مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ فِي الْجَمَلِ وَصِفِّينَ وَغَيْرِهِمَا . باب: جنگ جمل ، جنگ صفین اور دیگر میں جو کچھ ہوا ، اس کا بیان
وَعَنْ أَبِي جَرْوٍ الْمَازِنِيِّ قَالَ : شَهِدْتُ عَلِيًّا وَالزُّبَيْرَ حِينَ تَوَاقَفَا ، فَقَالَ لَهُ عَلِيٌّ : يَا زُبَيْرُ ، أَنْشُدُكَ اللَّهَ ، أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّكَ تُقَاتِلُ وَأَنْتَ ظَالِمٌ ؟ " . قَالَ : نَعَمْ ، وَلَمْ أَذْكُرْ إِلَّا فِي مَوْقِفِي هَذَا ثُمَّ انْصَرَفَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُسْلِمٍ ، قَالَ الْبُخَارِيُّ : لَمْ يَصِحَّ حَدِيثُهُ . ¤ابوجرو مازنی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا علی اور سیدنا زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا ، جب یہ دونوں صاحبان ایک دوسرے کے سامنے آ کے ٹھہرے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اُن سے کہا: اے زبیر ! میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں ، کہ کیا آپ نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تم ( علی کے ساتھ ) جنگ کرو گے اور تم ظلم کرنے والے ہو گے “ تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ! لیکن مجھے یہ بات یہاں کھڑے ہو کر یاد آئی ہے ، پھر وہ واپس چلے گئے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالملک بن مسلم ہے ، امام بخاری رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ حدیث مستند نہیں ہوتی ہے ۔