مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ فِي الْجَمَلِ وَصِفِّينَ وَغَيْرِهِمَا . باب: جنگ جمل ، جنگ صفین اور دیگر میں جو کچھ ہوا ، اس کا بیان
وَعَنْ زَهْدَمٍ الْجَرْمِيِّ قَالَ : كُنَّا فِي سَمَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَقَالَ : إِنِّي لَمُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ لَيْسَ بِسِرٍّ وَلَا عَلَانِيَةٍ : إِنَّهُ لَمَّا كَانَ مِنْ أَمْرِ هَذَا الرَّجُلِ مَا كَانَ - يَعْنِي عُثْمَانَ - قُلْتُ لِعَلِيٍّ : اعْتَزِلْ ، فَلَوْ كُنْتَ فِي جُحْرٍ طُلِبْتَ حَتَّى تُسْتَخْرَجَ . فَعَصَانِي ، وَايْمُ اللَّهِ ، لَيَتَأَمَّرَنَّ عَلَيْكُمْ مُعَاوِيَةُ ، وَذَلِكَ بِأَنَّ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - يَقُولُ : وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا فَلَا يُسْرِفْ فِي الْقَتْلِ إِنَّهُ كَانَ مَنْصُورًا ، وَلَتَحْمِلَنَّكُمْ قُرَيْشٌ عَلَى سُنَّةِ فَارِسَ وَالرُّومِ ، وَلَتُؤْمَنَنَّ عَلَيْكُمُ الْيَهُودُ ، وَالنَّصَارَى ، وَالْمَجُوسُ ، فَمَنْ أَخَذَ مِنْكُمْ [ يَوْمَئِذٍ ] بِمَا يَعْرِفُ فَقَدْ نَجَا ، وَمِنْ تَرَكَ وَأَنْتُمْ تَارِكُونَ كُنْتُمْ كَقَرْنٍ مِنَ الْقُرُونِ [ فِيمَنْ ] هَلَكَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤زہدم جرمی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ رات کے وقت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ بات چیت کر رہے تھے ، انہوں نے ارشاد فرمایا : میں تم لوگوں کو ایک ایسی بات بیان کرنے لگا ہوں ، جو نہ پوشیدہ ہے اور نہ علانیہ ہے ، جب ان صاحب کا معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مراد سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ تھے ، تو میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ الگ تھلگ ہو جائیں ، اگر آپ کسی بل میں بھی چھپے ہوئے ہوں گے ، تو آپ کو تلاش کر کے وہاں سے نکال لیا جائے گا ، تو انہوں نے میری یہ بات نہیں مانی ، اور اللہ کی قسم ! سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ تمہارے امیر ضرور بنیں گے ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص مظلوم ہونے کے طور پر قتل ہو جائے ، تو ہم نے اس کے ولی کو غلبہ دینا ہے ، تو وہ قتل کرنے میں اسراف سے کام نہ لے ، اس کی مدد کی جائے گی ۔ “ قریش ، تم لوگوں کو اہل فارس اور اہل روم کے طریقے پر چلنے پر ضرور مجبور کریں گے اور یہودیوں ، عیسائیوں اور مجوسیوں کی ضرور پیروی کی جائے گی ، تم میں سے جو شخص اس وقت اس چیز کو اختیار کرے گا ، جسے وہ نیکی سمجھے گا ، تو وہ نجات پا لے گا اور جو شخص اُسے ترک کر دے گا ، اور تم لوگ ترک ہی کرو گے ، تو تم لوگ ہلاکت کا شکار ہونے والی قوموں کی مانند ہو جاؤ گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔