مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ فِي الْجَمَلِ وَصِفِّينَ وَغَيْرِهِمَا . باب: جنگ جمل ، جنگ صفین اور دیگر میں جو کچھ ہوا ، اس کا بیان
حدیث نمبر: 12036
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْبَكَّائِيِّ قَالَ : كُنْتُ [ جَالِسًا ] مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، وَحُذَيْفَةَ ، فَمَرُّوا عَلَيْهِمَا بِامْرَأَةٍ ، وَرَجُلٍ عَلَى جَمَلٍ قَدْ خُولِفَ وُجُوهُهُمَا ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : هَذَا الَّذِي كُنَّا نَتَحَدَّثُ عَنْهُ ، أَلَا إِنَّ مَعَ ذَلِكَ الْبَارِقَةَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
یزید بن معاویہ بکائی بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، ان دونوں صاحبان کے پاس سے ایک عورت اور ایک مرد گزرے ، جو ایک اونٹ پر سوار تھے ، ان دونوں کے رخ مخالف سمت میں کئے گئے تھے ، ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: کیا یہ وہی افراد ہیں ، جن کے بارے میں ہم بات چیت کیا کرتے تھے ؟ تو دوسرے صاحب نے کہا: جی نہیں ! اُن کے ساتھ تو تلواروں کی چمک بھی ہو گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند ضعیف ہے ۔