کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اس چیز کا بیان ، جو لوگوں کے درمیان ’’ یوم صفین “ کے موقع پر ہوئی
حدیث نمبر: 12041
عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ قَالَ : لَمَّا خَرَجَ عَلِيٌّ إِلَى صِفِّينَ اسْتَخْلَفَ أَبَا مَسْعُودٍ عَلَى الْكُوفَةِ ، وَكَانَ رِجَالٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ اسْتَخْفُوا [ عَلِيًّا ]. فَلَمَّا خَرَجَ ظَهَرُوا ، فَكَانَ نَاسٌ يَأْتُونَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فَيَقُولُونَ : قَدْ وَاللَّهِ أَهْلَكَ اللَّهُ أَعْدَاءَهُ وَأَظْفَرَ الْمُؤْمِنِينَ . فَيَقُولُ ابْنُ مَسْعُودٍ : إِنِّي وَاللَّهِ مَا أَعُدُّهُ ظَفَرًا وَلَا عَافِيَةً أَنْ تَظْهَرَ إِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ عَلَى الْأُخْرَى . قَالُوا : فَمَهْ ؟ قَالَ : يَكُونُ بَيْنَ الْقَوْمِ صُلْحٌ . فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ ، ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : اعْتَزِلْ عَمَلَنَا . قَالَ : وَذَاكَ مَهْ ؟ قَالَ : إِنَّا وَجَدْنَاكَ لَا تَعْقِلُ عَقْلَةً . قَالَ : أَمَّا أَنَا فَقَدَ بَقِيَ مِنْ عَقْلِي مَا أَعْلَمُ ، أَمَّا الْآخَرُ شَرٌّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عامر شعبی بیان کرتے ہیں : جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ صفین کی طرف جانے کے لئے نکلے ، تو انہوں نے کوفہ میں سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کو اپنا نائب مقرر کیا ، کوفہ سے تعلق رکھنے والے کچھ لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے چھپے ہوئے تھے ، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ تشریف لے گئے ، تو وہ لوگ ظاہر ہوئے ، وہ لوگ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر یہ کہنے لگے : اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ نے ان کے دشمنوں کو ہلاک کر دیا اور مومنین کو کامیاب کر دیا ، تو سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں اسے کامیابی شمار نہیں کرتا ہوں ، اس میں عافیت نہیں ہے کہ ان دونوں گروہوں میں سے کوئی ایک غالب آ جائے ، لوگوں نے کہا: پھر کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : لوگوں کے درمیان صلح ہونی چاہیے ، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ واپس تشریف لائے تو لوگوں نے ان کے سامنے یہ بات ذکر کی ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم ہمارے منصب سے الگ ہو جاؤ ! انہوں نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے تمہیں پایا ہے کہ تم میں عقل نہیں ہے ، تو انہوں نے فرمایا : جہاں تک میرا تعلق ہے ، تو میرے پاس جو عقل باقی ہے اور مجھے جس چیز کا علم ہے ، اس کے مطابق دوسری صورت حال بری ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مجالد بن سعید ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12042
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي قِتَالِ النَّاكِثِينَ ، وَالْقَاسِطِينَ ، وَالْمَارِقِينَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا کہ میں ” ناکثین “ ( عہد شکنوں ) قاسطین ( انصاف کا نعرہ لگانے والوں ) اور ” مارقین “ ( دین سے نکل جانے والوں ) کے ساتھ جنگ کروں گا ۔
حدیث نمبر: 12043
وَفِي رِوَايَةٍ : أُمِرْتُ بِقِتَالِ النَّاكِثِينَ . فَذَكَرَهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الرَّبِيعِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” مجھے ” ناکثین “ ( عہد شکنوں ) کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ربیع بن سعید کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، امام بزار کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ربیع بن سعید کا معاملہ مختلف ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 12044
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : أُمِرَ عَلِيٌّ بِقِتَالِ النَّاكِثِينَ ، وَالْقَاسِطِينَ ، وَالْمَارِقِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُسْلِمُ بْنُ كَيْسَانَ الْمُلَائِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ” ناکثین “ ( عہد شکنوں ) ” قاسطین “ ( انصاف کا نعرہ لگانے والوں ) اور ” مارقین “ ( دین سے نکل جانے والوں ) کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن کیسان ملائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مسلم بن کیسان ملائی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12045
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ عُقَيْصَاءَ قَالَ : سَمِعْتُ عَمَّارًا ، وَنَحْنُ نُرِيدُ صِفِّينَ يَقُولُ : أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِقِتَالِ النَّاكِثِينَ ، وَالْقَاسِطِينَ ، وَالْمَارِقِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو سَعِيدٍ مَتْرُوكٌ . ¤ وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ . ¤
محمد محی الدین
ابوسعید عقیصاء بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا : اُس وقت ہم صفین کی طرف جا رہے تھے ، انہوں نے یہ فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ” ناکثین “ ( عہد شکنوں ) ” قاسطین “ ( انصاف کا نعرہ لگانے والوں ) اور ” مارقین “ ( دین سے نکل جانے والوں ) کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابوسعید نامی راوی متروک ہے ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور ابوسعید نامی راوی متروک ہے ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے ضعیف سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 12046
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : قَالَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - : انْفِرُوا إِلَى بَقِيَّةِ الْأَحْزَابِ ، انْفِرُوا بِنَا إِلَى مَا قَالَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، إِنَّا نَقُولُ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، وَيَقُولُونَ : كَذَبَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا يُونُسُ بْنُ أَرْقَمَ وَهُوَ لَيِّنٌ ، وَفِي الْآخَرِ السَّيِّدُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ الْأَزْدِيُّ : لَيْسَ بِذَاكَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : باقی رہ جانے والے لشکروں کی طرف چل پڑو ! ہمارے ساتھ اس چیز کی طرف چلو ، جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمائی ہے ، ہم یہ کہتے ہیں : اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا: ہے اور وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول نے غلط کہا: ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی یونس بن ارقم ہے اور وہ کمزور ہے جبکہ دوسری سند میں ایک راوی سید بن عیسیٰ ہے ، ازدی کہتے ہیں : وہ اتنے پائے کا نہیں ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک سند میں ایک راوی یونس بن ارقم ہے اور وہ کمزور ہے جبکہ دوسری سند میں ایک راوی سید بن عیسیٰ ہے ، ازدی کہتے ہیں : وہ اتنے پائے کا نہیں ہے ، ان دونوں روایات کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12047
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ : أَتَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ذَاتَ يَوْمٍ ، وَكَانَتِ امْرَأَةً تَلْطُفُ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " كَيْفَ أَنْتِ يَا أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ ؟ " . قَالَتْ : بِخَيْرٍ ، بِأَبِي أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأُمِّي ، فَكَيْفَ أَنْتَ ؟ قَالَ : " بِخَيْرٍ " . قَالَتْ : عَبْدُ اللَّهِ رَجُلٌ قَدْ تَخَلَّى مِنَ الدُّنْيَا . قَالَ : " وَكَيْفَ ؟ " . قَالَتْ : حَرَّمَ النَّوْمَ فَلَا يَنَامُ ، وَلَا يُفْطِرُ ، وَلَا يَطْعَمُ اللَّحْمَ ، وَلَا يُؤَدِّي إِلَى أَهْلِهِ حَقَّهُمْ . قَالَ : " فَأَيْنَ هُوَ ؟ " . قَالَتْ : خَرَجَ وَيُوشِكُ . قَالَ : " فَإِذَا رَجَعَ فَاحْبِسِيهِ " . قَالَتْ : فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَجَاءَ عَبْدُ اللَّهِ ، فَأَوْشَكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الرَّجْعَةَ وَقَالَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، مَا هَذَا الَّذِي بَلَغَنِي عَنْكَ ؟ " . قَالَ : وَمَا ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " بَلَغَنِي أَنَّكَ لَا تَنَامُ وَلَا تُفْطِرُ " . قَالَ : أَرَدْتُ بِذَلِكَ الْأَمْنَ مِنْ يَوْمِ الْفَزَعِ الْأَكْبَرِ . " وَبَلَغَنِي أَنَّكَ لَا تَطْعَمُ اللَّحْمَ " . قَالَ : أَرَدْتُ بِذَلِكَ طَعَامًا خَيْرًا مِنْهُ فِي الْجَنَّةِ . قَالَ : " وَبَلَغَنِي أَنَّكَ لَا تُؤَدِّي إِلَى أَهْلِكَ حَقَّهُمْ " . قَالَ : أَرَدْتُ بِذَلِكَ نِسَاءً هُنَّ خَيْرٌ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ . قَالَ : " يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، إِنَّ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةً حَسَنَةً ، فَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَصُومُ وَيُفْطِرُ ، وَيَنَامُ وَيَقُومُ ، وَيَأْكُلُ اللَّحْمَ ، وَيُؤَدِّي إِلَى أَهْلِهِ حَقَّهُمْ . يَا عَبْدَ اللَّهِ ، إِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لِبَدَنِكَ عَلَيْكَ حَقًّا ، وَإِنَّ لَأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، تَأْمُرُنِي أَنْ أَصُومَ خَمْسَةَ أَيَّامٍ وَأُفْطِرَ يَوْمًا ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : فَأَصُومَ أَرْبَعَةَ أَيَّامٍ وَأُفْطِرَ يَوْمًا ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : فَأَصُومَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ وَأُفْطِرَ يَوْمًا ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : فَأَصُومَ يَوْمَيْنِ وَأُفْطِرَ يَوْمًا ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : أَفَأَصُومُ يَوْمًا وَأُفْطِرُ يَوْمًا ؟ قَالَ : " ذَلِكَ صَوْمُ أَخِي دَاوُدَ ، يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، وَكَيْفَ بِكَ إِذَا بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ قَدْ مَرَجَتْ عُهُودُهُمْ وَمَوَاثِيقُهُمْ وَكَانُوا هَكَذَا " ، وَخَالَفَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ . قَالَ : فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ قَالَ : " تَأْخُذُ بِمَا تَعْرِفُ ، وَتَدَعُ مَا تُنْكِرُ ، وَتَعْمَلُ لِخَاصَّةِ نَفْسِكَ ، وَتَدَعُ النَّاسَ وَعَوَامَّ أُمُورِهِمْ " . ثُمَّ أَخَذَ بِيَدِهِ ، وَأَقْبَلَ يَمْشِي بِهِ حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ فِي يَدِ أَبِيهِ ، قَالَ : " أَطِعْ أَبَاكَ " . فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ قَالَ لَهُ أَبُوهُ : يَا عَبْدَ اللَّهِ ، اخْرُجْ فَقَاتِلْ . فَقَالَ : يَا أَبَتَاهُ ، تَأْمُرُنِي أَنْ أَخْرُجَ فَأُقَاتِلَ ، وَقَدْ سَمِعْتَ مَا سَمِعْتَ يَوْمَ يَعْهَدُ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا يَعْهَدُ ؟ قَالَ : أَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، أَلَمْ يَكُنْ آخِرُ مَا عَهِدَ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَخَذَ بِيَدِكَ فَوَضَعَهَا فِي يَدِي ثُمَّ قَالَ : " أَطِعْ أَبَاكَ ؟ " . قَالَ : بَلَى . قَالَ : فَإِنِّي أَعْزِمُ أَنْ تَخْرُجَ فَتُقَاتِلَ . فَخَرَجَ مُتَقَلِّدًا بِسَيْفٍ ، فَلَمَّا انْكَشَفَتِ الْحَرْبُ أَنْشَأَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ يَقُولُ : ¤ شَبَّتِ الْحَرْبُ فَأَعْدَدْتُ لَهَا مُقَرَّعَ الْحَارِكِ مَرْوِيَّ الثَبَجْ يَصِلُ الشَّدَّ بِشَدٍّ وَإِذَا ¤ وَثَبَ الْحَبْلُ مِنَ الشَّدِّ مَعَجْ جَرْشَعَ أَعْظُمُهُ جِفْرَتُهُ ¤ فَإِذَا ابْتَلَّ مِنَ الْمَاءِ حَدَجْ . ¤ وَأَنْشَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو يَقُولُ : ¤ وَلَوْ شَهِدَتْ جَمَلٌ مَقَامِي وَمَشْهَدِي بِصِفِّينَ يَوْمًا شَابَ مِنْهَا الذَّوَائِبُ ¤ عَشِيَّةَ جَا أَهْلُ الْعِرَاقِ كَأَنَّهُمْ سَحَابُ رَبِيعٍ رَفَعَتْهُ الْجَنَائِبُ ¤ وَجِئْنَاهُمْ نُرْدَى كَأَنَّ صُفُوفَنَا مِنَ الْبَحْرِ مَوْجٌ مَدُّهُ مُتَرَاكِبُ ¤ إِذَا قُلْتُ : قَدْ وَلَّوْا سِرَاعًا بَدَتْ لَنَا كَتَائِبُ مِنْهُمْ وَارْجَحَنَّتْ كَتَائِبُ ¤ فَدَارَتْ رَحَانَا وَاسْتَدَارَتْ رَحَاهُمْ سَرَاةَ النَّهَارِ مَا تَوَلَّى الْمَنَاكِبُ ¤ فَقَالُوا لَنَا إِنَّا نَرَى أَنْ تُبَايِعُوا عَلِيًّا فَقُلْنَا لَا نَرَى أَنْ تُضَارِبُوا ¤ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ بَعْضُ أَوَّلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ رِوَايَةِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ قُدَامَةَ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ ، وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی والدہ کے پاس تشریف لائے ، وہ ایک ایسی خاتون تھیں ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بڑی مہربانی سے پیش آتی تھیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے ام عبداللہ ! تمہارا کیا حال ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں بہتر ہوں ، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ کا کیا حال ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ٹھیک ہوں ، انہوں نے عرض کی : عبداللہ ایک ایسا شخص ہے ، جو دنیا سے لاتعلق ہو چکا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ کیسے ؟ اس خاتون نے بتایا : اس نے سونے کو حرام قرار دیدیا ہے ، وہ سوتا نہیں ہے ، نفلی روزہ ترک نہیں کرتا ، گوشت نہیں کھاتا اور اپنی بیوی کو اس کا حق نہیں دیتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ ہے کہاں ؟ اس خاتون نے بتایا : وہ باہر گیا ہوا ہے تھوڑی دیر تک آ جائے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب وہ واپس آئے تو تم اسے روک کے رکھنا ، وہ خاتون بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے ، پھر عبداللہ آیا ، تھوڑی دیر بعد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی واپس تشریف لائے ، آپ نے فرمایا : اے عبداللہ بن عمرو ! تمہارے بارے میں مجھے کیا بات پتہ چلی ہے ؟ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا بات ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے پتہ چلا ہے کہ تم سوتے نہیں ہو اور کوئی نفلی روزہ نہیں چھوڑتے ہو ، انہوں نے عرض کی : میں نے اس کے ذریعے یہ ارادہ کیا ہے کہ بڑی پریشانی کے دن میں پریشانی سے بچا رہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ تم گوشت نہیں کھاتے ہو ، انہوں نے عرض کی : میں نے اس کے ذریعے اس کھانے کا ارادہ کیا ہے ، جو اس سے زیادہ بہتر ہو گا اور جو جنت میں ملے گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ تم اپنے اہل خانہ کو ان کا حق نہیں دیتے ہو ، انہوں نے عرض کی : میں نے اس کے ذریعے ایسی خواتین کے حصول کا ارادہ کیا ہے ، جو ان سے بہتر ہوں گی اور جو جنت میں ملیں گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے عبداللہ بن عمرو ! تمہارے لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں بہترین نمونہ ہے ، اللہ کے رسول نفلی روزہ رکھتے بھی ہیں اور ترک بھی کر دیتے ہیں ( رات کے وقت ) سو بھی جاتے ہیں اور نوافل بھی پڑھتے ہیں اور وہ گوشت بھی کھاتے ہیں اور وہ اپنے اہل خانہ کو ان کا حق بھی دیتے ہیں اے عبداللہ ! بے شک اللہ تعالیٰ کا تم پر حق ہے ، تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے ۔ “ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے یہ اجازت دیجئے کہ میں پانچ دن نفلی روزے رکھا کروں اور ایک دن چھوڑ دیا کروں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : چار دن روزے رکھ لیا کروں اور ایک دن چھوڑ دیا کروں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : میں تین دن روزے رکھ لیا کروں اور ایک دن چھوڑ دیا کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : میں دو دن روزہ رکھ لیا کروں اور ایک دن چھوڑ دیا کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : پھر میں ایک دن نفلی روزہ رکھ لیا کروں اور ایک دن ترک کر دیا کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ میرے بھائی سیدنا داؤد علیہ السلام کا روزہ رکھنے کا طریقہ ہے ۔ اے عبداللہ بن عمرو ! اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا کہ جب تم ردّی ( یا برے ) لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے ، ان لوگوں کے عہد اور میثاق ختم ہو جائیں گے اور وہ یوں ہو جائیں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں مخالف سمت میں کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ، سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : پھر آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اس چیز کو اختیار کرنا ، جسے تم نیکی سمجھو اور اس چیز کو ترک کر دینا ، جسے تم منکر سمجھو ، اور تم صرف اپنی ذات کے لئے عمل کرنا ، لوگوں کو اور ان کے عمومی مسائل کو ( ان کے حال پر ) چھوڑ دینا ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ پکڑا آپ انہیں ساتھ لے کر چلتے ہوئے گئے اور ان کا ہاتھ اُن کے والد کے ہاتھ میں رکھ دیا اور فرمایا : ” تم اپنے باپ کی اطاعت کرنا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : جب جنگ صفین کا موقع آیا ، تو ان کے والد نے ان سے کہا: اے عبداللہ ! تم نکلو اور جنگ کرو ، انہوں نے عرض کی : اے ابا جان ! آپ مجھے یہ حکم دے رہے ہیں کہ میں نکل کے جنگ کروں ؟ جبکہ آپ نے اس دن وہ بات سنی تھی ، جس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تاکید کی تھی کہ جو بھی آپ نے تاکید کی تھی ، تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں : اے عبداللہ بن عمرو ! کہ کیا اللہ کے رسول نے تمہیں جو آخری تلقین کی تھی ، وہ یہ نہیں تھی ؟ کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارا ہاتھ پکڑ کر اسے میرے ہاتھ میں دیا تھا اور پھر فرمایا تھا : ” اپنے باپ کی اطاعت کرنا “ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں ، سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں یہ تاکید کرتا ہوں کہ تم نکل کر جنگ میں حصہ لو ، تو وہ تلوار گردن میں لڑکا کر نکلے ، جب جنگ شروع ہوئی تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار پڑھے : ” جنگ بھڑک اُٹھی ہے اور میں نے اس کے لیے تیاری کی ہے کہ کمر ہمت باندھ لی اور پشت کو مضبوط کر لیا ، ایک بندش کو دوسری بندش سے ملا دیا ہے ، جب بندش کی وجہ سے رسی اچھلے گی تو تیز ہو جائے گی ، بڑے اونٹ کی جسامت بھرپور ہے ، جب وہ پانی سے تر ہو گا ، تو گرم ( یعنی غصے والی ) نگاہ سے دیکھے گا ۔ “ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے یہ اشعار پڑھے : ” صفین کے مقام پر میرے کھڑے ہونے اور موجود ہونے ( کی کیفیت ) اونٹ کو کسی دن لاحق ہو ، تو اس کے بال سفید ہو جائیں وہ شام جس میں اہل عراق آئے اور وہ یوں تھے ، جیسے وہ موسم بہار کا بادل ہوں ، جنہیں جنوب نامی ہوائیں بلند کرتی ہیں ، اور ہم پچھاڑے ہوئے ہونے کے عالم میں آئے ، اور ہماری صفیں یوں تھیں ، جیسے سمندر کی موجیں مدوجزر کے عالم میں ایک دوسرے پر سوار ہوتی ہیں ، جب مجھے لگا کہ وہ لوگ تیزی سے پیٹھ پھیر جائیں گے ، تو ان کے دستے ہمارے سامنے آئے ، جو دستے جوش سے حرکت کر رہے تھے ، دن بھر ہماری چکی گھومی اور ان کی بھی چکی گھومی ، تو کندھے نہیں مڑے ، انہوں نے ہم سے کہا: ہم یہ سمجھتے ہیں تم لوگوں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کر لینی چاہیے ، تو ہم نے کہا: ہم یہ نہیں سجھتے کہ تم لوگوں کو جنگ کرنی چاہیے “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا کچھ ابتدائی حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے عبدالملک بن قدامہ جمحی کی عمرو بن شعیب سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور عبدالملک نامی راوی کو یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے عبدالملک بن قدامہ جمحی کی عمرو بن شعیب سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور عبدالملک نامی راوی کو یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے جبکہ ابوحاتم اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 12048
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ قَالَ : شَهِدْنَا مَعَ عَلِيٍّ صِفِّينَ ، وَقَدْ وَكَّلْنَا بِفَرَسِهِ رَجُلَيْنِ ، فَكَانَتْ إِذَا كَانَتْ مِنَ الرَّجُلِ غَفْلَةٌ غَمَزَ عَلِيٌّ فَرَسَهُ فَإِذَا هُوَ فِي عَسْكَرِ الْقَوْمِ فَيَرْجِعُ إِلَيْنَا وَقَدْ خَضَّبَ سَيْفَهُ دَمًا وَيَقُولُ : يَا أَصْحَابِي ، اعْذُرُونِي اعْذُرُونِي . فَكُنَّا إِذَا تَوَادَعْنَا دَخَلَ هَؤُلَاءِ فِي عَسْكَرِ هَؤُلَاءِ ، فَكَانَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ عَلَمًا لِأَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَسْلُكُ عَمَّارٌ وَادِيًا مِنْ أَوْدِيَةِ صِفِّينَ إِلَّا تَبِعَهُ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْتَهَيْنَا إِلَى هَاشِمِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، وَقَدْ رَكَزَ الرَّايَةَ ، فَقَالَ : مَا لَكَ يَا هَاشِمُ أَعَوَرًا وَجُبْنًا ؟ لَا خَيْرَ فِي أَعْوَرَ لَا يَغْشَى النَّاسَ . فَنَزَعَ هَاشِمٌ الرَّايَةَ وَهُوَ يَقُولُ : أَعْوَرُ يَبْغِي أَهْلَهُ مَحَلًّا ¤ قَدْ عَالَجَ الْحَيَاةَ حَتَّى مَلَّا ¤ لَا بُدَّ أَنْ يَفِلَّ أَوْ يُفَلَّا . ¤ فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ : أَقْبِلْ ، فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ الْأَبَارِقَةِ ، وَقَدْ تَزَيَّنَ الْحُورُ الْعِينُ مَعَ مُحَمَّدٍ وَحِزْبِهِ فِي الرَّفِيقِ الْأَعْلَى . فَمَا رَجَعَا حَتَّى قُتِلَا . وَكُنَّا إِذَا تَوَادَعْنَا دَخَلَ هَؤُلَاءِ فِي عَسْكَرِ هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ فِي عَسْكَرِ هَؤُلَاءِ ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا أَرْبَعَةٌ يَسِيرُونَ : مُعَاوِيَةُ ، وَأَبُو الْأَعْوَرِ السُّلَمِيُّ ، وَعَمْرُو بْنُ الْعَاصِ وَابْنُهُ ، فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : إِنْ أَخَذْتُ عَنْ يَمِينِي اثْنَيْنِ لَمْ أَسْمَعْ كَلَامَهُمْ ، فَاخْتَرْتُ لِنَفْسِي أَنْ أَضْرِبَ فَرَسِي فَأُفَرِّقَ بَيْنَهُمْ ، فَفَعَلْتُ ، فَجَعَلْتُ اثْنَيْنِ عَنْ يَمِينِي وَاثْنَيْنِ عَنْ يَسَارِي ، فَجَعَلْتُ أُصْغِي بِسَمْعِي أَحْيَانًا إِلَى مُعَاوِيَةَ وَإِلَى أَبِي الْأَعْوَرِ ، وَأَحْيَانًا إِلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، وَإِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، فَسَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ لِأَبِيهِ : يَا أَبَتِ ، قَدْ قَتَلْنَا هَذَا الرَّجُلَ ، وَقَدْ قَالَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَا قَالَ . قَالَ : وَأَيُّ رَجُلٍ ؟ قَالَ : عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ يَوْمَ بِنَاءِ الْمَسْجِدِ ، وَنَحْنُ نَنْقُلُ لَبِنَةً لَبِنَةً ، وَعَمَّارٌ يَحْمِلُ لَبِنَتَيْنِ لَبِنَتَيْنِ ، وَأَنْتَ تَرْحَضُ : " أَمَا إِنَّهُ سَتَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ، وَأَنْتَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ " . فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : اسْكُتْ ، فَوَاللَّهِ مَا تَزَالُ تَدْحَضُ فِي بَوْلِكَ ، أَنَحْنُ قَتَلْنَاهُ ، إِنَّمَا قَتَلَهُ مَنْ جَاءُوا بِهِ فَأَلْقَوْهُ بَيْنَ رِمَاحِنَا . قَالَ : فَتَنَادَوْا فِي عَسْكَرِ مُعَاوِيَةَ : إِنَّمَا قَتَلَ عَمَّارًا مَنْ جَاءَ بِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِ الطَّبَرَانِيِّ ، وَالْبَزَّارُ بِقَوْلِهِ : " تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو وَحْدَهُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ، وَأَبِي يَعْلَى ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں : ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ جنگ صفین میں شریک ہوئے ، ہم نے دو آدمیوں کو ان کے گھوڑے کا نگران مقرر کیا ، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان افراد کی طرف سے تھوڑی سی غفلت نظر آئی ، تو وہ اپنے گھوڑے پر سوار ہوئے اور دشمن کے لشکر میں چلے گئے ، جب وہ واپس آئے تو ان کی تلوار پر خون لگا ہوا تھا ، انہوں نے کہا: اے میرے ساتھیو ! مجھے معذور سمجھو ، مجھے معذور سمجھو ، کیونکہ ہم نے جب طے کیا تو ادھر کے کچھ لوگ اس لشکر میں داخل ہو گئے ، تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے لئے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نشان کی حیثیت رکھتے ہیں ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ صفین کی جس بھی وادی میں چلیں گے ، تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ان کے پیچھے جائیں گے ، راوی کہتے ہیں : ہم لوگ ہاشم بن عتبہ بن ابووقاص کے پاس آئے ، جس نے جھنڈا لہرایا ہوا تھا ، انہوں نے کہا: اے ہاشم ! تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ کیا تم کانے یا بزدل ہو ؟ ایسے کانے شخص میں کوئی بھلائی نہیں ہے ، جو لوگوں پر حملہ نہ کر سکے ، تو ہاشم نے جھنڈا الگ کیا اور یہ اشعار پڑھے : ” کانا شخص اپنی بیوی کے لیے راستہ تلاش کرتا ہے ، وہ یوں زندگی گزارتا ہے کہ اکتاہٹ کا شکار ہو جاتا ہے ، تو یہ ضروری ہے کہ وہ حدت کو ختم کرے یا اس کو ختم کر دیا جائے ۔ “ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا: تم آگے آؤ ! کیونکہ جنت تلواروں کے سائے کے نیچے ہے ، اور حورعین آراستہ ہو چکی ہیں جو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ رفیق اعلیٰ میں ہیں ، راوی کہتے ہیں : پھر ہمارے واپس آنے سے پہلے وہ دونوں شہید ہو گئے ، جب ہم ایک دوسرے کے مدمقابل آئے اور لشکر ایک دوسرے کے ساتھ ملے ، تو میں نے دیکھا ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ چلتے ہوئے جا رہے ہیں ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا اعور سلمی رضی اللہ عنہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور ان کے صاحبزادے ( سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ) میں نے دل میں سوچا کہ اگر میں دائیں طرف ہو کے جاتا ہوں ، تو میں ان لوگوں کا کلام نہیں سن سکوں گا ، تو میں نے یہ کیا کہ میں نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی ، اور ان کے درمیان آ گیا ، تو دو افراد میرے دائیں طرف ہو گئے اور دو افراد میرے بائیں طرف ہو گئے ، میں نے توجہ سے سننے کی کوشش کی کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابواعور رضی اللہ عنہ کیا بات کر رہے ہیں ؟ اور یہ بھی توجہ سے سننے کی کوشش کی کہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور ان کے صاحبزادے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کیا بات کر رہے ہیں ؟ تو میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کو اپنے والد سے یہ کہتے ہوئے سنا : اے ابا جان ! ہم نے ان صاحب ( یعنی سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ) کو شہید کر دیا ہے ، جبکہ ان کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مخصوص بات ارشاد فرمائی تھی ، انہوں نے دریافت کیا : کون سے صاحب ؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ، کیا آپ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ جب آپ مسجد تعمیر کروا رہے تھے اور ہم ایک ایک اینٹ اُٹھا کے لا رہے تھے اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں اُٹھا کے لا رہے تھے اور آپ کی یہ حالت تھی کہ آپ گومگو کا شکار تھے ( یعنی اس وقت آپ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا ) ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے ) ارشاد فرمایا تھا : ” عنقریب ایک باغی گروہ تمہیں قتل کر دے گا اور تم اہل جنت میں سے ہو گے ۔ “ راوی کہتے ہیں : میں نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ ہم نے ان صاحب کو قتل کر دیا ہے جبکہ ان کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ، جو فرمائی ہے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : کون سے صاحب ؟ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے فرمایا : سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد نبوی تعمیر کروا رہے تھے اور ہم ایک ایک اینٹ منتقل کر رہے تھے اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ دو دو اینٹیں منتقل کر رہے تھے ، اس دن وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابویقظان ! کیا تم دو دو اینٹیں اٹھا رہے ہو ، عنقریب ایک باغی گروہ تمہیں قتل کر دے گا اور تم اہل جنت میں سے ہو گے ۔ “ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ خاموش ہو جائیں ! اللہ کی قسم ! آپ الٹی بات کر رہے ہیں ، کیا ہم نے انہیں قتل کیا ہے ؟ انہیں تو اُن لوگوں نے قتل کروایا ہے ، جو انہیں لے کے آئے تھے اور انہیں ہمارے دو نیزوں کے درمیان ڈال دیا ، راوی کہتے ہیں : تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے لشکر کے درمیان یہ بات پھیل گئی کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو اس شخص نے قتل کروایا ہے ، جو انہیں لے کر ( میدان جنگ میں ) آیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اسے امام طبرانی کی مانند نقل کیا ہے ، اور امام بزار نے روایت کے یہ الفاظ : ” عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا ۔ “ یہ الفاظ صرف سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کئے ہیں ، امام أحمد اور ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ نے اسے امام طبرانی کی مانند نقل کیا ہے ، اور امام بزار نے روایت کے یہ الفاظ : ” عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا ۔ “ یہ الفاظ صرف سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نقل کئے ہیں ، امام أحمد اور ابویعلیٰ کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12049
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ قَالَ : لَمَّا قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ دَخَلَ عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ عَلَى عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ : قُتِلَ عَمَّارٌ ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ [ فَزِعًا ] يُرَجِّعُ حَتَّى دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : [ مَا شَأْنُكَ ؟ قَالَ : قُتِلَ عَمَّارٌ ] . فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : قَدْ قُتِلَ عَمَّارٌ ، فَمَاذَا ؟ قَالَ عَمْرٌو : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ : دَحَضْتَ فِي بَوْلِكَ ، أَنَحْنُ قَتَلْنَاهُ ، إِنَّمَا قَتَلَهُ عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ ، جَاءُوا بِهِ حَتَّى أَلْقَوْهُ بَيْنَ رِمَاحِنَا ، أَوْ قَالَ : بَيْنَ سُيُوفِنَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحْمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عمرو بن حزم بیان کرتے ہیں : جب سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ، تو سیدنا عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور بولے : سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے ، جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا ہے : ” ایک باغی گروہ اسے قتل کرے گا ۔ “ تو سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ پریشانی کے عالم میں کھڑے ہوئے اور وہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ؟ انہوں نے بتایا کہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے ، سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے ، تو کیا ہوا ؟ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک باغی گروہ اسے قتل کرے گا ۔ “ تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ غلط بات کر رہے ہیں ، کیا ہم نے انہیں قتل کیا ہے ؟ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے انہیں قتل کروایا ہے ، جو انہیں ( میدان جنگ میں ) لے کر آئے تھے ، یہاں تک کہ ان لوگوں نے اُن صاحب کو ہمارے نیزوں کے درمیان ڈال دیا ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں : ) ہماری تلواروں کے درمیان ڈال دیا ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمرو کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد امام ابویعلیٰ اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عمرو کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
حدیث نمبر: 12050
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ بْنِ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ : مَا زَالَ جَدِّي كَافًّا سِلَاحَهُ حَتَّى قُتِلَ عَمَّارٌ بِصِفِّينَ ، فَسَلَّ سَيْفَهُ ، فَقَاتَلَ حَتَّى قُتِلَ . قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ وَهُوَ لَيِّنٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن عمارہ بن خزیمہ بن ثابت بیان کرتے ہیں : میرے والد مسلسل اپنے ہتھیاروں کو روک کے رکھتے رہے ( یعنی انہوں نے لڑائی میں حصہ نہیں لیا ) یہاں تک کہ جب صفین کے مقام پر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ، تو میرے والد نے اپنی تلوار نکال لی اور جنگ میں حصہ لیا ، یہاں تک کہ شہید ہو گئے ، انہوں نے یہ بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک باغی گروہ اسے قتل کرے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر ہے اور وہ کمزور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر ہے اور وہ کمزور ہے ۔
حدیث نمبر: 12051
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ أَنَّهُ أَهْدَى إِلَى أُنَاسٍ هَدَايَا ، فَفَضَّلَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ ، فَقِيلَ لَهُ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ أَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارِ الْهَدِيَّةِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : انہوں نے لوگوں کو کچھ تحائف دیے اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو کچھ اضافی ادائیگی کی ، اُن سے اس بارے میں دریافت کیا گیا ، تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک باغی گروہ اسے قتل کرے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں صرف تحفہ دینے کا ذکر ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں صرف تحفہ دینے کا ذکر ہے ۔
حدیث نمبر: 12052
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ : كَانَ عَمَّارٌ قَدْ وَلِعَ بِقُرَيْشٍ وَوَلِعَتْ بِهِ ، فَغَدَوْا عَلَيْهِ فَضَرَبُوهُ ، فَخَرَجَ عُثْمَانُ بِعَصًا ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، مَا لِي وَلِقُرَيْشٍ ، فَعَلَ اللَّهُ بِقُرَيْشٍ وَفَعَلَ ، فَغَدَوْا عَلَى رَجُلٍ فَضَرَبُوهُ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لِعَمَّارٍ : " تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ بِاخْتِصَارِ الْقِصَّةِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ بُدَيْلٍ الرَّمْلِيُّ ، وَثَّقَهُ النَّسَائِيُّ ، وَغَيْرُهُ ، وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
زید بن وہب بیان کرتے ہیں : سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کا قریش کے کچھ لوگوں سے جھگڑا ہو گیا ، وہ لوگ ان کے پاس آئے اور ان کی پٹائی کی ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نکلے ان کے پاس عصا تھا ، وہ منبر پر چڑھے ، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی اور پھر ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! میرا قریش کے ساتھ کیا واسطہ ؟ اللہ تعالیٰ قریش کے ساتھ یہ یہ کرے اور وہ کرے ۔ “ یہ لوگ ایک شخص کے پاس گئے اور اُس کی پٹائی کی ، جس کے بارے میں ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : آپ نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے فرمایا : ” ایک باغی گروہ تمہیں قتل کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں واقعہ کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن بدیل رملی ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں واقعہ کے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن بدیل رملی ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 12053
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَبْنِي الْمَسْجِدَ ، وَكَانَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ يَحْمِلُ صَخْرَتَيْنِ ، فَقَالَ : " وَيْحَ ابْنَ سُمَيَّةَ ، تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُ أَبِي يَعْلَى مُنْقَطِعٌ ، وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ الْعَلَّافُ الرَّازِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد تعمیر کروا رہے تھے ، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ دو اینٹیں اٹھا کے لا رہے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ابن سمیہ کا ستیاناس ہو ! ایک باغی گروہ اسے قتل کر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کی سند منقطع ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی أحمد بن عمر علاف رازی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور امام ابویعلیٰ نے ایک طویل حدیث کے ضمن میں نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کی سند منقطع ہے ، امام طبرانی کی سند میں ایک راوی أحمد بن عمر علاف رازی ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 12054
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : لَمْ أَجِدْنِي آسَى عَلَى شَيْءٍ إِلَّا أَنِّي لَمْ أُقَاتِلِ الْفِئَةَ الْبَاغِيَةَ مَعَ عَلِيٍّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِأَسَانِيدَ ، وَأَحَدُهَا رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : مجھے کسی بھی چیز پر اتنا افسوس محسوس نہیں ہوتا ، جتنا اس بات پر افسوس ہوتا ہے کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ مل کر باغی گروہ کے ساتھ جنگ کیوں نہیں کی ؟
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک ( سند ) کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، جن میں سے ایک ( سند ) کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 12055
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : ضَرَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي خَاصِرَتِي ، فَقَالَ : " خَاصِرَةٌ مُؤْمِنَةٌ ، تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ ، آخِرُ زَادِكَ ضَيَاحٌ مِنْ لَبَنٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَأَسَانِيدُهُ كُلُّهَا فِيهَا ضَعْفٌ . قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا كَثِيرَةٌ فِي مَنَاقِبِ عَمَّارٍ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کے ذریعے میرے پہلو پر ہاتھ مارا اور فرمایا : ” یہ ایک مومن پہلو ہے ، تمہیں ایک باغی گروہ قتل کرے گا اور تمہاری آخری خوراک پانی ملا ہوا ، دودھ ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، ان سب کی اسانید میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی بہت سی احادیث سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، ان سب کی اسانید میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی بہت سی احادیث سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے مناقب سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 12056
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ : رَأَيْتُ عَمَّارًا يَوْمَ صِفِّينَ شَيْخًا كَبِيرًا آدَمَ طِوَالًا ، أَخَذَ الْحَرْبَةَ بِيَدِهِ وَيَدُهُ تُرْعِدُ ، فَقَالَ : وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَقَدْ قَاتَلْتُ بِهَذِهِ الرَّايَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ، وَهَذِهِ الرَّابِعَةُ ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، لَوْ ضَرَبُونَا حَتَّى بَلَغُوا بِنَا شَعَفَاتِ هَجَرَ ، لَعَرَفْتُ أَنَّ مُصْلِحِينَا عَلَى الْحَقِّ وَأَنَّهُمْ عَلَى الضَّلَالَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ وَهُوَ ثِقَةٌ ، إِلَّا أَنَّ الطَّبَرَانِيَّ قَالَ : لَقَدْ قَاتَلْتُ صَاحِبَ هَذِهِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَهَذِهِ الرَّابِعَةُ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں : جنگ صفین کے دن میں نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو دیکھا ، وہ ایک بوڑھے عمر رسیده ، گندمی رنگت کے مالک ، طویل القامت شخص تھے ، انہوں نے اپنے ہاتھ میں نیزہ پکڑا ہوا تھا اور ان کا ہاتھ کانپ رہا تھا ، انہوں نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، میں نے اس جھنڈے کے ہمراہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین جنگوں میں حصہ لیا ہے اور یہ چوتھی جنگ ہے ، اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، اگر وہ لوگ ہم پر حملہ کرتے ہوئے ہمیں لے کر ” ھجر“ کے بالائی حصے تک پہنچ جائیں ، تو بھی میں یہ بات جانتا ہوں کہ ہم لوگ حق پر ہیں اور وہ لوگ گمراہی پر ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن سلمہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، البتہ امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین جنگوں میں حصہ لیا ہے اور یہ چوتھی ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبداللہ بن سلمہ کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ، البتہ امام طبرانی نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : ” میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تین جنگوں میں حصہ لیا ہے اور یہ چوتھی ہے ۔ “
حدیث نمبر: 12057
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ : قِيلَ لِعَمَّارٍ : قَدْ هَاجَرَ أَبُو مُوسَى ، وَاللَّهِ لَيُخْذَلَنَّ جُنْدُهُ ، وَلَيَفِرَّنَّ جَهْدُهُ ، وَلَيُنْقَضَنَّ عَهْدُهُ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى قَوْمًا لَيَضْرِبُنَّكُمْ ضَرْبًا يَرْتَابُ لَهُ الْمُبْطِلُونَ ، وَاللَّهِ لَوْ قَاتَلُوا حَتَّى بَلَغُوا بِنَا شَعَفَاتِ هَجَرَ لَعَلِمْتُ أَنَّ صَاحِبَنَا عَلَى الْحَقِّ وَهُمْ عَلَى الْبَاطِلِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن سلمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے کہا: گیا : سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے لاتعلقی اختیار کی ہے ، تو انہوں نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اس کا لشکر ضرور رسوائی کا شکار ہو گا ، اس نے کوشش سے فرار اختیار کیا ہے اور اپنے عہد کو توڑ دیا ہے ، اللہ کی قسم ! میں دشمن کے بارے میں یہ رائے رکھتا ہوں کہ اگر وہ تمہیں ایسی ضرب لگائیں جو باطل لوگوں کو شک کا شکار کر دے اور وہ ہمارے ساتھ جنگ کرتے ہوئے ہمیں ” ھجر “ کے بالائی حصے تک لے جائیں ، تو ہمیں یہ بات پتہ ہو گی کہ ہمارے ساتھی حق پر ہیں اور وہ لوگ باطل پر ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12058
وَعَنْ سَيَّارٍ أَبِي الْحَكَمِ قَالَ : قَالَتْ بَنُو عَبْسٍ لِحُذَيْفَةَ : إِنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ قَدْ قُتِلَ ، فَمَا تَأْمُرُنَا ؟ قَالَ : آمُرُكُمْ أَنْ تَلْزَمُوا عَمَّارًا . قَالُوا : إِنَّ عَمَّارًا لَا يُفَارِقُ عَلِيًّا . قَالَ : إِنَّ الْحَسَدَ هُوَ أَهْلَكَ الْجَسَدَ ، وَإِنَّمَا يُنَفِّرُكُمْ مِنْ عَمَّارٍ قُرْبُهُ مِنْ عَلِيٍّ ، فَوَاللَّهِ لَعَلِيٌّ أَفْضَلُ مِنْ عَمَّارٍ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ التُّرَابِ وَالسَّحَابِ ، وَإِنَّ عَمَّارًا لَمِنَ الْأَخْيَارِ ، وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُمْ إِنْ لَزِمُوا عَمَّارًا كَانُوا مَعَ عَلِيٍّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، إِلَّا أَنِّي لَمْ أَعْرِفِ الرَّجُلَ الْمُبْهَمَ . ¤
محمد محی الدین
سیار ابوحکم بیان کرتے ہیں : بنو عبس نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے کہا: امیرالمؤمنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے ہیں ، تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میں تمہیں یہ ہدایت کرتا ہوں کہ تم لوگ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہو ، لوگوں نے بتایا : سیدنا عمار رضی اللہ عنہ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے الگ نہیں ہوتے ہیں ، سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : حسد ، جسم کو ہلاک کر دیتا ہے ، تم لوگ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے اس لئے متنفر ہو رہے ہو کہ وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قریب ہیں ، اللہ کی قسم ! سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے اس سے زیادہ فضیلت رکھتے ہیں ، جتنا مٹی ( یعنی زمین ) اور بادل کے درمیان فاصلہ ہے ، اور سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نیک لوگوں میں سے ایک ہیں ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ یہ بات جانتے تھے کہ اگر وہ لوگ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے ساتھ جا کے ملیں گے ، تو وہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ میں مبہم شخص سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، البتہ میں مبہم شخص سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 12059
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا اخْتَلَفَ النَّاسُ فَابْنُ سُمَيَّةَ مَعَ الْحَقِّ " . ابْنُ سُمَيَّةَ هُوَ عَمَّارٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ضِرَارُ بْنُ صُرَدَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب لوگوں کے درمیان اختلاف ہو گا ، تو سمیہ کا بیٹا حق کے ساتھ ہو گا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : سمیہ کے بیٹے سے مراد ، سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ضرار بن صرد ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 12060
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَوْلَعْتُهُمْ بِعَمَّارٍ ، يَدْعُوهُمْ إِلَى الْجَنَّةِ وَهُمْ يَدْعُونَهُ إِلَى النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ النُّورِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں انہیں عمار کے حوالے سے تلقین کرتا ہوں ، وہ ان لوگوں کو جنت کی طرف بلائے گا ، اور وہ لوگ اُسے جہنم کی طرف بلائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالنور بن عبداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبدالنور بن عبداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ، ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 12061
وَعَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ قَالَ : قَالَ عَمَّارٌ يَوْمَ صِفِّينَ : ائْتُونِي بِشَرْبَةِ لَبَنٍ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " آخِرُ شَرْبَةٍ تَشْرَبُهَا مِنَ الدُّنْيَا شَرْبَةُ لَبَنٍ " . فَأُتِيَ بِشَرْبَةِ لَبَنٍ فَشَرِبَهَا ، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقُتِلَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَبَيَّنَ أَنَّ الَّذِي سَقَاهُ أَبُو الْمُخَارِقِ ، وَزَادَ فِيهِ : ثُمَّ نَظَرَ إِلَى لِوَاءِ مُعَاوِيَةَ ، فَقَالَ : قَاتَلْتُ صَاحِبَ هَذِهِ الرَّايَةِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهُ مُنْقَطِعٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوبختری بیان کرتے ہیں : جنگ صفین کے دن سیدنا عمار رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے پاس دودھ لے کر آؤ ! کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : ” دنیا میں ، جو تم آخری چیز پیو گے ، وہ دودھ ہو گا ۔ “ ان کے پاس دودھ لایا گیا ، انہوں نے پیا پھر وہ آگے بڑھے اور پھر شہید ہو گئے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : انہیں ابومخارق نے دودھ پینے کے لئے دیا تھا اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : پھر انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے جھنڈے کی طرف دیکھا اور بولے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر اس جھنڈے والے شخص کے خلاف جنگ کی تھی ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ یہ روایت منقطع ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : انہیں ابومخارق نے دودھ پینے کے لئے دیا تھا اور اس میں یہ الفاظ زائد نقل کئے ہیں : پھر انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے جھنڈے کی طرف دیکھا اور بولے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر اس جھنڈے والے شخص کے خلاف جنگ کی تھی ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، البتہ یہ روایت منقطع ہے ۔
حدیث نمبر: 12062
وَعَنْ كُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ : كُنَّا بِوَاسِطِ الْقَصَبِ عِنْدَ عَبْدِ الْأَعْلَى [ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ] بْنِ عَامِرٍ ، فَإِذَا عِنْدَهُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أَبُو الْغَادِيَةِ اسْتَسْقَى ، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ مُفَضَّضٍ فَأَبَى أَنْ يَشْرَبَ ، وَذَكَرَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ فَذَكَرَ [ هَذَا ] الْحَدِيثَ : " لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا أَوْ ضُلَّالًا - شَكَّ ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ - يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ " . فَإِذَا رَجُلٌ يَسُبُّ فُلَانًا ، فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَئِنْ أَمْكَنَنِي اللَّهُ مِنْكَ فِي كَتِيبَةٍ ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ صِفِّينَ إِذَا أَنَا بِهِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ ، قَالَ : فَفَطِنْتُ إِلَى الْفُرْجَةِ مِنْ جُرَيَانِ الدِّرْعِ فَطَعَنْتُهُ فَقَتَلْتُهُ ، فَإِذَا هُوَ عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ . قَالَ : فَقُلْتُ : [ وَأَيُّ يَدٍ كَفَتَاهُ ] يَكْرَهُ أَنْ يَشْرَبَ فِي إِنَاءٍ مُفَضَّضٍ ، وَقَدْ قَتَلَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَرَوَاهُ فِي الْكَبِيرِ أَيْضًا أَتَمَّ مِنْهُ ، وَيَأْتِي فِي فَضْلِ عَمَّارٍ . ¤
محمد محی الدین
کلثوم بن جبر بیان کرتے ہیں : ہم ” واسط القصب “ کے مقام پر عبدالاعلیٰ بن عبداللہ بن عامر کے پاس موجود تھے ، ان کے پاس ایک صاحب موجود تھے ، جن کا نام ابوغادیہ تھا ، انہوں نے پینے کے لئے کچھ مانگا ، ان کے پاس ایک ایسے برتن میں پانی لایا گیا ، جس پر سونا یا چاندی لگے ہوئے تھے ، تو انہوں نے اس میں پینے سے منع کر دیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے آپ کے حوالے سے یہ حدیث ذکر کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم لوگ میرے بعد کافر ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) گمراہ نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں اڑانے لگو ۔ “ ان صاحب نے بتایا کہ ایک شخص فلاں صاحب کو برا کہہ رہا تھا ، میں نے کہا: اللہ کی قسم ! اگر کسی جنگ کے دوران اللہ تعالیٰ نے مجھے تم پر ق ابودے دیا تو پھر دیکھنا ، پھر جنگ صفین کا موقع آیا ، تو وہ شخص میرے سامنے آ گیا ، اس نے زرہ پہنی ہوئی تھی ، مجھے زرہ کے درمیان میں سے ایک جگہ کھلی نظر آئی ، تو میں نے وہاں نیزہ مار کے اسے قتل کر دیا ، وہ شخص عمار بن یاسر تھا ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے کہا: یہ بھی عجیب آدمی ہے کہ سونا یا چاندی لگے ہوئے برتن میں پینے کو مکروہ سمجھتا ہے ، اور اس نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو شہید بھی کر دیا ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، یہ روایت انہوں نے معجم کبیر میں بھی نقل کی ہے ، جو اس سے زیادہ روایت ہے اور وہ آگے چل کر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی فضیلت سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت عبداللہ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے ، یہ روایت انہوں نے معجم کبیر میں بھی نقل کی ہے ، جو اس سے زیادہ روایت ہے اور وہ آگے چل کر سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کی فضیلت سے متعلق باب میں آئے گی ۔
حدیث نمبر: 12063
وَعَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ خُوَيْلِدٍ الْعَنْبَرِيِّ قَالَ : بَيْنَا أَنَا عِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ جَاءَهُ رَجُلَانِ يَخْتَصِمَانِ فِي رَأْسِ عَمَّارٍ ، يَقُولُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا : أَنَا قَتَلْتُهُ . فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو : لِيَطِبْ بِهِ أَحَدُكُمَا نَفْسًا لِصَاحِبِهِ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " تَقْتُلُهُ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ " . فَقَالَ مُعَاوِيَةُ : فَمَا بَالُكَ مَعَنَا ؟ قَالَ : إِنَّ أَبِي شَكَانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " أَطِعْ أَبَاكَ مَا دَامَ حَيًّا وَلَا تَعْصِهِ " ، فَأَنَا مَعَكُمْ وَلَسْتُ أُقَاتِلُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
حنظلہ بن خویلد عنبری بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا ، اسی دوران دو افراد ان کے پاس آئے وہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے سر کے بارے میں جھگڑا کر رہے تھے ، ان میں سے ہر ایک کا یہ کہنا تھا : میں نے انہیں شہید کیا ہے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے ساتھی کے مقابلے میں دست بردار ہو جائے ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ایک باغی گروہ اسے قتل کرے گا ۔ “ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ ہمارے ساتھ کیوں ہیں ؟ تو سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ اللہ نے بتایا : میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے میری شکایت کی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا : ” تمہارا والد جب تک زندہ رہے گا ، تم اس کی اطاعت کرتے رہنا اور اس کی نافرمانی نہ کرنا ۔ “ تو میں آپ لوگوں کے ساتھ آ تو گیا ہوں ، لیکن میں نے جنگ میں حصہ نہیں لیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12064
وَعَنْ أَبِي غَادِيَةَ قَالَ : قُتِلَ عَمَّارٌ ، فَأُخْبِرَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ قَاتِلَهُ وَسَالِبَهُ فِي النَّارِ " . فَقِيلَ لِعَمْرٍو : فَإِنَّكَ هُوَ ذَا تُقَاتِلُهُ ؟ قَالَ : إِنَّمَا قَالَ : " قَاتِلُهُ وَسَالِبُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلَيْنِ أَتَيَا عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ يَخْتَصِمَانِ فِي دَمِ عَمَّارٍ وَسَلَبِهِ ، فَقَالَ : خَلِّيَا عَنْهُ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ قَاتِلَ عَمَّارٍ وَسَالِبَهُ فِي النَّارِ " ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوغادیہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : اس نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا ، پھر جب سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ کو اس بارے میں بتایا تو سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اس ( یعنی سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ) کو قتل کرنے والا اور اس کا سامان لینے والا شخص ، جہنم میں جائے گا ۔ “ سیدنا عمرو رضی اللہ عنہ سے کہا: گیا : آپ بھی تو ان کے خلاف جنگ کر ہی رہے تھے ؟ تو انہوں نے فرمایا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمار کے قاتل اور اس کا سامان لینے والے کے بارے میں یہ بات ارشاد فرمائی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہ بات منقول ہے کہ دو آدمی سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، وہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے قتل اور ان کے سامان کے بارے میں جھگڑا کر رہے تھے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کو چھوڑ دو ! کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عمار کا قاتل اور اُس کا سامان لینے والا شخص ، جہنم میں جائے گا ۔ “ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کئے ہیں : سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے یہ بات منقول ہے کہ دو آدمی سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، وہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے قتل اور ان کے سامان کے بارے میں جھگڑا کر رہے تھے ، تو سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: ان کو چھوڑ دو ! کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” عمار کا قاتل اور اُس کا سامان لینے والا شخص ، جہنم میں جائے گا ۔ “ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 12065
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ : كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ قَالَ : فَكَانَ إِذَا شَهِدَ مَشْهَدًا أَوْ رَقِيَ عَلَى أَكَمَةٍ أَوْ هَبَطَ وَادِيًا قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَقُلْتُ لِرَجُلٍ مِنْ بَنِي يَشْكُرَ : انْطَلِقْ بِنَا إِلَى أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ حَتَّى نَسْأَلَهُ عَنْ قَوْلِهِ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ؟ فَانْطَلَقْنَا إِلَيْهِ ، فَقُلْنَا : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، رَأَيْنَاكَ إِذَا شَهِدْتَ مَشْهَدًا ، أَوْ هَبَطْتَ وَادِيًا ، أَوْ أَشْرَفْتَ عَلَى أَكَمَةٍ قُلْتَ : صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَهَلْ عَهِدَ إِلَيْكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شَيْئًا فِي ذَلِكَ ؟ قَالَ : فَأَعْرَضَ عَنَّا ، وَأَلْحَحْنَا عَلَيْهِ ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ قَالَ : وَاللَّهِ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَهْدًا إِلَّا شَيْئًا عَهِدَهُ إِلَى النَّاسِ ، وَلَكِنَّ النَّاسَ وَقَعُوا فِي عُثْمَانَ فَقَتَلُوهُ ، فَكَانَ غَيْرِي فِيهِ أَسْوَأَ حَالًا أَوْ فِعْلًا مِنِّي ، ثُمَّ إِنِّي رَأَيْتُ أَنِّي أَحَقُّهُمْ بِهَذَا الْأَمْرِ ، فَوَثَبْتُ عَلَيْهِ ، فَاللَّهُ أَعْلَمُ أَصَبْنَا أَمْ أَخْطَأْنَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ وَهُوَ سَيِّئُ الْحِفْظِ وَقَدْ يُحَسَّنُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین
قیس بن عباد بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے ، وہ جب بھی کسی جنگ میں حصہ لیتے تھے ، یا جب کسی ٹیلے پر چڑھتے تھے ، یا کسی نشیبی علاقے میں اُتر رہے ہوتے تھے ، تو یہ کہا: کرتے تھے : سبحان اللہ ! اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے بنو یشکر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے کہا: تم ہمارے ساتھ امیرالمؤمنین کے پاس چلو ! تاکہ ہم ان سے ان کے اس جملے کے بارے میں دریافت کریں کہ اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، راوی کہتے ہیں : ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے ، ہم نے کہا: اے امیرالمؤمنین ! ہم نے آپ کو دیکھا ہے کہ جب آپ جنگ میں حصہ لیتے ہیں ، یا جب کسی نشیبی جگہ پر اتر رہے ہوتے ہیں ، یا جب کسی ٹیلے پر چڑھ رہے ہوتے ہیں ، تو آپ یہ فرماتے ہیں : اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے ، تو کیا اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو کوئی خصوصی تلقین کی ہے ؟ راوی کہتے ہیں : انہوں نے ہم سے منہ پھیر لیا ، ہم نے ان کی خدمت میں اہتمام سے گزارش کی ، جب انہوں نے یہ چیز ملاحظہ فرمائی ، تو یہ ارشاد فرمایا : ” اللہ کی قسم ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی خصوصی تلقین نہیں کی ، وہی امور ہیں ، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو تلقین کیے تھے ، لیکن جب لوگ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف ہوئے اور انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا ، تو میرے علاوہ دوسرے لوگ حالت کے اعتبار سے اور طرز عمل کے اعتبار سے زیادہ برے تھے ، پھر میں نے یہ بات دیکھی کہ حکومت کا ، میں ان سب سے زیادہ حق دار ہوں ، تو میں نے حکومت کو اختیار کر لیا ، اب اللہ بہتر جانتا ہے کہ میں نے ٹھیک کیا یا غلط کیا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے وہ خراب حافظے مالک ہے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے وہ خراب حافظے مالک ہے اس کی نقل کردہ حدیث کو حسن قرار دیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 12066
وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ زُودِيٍّ قَالَ : خَطَبَهُمْ عَلِيٌّ ، فَقَطَعُوا عَلَيْهِ خُطْبَتَهُ ، فَقَالَ : إِنَّمَا وَهَنْتُ يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ ، وَضَرَبَ لَهُمْ مَثَلًا كَمَثَلِ ثَلَاثَةِ أَثْوَارٍ [ أَسَدٍ ] اجْتَمَعْنَ فِي أَجَمَةٍ أَسْوَدَ ، وَأَحْمَرَ ، وَأَبْيَضَ ، فَكَانَ الْأُسْدُ إِذَا أَرَادُوا وَاحِدًا مِنْهُمُ اجْتَمَعْنَ عَلَيْهِ ، فَامْتَنَعْنَ عَلَيْهِ ، فَقَالَ الْأُسْدُ لِلْأَسْوَدِ ، وَالْأَحْمَرِ : إِنَّمَا يَفْضَحُنَا وَيُشَهِّرُنَا فِي أَجَمَتِنَا هَذِهِ الْأَبْيَضُ ، فَدَعَانِي حَتَّى آكُلَهُ ، فَلَوْنُكُمَا عَلَى لَوْنِي ، وَلَوْنِي عَلَى لَوْنِكُمَا ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ الْأَسَدُ فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ قَتَلَهُ ، ثُمَّ قَالَ لِلْأَسْوَدِ : إِنَّمَا يَفْضَحُنَا فِي أَجَمَتِنَا هَذِهِ الْأَحْمَرُ ، فَدَعْنِي حَتَّى آكُلَهُ ، فَلَوْنِي عَلَى لَوْنِكَ ، وَلَوْنُكَ عَلَى لَوْنِي ، فَحَمَلَ عَلَيْهِ فَقَتَلَهُ ، ثُمَّ قَالَ لِلْأَسْوَدِ : إِنِّي آكِلُكَ . قَالَ : دَعْنِي أُصَوِّتُ ثَلَاثَةَ أَصْوَاتٍ ، فَقَالَ : أَلَا إِنَّمَا أُكِلْتُ يَوْمَ أُكِلَ الْأَبْيَضُ ، أَلَا إِنَّمَا أُكِلْتُ يَوْمَ أُكِلَ الْأَبْيَضُ ، أَلَا إِنَّمَا أُكِلْتُ يَوْمَ أُكِلَ الْأَبْيَضُ ، أَلَا إِنَّمَا وَهَنْتُ يَوْمَ قُتِلَ عُثْمَانُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَعُمَيْرٌ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، غَيْرَ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ وَفِيهِ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین
عمیر بن زودی بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو خطبہ دیا ، پھر اس خطبہ کے دوران انہوں نے اس خطبے کو روک دیا اور بولے : جس دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا اس دن میں کمزور ہو گیا تھا ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کے سامنے مثال بیان کی ، جیسے تین بیل ہوتے ہیں اور ایک شیر ہوتا ہے ، وہ ایک علاقے میں اکٹھے ہوتے ہیں ، ایک بیل سیاہ رنگ کا ہے اور ایک سرخ رنگ کا ہے ، ایک سفید رنگ کا ہے ، شیر جب ان میں سے کسی پر حملہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اکٹھے ہو جاتے ہیں اور اسے روک دیتے ہیں ، تو شیر سیاہ اور سرخ بیل سے یہ کہتا ہے : ہمارے اس علاقے میں یہ سفید بیل ہمیں رسوائی کا شکار کر رہا ہے ، تو تم لوگ مجھے موقع دو کہ میں اسے کھا لوں ، تم دونوں کا رنگ تو میرے جیسا ہے اور میرا رنگ تم دونوں کے رنگ جیسا ہے ، پھر شیر اس پر حملہ کر کے اسے کھا لیتا ہے ، تھوڑی دیر بعد وہ سیاہ بیل سے کہتا ہے : ہمارے اس علاقے میں یہ سرخ رنگ کا بیل ہمیں رسوائی کا شکار کر رہا ہے ، تم مجھے موقع دو کہ میں اسے کھا لیتا ہوں ، کیونکہ میرا اور تمہارا رنگ تو ایک جیسا ہے اور تمہارا اور میرا رنگ ایک جیسا ہے ، پھر وہ اس بیل پر حملہ کر کے اسے بھی کھا لیتا ہے ، پھر وہ سیاہ بیل سے کہتا ہے : اب میں تمہیں کھاؤں گا ، تو سیاہ بیل کہتا ہے : تم مجھے موقع دو کہ میں تین مرتبہ بلند آواز میں کچھ کہوں ، پھر وہ بیل کہتا ہے : میں اُسی دن کھایا گیا تھا ، جس دن سفید بیل کھایا گیا تھا ، خبردار ! میں اُسی دن کھایا گیا تھا جس دن سفید بیل کھایا گیا تھا ، خبردار ! میں اسی دن کھایا گیا تھا ، جس دن سفید بیل کھایا گیا تھا ۔ ( پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ) : خبردار ! میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن ہی کمزور ہو گیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، عمیر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مجالد بن سعید کا معاملہ مختلف ہے اور اس کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، عمیر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں صرف مجالد بن سعید کا معاملہ مختلف ہے اور اس کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے ۔