حدیث نمبر: 12030
وَعَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ أَنَّهُ كَانَ مَعَهُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ ، وَهُوَ يَخْطُبُ عَلَى مِنْبَرٍ مِنْ آجُرٍّ ، وَالْمَوَالِي حَوْلَهُ ، فَقَامَ فَتَكَلَّمَ بِكَلَامٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ ، فَغَضِبَ عَلِيٌّ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ . فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ جَاءَ الْأَشْعَثُ بْنُ قَيْسٍ يَتَخَطَّى النَّاسَ فَقَالَ : غَلَبَتْنَا عَلَى وَجْهِكَ هَذِهِ الْحُمَيْرَاءُ . فَضَرَبَ زَيْدُ بْنُ صُوحَانَ عَلَى فَخْذِي وَقَالَ : إِنَّا لِلَّهِ ، وَاللَّهِ لَتُبْدِيَنَّ الْعَرَبُ مَا كَانَتْ تَكْتُمُ . ثُمَّ قَالَ : مَنْ يَعْذُرُنِي مِنْ هَذِهِ الضَّيَارِطَةِ ؟ يَتَقَلَّبُ أَحَدُهُمْ عَلَى فِرَاشِهِ ، وَيَغْدُو قَوْمٌ إِلَى ذِكْرِ اللَّهِ ، فَمَا تَأْمُرُنِي ؟ أَفَأَطْرُدُهُمْ فَأَكُونَ مِنَ الظَّالِمِينَ ؟ وَالَّذِي فَلَقَ الْحَبَّةَ ، وَبَرَأَ النَّسَمَةَ ، لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَيَضْرِبَنَّكُمْ عَلَى الدِّينِ عَوْدًا كَمَا ضَرَبْتُمُوهُ عَلَيْهِ بَدْءًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَسَدِيُّ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ الْبُخَارِيُّ : فِيهِ نَظَرٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عباد بن عبدالله اسدی ، سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : ” جمعہ کے دن زید بن صوحان سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اینٹوں کے بنے ہوئے منبر پر خطبہ دے رہے تھے ، ان کے اردگرد موالی موجود تھے ، ایک شخص کھڑا ہوا ، اس نے کوئی بات کی ، مجھے نہیں معلوم کہ اس نے کیا بات کی ؟ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے ، یہاں تک کہ ان کا چہرہ سرخ ہو گیا ، ابھی ہم لوگ اسی حالت میں تھے کہ اسی دوران اشعث بن قیس لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آگے آیا اور بولا: یہ خاتون ہمارے حوالے سے آپ پر غالب آ گئی ہیں ، پھر زید بن صوحان نے میرے زانوں پر مارا اور فرمایا : بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں ، اللہ کی قسم ! تم عربوں کے لئے وہ چیز ظاہر کر دو گے ، جسے وہ چھپاتے تھے ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ان نالائق لوگوں کے حوالے سے کون میرے سامنے عذر بیان کرے گا کہ ان میں سے کوئی ایک اپنے بستر پر کروٹیں بدلتا رہتا ہے اور دوسرے لوگ اللہ کے ذکر کی طرف صبح چلے جاتے ہیں ، تو تم مجھے کیا کہتے ہو ؟ کیا میں انہیں پرے کر کے ظالم لوگوں میں سے ہو جاؤں ؟ اس ذات کی قسم ! جس نے دانے کو چیرا ہے اور جان کو پیدا کیا ہے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” وہ دین کی بنیاد پر تمہارے ساتھ ضرور لڑائی کریں گے ، جس طرح تم نے آغاز میں اس ( دین ) کی بنیاد پر ان کے ساتھ لڑائی کی تھی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عباد بن عبداللہ اسدی ہے ، جسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12030
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3271)»