامَ فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ ، فَغَضِبَ عَلِيٌّ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ . فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ يَتَخَطَّى النَّاسَ فَقَالَ : غَلَبَتْنَا عَلَى وَجْهِكَ هَذِهِ الْحُمَيْرَاءُ . فَضَرَبَ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ عَلَى فَخْذِي وَقَالَ : إِنَّا لِلَّهِ ، وَاللَّهِ لَتُبْدِيَنَّ الْعَرَبُ مَا كَانَتْ تَكْتُمُ . ثُمَّ قَالَ : مَنْ يَعْذُرُنِي مِنْ هَذِهِ الضَّيَارِطَةِ ؟ يَتَقَلَّبُ أَحَدُهُمْ عَلَى فِرَاشِهِ ، وَيَغْدُو قَوْمٌ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ، فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ أَفَأَطْرُدُهُمْ فَأَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ ؟ وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ ، لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيَضْرِبَنَّكُمْ عَلَى الدِّينِ عَوْدًا كَمَا ضَرَبْتُمُوهُ عَلَيْهِ بَدْءًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ : فِيهِ نَظَرٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عباد بن عبدالله اسدی ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ” جمعہ کے دن زید بن صوحان سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اینٹوں کے بنے ہوئے منبر پر خطبہ دے رہے تھے ، ان کے اردگرد موالی موجود تھے ، ایک شخص کھڑا ہوا ، اس نے کوئی بات کی ، مجھے نہیں معلوم کہ اس نے کیا بات کی ؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے ، یہاں تک کہ ان کا چہرہ سرخ ہو گیا ، ابھی ہم لوگ اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران اشعث بن قیس لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آگے آیا اور بولا: یہ خاتون ہمارے حوالے سے آپ پر غالب آ گئی ہیں ، پھر زید بن صوحان نے میرے زانوں پر مارا اور فرمایا : بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں ، اللہ کی قسم ! تم عربوں کے لئے وہ چیز ظاہر کر دو گے ، جسے وہ چھپاتے تھے ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان نالائق لوگوں کے حوالے سے کون میرے سامنے عذر بیان کرے گا کہ ان میں سے کوئی ایک اپنے بستر پر کروٹیں بدلتا رہتا ہے اور دوسرے لوگ اللہ کے ذکر کی طرف صبح چلے جاتے ہیں ، تو تم مجھے کیا کہتے ہو ؟ کیا میں انہیں پرے کر کے ظالم لوگوں میں سے ہو جاؤں ؟ اس ذات کی قسم ! جس نے دانے کو چیرا ہے اور جان کو پیدا کیا ہے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” وہ دین کی بنیاد پر تمہارے ساتھ ضرور لڑائی کریں گے ، جس طرح تم نے آغاز میں اس ( دین ) کی بنیاد پر ان کے ساتھ لڑائی کی تھی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن عبداللہ اسدی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12030
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3271)»
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ أَنَّ فُلَانًا دَخَلَ الْمَدِينَةَ حَاجًّا ، فَأَتَاهُ النَّاسُ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ ، فَدَخَلَ سَعْدٌ ، فَسَلَّمَ ، فَقَالَ : وَهَذَا لَمْ يُعِنَّا عَلَى حَقِّنَا عَلَى بَاطِلِ غَيْرِنَا . قَالَ : فَسَكَتَ عَنْهُ [ سَاعَةً ]. فَقَالَ : مَا لَكَ لَا تَتَكَلَّمُ ؟ فَقَالَ : هَاجَتْ فِتْنَةٌ ، وَظُلْمَةٌ . فَقَالَ لِبَعِيرِي : اخْ اخْ ، فَأَنَخْتُ حَتَّى انْجَلَتْ . فَقَالَ رَجُلٌ : إِنِّي قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى آخِرِهِ فَلَمْ أَرَ فِيهِ اخْ اخْ . [ قَالَ فَغَضِبَ سَعْدٌ ] فَقَالَ : أَمَا إِذْ قُلْتُ ذَاكَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " عَلِيٌّ مَعَ الْحَقِّ أَوِ الْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ حَيْثُ كَانَ " . قَالَ : مَنْ سَمِعَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : قَالَهُ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ . قَالَ : فَأَرْسَلَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا ، فَقَالَتْ : قَدْ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي . فَقَالَ الرَّجُلُ لِسَعْدٍ : مَا كُنْتَ عِنْدِي قَطُّ أَلْوَمَ مِنْكَ الْآنَ . فَقَالَ : وَلِمَ ؟ قَالَ : لَوْ سَمِعْتُ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ أَزَلْ خَادِمًا لِعَلِيٍّ حَتَّى أَمُوتَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن ابراہیم تیمی بیان کرتے ہیں : فلاں شخص مدینہ منورہ میں حج کے سلسلے میں داخل ہوا ، لوگ اس کے پاس آئے ، تاکہ اسے سلام کریں ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، انہوں نے سلام کیا ، تو اس شخص نے کہا: ان صاحب نے ہمارے علاوہ لوگوں کے باطل کے مقابلے میں ، حق کے بارے میں ہماری مدد نہیں کی ، راوی کہتے ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کچھ دیر خاموش رہے ، اس شخص نے کہا: کیا وجہ ہے اب آپ بات کیوں نہیں کرتے ؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب فتنہ سامنے آیا اور تاریکی سامنے آئی ، تو میں نے اپنے اونٹ سے کہا: تم بیٹھ جاؤ تو وہ بیٹھ گیا ، یہاں تک کہ فتنہ ختم ہو گیا ، اس شخص نے کہا: میں نے اللہ کی کتاب شروع سے لے کر آخر تک پڑھی ہے ، لیکن میں نے اس میں یہ الفاظ نہیں دیکھے کہ تم بیٹھ جاؤ ! تم بیٹھ جاؤ ! راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور فرمایا : تم نے یہ بات کہی ہے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” علی حق کے ساتھ ہو گا ، یا حق علی کے ساتھ ہو گا ، خواہ وہ جہاں بھی ہو ۔ “ اس شخص نے کہا: آپ کے ساتھ یہ بات اور کس نے سنی ہے ؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے بتایا : یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ارشاد فرمائی تھی ، راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیج کر اس کے بارے میں دریافت کیا ، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں یہ بات ارشاد فرمائی تھی ، تو اس شخص نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ پہلے میرے نزدیک اتنے قابل ملامت نہیں تھے ، جتنے اب ہیں ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ اس شخص نے کہا: اگر میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہوتی ، تو میں مرتے دم تک مسلسل سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا خدمت گزار رہتا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن شعیب ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12031
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3282)»
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ حَوْلَ حُذَيْفَةَ إِذْ قَالَ : كَيْفَ أَنْتُمْ ، وَقَدْ خَرَجَ أَهْلُ بَيْتِ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِرْقَتَيْنِ ، يَضْرِبُ بَعْضُهُمْ وُجُوهَ بَعْضٍ بِالسَّيْفِ ؟ فَقُلْنَا : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، وَإِنَّ ذَلِكَ لَكَائِنٌ ؟ فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، فَكَيْفَ نَصْنَعُ إِنْ أَدْرَكْنَا ذَلِكَ الزَّمَانَ ؟ قَالَ : انْظُرُوا الْفِرْقَةَ الَّتِي تَدْعُوا إِلَى أَمْرِ عَلِيٍّ فَالْزَمُوهَا ، فَإِنَّهَا عَلَى الْهُدَى . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
زید بن وہب بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے گرد بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران انہوں نے ارشاد فرمایا : اس وقت تم لوگوں کا کیا عالم ہو گا ؟ کہ جب تمہارے نبی کے اہل بیت دو گروہوں میں تقسیم ہو کر نکلیں گے اور تلوار کے ذریعے ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں گے ، ہم نے دریافت کیا : اے ابوعبداللہ ! کیا ایسا ہو گا ؟ پھر ان کے اصحاب میں سے کسی نے دریافت کیا : اے ابوعبداللہ ! اگر ہم وہ زمانہ پا لیں ، تو ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ انہوں نے فرمایا : تم اُس گروہ کا جائزہ لینا ، جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف دعوت دیتا ہو اور اس گروہ کے ساتھ ہو جانا ، کیونکہ وہ گروہ ہدایت پر ہو گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12032
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3283)»
وَعَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ : كُنَّا فِي سَمَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : إِنِّي لَمُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ لَيْسَ بِسِرٍّ وَلَا عَلَانِيَةٍ : إِنَّهُ لَمَّا كَانَ مِنْ أَمْرِ هَذَا الرَّجُلِ مَا كَانَ - يَعْنِي عُثْمَانَ - قُلْتُ لِعَلِيٍّ : اعْتَزِلْ ، فَلَوْ كُنْتَ فِي جُحْرٍ طُلِبْتَ حَتَّى تُسْتَخْرَجَ . فَعَصَانِي ، وَايْمُ اللَّهِ ، لَيَتَأَمَّرَنَّ عَلَيْكُمْ مُعَاوِيَةُ ، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقُولُ : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًا ، وَلَتَحْمِلَنَّكُمْ قُرَيْشٌ عَلَى سُنَّةِ فَارِسَ وَالرُّومِ ، وَلَتُؤْمَنَنَّ عَلَيْكُمُ الْيَهُودُ ، وَالنَّصَارَى ، وَالْمَجُوسُ ، فَمَنْ أَخَذَ مِنْكُمْ [ يَوْمَئِذٍ ] بِمَا يَعْرِفُ فَقَدْ نَجَا ، وَمِنْ تَرَكَ وَأَنْتُمْ تَارِكُونَ كُنْتُمْ كَقَرْنٍ مِنَ الْقُرُونِ [ فِيمَنْ ] هَلَكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
زہدم جرمی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ رات کے وقت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، انہوں نے ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں کو ایک ایسی بات بیان کرنے لگا ہوں ، جو نہ پوشیدہ ہے اور نہ علانیہ ہے ، جب ان صاحب کا معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مراد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے ، تو میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ الگ تھلگ ہو جائیں ، اگر آپ کسی بل میں بھی چھپے ہوئے ہوں گے ، تو آپ کو تلاش کر کے وہاں سے نکال لیا جائے گا ، تو انہوں نے میری یہ بات نہیں مانی ، اور اللہ کی قسم ! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تمہارے امیر ضرور بنیں گے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص مظلوم ہونے کے طور پر قتل ہو جائے ، تو ہم نے اس کے ولی کو غلبہ دینا ہے ، تو وہ قتل کرنے میں اسراف سے کام نہ لے ، اس کی مدد کی جائے گی ۔ “ قریش ، تم لوگوں کو اہل فارس اور اہل روم کے طریقے پر چلنے پر ضرور مجبور کریں گے اور یہودیوں ، عیسائیوں اور مجوسیوں کی ضرور پیروی کی جائے گی ، تم میں سے جو شخص اس وقت اس چیز کو اختیار کرے گا ، جسے وہ نیکی سمجھے گا ، تو وہ نجات پا لے گا اور جو شخص اُسے ترک کر دے گا ، اور تم لوگ ترک ہی کرو گے ، تو تم لوگ ہلاکت کا شکار ہونے والی قوموں کی مانند ہو جاؤ گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12033
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10613)»
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا بَلَغَ أَصْحَابُ عَلِيٍّ حِينَ سَارُوا إِلَى الْبَصْرَةِ أَنَّ أَهْلَ الْبَصْرَةِ قَدِ اجْتَمَعُوا لِطَلْحَةَ ، وَالزُّبَيْرِ ، شَقَّ عَلَيْهِمْ وَوَقَعَ فِي قُلُوبِهِمْ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ ، لَيُظْهَرَنَّ عَلَى أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، وَلَيُقْتَلَنَّ طَلْحَةُ ، وَالزُّبَيْرُ ، وَلَيَخْرُجَنَّ إِلَيْكُمْ مِنَ الْكُوفَةِ سِتَّةُ آلَافٍ وَخَمْسُمِائَةٍ وَخَمْسُونَ رَجُلًا أَوْ خَمْسَةُ آلَافٍ وَخَمْسُمِائَةٍ وَخَمْسُونَ رَجُلًا - شَكَّ الْأَحْلَجُ . ¤ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَوَقَعَ ذَلِكَ فِي نَفْسِي ، فَقَالَ : يَا أَهْلَ الْكُوفَةِ ، فَلَمَّا أَتَى أَهْلَ الْكُوفَةِ خَرَجْتُ فَقُلْتُ : لَأَنْظُرَنَّ ، فَإِنْ كَانَ كَمَا يَقُولُ فَهُوَ أَمْرٌ سَمِعَهُ ، وَإِلَّا فَهِيَ خَدِيعَةُ الْحَرْبِ ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْجَيْشِ فَسَأَلْتُهُ ، فَوَاللَّهِ مَا عَتَّمَ أَنْ قَالَ مَا قَالَ عَلِيٌّ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَهُوَ مِمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُخْبِرُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی بصرہ کی طرف روانہ ہوئے اور ان لوگوں کو یہ اطلاع ملی کہ اہل بصرہ تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں اکٹھے ہو رہے ہیں ، تو یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں پر گراں گزری اور ان کے دلوں میں برا خیال آ گیا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہ لوگ ضرور اہل بصرہ پر غالب آ جائیں گے اور اہل بصرہ ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے خلاف لڑائی کریں گے ، اور پھر کوفہ میں سے چھ ہزار پانچ سو پچاس لوگ ، راوی کو شک ہے : شاید یہ الفاظ ہیں : پانچ ہزار پانچ سو پچاس لوگ نکل کر تمہاری طرف آئیں گے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میرے ذہن میں الجھن آ گئی ، انہوں نے فرمایا : اے اہل کوفہ ! جب اہل کوفہ آئیں گے ، تو میں نکلوں گا ، میں نے سوچا کہ میں اس بات کا جائزہ لوں گا کہ اگر یہ اسی طرح ہوا ، جس طرح اُنہوں نے بیان کیا ہے تو پھر یہ کوئی ایسی بات ہو گی جو انہوں نے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ) سنی ہو گی ، ورنہ پھر یہ جنگ کی ایک چال ہو گی ، پھر میں نے لشکر کے ایک شخص کو دیکھا اور اس سے دریافت کیا : تو اللہ کی قسم ! اس نے وہی تعداد بیان کی جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تو یہ ان باتوں میں سے ایک تھی ، جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بتا دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12034
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10738)»
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ ثَابِتٍ يَوْمَ الْبَصْرَةِ يَقُولُ : أَحْلِفُ بِاللَّهِ لَيُهْزَمَنَّ الْجَمْعُ وَلَيُوَلُّنَّ الدُّبُرَ . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّخَعِ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شِرْكٍ يَا أَبَا يَقْظَانِ أَنْ تَقُولَ مَا لَا عِلْمَ لَكَ بِهِ . قَالَ : لَأَنَا أَشَرُّ مِنْ جَمَلٍ يَجُرُّ خِطَامَهُ بَيْنَ نَجْدٍ وَتِهَامَةَ إِنْ كُنْتُ أَقُولُ مَا لَا عِلْمَ لِي بِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ الْبَكْرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن عدی بیان کرتے ہیں : بصرہ کے دن میں نے عمرو بن ثابت کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : میں اللہ کے نام کا حلف اٹھا کر یہ بات کہتا ہوں کہ دشمن کا لشکر پسپا ہو جائے گا اور وہ پیٹھ پھیر کر چلے جائیں گے ، تو نخع قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا: اے ابویقظان ! میں تمہارے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ، اس بات کے حوالے سے کہ تم وہ بات کہو ، جس کے بارے میں تمہیں علم نہ ہو ، تو عمرو بن ثابت نے کہا: میں ایسی صورت میں اُس اونٹ سے زیادہ برا ہوؤں گا ، جس کی لگام نجد اور تہامہ کے درمیان کھینچی جاتی ہے ، اگر میں وہ بات کہوں ، جس کے بارے میں مجھے علم نہ ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت بکری ہے اور وہ متروک ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12035
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْبَكَّائِيِّ قَالَ : كُنْتُ [ جَالِسًا ] مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَحُذَيْفَةَ ، فَمَرُّوا عَلَيْهِمَا بِامْرَأَةٍ ، وَرَجُلٍ عَلَى جَمَلٍ قَدْ خُولِفَ وُجُوهُهُمَا ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : هَذَا الَّذِي كُنَّا نَتَحَدَّثُ عَنْهُ ، أَلَا إِنَّ مَعَ ذَلِكَ الْبَارِقَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن معاویہ بکائی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، ان دونوں صاحبان کے پاس سے ایک عورت اور ایک مرد گزرے ، جو ایک اونٹ پر سوار تھے ، ان دونوں کے رخ مخالف سمت میں کئے گئے تھے ، ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیا یہ وہی افراد ہیں ، جن کے بارے میں ہم بات چیت کیا کرتے تھے ؟ تو دوسرے صاحب نے کہا: جی نہیں ! اُن کے ساتھ تو تلواروں کی چمک بھی ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12036
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10505)»
وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَأَبُو مُوسَى عِنْدَهُ ، وَأَخَذَ الْوَالِي رَجُلًا فَضَرَبَهُ وَحَمَلَهُ عَلَى جَمَلٍ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ : الْجَمَلَ الْجَمَلَ . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، هَذَا الْجَمَلُ الَّذِي كُنَّا نَسْمَعُ . قَالَ : فَأَيْنَ الْبَارِقَةُ ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عمیر بن سعید بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اُن کے پاس سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ، گورنر نے ایک شخص کو پکڑ کر اسے مارا تھا ، اسے ایک اونٹ پر سوار کر دیا تھا ، تو لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ تو وہی اونٹ ہے ، وہی اونٹ ہے ، ایک شخص نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! کیا یہ وہی اونٹ ہے ؟ جس کے بارے میں ہم سنا کرتے تھے ، تو انہوں نے فرمایا : تلواروں کی چمک کہاں ہے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12037
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10504)»
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ كُوزٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ مَوْلَايَ يَوْمَ الْجَمَلِ ، فَأَقْبَلَ فَارِسٌ فَقَالَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ : سَلُوهُ مَنْ هُوَ ؟ قِيلَ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ . قَالَتْ : قُولُوا لَهُ : مَا تُرِيدُ ؟ قَالَ : أَنْشُدُكِ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِكِ ، أَتَعْلَمِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَعَلَ عَلِيًّا وَصِيًّا عَلَى أَهْلِهِ وَفِي أَهْلِهِ ؟ قَالَتْ : اللَّهُمَّ نَعَمْ . قَالَ : فَمَا لَكِ ؟ قَالَتْ : أَطْلُبُ بِدَمِ عُثْمَانَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ . قَالَ : فَتَكَلَّمَ ، ثُمَّ جَاءَ فَوَارِسُ أَرْبَعَةٌ فَهَتَفَ بِهِمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ . قَالَ : تَقُولُ عَائِشَةُ : ابْنُ أَبِي طَالِبٍ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، سَلُوهُ مَا يُرِيدُ ؟ قَالُوا : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ . قَالَتْ : سَلُوهُ مَا يُرِيدُ ؟ قَالُوا : مَا تُرِيدُ ؟ قَالَ : أَنْشُدُكِ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِكِ ، أَتَعْلَمِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَعَلَنِي وَصِيًّا عَلَى أَهْلِهِ وَفِي أَهْلِهِ ؟ قَالَتْ : اللَّهُمَّ نَعَمْ . قَالَ : فَمَا لَكِ ؟ قَالَتْ : أَطْلُبُ بِدَمِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ . قَالَ : أَرِينِي قَتَلَةَ عُثْمَانَ . ثُمَّ انْصَرَفَ وَالْتَحَمَ الْقِتَالُ . قَالَ : فَرَأَيْتُ هِلَالَ بْنَ وَكِيعٍ رَأْسَ بَنِي تَمِيمٍ مَعَهُ غُلَامٌ لَهُ حَبَشِيٌّ مِثْلُ الْجَانِّ ، وَهُوَ يُقَاتِلُ بَيْنَ يَدَيْ عَائِشَةَ وَهُوَ يَقُولُ : أَضْرِبُهُمْ بِذَكَرِ الْقِطَاطْ إِذْ فَرَّ عَوْنٌ وَأَبُو حِمَاطْ وَنَكَبَ النَّاسُ عَنِ الصِّرَاطِ . ¤ فَحَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ ، فَإِذَا هُوَ قَدْ شُدِخَ وَغُلَامُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ كُوزٍ ، وَأَسْبَاطُ بْنُ عَمْرٍو الرَّاوِي عَنْهُ لَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سعید بن کوز بیان کرتے ہیں : جنگ جمل کے موقع پر میں اپنے آقا کے ساتھ تھا ، ایک شہسوار آیا اور بولا: اے اُم المؤمنین ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اس سے پوچھو کہ یہ کون ہے ؟ اس سے دریافت کیا گیا : تم کون ہو ؟ تو اس نے بتایا : میں عمار بن یاسر ہوں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم لوگ اس سے پوچھو کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو اس اللہ کا واسطہ دے کر یہ بات دریافت کرتا ہوں ، جس نے آپ کے گھر میں اللہ کے رسول پر کتاب نازل کی تھی ، کیا آپ یہ بات جانتی ہیں ؟ کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ پر اور اپنے اہل خانہ کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وصی مقرر کیا تھا ؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ! سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تو پھر آپ کیا کرنا چاہتی ہیں ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں امیرالمؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا قصاص چاہتی ہوں ، راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے کوئی بات چیت کی ، پھر چار شہسوار آئے ، ان میں سے ایک شخص نے بلند آواز میں پکارا ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : رب کعبہ کی قسم ! یہ تو ابن ابوطالب ہیں ، تم اُن سے دریافت کرو ، یہ کون ہیں اور یہ کیا چاہتے ہیں ؟ لوگوں نے دریافت کیا : آپ کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں علی بن ابوطالب ہوں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم لوگ ان سے دریافت کرو کہ یہ کیا چاہتے ہیں ؟ لوگوں نے دریافت کیا : آپ کیا چاہتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں آپ کو اُس اللہ کا واسطہ دے کر یہ بات دریافت کرتا ہوں کہ جس نے آپ کے گھر میں اللہ کے رسول پر کتاب نازل کی ، کہ کیا آپ یہ بات جانتی ہیں ؟ کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ پر اور اپنے اہل خانہ کے بارے میں مجھے ” وصی “ بنایا تھا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پھر آپ کیا چاہتی ہیں ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں امیرالمؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا قصاص چاہتی ہوں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ مجھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین دکھا دیں ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے اور لڑائی شروع ہو گئی ۔ راوی کہتے ہیں : پھر میں نے بنو تمیم کے سردار ہلال بن وکیع کو دیکھا ، اس کے ساتھ اس کا ایک حبشی غلام تھا ، جو جن لگتا تھا ، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے آگے لڑائی کر رہا تھا اور یہ شعر پڑھ رہا تھا : ” میں ان پر بھرپور حملے کرتا ہوں ، جب عون اور ابوحماط فرار ہوتے ہیں ، اور لوگ راستے سے ہٹ جاتے ہیں ۔ “ پھر میری توجہ ذرا سی ہٹی ، تو میں نے دیکھا کہ اس سردار اور اس کے غلام کو قتل کر دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، سعید بن کوز نامی راوی اور اس سے روایت نقل کرنے والا شخص اسباط بن عمرو ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12038
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجَمَلِ رَأَى عَلِيٌّ الرُّءُوسَ تَنْدُرُ ، فَأَخَذَ بِيَدِ الْحُسَيْنِ فَوَضَعَهَا عَلَى بَطْنِهِ ثُمَّ قَالَ : أَيُّ خَيْرٍ بَعْدَ هَذَا ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ فَهْدُ بْنُ عَوْفٍ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جنگ جمل کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سر گرتے ہوئے دیکھے ، تو سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے پیٹ پر رکھا اور پھر بولے : اس کے بعد پھر کون سی بھلائی ہو گی ؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی فہد بن عوف ہے اور وہ کذاب ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12039
درجۂ حدیث محدثین: موضوع
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (242)»
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ : ذُكِرَ لِعَائِشَةَ يَوْمُ الْجَمَلِ قَالَتْ : وَالنَّاسُ يَقُولُونَ : يَوْمُ الْجَمَلِ ؟ قَالُوا : نَعَمْ . قَالَتْ : وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ جَلَسْتُ كَمَا جَلَسَ أَصْحَابِي ، وَكَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ أَنْ أَكُونَ وَلَدْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِضْعَ عَشْرَةَ كُلُّهُمْ مِثْلُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، وَمِثْلُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن قیس بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے یوم جمل کا ذکر کیا گیا ، تو انہوں نے فرمایا : لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ یوم جمل ہے ، لوگوں نے بتایا : جی ہاں ! سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میری یہ خواہش ہے کہ میں اُس وقت بیٹھی رہتی ، جس طرح میری دیگر ساتھی خواتین ( یعنی دیگر ازواج مطہرات ) بیٹھی رہی تھیں ، اور میری یہ بھی خواہش تھی کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دس سے زیادہ بچوں کو جنم دیا ہوتا ، جو سب عبدالرحمن بن حارث بن ہشام اور عبداللہ بن زبیر جیسے ہوتے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے اور وہ ضعیف ہے ، اُس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12040
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف