حدیث نمبر: 12024
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : " إِنَّهُ سَيَكُونُ بَيْنَكَ وَبَيْنَ عَائِشَةَ أَمْرٌ " . قَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : أَنَا أَشْقَاهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا ، وَلَكِنْ إِذَا كَانَ ذَلِكَ فَارْدُدْهَا إِلَى مَأْمَنِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ سے ارشاد فرمایا : ” عنقریب تمہارے اور عائشہ کے درمیان اختلاف ہو گا ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایسی صورت میں تو میں سب سے زیادہ بدنصیب ہوؤں گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! البتہ جب یہ صورت حال ہو ، تو تم عائشہ کو اس کی جائے امان کی طرف لوٹا دینا ۔ “
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12024
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3272) اخرجه احمد فى المسند (393/6)»