مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ فِي الْجَمَلِ وَصِفِّينَ وَغَيْرِهِمَا . باب: جنگ جمل ، جنگ صفین اور دیگر میں جو کچھ ہوا ، اس کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : لَمَّا بَلَغَ أَصْحَابُ عَلِيٍّ حِينَ سَارُوا إِلَى الْبَصْرَةِ أَنَّ أَهْلَ الْبَصْرَةِ قَدِ اجْتَمَعُوا لِطَلْحَةَ ، وَالزُّبَيْرِ ، شَقَّ عَلَيْهِمْ وَوَقَعَ فِي قُلُوبِهِمْ ، فَقَالَ عَلِيٌّ : وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ ، لَيُظْهَرَنَّ عَلَى أَهْلِ الْبَصْرَةِ ، وَلَيُقْتَلَنَّ طَلْحَةُ ، وَالزُّبَيْرُ ، وَلَيَخْرُجَنَّ إِلَيْكُمْ مِنَ الْكُوفَةِ سِتَّةُ آلَافٍ وَخَمْسُمِائَةٍ وَخَمْسُونَ رَجُلًا أَوْ خَمْسَةُ آلَافٍ وَخَمْسُمِائَةٍ وَخَمْسُونَ رَجُلًا - شَكَّ الْأَحْلَجُ . ¤ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : فَوَقَعَ ذَلِكَ فِي نَفْسِي ، فَقَالَ : يَا أَهْلَ الْكُوفَةِ ، فَلَمَّا أَتَى أَهْلَ الْكُوفَةِ خَرَجْتُ فَقُلْتُ : لَأَنْظُرَنَّ ، فَإِنْ كَانَ كَمَا يَقُولُ فَهُوَ أَمْرٌ سَمِعَهُ ، وَإِلَّا فَهِيَ خَدِيعَةُ الْحَرْبِ ، فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْجَيْشِ فَسَأَلْتُهُ ، فَوَاللَّهِ مَا عَتَّمَ أَنْ قَالَ مَا قَالَ عَلِيٌّ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : وَهُوَ مِمَّا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُخْبِرُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَمْرٍو الْبَجَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھی بصرہ کی طرف روانہ ہوئے اور ان لوگوں کو یہ اطلاع ملی کہ اہل بصرہ تو سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے حق میں اکٹھے ہو رہے ہیں ، تو یہ بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں پر گراں گزری اور ان کے دلوں میں برا خیال آ گیا ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ” اس ذات کی قسم ! جس کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، وہ لوگ ضرور اہل بصرہ پر غالب آ جائیں گے اور اہل بصرہ ، سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کے خلاف لڑائی کریں گے ، اور پھر کوفہ میں سے چھ ہزار پانچ سو پچاس لوگ ، راوی کو شک ہے : شاید یہ الفاظ ہیں : پانچ ہزار پانچ سو پچاس لوگ نکل کر تمہاری طرف آئیں گے ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : میرے ذہن میں الجھن آ گئی ، انہوں نے فرمایا : اے اہل کوفہ ! جب اہل کوفہ آئیں گے ، تو میں نکلوں گا ، میں نے سوچا کہ میں اس بات کا جائزہ لوں گا کہ اگر یہ اسی طرح ہوا ، جس طرح اُنہوں نے بیان کیا ہے تو پھر یہ کوئی ایسی بات ہو گی جو انہوں نے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی ) سنی ہو گی ، ورنہ پھر یہ جنگ کی ایک چال ہو گی ، پھر میں نے لشکر کے ایک شخص کو دیکھا اور اس سے دریافت کیا : تو اللہ کی قسم ! اس نے وہی تعداد بیان کی جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے بیان کی تھی ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تو یہ ان باتوں میں سے ایک تھی ، جس کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بتا دیا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن عمرو بجلی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔