حدیث نمبر: 12035
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ قَالَ : سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ ثَابِتٍ يَوْمَ الْبَصْرَةِ يَقُولُ : أَحْلِفُ بِاللَّهِ لَيُهْزَمَنَّ الْجَمْعُ وَلَيُوَلُّنَّ الدُّبُرَ . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ النَّخَعِ : أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شِرْكٍ يَا أَبَا يَقْظَانِ أَنْ تَقُولَ مَا لَا عِلْمَ لَكَ بِهِ . قَالَ : لَأَنَا أَشَرُّ مِنْ جَمَلٍ يَجُرُّ خِطَامَهُ بَيْنَ نَجْدٍ وَتِهَامَةَ إِنْ كُنْتُ أَقُولُ مَا لَا عِلْمَ لِي بِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَمْرُو بْنُ ثَابِتٍ الْبَكْرِيُّ وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین

قیس بن عدی بیان کرتے ہیں : بصرہ کے دن میں نے عمرو بن ثابت کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : میں اللہ کے نام کا حلف اٹھا کر یہ بات کہتا ہوں کہ دشمن کا لشکر پسپا ہو جائے گا اور وہ پیٹھ پھیر کر چلے جائیں گے ، تو نخع قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا: اے ابویقظان ! میں تمہارے شر سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں ، اس بات کے حوالے سے کہ تم وہ بات کہو ، جس کے بارے میں تمہیں علم نہ ہو ، تو عمرو بن ثابت نے کہا: میں ایسی صورت میں اُس اونٹ سے زیادہ برا ہوؤں گا ، جس کی لگام نجد اور تہامہ کے درمیان کھینچی جاتی ہے ، اگر میں وہ بات کہوں ، جس کے بارے میں مجھے علم نہ ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمرو بن ثابت بکری ہے اور وہ متروک ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12035
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً