حدیث نمبر: 12025
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ عَائِشَةَ لَمَّا نَزَلَتْ عَلَى الْحَوْأَبِ سَمِعَتْ نُبَاحَ الْكِلَابِ ، فَقَالَتْ : مَا أَظُنُّنِي إِلَّا رَاجِعَةً ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ لَنَا : " أَيَّتُكُنَّ يَنْبَحُ عَلَيْهَا كِلَابُ الْحَوْأَبِ " . فَقَالَ لَهَا الزُّبَيْرُ : تَرْجِعِينَ ، عَسَى اللَّهُ أَنْ يُصْلِحَ بِكِ بَيْنَ النَّاسِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ” حوأب “ نامی جگہ پر پڑاؤ کیا اور وہاں کتوں کے بھونکنے کی آواز سنی تو انہوں نے فرمایا : مجھے واپس چلے جانا چاہیے ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم ( یعنی ازواج مطہرات ) سے ارشاد فرمایا : ” تم میں سے کون وہ خاتون ہو گی ، جس پر حوأب کے کتے بھونکیں گے ۔ “ سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: آپ واپس چلی جائیں ، ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ آپ کی وجہ سے لوگوں کے درمیان صلح کروا دے ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے ، امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12025
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3275) اخرجه أبو يعلى فى المسند (4868) أخرجه احمد فى المسند (52/6)»