مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الفتن - أعاذنا الله منها— فتنوں کے بارے میں روایات ( اللہ تعالیٰ ہمیں ان سے محفوظ رکھے )
بَابٌ فِيمَا كَانَ فِي الْجَمَلِ وَصِفِّينَ وَغَيْرِهِمَا . باب: جنگ جمل ، جنگ صفین اور دیگر میں جو کچھ ہوا ، اس کا بیان
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ أَنَّ فُلَانًا دَخَلَ الْمَدِينَةَ حَاجًّا ، فَأَتَاهُ النَّاسُ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ ، فَدَخَلَ سَعْدٌ ، فَسَلَّمَ ، فَقَالَ : وَهَذَا لَمْ يُعِنَّا عَلَى حَقِّنَا عَلَى بَاطِلِ غَيْرِنَا . قَالَ : فَسَكَتَ عَنْهُ [ سَاعَةً ]. فَقَالَ : مَا لَكَ لَا تَتَكَلَّمُ ؟ فَقَالَ : هَاجَتْ فِتْنَةٌ ، وَظُلْمَةٌ . فَقَالَ لِبَعِيرِي : اخْ اخْ ، فَأَنَخْتُ حَتَّى انْجَلَتْ . فَقَالَ رَجُلٌ : إِنِّي قَرَأْتُ كِتَابَ اللَّهِ مِنْ أَوَّلِهِ إِلَى آخِرِهِ فَلَمْ أَرَ فِيهِ اخْ اخْ . [ قَالَ فَغَضِبَ سَعْدٌ ] فَقَالَ : أَمَا إِذْ قُلْتُ ذَاكَ ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " عَلِيٌّ مَعَ الْحَقِّ أَوِ الْحَقُّ مَعَ عَلِيٍّ حَيْثُ كَانَ " . قَالَ : مَنْ سَمِعَ ذَلِكَ ؟ قَالَ : قَالَهُ فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ . قَالَ : فَأَرْسَلَ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ فَسَأَلَهَا ، فَقَالَتْ : قَدْ قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَيْتِي . فَقَالَ الرَّجُلُ لِسَعْدٍ : مَا كُنْتَ عِنْدِي قَطُّ أَلْوَمَ مِنْكَ الْآنَ . فَقَالَ : وَلِمَ ؟ قَالَ : لَوْ سَمِعْتُ هَذَا مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمْ أَزَلْ خَادِمًا لِعَلِيٍّ حَتَّى أَمُوتَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ شُعَيْبٍ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد بن ابراہیم تیمی بیان کرتے ہیں : فلاں شخص مدینہ منورہ میں حج کے سلسلے میں داخل ہوا ، لوگ اس کے پاس آئے ، تاکہ اسے سلام کریں ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ تشریف لائے ، انہوں نے سلام کیا ، تو اس شخص نے کہا: ان صاحب نے ہمارے علاوہ لوگوں کے باطل کے مقابلے میں ، حق کے بارے میں ہماری مدد نہیں کی ، راوی کہتے ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کچھ دیر خاموش رہے ، اس شخص نے کہا: کیا وجہ ہے اب آپ بات کیوں نہیں کرتے ؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب فتنہ سامنے آیا اور تاریکی سامنے آئی ، تو میں نے اپنے اونٹ سے کہا: تم بیٹھ جاؤ تو وہ بیٹھ گیا ، یہاں تک کہ فتنہ ختم ہو گیا ، اس شخص نے کہا: میں نے اللہ کی کتاب شروع سے لے کر آخر تک پڑھی ہے ، لیکن میں نے اس میں یہ الفاظ نہیں دیکھے کہ تم بیٹھ جاؤ ! تم بیٹھ جاؤ ! راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا سعد رضی اللہ عنہ غصے میں آ گئے اور فرمایا : تم نے یہ بات کہی ہے ، میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” علی حق کے ساتھ ہو گا ، یا حق علی کے ساتھ ہو گا ، خواہ وہ جہاں بھی ہو ۔ “ اس شخص نے کہا: آپ کے ساتھ یہ بات اور کس نے سنی ہے ؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے بتایا : یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں ارشاد فرمائی تھی ، راوی کہتے ہیں : پھر انہوں نے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو پیغام بھیج کر اس کے بارے میں دریافت کیا ، تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے گھر میں یہ بات ارشاد فرمائی تھی ، تو اس شخص نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ پہلے میرے نزدیک اتنے قابل ملامت نہیں تھے ، جتنے اب ہیں ، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ اس شخص نے کہا: اگر میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہوتی ، تو میں مرتے دم تک مسلسل سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا خدمت گزار رہتا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سعد بن شعیب ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔