حدیث نمبر: 12037
وَعَنْ عُمَيْرِ بْنِ سَعِيدٍ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَأَبُو مُوسَى عِنْدَهُ ، وَأَخَذَ الْوَالِي رَجُلًا فَضَرَبَهُ وَحَمَلَهُ عَلَى جَمَلٍ ، فَجَعَلَ النَّاسُ يَقُولُونَ : الْجَمَلَ الْجَمَلَ . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، هَذَا الْجَمَلُ الَّذِي كُنَّا نَسْمَعُ . قَالَ : فَأَيْنَ الْبَارِقَةُ ؟ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

عمیر بن سعید بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، اُن کے پاس سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے ، گورنر نے ایک شخص کو پکڑ کر اسے مارا تھا ، اسے ایک اونٹ پر سوار کر دیا تھا ، تو لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ یہ تو وہی اونٹ ہے ، وہی اونٹ ہے ، ایک شخص نے کہا: اے ابوعبدالرحمن ! کیا یہ وہی اونٹ ہے ؟ جس کے بارے میں ہم سنا کرتے تھے ، تو انہوں نے فرمایا : تلواروں کی چمک کہاں ہے ؟
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الفتن - أعاذنا الله منها / حدیث: 12037
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10504)»