حدیث نمبر: 12038
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ كُوزٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ مَوْلَايَ يَوْمَ الْجَمَلِ ، فَأَقْبَلَ فَارِسٌ فَقَالَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ . فَقَالَتْ عَائِشَةُ : سَلُوهُ مَنْ هُوَ ؟ قِيلَ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ . قَالَتْ : قُولُوا لَهُ : مَا تُرِيدُ ؟ قَالَ : أَنْشُدُكِ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِكِ ، أَتَعْلَمِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَعَلَ عَلِيًّا وَصِيًّا عَلَى أَهْلِهِ وَفِي أَهْلِهِ ؟ قَالَتْ : اللَّهُمَّ نَعَمْ . قَالَ : فَمَا لَكِ ؟ قَالَتْ : أَطْلُبُ بِدَمِ عُثْمَانَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ . قَالَ : فَتَكَلَّمَ ، ثُمَّ جَاءَ فَوَارِسُ أَرْبَعَةٌ فَهَتَفَ بِهِمْ رَجُلٌ مِنْهُمْ . قَالَ : تَقُولُ عَائِشَةُ : ابْنُ أَبِي طَالِبٍ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ، سَلُوهُ مَا يُرِيدُ ؟ قَالُوا : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : أَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ . قَالَتْ : سَلُوهُ مَا يُرِيدُ ؟ قَالُوا : مَا تُرِيدُ ؟ قَالَ : أَنْشُدُكِ بِاللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ الْكِتَابَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِكِ ، أَتَعْلَمِينَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَعَلَنِي وَصِيًّا عَلَى أَهْلِهِ وَفِي أَهْلِهِ ؟ قَالَتْ : اللَّهُمَّ نَعَمْ . قَالَ : فَمَا لَكِ ؟ قَالَتْ : أَطْلُبُ بِدَمِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ . قَالَ : أَرِينِي قَتَلَةَ عُثْمَانَ . ثُمَّ انْصَرَفَ وَالْتَحَمَ الْقِتَالُ . قَالَ : فَرَأَيْتُ هِلَالَ بْنَ وَكِيعٍ رَأْسَ بَنِي تَمِيمٍ مَعَهُ غُلَامٌ لَهُ حَبَشِيٌّ مِثْلُ الْجَانِّ ، وَهُوَ يُقَاتِلُ بَيْنَ يَدَيْ عَائِشَةَ وَهُوَ يَقُولُ : أَضْرِبُهُمْ بِذَكَرِ الْقِطَاطْ إِذْ فَرَّ عَوْنٌ وَأَبُو حِمَاطْ وَنَكَبَ النَّاسُ عَنِ الصِّرَاطِ . ¤ فَحَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ ، فَإِذَا هُوَ قَدْ شُدِخَ وَغُلَامُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَسَعِيدُ بْنُ كُوزٍ ، وَأَسْبَاطُ بْنُ عَمْرٍو الرَّاوِي عَنْهُ لَمْ أَعْرِفْهُمَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سعید بن کوز بیان کرتے ہیں : جنگ جمل کے موقع پر میں اپنے آقا کے ساتھ تھا ، ایک شہسوار آیا اور بولا: اے اُم المؤمنین ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اس سے پوچھو کہ یہ کون ہے ؟ اس سے دریافت کیا گیا : تم کون ہو ؟ تو اس نے بتایا : میں عمار بن یاسر ہوں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم لوگ اس سے پوچھو کہ تم کیا چاہتے ہو ؟ تو سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو اس اللہ کا واسطہ دے کر یہ بات دریافت کرتا ہوں ، جس نے آپ کے گھر میں اللہ کے رسول پر کتاب نازل کی تھی ، کیا آپ یہ بات جانتی ہیں ؟ کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ پر اور اپنے اہل خانہ کے بارے میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو وصی مقرر کیا تھا ؟ تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ! سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : تو پھر آپ کیا کرنا چاہتی ہیں ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں امیرالمؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا قصاص چاہتی ہوں ، راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے کوئی بات چیت کی ، پھر چار شہسوار آئے ، ان میں سے ایک شخص نے بلند آواز میں پکارا ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : رب کعبہ کی قسم ! یہ تو ابن ابوطالب ہیں ، تم اُن سے دریافت کرو ، یہ کون ہیں اور یہ کیا چاہتے ہیں ؟ لوگوں نے دریافت کیا : آپ کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں علی بن ابوطالب ہوں ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : تم لوگ ان سے دریافت کرو کہ یہ کیا چاہتے ہیں ؟ لوگوں نے دریافت کیا : آپ کیا چاہتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں آپ کو اُس اللہ کا واسطہ دے کر یہ بات دریافت کرتا ہوں کہ جس نے آپ کے گھر میں اللہ کے رسول پر کتاب نازل کی ، کہ کیا آپ یہ بات جانتی ہیں ؟ کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اہل خانہ پر اور اپنے اہل خانہ کے بارے میں مجھے ” وصی “ بنایا تھا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اللہ جانتا ہے ، جی ہاں ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : پھر آپ کیا چاہتی ہیں ؟ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں امیرالمؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خون کا قصاص چاہتی ہوں ، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : آپ مجھے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلین دکھا دیں ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ واپس چلے گئے اور لڑائی شروع ہو گئی ۔ راوی کہتے ہیں : پھر میں نے بنو تمیم کے سردار ہلال بن وکیع کو دیکھا ، اس کے ساتھ اس کا ایک حبشی غلام تھا ، جو جن لگتا تھا ، وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے آگے لڑائی کر رہا تھا اور یہ شعر پڑھ رہا تھا : ” میں ان پر بھرپور حملے کرتا ہوں ، جب عون اور ابوحماط فرار ہوتے ہیں ، اور لوگ راستے سے ہٹ جاتے ہیں ۔ “ پھر میری توجہ ذرا سی ہٹی ، تو میں نے دیکھا کہ اس سردار اور اس کے غلام کو قتل کر دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، سعید بن کوز نامی راوی اور اس سے روایت نقل کرنے والا شخص اسباط بن عمرو ، میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12038
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف