مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ فِي الْجَمَلِ وَصِفِّينَ وَغَيْرِهِمَا . باب: جنگ جمل ، جنگ صفین اور دیگر میں جو کچھ ہوا ، اس کا بیان
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ حَوْلَ حُذَيْفَةَ إِذْ قَالَ : كَيْفَ أَنْتُمْ ، وَقَدْ خَرَجَ أَهْلُ بَيْتِ نَبِيِّكُمْ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِرْقَتَيْنِ ، يَضْرِبُ بَعْضُهُمْ وُجُوهَ بَعْضٍ بِالسَّيْفِ ؟ فَقُلْنَا : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، وَإِنَّ ذَلِكَ لَكَائِنٌ ؟ فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِهِ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، فَكَيْفَ نَصْنَعُ إِنْ أَدْرَكْنَا ذَلِكَ الزَّمَانَ ؟ قَالَ : انْظُرُوا الْفِرْقَةَ الَّتِي تَدْعُوا إِلَى أَمْرِ عَلِيٍّ فَالْزَمُوهَا ، فَإِنَّهَا عَلَى الْهُدَى . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤زید بن وہب بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے گرد بیٹھے ہوئے تھے ، اسی دوران انہوں نے ارشاد فرمایا : اس وقت تم لوگوں کا کیا عالم ہو گا ؟ کہ جب تمہارے نبی کے اہل بیت دو گروہوں میں تقسیم ہو کر نکلیں گے اور تلوار کے ذریعے ایک دوسرے کو قتل کرنے لگیں گے ، ہم نے دریافت کیا : اے ابوعبداللہ ! کیا ایسا ہو گا ؟ پھر ان کے اصحاب میں سے کسی نے دریافت کیا : اے ابوعبداللہ ! اگر ہم وہ زمانہ پا لیں ، تو ہمیں کیا کرنا چاہیے ؟ انہوں نے فرمایا : تم اُس گروہ کا جائزہ لینا ، جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی طرف دعوت دیتا ہو اور اس گروہ کے ساتھ ہو جانا ، کیونکہ وہ گروہ ہدایت پر ہو گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔