حدیث نمبر: 12022
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ : قِيلَ : مَا مَنَعَكَ أَنْ لَا تَكُونَ قَاتَلْتَ يَوْمَ الْجَمَلِ ؟ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَخْرُجُ قَوْمٌ هَلْكَى لَا يُفْلِحُونَ ، قَائِدُهُمُ امْرَأَةٌ ، قَائِدُهُمْ فِي الْجَنَّةِ " . قُلْتُ : لَهُ فِي الصَّحِيحِ : هَلَكَ قَوْمٌ وَلَّوْا أَمْرَهُمُ امْرَأَةً . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ الْهَجَنَّعِ ، ذَكَرَ الذَّهَبِيُّ فِي تَرْجَمَتِهِ هَذَا الْحَدِيثَ فِي مُنْكَرَاتِهِ ، وَعَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَبَّاسِ ، قَالَ أَبُو نُعَيْمٍ : لَمْ يَكُنْ بِالْكُوفَةِ أَكْذَبَ مِنْهُ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ منقول ہے : اُن سے کہا: گیا : کیا وجہ ہے کہ آپ نے جنگ جمل میں لڑائی میں حصہ نہیں لیا ؟ تو انہوں نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کچھ ہلاکت کا شکار ہونے والے لوگ نکلیں گے ، وہ کامیاب نہیں ہوں گے ، اُن کی قیادت کرنے والی ایک عورت ہو گی ، اور ان کی قیادت کرنے والے لوگ جنت میں جائیں گے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں یہ بات منقول ہے : وہ قوم ہلاکت شکار ہو جائے گی ، جو اپنی امیر کسی عورت کو بنا لیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ہجنع ہے ، امام ذہبی نے اس راوی کے حالات میں یہ حدیث نقل کی ہے جو اس کی منکر روایات میں سے ایک ہے اور ایک راوی عبدالجبار بن عباس ہے ، ابونعیم کہتے ہیں : کوفہ میں اس سے زیادہ جھوٹا اور کوئی نہیں تھا ، جبکہ ابوحاتم نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12022
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3276)»