عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ غُلَامٌ مِنَّا مِنَ الْأَنْصَارِ يَوْمَ حُنَيْنٍ : لَنْ نُغْلَبَ الْيَوْمَ مِنْ قِلَّةٍ . فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ لَقِينَا عَدُوَّنَا فَانْهَزَمَ الْقَوْمُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا ، وَالْعَبَّاسُ عَمُّهُ آخِذٌ بِغَرْزِهَا . وَكُنَّا فِي وَادٍ دَهْسٍ ، فَارْتَفَعَ النَّقْعُ فَمَا مِنَّا أَحَدٌ يُبْصِرُ كَفَّهُ ، إِذَا شَخْصٌ أَقْبَلَ فَقَالَ : " إِلَيْكَ مَنْ أَنْتَ ؟ " قَالَ : أَنَا أَبُو بَكْرٍ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، وَبِهِ بِضْعُ عَشْرَةَ ضَرْبَةٍ . ¤ ثُمَّ إِذَا شَخْصٌ قَدْ أَقْبَلَ ، فَقَالَ : " إِلَيْكَ مَنْ أَنْتَ ؟ " قَالَ : أَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، وَبِهِ بِضْعُ عَشْرَةَ ضَرْبَةٍ . ¤ وَإِذَا شَخْصٌ قَدْ أَقْبَلَ وَبِهِ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ ضَرْبَةً ، فَقَالَ : " إِلَيْكَ مَنْ أَنْتَ ؟ " . قَالَ : عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي . ¤ ثُمَّ إِذَا شَخْصٌ قَدْ أَقْبَلَ وَبِهِ بِضْعُ عَشْرَةَ ضَرْبَةً ، فَقَالَ : " إِلَيْكَ مَنْ أَنْتَ ؟ " فَقَالَ : عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي . ¤ ثُمَّ أَقْبَلَ النَّاسُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا رَجُلٌ صَيِّتٌ يَنْطَلِقُ فَيُنَادِي فِي الْقَوْمِ ؟ " . فَانْطَلَقَ رَجُلٌ فَصَاحَ فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَقَعَ صَوْتُهُ فِي أَسْمَاعِهِمْ فَأَقْبَلُوا رَاجِعِينَ ، فَحَمَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَمَلَ الْمُسْلِمُونَ مَعَهُ ، فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ ، وَانْحَازَ دُرَيْدُ بْنُ الصِّمَّةِ عَلَى جُبَيْلٍ - أَوْ قَالَ : عَلَى أَكَمَةٍ - فِي زُهَاءِ سِتِّمِائَةٍ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ : أَرَى وَاللَّهِ كَتِيبَةً قَدْ أَقْبَلَتْ ، فَقَالَ : حِلُّوهُمْ لِي ، فَقَالُوا : سِيمَاهُمْ كَذَا ، حِلْيَتُهُمْ كَذَا . قَالَ : لَا بَأْسَ عَلَيْكُمْ ، قُضَاعَةُ مُنْطَلِقَةٌ فِي آثَارِ الْقَوْمِ . ¤ فَقَالُوا : نَرَى وَاللَّهِ كَتِيبَةً خَشْنَاءَ قَدْ أَقْبَلَتْ . قَالَ : حِلُّوهُمْ لِي . قَالُوا : سِيمَاهُمْ كَذَا ، حِلْيَتُهُمْ كَذَا . قَالَ : لَا بَأْسَ عَلَيْكُمْ هَذِهِ سُلَيْمٌ . ¤ ثُمَّ قَالُوا : نَرَى فَارِسًا قَدْ أَقْبَلَ ، قَالَ : وَيْلَكُمُ ، وَحْدَهُ ؟ قَالُوا : وَحْدَهُ . قَالَ : حِلُّوهُ لِي ، قَالُوا : مُعْتَجِرٌ بِعِمَامَةٍ سَوْدَاءَ ، قَالَ دُرَيْدٌ : ذَاكَ وَاللَّهِ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ، وَهُوَ وَاللَّهِ قَاتِلُكُمْ ، وَمُخْرِجُكُمْ مِنْ مَكَانِكُمْ هَذَا ، قَالَ : فَالْتَفَتَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : عَلَامَ هَؤُلَاءِ هَاهُنَا ؟ فَمَضَى وَمَنِ اتَّبَعَهُ فَقَتَلَ بِهَا ثَلَاثَ مِائَةٍ وَحَزَّ رَأْسَ دُرَيْدِ بْنِ الصِّمَّةِ ، فَجَعَلَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمِ بْنِ صُهَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِكَثْرَةِ غَلَطِهِ وَتَمَادِيهِ فِيهِ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے دن انصار سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک نوجوان نے یہ کہا: کہ آج ہم قلت کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوں گے ، اور پھر یہ ہوا کہ جب ہم نے دشمن کا سامنا کیا ، تو ہم لوگ پسپا ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے سیدنا ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نے اس کی لگام پکڑی ہوئی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اس کی رکاب تھامی ہوئی تھی ہم ایک ایسی وادی میں تھے جس کی زمین نرم تھی اور غبار بلند ہوا تھا ہم میں سے کوئی شخص اپنی تھیلی کو نہیں دیکھ پاتا تھا اسی دوران کوئی شخص آتا ہوا محسوس ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھہرو تم کون ہو انہوں نے جواب دیا میں ابوبکر ہوں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ ان کے جسم پر دس سے زیادہ ضربیں لگی ہوئی تھیں پھر کوئی اور شخص آتا ہوا دکھائی دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ٹھہرو تم کون ہو انہوں نے عرض کی : میں عمر بن خطاب ہوں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ ان کے جسم پر بھی دس سے زیادہ ضربیں تھیں اسی دوران ایک شخص آتا ہوا دکھائی دیا جس کے جسم پر بیس سے زیادہ ضربیں تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کون ہو انہوں نے عرض کی : میں عثمان بن عفان ہوں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں پھر ایک اور شخص آتا ہوا محسوس ہوا اس کے جسم پر دس سے زیادہ ضربیں تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھہرو تم کون ہو انہوں نے عرض کی : میں علی بن ابوطالب ہوں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں پھر لوگ آ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا کوئی اونچی آواز والا شخص جا کر لوگوں میں اعلان نہیں کرتا تو ایک صاحب گئے انہوں نے چیخ کر کہا: ان کی آواز لوگوں کی سماعت تک پہنچی تو وہ لوگ واپس پلٹ آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ساتھ مسلمانوں نے حملہ کیا ، تو مشرکین پسپا ہو گئے درید بن صمہ ایک چھوٹے پہاڑ پر یا ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اس کے ساتھ چھ سو افراد تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی نے آپ کی خدمت میں عرض کی : اللہ کی قسم مجھے لگتا ہے کوئی چھوٹا سا دستہ آ رہا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کا حلیہ میرے سامنے بیان کرو لوگوں نے بتایا : ان کی نشانی یہ ہے ، اور ان کا حلیہ اس طرح کا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں ہے یہ قضاعہ قبیلے کے لوگ ہیں جو دشمن کے پیچھے گئے تھے لوگوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ہمیں ایک سخت قسم کا دستہ آتا ہوا محسوس ہو رہا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کا حلیہ میرے سامنے بیان کرو لوگوں نے بتایا : ان کی نشانی یہ ہے ، اور ان کا حلیہ اس طرح ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پر کوئی حرج نہیں ہے یہ سلیم قبیلے کے لوگ ہیں پھر لوگوں نے بتایا : ہمیں ایک شہسوار آتا ہوا نظر آ رہا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو کیا وہ اکیلا ہے لوگوں نے عرض کی : وہ اکیلا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا حلیہ میرے سامنے بیان کرو لوگوں نے بتایا : اس نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا ہے ، تو درید نے کہا: اللہ کی قسم وہ زبیر بن عوام ہو گا اور اللہ کی قسم وہ تمہیں قتل کر دے گا اور وہ تمہیں تمہاری جگہ سے نکلوا دے گا راوی کہتے ہیں : پھر میں نے ان لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر دیکھا کہ لوگ کیا کر رہے ہیں ، تو وہ شخص اور اس کے پیروکار چلے گئے ، اور وہاں تین سو افراد قتل ہو گئے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے درید بن صمہ کا سر کاٹ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے رکھ دیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم بن صہیب ہے ، اور وہ اپنی کثرت سے غلطیوں اور زیادتی کی وجہ سے ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم بن صہیب ہے ، اور وہ اپنی کثرت سے غلطیوں اور زیادتی کی وجہ سے ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَمَّا اسْتَقْبَلْنَا وَادِيَ حُنَيْنٍ قَالَ : انْحَدَرْنَا فِي وَادٍ مِنْ أَوْدِيَةِ تِهَامَةَ أَجْوَفَ حَطُوطٍ إِنَّمَا نَنْحَدِرُ فِيهِ انْحِدَارًا ، قَالَ : وَفِي عَمَايَةِ الصُّبْحِ ، وَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ قَدْ كَمَنُوا لَنَا فِي شِعَابِهِ ، وَفِي أَجْنَابِهِ ، وَمَضَائِقِهِ ، قَدْ أَجْمَعُوا وَتَهَيَّئُوا وَأَعَدُّوا . ¤ قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا رَاعَنَا وَنَحْنُ مُنْحَطُّونَ إِلَّا الْكَتَائِبُ قَدْ شَدَّتْ عَلَيْنَا شَدَّةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، وَانْهَزَمَ النَّاسُ رَاجِعِينَ فَانْشَمَرُوا لَا يَلْوِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ . ¤ وَانْحَازَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ الْيَمِينِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِلَيَّ أَيُّهَا النَّاسُ ، إِلَّا أَنَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَهْطًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ، وَأَهْلِ بَيْتِهِ غَيْرَ كَثِيرٍ . ¤ وَفِي مَنْ ثَبَتَ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ ، وَمِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَابْنُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ ، وَرَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَأَيْمَنُ بْنُ عُبَيْدٍ وَهُوَ ابْنُ أُمِّ أَيْمَنَ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ . ¤ قَالَ : وَرَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ عَلَى جَمَلٍ لَهُ أَحْمَرَ ، فِي يَدِهِ رَايَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ فِي رَأْسِ رُمْحٍ لَهُ طَوِيلٍ أَمَامَ النَّاسِ وَهَوَازِنُ خَلْفَهُ ، فَإِذَا أَدْرَكَ طَعَنَ بِرُمْحِهِ ، فَإِذَا فَاتَهُ النَّاسُ رَفَعَ لِمَنْ وَرَاءَهُ فَاتَّبَعُوهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب ہم لوگ وادی حنین میں آئے ، تو ہم تہامہ کی وادیوں میں سے ایک وادی کے اندر آئے تھے جو درمیان میں تھی اور اس میں نیچے کی طرف آنا پڑتا تھا انہوں نے یہ بھی بتایا : اس وقت صبح کا اندھیرا پایا جاتا تھا ، اور لوگوں نے اس گھاٹی کے اندر ہمارے لئے کمین گاہیں بنا لی ہوئی تھیں اس کے اطراف میں اور اس کی تنگ جگہ پر وہ لوگ جمع تھے وہ اکٹھے ہو گئے تھے وہ تیار تھے راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ہمیں پتہ بھی نہیں چلا ہم نیچے کی طرف اتر رہے تھے اسی دوران کچھ دستوں نے ہم پر حملہ کر دیا ، تو لوگ واپس پلٹے وہ لوگ الٹے قدموں واپس آئے تھے کوئی بھی مڑا نہیں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف ہو گئے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : میری طرف آؤ اے لوگو میری طرف آؤ اے لوگو میں اللہ کا رسول ہوں ۔ میں محمد بن عبداللہ ہوں راوی کہتے ہیں : کوئی معاملہ نہیں ہوا ، یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ گھتم گتھا ہو گئے ، اور لوگ ادھر ادھر ہو گئے ، البتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مہاجرین انصار اور آپ کے گھر والوں سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد تھے جن کی تعداد زیادہ نہیں تھی جو لوگ آپ کے ساتھ ثابت قدم رہے ان میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے آپ کے اہل بیت میں سے سیدنا علی بن ابوطالب رضی الله عنہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ان کے صاحبزادے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ سیدنا ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ سیدنا ایمن بن عبید رضی اللہ عنہ جو سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے ہیں ، اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما تھے ۔ راوی کہتے ہیں : ہوازن قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اپنے سرخ اونٹ پر سوار تھا اس کے ہاتھ میں سیاہ رنگ کا جھنڈا تھا ، اور اس کے نیزے کا سرا لمبا تھا وہ لوگوں کے سامنے تھا ہوازن اس کے پیچھے تھے جب اس تک کوئی پہنچتا تھا تو وہ اپنے نیزے کے ذریعے حملہ کر دیتا تھا ، اور جب لوگ اس سے دور ہوتے تھے ، تو وہ اس کو اپنے پیچھے والوں کے لئے بلند کر لیتا تھا ، اور وہ اس کے پیچھے آ جاتے تھے ۔
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : وَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : بَيْنَمَا ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ هَوَازِنَ صَاحِبُ الرَّايَةِ عَلَى جَمَلِهِ ذَلِكَ يَصْنَعُ مَا يَصْنَعُ ، إِذْ هَوَى لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُرِيدَانِهِ ، قَالَ : فَيَأْتِيهِ عَلِيٌّ مِنْ خَلْفِهِ فَيَضْرِبُ عُرْقُوبَيِ الْجَمَلِ فَيُوقَعُ عَلَى عَجُزِهِ ، وَوَثَبَ الْأَنْصَارِيُّ عَلَى الرَّجُلِ فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً أَطَنَّ قَدَمَهُ بِنِصْفِ سَاقِهِ فَانْعَجَفَ عَنْ رَحْلِهِ ، وَاجْتَلَدَ النَّاسُ ، فَوَاللَّهِ مَا رَجَعَتْ رَاجِعَةُ النَّاسِ [ مِنْ هَزِيمَتِهِمْ ] حَتَّى [ وَجَدُوا ] الْأَسَارَى مُكَتَّفِينَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى وَزَادَ : وَصَرَخَ حِينَ كَانَتِ الْهَزِيمَةُ كَلَدَةً ، وَكَانَ أَخَا صَفْوَانِ بْنِ أُمَيَّةَ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكًا فِي الْمُدَّةِ الَّتِي ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَلَا بَطَلَ السِّحْرُ الْيَوْمَ ، فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ : اسْكُتْ فَضَّ اللَّهُ فَاكَ ، فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَرُبَّنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَرُبَّنِي رَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ فِي رِوَايَةِ أَبِي يَعْلَى ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : عاصم بن عمر بن قتادہ نے عبدالرحمن بن جابر کے حوالے سے ان کے والد سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کیا ہے اس دوران ہوازن قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جو ان کا علم بردار تھا وہ اپنے اونٹ پر سوار تھا ، اور یہ یہ کر رہا تھا سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اس کی طرف بڑھے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پیچھے کی طرف سے اس کے پاس آئے ، اور انہوں نے اونٹ کی پچھلی ٹانگوں پر ضرب لگائی ، تو وہ پشت کے بل نیچے گر گیا انصاری شخص نے اس شخص پر اچھیل کر ضرب لگائی ، تو نصف پنڈلی کے پاس سے اس کا پاؤں کاٹ دیا وہ اپنے پالان سے نیچے گرا اور لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی اللہ کی قسم ابھی لوگ واپس نہیں آئے تھے کہ انہوں نے قیدیوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بندھے ہوئے پایا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں جب پسپائی ہو گئی ، تو کلدہ نے چیخ کر کہا: جو صفوان بن امیہ کا بھائی تھا ، اور اس وقت مشرک تھا ، اور یہ اس مدت میں تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے مقرر کی تھی اس نے کہا: آج جادو باطل ہو گیا تو صفوان نے اس سے کہا: تم خاموش ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تمہارا منہ بند کرے اللہ کی قسم قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص میری دیکھ بھال کرے یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ ہوازن قبیلے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص میرا آقا بن جائے ۔
یہ روایت بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، جس نے سماع کی صراحت کی ہے ، اور یہ امام ابویعلیٰ کی روایت کے مطابق ہے ۔ امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں جب پسپائی ہو گئی ، تو کلدہ نے چیخ کر کہا: جو صفوان بن امیہ کا بھائی تھا ، اور اس وقت مشرک تھا ، اور یہ اس مدت میں تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے مقرر کی تھی اس نے کہا: آج جادو باطل ہو گیا تو صفوان نے اس سے کہا: تم خاموش ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تمہارا منہ بند کرے اللہ کی قسم قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص میری دیکھ بھال کرے یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ ہوازن قبیلے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص میرا آقا بن جائے ۔
یہ روایت بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، جس نے سماع کی صراحت کی ہے ، اور یہ امام ابویعلیٰ کی روایت کے مطابق ہے ۔ امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ ، قَالَ : فَوَلَّى [ عَنْهُ ] النَّاسُ ، وَثَبَتَ مَعَهُ ثَمَانُونَ رَجُلًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ . ¤ فَنَكَصْنَا عَلَى أَقْدَامِنَا نَحْوًا مِنْ ثَمَانِينَ قَدَمًا ، وَلَمْ نُوَلِّهِمُ الدُّبُرَ ، وَهُمُ الَّذِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمُ السَّكِينَةَ ، قَالَ : وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَغْلَتِهِ يَمْضِي قُدُمًا ، فَحَادَتْ بِهِ بَغْلَتُهُ فَمَالَ عَنِ السَّرْجِ ، فَقُلْتُ [ لَهُ ] : ارْتَفِعْ رَفَعَكَ اللَّهُ ، فَقَالَ : " نَاوِلْنِي كَفًّا مِنْ تُرَابٍ " . فَضَرَبَ بِهِ وُجُوهَهُمْ فَامْتَلَأَتْ أَعْيُنُهُمْ تُرَابًا ، [ ثُمَّ ] قَالَ : " أَيْنَ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ ؟ " قُلْتُ : هُمْ أُولَاءِ ، قَالَ : " اهْتِفْ بِهِمْ " فَهَتَفَ بِهِمْ فَجَاءُوا وَسُيُوفُهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ كَأَنَّهَا الشُّهُبُ ، وَوَلَّى الْمُشْرِكُونَ أَدْبَارَهُمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ الْحَارِثِ بْنِ حَصِيرَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا راوی کہتے ہیں : لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر مڑ گئے آپ کے ساتھ اسی افراد رہ گئے جن کا تعلق مہاجرین اور انصار سے تھا ہم اسی قدم کے لگ بھگ پیچھے ہٹے تھے لیکن ہم نے پیٹھ نہیں پھیری تھی یہ وہ لوگ ہیں ، جن پر اللہ تعالیٰ نے سکینت نازل کی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار ہو کر آگے کی طرف بڑھ رہے تھے آپ اپنے خچر کو لے کے آگے بڑھ رہے تھے ، تو اسی دوران اس کی زین ہٹ گئی میں نے آپ سے کہا: آپ اٹھیں اللہ تعالیٰ آپ کو بلند کرے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے مٹھی بھر مٹی دو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ مٹی ان لوگوں کے منہ پر پھینکی تو وہ ان کی آنکھوں میں بھر گئی پھر آپ نے دریافت کیا : مہاجرین اور انصار کہاں ہیں میں نے عرض کی : وہ یہاں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم انہیں پکارو میں نے انہیں پکارا تو وہ لوگ آ گئے ان کی تلواریں ان کے ہاتھوں میں تھیں وہ شہاب کی طرح تھے اور پھر مشرکین پیٹھ پھیر کر بھاگے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے اور طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حارث بن حصیرہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے اور طبرانی نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حارث بن حصیرہ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ انْهَزَمَ النَّاسُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَأَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ ، وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُنَادَى : " يَا أَصْحَابَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ " . ثُمَّ اسْتَحَرَّ النِّدَاءُ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، فَلَمَّا سَمِعُوا النِّدَاءَ أَقْبَلُوا ، فَوَاللَّهِ مَا شَبَّهْتُهُمْ إِلَّا [ إِلَى ] الْإِبِلَ تَحِنُّ إِلَى أَوْلَادِهَا ، فَلَمَّا الْتَقَوُا الْتَحَمَ الْقِتَالُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْآنَ حَمِيَ الْوَطِيسُ " . وَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى أَبْيَضَ فَرَمَى بِهِ ، وَقَالَ : " هُزِمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " . ¤ وَكَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يَوْمَئِذٍ أَشَدَّ النَّاسِ قِتَالًا بَيْنَ يَدَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عِمْرَانَ بْنِ دَاوَرَ وَهُوَ أَبُو الْعَوَّامِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر پسپا ہو گئے صرف سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ یہ اعلان کیا جائے اے سورت بقرہ کے ماننے والو ! اے انصار کے گروہ پھر بنو حارث بن خزرج کو پکارا گیا جب انہوں نے آواز سنی تو وہ آ گئے اللہ کی قسم ان کی مثال میں یوں دے سکتا ہوں کہ جس طرح کوئی اونٹ اپنی اولاد کی طرف آتا ہے جب وہ لوگ آئے ، تو لڑائی تیز ہو گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اب بھٹی گرم ہو گئی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید کنکریاں مٹھی میں لیں اور انہیں پھینکا تو فرمایا رب کعبہ کی قسم یہ لوگ پسپا ہو گئے ۔ راوی کہتے ہیں : اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شدید ترین لڑائی کی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمران بن داور کا معاملہ مختلف ہے وہ ابوعوام ہے ابن حبان اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمران بن داور کا معاملہ مختلف ہے وہ ابوعوام ہے ابن حبان اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : تَفَرَّقَ النَّاسُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ ، فَلَمْ يَبْقَ مَعَهُ إِلَّا رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ : زَيْدٌ ، وَهُوَ آخِذٌ بِعِنَانِ بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الشَّهْبَاءِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " وَيْحَكَ ادْعُ النَّاسَ " . فَنَادَى زَيْدٌ : يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُوكُمْ . فَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ ، فَقَالَ : " ادْعُ الْأَنْصَارَ " . فَقَالَ : يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُوكُمْ . فَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ ، فَقَالَ : " وَيْحَكَ خُصَّ الْأَوْسَ وَالْخَزْرَجَ " . فَنَادَى : يَا مَعْشَرَ الْأَوْسِ وَالْخَزْرَجِ ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدْعُوكُمْ . فَلَمْ يَجِئْ أَحَدٌ ، فَقَالَ : " وَيْحَكَ خُصَّ الْمُهَاجِرِينَ ; فَإِنَّ لِي فِي أَعْنَاقِهِمْ بَيْعَةً " . ¤ قَالَ : فَحَدَّثَنِي بُرَيْدَةُ أَنَّهُ أَقْبَلَ مِنْهُمْ أَلْفٌ قَدْ طَرَحُوا الْجُفُونَ حَتَّى أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَشَوْا قُدُمًا حَتَّى فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر ادھر ادھر ہو گئے آپ کے ساتھ صرف ایک شخص باقی رہ گیا جس کا نام زید تھا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر شہبا کی لگام پکڑی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا تمہارا ستیاناس ہو تم لوگوں کو بلاؤ تو زید نے بلند آواز میں پکارا اے لوگو یہ اللہ کے رسول تمہیں بلا رہے ہیں ، تو کوئی شخص نہیں آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم انصار کو بلاؤ اس نے کہا: اے انصار کے گروہ اللہ کے رسول تمہیں بلا رہے ہیں ، تو کوئی شخص نہیں آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو تم بطور خاص اوس اور خزرج کو بلاؤ تو اس نے پکار کے کہا: اے اوس اور خزرج کے گروہ یہ اللہ کے رسول تمہیں بلا رہے ہیں ، تو کوئی نہیں آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم بطور خاص مہاجرین کو بلاؤ کیونکہ ان کی گردنوں میں میری بیعت ہے ۔ راوی کہتے ہیں : سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ پھر وہ لوگ اس طرح آئے کہ انہوں نے میانیں ایک طرف رکھ دیں وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور پھر انہوں نے پیش قدمی شروع کی ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں فتح نصیب کر دی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ : " جُزُّوهُمْ جَزًّا " . وَأَوْمَأَ بِيَدِهِ إِلَى الْحَلْقِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں کے ٹکڑے کر دو آپ نے اپنے دست مبارک کے ذریعے حلق کی طرف اشارہ کر کے یہ بات ارشاد فرمائی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ الْحَارِثِ بْنِ بَدَلٍ قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ ، وَانْهَزَمَ أَصْحَابُهُ أَجْمَعُونَ إِلَّا الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَأَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ ، فَرَمَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وُجُوهَنَا بِقَبْضَةٍ مِنَ الْأَرْضِ فَانْهَزَمْنَا ، فَمَا يُخَيَّلُ لِي أَنَّ كُلَّ شَجَرَةٍ وَلَا حَجَرٍ إِلَّا وَهُوَ فِي آثَارِنَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا حارث بن بدل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھا آپ کے تمام اصحاب پسپا ہو گئے صرف سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نہیں ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر مٹی ہماری طرف پھینکی تو ہم پسپا ہو گئے ، اور مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا کہ ہر درخت اور پتھر ہمارا پیچھا کر رہا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِيِّ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ فِي يَوْمٍ قَائِظٍ شَدِيدِ الْحَرِّ ، فَنَزَلْنَا تَحْتَ ظِلَالِ الشَّجَرِ ، فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ لَبِسْتُ لَأْمَتِي ، وَرَكِبْتُ فَرَسِي ، فَأَتَيْتُهُ فِي فُسْطَاطِهِ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ " . فَقُلْتُ : حَانَ الرَّوَاحُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " فَنَادِ بِلَالًا " ، فَثَارَ بِلَالٌ مِنْ تَحْتِ شَجَرَةٍ كَأَنَّ ظِلَّهُ ظِلُّ طَائِرٍ ، فَقَالَ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، وَأَنَا فِدَاؤُكَ ، فَقَالَ : " أَسْرِجْ لِي فَرَسِي " [ فَأَخْرَجَ ] سَرْجًا دَفَّتَاهُ مِنْ لِيفٍ ، لَيْسَ فِيهِ أَشَرٌ وَلَا بَطَرٌ " . ¤ فَأَسْرَجَ لَهُ ثُمَّ رَكِبَ وَمَضَيْنَا عَشِيَّتَنَا وَلَيْلَتَنَا ، فَلَمَّا تَشَامَّتِ الْخَيْلَانِ وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ ، كَمَا قَالَ اللَّهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عِبَادَ اللَّهِ ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ " . وَاقْتَحَمَ عَنْ فَرَسِهِ فَنَزَلَ فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى . ¤ قَالَ : فَحَدَّثَنِي مَنْ هُوَ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنِّي أَنَّهُ ضَرَبَ وُجُوهَهُمْ ، وَقَالَ : " شَاهَتِ الْوُجُوهُ " . فَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ . ¤ قَالَ : فَحَدَّثَنِي أَبْنَاؤُهُمْ أَنَّ آبَاءَهُمْ ، قَالُوا : فَمَا بَقِيَ مِنَّا يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ إِلَّا امْتَلَأَتْ عَيْنَاهُ وَفَمُهُ تُرَابًا ، وَسَمِعْنَا صَلْصَلَةً مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ كَإِمْرَارِ الْحَدِيدِ عَلَى الطَّسْتِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ إِلَى قَوْلِهِ : " لَيْسَ فِيهِ أَشَرٌ وَلَا بَطَرٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوعبدالرحمن فہری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہ ایک شدید گرم دن تھا ہم نے درختوں کے نیچے پڑاؤ کیا ہوا تھا دھوپ مسلسل میرے ہتھیاروں پر پڑ رہی تھی میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخصوص خیمے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کو سلام کیا آپ نے ارشاد فرمایا : تم پر بھی سلام ہو ، اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! روانگی کا وقت ہو چلا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلال کو آواز دو تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ایک ایسے درخت کے نیچے سے نکل کر آئے جس کا سایہ پرندے کے سائے کی مانند تھا انہوں نے عرض کی : میں حاضر ہوں ۔ میں آپ پر فدا ہو جاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے گھوڑے پر میرے لئے زین رکھو تو انہوں نے ایک ایسی زین نکالی جس کے دونوں کناروں کے درمیان پتے بھرے ہوئے تھے ، آپ میں کوئی تکبر اور خود پسندی نہیں تھی انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے زین رکھ دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے اس شام اور اس رات ہم چلتے رہے ، یہاں تک کہ جب دونوں طرف کے شہسوار ایک دوسرے کے مد مقابل آئے ، تو مسلمان پیٹھ پھیر کر مڑ گئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ کے بندو میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھوڑے سے اترے آپ نے مٹھی بھر کنکریاں لیں مجھے اس شخص نے یہ بات بیان کی ہے ، جو میرے سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کنکریاں دشمن کی طرف پھینکیں اور ارشاد فرمایا : ان کے چہرے قبیح ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو پسپا کر دیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں ؟ ان لوگوں کے بیٹوں نے ہمیں یہ بات بتائی ہے کہ ان کے آباء یہ بات بیان کرتے تھے کہ اس دن ہم میں سے ہر ایک کی آنکھوں اور منہ میں مٹی بھر گئی تھی اور ہمیں آسمان سے زمین کی طرف آنے والی ایک آواز یوں سنائی دی جیسے کسی لوہے کو طشت پر پھیرا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے یہ روایت ان الفاظ تک نقل کی ہے : «ليس فيه الشر ولا بطر» ( آپ میں کوئی تکبر اور خود پسندی نہیں تھی ) ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ نَاوَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - التُّرَابَ ، فَرَمَى بِهِ وُجُوهَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ حُنَيْنٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹی پکڑائی وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے موقع پر مشرکین کی طرف پھینکی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔
وَعَنْ يَاسِرٍ قَالَ : كَانَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ يُحَدِّثُ ، قَالَ : ¤ كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَ عَمْرَو بْنَ مُرَّةَ أَنْ يَقِفَ هُوَ وَقَوْمُهُ جُهَيْنَةُ بْنُ زَيْدٍ يَوْمَ هَوَازِنَ ، فَقَالَ لَهُمُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا مَعْشَرَ جُهَيْنَةَ ، كُونُوا بِأَعْقَابِ بَنِي سُلَيْمٍ فَإِنْ جَاشُوا فَضَعُوا السِّلَاحَ بِأَقْفِيَتِهِمْ وَشِعَارِهِمْ " . ¤ فَجَاشَتْ يَوْمَئِذٍ قَبِيلَةٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُمْ : بَنُو عَصِيَّةَ ; لِأَنَّهُمْ عَصَوُا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ، فَقَتَلَتْهُمْ جُهَيْنَةُ ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جُهَيْنَةَ ، فَتَقَدَّمَتْ إِلَى هَوَازِنَ وَصَرَفَ سُلَيْمًا عَنْ مَوْقِفِهِمْ ، فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ يَوْمَئِذٍ وَكَثُرَ الْقَتْلُ فِيهِمْ ، وَقَتَلَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ يَوْمَئِذٍ ابْنَ ذِي الْبُرْدَيْنِ الْهِلَالِيَّ ، وَكَانَ لِجُهَيْنَةَ فِيهِمْ بَلَاءٌ حَسَنٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
یاسر بیان کرتے ہیں : سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ یہ حدیث بیان کرتے ہیں : کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ وہ اور ان کی قوم جہینہ بن زید کے لوگ جنگ ہوازن کے دن ٹھہر جائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا جہینہ قبیلے کے لوگو تم بنوسلیم کے عقب میں رہنا اگر وہ سرکش ہوئے ، تو تم ہتھیار ان کی گدی پر رکھنا ، تو اس دن ان میں سے ایک قبیلہ سرکش ہو گیا ، جس کا نام بنو عصیہ تھا کیونکہ ان لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی تھی تو جہینہ قبیلے کے لوگوں نے ان کے ساتھ لڑائی کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جہینہ کو حکم دیا ، تو وہ بڑھ کر ہوازن کی طرف گئے ، اور انہوں نے سلیم قبیلے کو ان کی جگہ سے پھیر دیا اس دن اللہ تعالیٰ نے انہیں پسپا کر دیا اس دن بہت قتل و غارت گری ہوئی تھی ، سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ نے اس دن ابن ذی بردین ہلالی کو قتل کیا اور جہینہ قبیلے کے لئے اس میں بڑی عمدہ آزمائش تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ عِيَاضٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَتَى هَوَازِنَ فِي اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا فَقَتَلَ مِنَّا مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ يَوْمَ حُنَيْنٍ مِثْلَ مَا قَتَلَ مِنْ قُرَيْشٍ يَوْمَ بَدْرٍ ، وَأَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَفًّا مِنْ بَطْحَاءَ فَرَمَاهُ فِي وُجُوهِنَا فَهَزَمَنَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِيَاضٍ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ وَلَمْ يُجَرِّحْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عیاض رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بارہ ہزار افراد کے ساتھ ہوازن تشریف لائے غزوہ حنین کے موقع پر ہم اہل طائف میں سے اتنے افراد قتل ہوئے تھے جتنے غزوہ بدر کے موقع پر قریش کے افراد قتل ہوئے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کی مٹھی بھر مٹی لی اور وہ ہماری طرف پھینکی تو ہم پسپا ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عیاض ہے ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ۔ انہوں نے اس پر جرح نہیں کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عیاض ہے ابن ابوحاتم نے اس کا ذکر کیا ہے ۔ انہوں نے اس پر جرح نہیں کی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ : انْهَزَمَ النَّاسُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ فَقَالَ : " أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے دن لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر پیچھے ہو گئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میں نبی ہوں یہ بات جھوٹ نہیں ہے ، اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ قَالَ : لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا عَنْ جَابِرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمَ حُنَيْنٍ : " الْآنَ حَمِيَ الْوَطِيسُ " ثُمَّ قَالَ : " هُزِمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عمرو بن دینار بیان کرتے ہیں : میرے علم کے مطابق یہ بات سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے دن یہ بات ارشاد فرمائی تھی اب بھٹی گرم ہو گئی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ لوگ پسپا ہو جائیں گے رب کعبہ کی قسم ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ السُّوَائِيِّ ; أَنَّهُ قَالَ عِنْدَ انْكِشَافَةٍ انْكَشَفَهَا الْمُسْلِمُونَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَتَبِعَتْهُمُ الْكُفَّارُ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْضَةً مِنَ الْأَرْضِ فَرَمَى بِهَا وُجُوهَهُمْ وَقَالَ : " ارْجِعُوا شَاهَتِ الْوُجُوهُ " . ¤ فَمَا مِنَّا مِنْ أَحَدٍ يَلْقَى أَخَاهُ إِلَّا وَهُوَ يَشْكُو الْقَذَى وَيَمْسَحُ عَيْنَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
اور سیدنا یزید بن عامر سوائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہِ حنین کے دن جب مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی (اور وہ پیچھے ہٹ گئے ) تو کفار نے ان کا پیچھا کیا ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین سے ایک مٹھی مٹی لی اور اسے ان (کفار) کے چہروں پر پھینکا اور فرمایا :” لوٹ جاؤ ! یہ چہرے ذلیل و رسوا ہو گئے “ ۔ (چونکہ یزید بن عامر اس وقت کافروں کے لشکر میں تھے ، اس لیے وہ بتاتے ہیں کہ اس مٹھی کا اثر یہ تھا کہ) ہم میں سے جو بھی اپنے کسی ساتھی سے ملتا تھا تو وہ آنکھ میں کرکری (مٹی یا تنکا) پڑنے کی شکایت کر رہا ہوتا تھا اور اپنی آنکھیں مل رہا ہوتا تھا ۔
(اسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے ، اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں) ۔
(اسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے ، اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں) ۔
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ السُّوَائِيِّ - وَكَانَ شَهِدَ حُنَيْنًا مَعَ الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ أَسْلَمَ - قَالَ : سَأَلْنَاهُ عَنِ الرُّعْبِ الَّذِي أَلْقَاهُ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ كَيْفَ كَانَ ؟ فَأَخَذَ حَصَاةً فَرَمَى بِهَا طَسْتًا فَطَنَّ ، قَالَ : كُنَّا نَجِدُ فِي أَجْوَافِنَا مِثْلَ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
یزید بن عامر سوائی کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ جب مسلمان غزوہ حنین کے موقع پر بکھر گئے ، اور کفار نے ان کا پیچھا کیا ، تو اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین سے مٹی لی اور اسے دشمن کی طرف پھینکا اور فرمایا : واپس چلے جاؤ تمہارے چہرے قبیح ہوں راوی کہتے ہیں : تو ہم میں سے جو شخص بھی اپنے بھائی سے ملتا تھا تو وہ گندگی ( یا غبار ) کی شکایت کرتا تھا ، اور اپنی آنکھیں مل رہا ہوتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : رَأَيْتُ يَوْمَ حُنَيْنٍ شَيْئًا أَسْوَدَ مِثْلَ الْبِجَادِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، فَلَمَّا دُفِعَ إِلَى الْأَرْضِ فَشَا [ فِي الْأَرْضِ ] ذَرًّا وَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا عَبَّادُ بْنُ آدَمَ ، وَلَمْ يُوَثِّقْهُ أَحَدٌ وَلَمْ يُجَرِّحْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا یزید بن عامر سوائی رضی اللہ عنہ جو غزوہ حنین میں مشرکین کے ساتھ شریک ہوئے تھے اور پھر بعد میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا راوی کہتے ہیں : ہم نے ان سے اس رعب کے بارے میں دریافت کیا : جو غزوہ حنین کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے دلوں میں ڈال دیا تھا وہ کیسا تھا ؟ تو سیدنا یزید بن عامر سوائی رضی اللہ عنہ نے کنکریاں لیں اور انہیں طشت پر ڈالا تو ان کی آواز آئی ، تو انہوں نے فرمایا : ہمیں اپنے پیٹ میں اس کی مانند محسوس ہو رہا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے دن میں نے آسمان اور زمین کے درمیان چادر کی مانند ایک سیاہ چیز دیکھی جب وہ زمین کی طرف آئی ، تو زمین میں ذروں کی طرح پھیل گئی اور مشرکین پسپا ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں سے ایک سند میں ایک راوی عباد بن آدم ہے کسی نے اس کی توثیق نہیں کی اور اس پر جرح نہیں کی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے دن میں نے آسمان اور زمین کے درمیان چادر کی مانند ایک سیاہ چیز دیکھی جب وہ زمین کی طرف آئی ، تو زمین میں ذروں کی طرح پھیل گئی اور مشرکین پسپا ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں سے ایک سند میں ایک راوی عباد بن آدم ہے کسی نے اس کی توثیق نہیں کی اور اس پر جرح نہیں کی ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " نَاوِلْنِي كَفًّا مِنْ حَصًى " فَنَاوَلْتُهُ فَرَمَى بِهِ فِي وُجُوهِ الْقَوْمِ ، فَمَا بَقِيَ فِي الْقَوْمِ أَحَدٌ إِلَّا مُلِئَتْ عَيْنَاهُ مِنَ الْحَصَى ، فَنَزَلَتْ : ( وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى ) " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مجھے مٹھی بھر کنکریاں پکڑاؤ وہ میں نے آپ کو پکڑائیں وہ آپ نے دشمن کی طرف پھینکیں تو دشمن میں سے ہر ایک کی آنکھوں میں کنکریاں بھر گئیں اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی تھی : ” جب تم نے کنکریاں پھینکیں تھیں تو وہ تم نے نہیں پھینکیں تھیں بلکہ وہ اللہ نے پھینکیں تھیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن یعلیٰ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ نَاوَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - التُّرَابَ فَرَمَى بِهِ وُجُوهَ الْمُشْرِكِينَ يَوْمَ حُنَيْنٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سَيْفٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مٹی پکڑائی تھی جو آپ نے مشرکین کی طرف پھینکی تھی یہ جنگ حنین کے موقع پر ہوا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے اسماعیل بن سیف کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اسماعیل بن سیف کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا انْهَزَمَ الْمُسْلِمُونَ يَوْمَ حُنَيْنٍ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَغْلَتِهِ الشَّهْبَاءِ يُقَالُ لَهَا : دُلْدُلٌ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " دُلْدُلُ اسْدِي " . فَأَلْزَقَتْ بَطْنَهَا بِالْأَرْضِ حَتَّى أَخَذَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِفْنَةً مِنْ تُرَابٍ ، فَرَمَى بِهَا وُجُوهَهُمْ ، فَقَالَ : " حم ،لَا يُنْصِرُونَ " . ¤ فَانْهَزَمَ الْقَوْمُ وَمَا رَمَيْنَاهُمْ بِسَهْمٍ ، وَلَا طَعَنَّاهُمْ بِرُمْحٍ ، وَلَا ضَرَبْنَا بِسَيْفٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْقَاسِمِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر جب مسلمان پسپا ہو گئے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت اپنے شہباء خچر پر سوار تھے جس کا نام دلدل تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : اے دلدل تم بیٹھ جاؤ تو اس نے اپنا پیٹ زمین کے ساتھ ملا لیا ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹھی بھر مٹی لی اور وہ ان لوگوں کی طرف پھینکی آپ نے فرمایا : حم لا ینصرون تو دشمن پسپا ہو گیا حالانکہ ہم نے نہ انہیں کوئی تیر مارا تھا نہ کوئی نیزہ مارا تھا نہ انہیں تلوار کے ذریعے ضرب لگائی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن محمد بن قاسم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی أحمد بن محمد بن قاسم ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ ، وَاللَّهِ مَا أَخْرَجَنِي الْإِسْلَامُ ، وَلَا مَعْرِفَةٌ بِهِ ، وَلَكِنِّي أَنِفْتُ أَنْ تَظْهَرَ هَوَازِنُ عَلَى قُرَيْشٍ ، فَقُلْتُ وَأَنَا وَاقِفٌ مَعَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَرَى خَيْلًا بُلْقًا قَالَ : " يَا شَيْبَةُ ، إِنَّهُ لَا يَرَاهَا إِلَّا كَافِرٌ " . ¤ فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى صَدْرِي ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اهْدِ شَيْبَةَ " ثُمَّ ضَرَبَهَا ثَانِيَةً ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اهْدِ شَيْبَةَ " فَوَاللَّهِ مَا رَفَعَ يَدَهُ مِنَ الثَّالِثَةِ مِنْ صَدْرِي حَتَّى مَا كَانَ أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُ . ¤ قَالَ : فَالْتَقَى النَّاسُ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى نَاقَةٍ أَوْ بَغْلَةٍ ، وَعُمَرُ آخِذٌ بِلِجَامِهَا ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ آخِذٌ بِثَغْرِ دَابَّتِهِ ، فَانْهَزَمَ الْمُسْلِمُونَ ، فَنَادَى الْعَبَّاسُ بِصَوْتٍ لَهُ جَهْرٌ فَقَالَ : أَيْنَ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ ؟ أَيْنَ أَصْحَابُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ؟ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ قُدُمًا : أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ " . ¤ فَعَطَفَ الْمُسْلِمُونَ فَاصْطَلَمُوا بِالسُّيُوفِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْآنَ حَمِيَ الْوَطِيسُ " قَالَ : وَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
مصعب بن شیبہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا اللہ کی قسم نہ تو اسلام نے مجھے نکالا تھا ، اور نہ ہی اس کی معرفت نے مجھے نکلنے پر مجبور کیا تھا لیکن میری یہ خواہش تھی کہ ہوازن قریش پر غالب آ جائیں میں نے کہا: میں اس وقت آپ کے ساتھ تھا یا رسول اللہ ! میں نے ابلق گھوڑا دیکھا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے شیبہ اسے کوئی کافر ہی دیکھ سکتا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مارا اور پھر دعا کی اے اللہ تو شیبہ کو ہدایت نصیب کر پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ اسے مارا اور فرمایا : اے اللہ تو شیبہ کو ہدایت نصیب کر تو اللہ کی قسم تیسری مرتبہ ابھی آپ نے اپنا ہاتھ میرے سینے سے بلند نہیں کیا تھا کہ اللہ کی مخلوق میں کوئی بھی میرے نزدیک آپ سے زیادہ محبوب نہیں تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب دونوں فریقوں کا مقابلہ ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر یا شاید خچر پر سوار تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی لگام پکڑی ہوئی تھی سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے اس جانور کا منہ پکڑا ہوا تھا مسلمان پسپا ہو گئے ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں کہا: مہاجرین اولین کہاں ہیں ؟ سورت بقرہ والے لوگ کہاں ہیں ؟ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے آگے بڑھو ۔ میں نبی ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں ہے ، اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں تو مسلمان پلٹ آئے ، اور انہوں نے اپنی تلواریں نکال لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اب بھٹی گرم ہو گئی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو پسپا کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن جابر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن جابر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ : قَالَ شَيْبَةُ بْنُ عُثْمَانَ : لَمَّا غَزَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ ، تَذَكَّرْتُ أَبِي وَعَمِّيَ قَتَلَهُمَا عَلِيٌّ وَحَمْزَةُ ، فَقُلْتُ : الْيَوْمَ أُدْرِكُ ثَأْرِي فِي مُحَمَّدٍ ، [ فَجِئْتُهُ ] فَإِذَا الْعَبَّاسُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ بَيْضَاءُ كَأَنَّهَا الْفِضَّةُ ، فَكَشَفَ عَنْهَا الْعَجَاجَ ، فَقُلْتُ : عَمُّهُ لَنْ يَخْذُلَهُ . ¤ فَجِئْتُهُ عَنْ يَسَارِهِ فَإِذَا أَنَا بِأَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْحَارِثِ ، فَقُلْتُ : ابْنُ عَمِّهِ لَنْ يَخْذُلَهُ ، فَجِئْتُهُ مِنْ خَلْفِهِ فَدَنَوْتُ وَدَنَوْتُ حَتَّى لَمْ يَبْقَ إِلَّا أَنْ أَسُورَ سَوْرَةً بِالسَّيْفِ ، رُفِعَ لِي شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ كَأَنَّهُ الْبَرْقُ فَخِفْتُ أَنْ يَحْبِسَنِي فَنَكَصْتُ الْقَهْقَرَى ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " تَعَالَ يَا شَيْبُ " . ¤ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ عَلَى صَدْرِي فَاسْتَخْرَجَ اللَّهُ الشَّيْطَانَ مِنْ قَلْبِي فَرَفَعْتُ إِلَيْهِ بَصَرِي وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمِنْ كَذَا ، فَقَالَ لَهُ : " يَا شَيْبُ ، قَاتِلِ الْكُفَّارَ " . ¤ ثُمَّ قَالَ : " يَا عَبَّاسُ ، اصْرُخْ بِالْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ ، وَبِالْأَنْصَارِ الَّذِينَ آوَوْا وَنَصَرُوا " . فَمَا شَبَّهْتُ عَطْفَةَ الْأَنْصَارِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا الْبَقَرَ عَلَى أَوْلَادِهَا حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَأَنَّهُ حَرَجَةٌ . ¤ قَالَ : فَلَرِمَاحُ الْأَنْصَارِ كَانَتْ عِنْدِي أَخْوَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ رِمَاحِ الْكُفَّارِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا عَبَّاسُ ، نَاوِلْنِي مِنَ الْبَطْحَاءِ " . فَأَفْقَهَ اللَّهُ الْبَغْلَةَ كَلَامَهُ فَاخْتَفَضَتْ بِهِ حَتَّى كَادَ بَطْنُهَا يَمَسُّ الْأَرْضَ ، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْحَصْبَاءِ فَنَفَخَ فِي وُجُوهِهِمْ وَقَالَ : " شَاهَتِ الْوُجُوهُ حم، لَا يُنْصَرُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
مکرمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا شیبہ بن عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ جب غزوہ حنین کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیاری کی تو مجھے اپنے والد اور اپنے چچا یاد آ گئے جنہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا میں نے کہا: آج میں سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے اپنا بدلہ لے لوں گا میں آپ کے پاس آیا تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آپ کے دائیں طرف موجود تھے انہوں نے سفید زرہ پہنی ہوئی تھی یوں جیسے وہ چاندی کی بنی ہوئی ہو ، غبار ہٹا ، تو میں نے کہا: یہ تو ان کے چچا ہیں یہ انہیں رسوائی کا شکار نہیں کریں گے پھر میں بائیں طرف سے آپ کے پاس آیا تو وہاں ابوسفیان بن حارث موجود تھے میں نے کہا: یہ تو ان کے چچا زاد ہیں یہ انہیں رسوائی کا شکار نہیں کریں گے پھر میں پیچھے سے آپ کی طرف آیا میں قریب ہوتا گیا قریب ہوتا گیا ، یہاں تک کہ اتنا فاصلہ باقی رہ گیا کہ میں آپ کو تلوار مار سکتا تھا لیکن اسی دوران آگ کا ایک شعلہ میرے سامنے آیا جو برق کی مانند تھا مجھے یہ ڈر ہوا کہ کہیں وہ مجھے جلا نہ دے تو میں الٹے پاؤں پیچھے ہٹ گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا : اے شیب آگے آ جاؤ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر رکھا تو اللہ تعالیٰ نے میرے دل سے شیطان کو نکال دیا میں نے نگاہ اٹھا کر آپ کی طرف دیکھا تو آپ میری سماعت اور میری بصارت میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھے پھر آپ نے مجھ سے فرمایا : اے شیب کفار کے ساتھ لڑائی کرو پھر آپ نے فرمایا : اے عباس مہاجرین اولین کو بلند آواز میں بالائیں جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی اور انصار کو بلائیں جنہوں نے پناہ دی تھی اور مدد کی تھی راوی کہتے ہیں : تو انصار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس طرح واپس آئے جس طرح گائے اپنی اولاد کی طرف آتی ہے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے یوں نیچے اتر آئے جیسے وہ درختوں کے اکٹھے ہونے کی جگہ ہوتی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : انصار کے نیزوں کے حوالے سے میرے نزدیک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے نیزوں سے زیادہ خوف تھا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے عباس مجھے مٹی پکڑائیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے خچر کو آپ کا کلام سمجھا دیا وہ نیچے جھک گیا ، یہاں تک کہ اس کا پیٹ زمین کے ساتھ مس ہونے لگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں اٹھائیں اور پھر ان کے چہروں کی طرف پھونک ماری اور پھر یہ کہا: ان کے چہرے قبیح ہو جائیں ، حم لا ینصرون ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَامٍ الْجُمَحِيِّ قَالَ : مَالِكُ بْنُ عَوْفِ بْنِ سَعْدِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ يَرْبُوعِ بْنِ وَاثِلَةَ بْنِ دَهْمَانَ بْنِ نَصْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ بْنِ بَكْرِ بْنِ هَوَازِنَ . ¤ قَالَ ابْنُ سَلَامٍ : وَكَانَ عَوْفٌ رَئِيسًا مِقْدَامًا كَانَ أَوَّلُ ذِكْرِهِ وَمَا شُهِرَ مِنْ بَلَائِهِ يَوْمَ الْفِجَارِ مَعَ قَوْمِهِ كَثُرَ صَنِيعُهُ يَوْمَئِذٍ ، وَهُوَ عَلَى هَوَازِنَ حِينَ لَقِيَهُمْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَاقَ مَعَ النَّاسِ أَمْوَالَهُمْ وَذَرَارِيَّهُمْ ، فَخَالَفَهُ دُرَيْدُ بْنُ الصِّمَّةِ فَلَجَّ وَأَبَى ، فَصَارُوا إِلَى أَمْرِهِ فَلَمْ يَحْمَدُوا رَأْيَهُ ، وَكَانَ يَوْمَئِذٍ رَئِيسَهُمْ ، فَلَمَّا رَأَى هَزِيمَةَ أَصْحَابِهِ قَصَدَ نَحْوَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَكَانَ شَدِيدَ الْإِقْدَامِ ، لِيُصِيبَهُ زَعْمٌ ، فَوَافَاهُ مَرْثَدُ بْنُ أَبِي مَرْثَدٍ الْغَنَوِيُّ ، فَقَاتَلَهُ وَحَمَلَ فَرَسَهُ مِحَاجًا فَلَمْ يُقْدِمْ ، ثُمَّ أَرَادَهُ وَصَاحَ بِهِ فَلَمْ يُقْدِمْ ، فَقَالَ . ¤ أَقْدِمْ مَحَاجُ إِنَّهُ يَوْمٌ نُكُرْ مِثْلِي عَلَى مِثْلِكَ يَحْمِي وَيَكِرْ وَيَطْعَنُ الطَّعْنَةَ تَفْرِي وَتُهِرْ ¤ لَهَا مِنَ الْبَطْنِ نَجِيعٌ مُنْهَمِرْ وَثَعْلَبُ الْعَامِلَ فِيهَا مُنْكَسِرْ ¤ إِذَا اجْرَأَلَّتْ زُمَرٌ بَعْدَ زُمَرْ ¤ ثُمَّ شَهِدَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ الْقَادِسِيَّةَ فَقَالَ : ¤ أَقْدِمْ مَحَاجِ إِنَّهَا الْأَسَاوِرَهْ وَلَا يَهُولَنَّكَ رَجُلٌ نَادِرَهْ ¤ ثُمَّ انْهَزَمَ مِنْ حُنَيْنٍ فَصَارَ إِلَى الطَّائِفِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَتَانِي لَأَمَّنْتُهُ وَأَعْطَيْتُهُ مِائَةً " . فَجَاءَ فَفَعَلَ بِهِ ذَلِكَ ، وَوَجَّهَهُ عَلَى قِتَالِ أَهْلِ الطَّائِفِ . ¤ وَكَتَبَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - يَسْتَمِدُّهُ ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ : تَسْتَمِدُّنِي وَأَنْتَ فِي عَشَرَةِ آلَافٍ ، وَمَعَكَ مَالِكُ بْنُ عَوْفٍ ، وَحَنْظَلَةُ بْنُ رَبِيعَةَ ، وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ : حَنْظَلَةُ الْكَاتِبُ . ¤ قَالَ ابْنُ سَلَامٍ : فَحَدَّثَنِي بَعْضُ قَوْمِهِ أَنَّهُ قَالَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَعْطَانِي يَتَأَلَّفُنِي عَلَى الْإِسْلَامِ فَلَمْ أُحِبَّ أَنْ آخُذَ عَلَى الْإِسْلَامِ أَجْرًا ، فَأَنَا أَرُدُّهَا قَالَ : إِنَّهُ لَمْ يُعْطِكَهَا إِلَّا وَهُوَ يَرَى أَنَّهَا لَكَ حَقٌّ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، عَنْ خَلِيفَةَ بْنِ خَيَّاطٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَامٍ الْجُمَحِيِّ ، وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن سلام جمحی بیان کرتے ہیں : مالک بن عوف بن سعد بن ربیعہ بن یربوع بن واثلہ بن دہمان بن نصر بن معاویہ بن بکر بن ہوازن ابن سلام کہتے ہیں عوف نامی صاحب ایک رئیس اور پیشوا تھے ان کا ذکر اور ان کی شہرت کا آغاز یوم فجار سے ہوا تھا جب وہ اپنی قوم کے ساتھ تھے اس موقع پر انہوں نے بڑا کام کیا تھا ، اور وہ اس وقت ہوازن کے امیر تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہوازن کے ساتھ مقابلہ کیا تھا وہ اپنے ساتھ اپنے اموال اور بال بچے بھی لے کے آئے تھے درید بن صمہ نے ان کی مخالفت کی وہ اندر چلے گئے ، اور انکار کیا ، تو سارا معاملہ اس کی طرف آ گیا انہوں نے اس کی رائے کی تعریف نہیں کی وہ ان دنوں ان کا رئیس تھا جب اس نے اپنے ساتھیوں کی ہزیمت دیکھی تو اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قصد کیا وہ تیزی سے پیش قدمی کرنے والا شخص تھا تاکہ آپ کو نقصان پہنچائے ، تو سیدنا مرثد بن ابومرثد غنوی رضی اللہ عنہ اس کے مقابلے میں آئے ، اور انہوں نے اسے قتل کر دیا انہوں نے اس کے گھوڑے پر محاج کو سوار کیا لیکن وہ آگے نہیں بڑھا پھر انہوں نے اس کا ارادہ کیا اور بلند آواز میں اسے پکارا تو وہ آگے نہیں بڑھا تو انہوں نے یہ اشعار کہے : ” اے محاج آگے بڑھو ، یہ نا قابل برداشت دن ہے ، میرے جیسا تم جیسے پر حمایت کرتا ہے اور پلٹ کر حملہ آور ہوتا ہے ، اور ایسا وار کرتا ہے ، جو دہشت زدہ اور اضطراب کا شکار کر دیتی ہے ، اس سے پیٹ سے تیزی سے خون بہنے لگتا ہے ، اور اس میں کام کرنے والے کے نیزے کا سرا ٹوٹ جاتا ہے ، جب ایک کے بعد دوسرے گروہ بلند ہوتے ہیں “ اس کے بعد جب انہوں نے اسلام قبول کر لیا تو وہ جنگ قادسیہ میں شریک ہوئے تھے وہاں انہوں نے یہ اشعار کہے تھے ” اے محاج ! آگے بڑھو ! یہ ان کے شہسوار ہیں اور ان کا نادر ( یعنی مختلف ) ہونا تمہیں ہولناکی کا شکار نہ کرے “ ۔ پھر وہ حنین سے پسپا ہو گئے ، اور طائف چلے گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر وہ میرے پاس آ گیا تو میں اسے امان بھی دوں گا اور اسے ایک سو ( اونٹ ) بھی دوں گا پھر وہ صاحب آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ساتھ ایسا ہی کیا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اہل طائف کے ساتھ جنگ کے لئے بھیجا ۔ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو خط لکھا جس میں ان سے مدد مانگی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں جوابی خط میں لکھا تھا کہ تم مجھ سے مدد مانگ رہے ہو حالانکہ تمہارے پاس دس ہزار افراد موجود ہیں تمہارے پاس مالک بن عوف ہے حنظلہ بن ربیعہ ہے یہ وہی صاحب ہیں ، جنہیں حنظلہ کاتب کہا: جاتا ہے ۔ ابن سلام بیان کرتے ہیں : ان کی قوم کے کسی فرد نے مجھے یہ بات بتائی ہے کہ انہوں نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے یہ کہا: تھا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس لئے ( مال ) عطا کیا تھا تاکہ اسلام کے حوالے سے میری تالیف قلب کریں مجھے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ میں اسلام قبول کرنے کا معاوضہ وصول کروں میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اسے واپس کروں تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تمہیں صرف اس لئے دیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھتے تھے کہ یہ تمہارا حق ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے خلیفہ بن خیاط کے حوالے سے محمد بن سلام جمحی سے نقل کی ہے ، اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے خلیفہ بن خیاط کے حوالے سے محمد بن سلام جمحی سے نقل کی ہے ، اور یہ دونوں ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ أَنَّهُ كَانَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ حَضَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ كَانَ يَحْثِي فِي وُجُوهِهِمُ التُّرَابَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ازہر کے بارے میں یہ بات منقول ہے وہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن پر مٹی پھینکی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
وَعَنِ امْرَأَةِ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّ رَافِعًا رُمِيَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ أُحُدٍ أَوْ يَوْمَ حُنَيْنٍ - أَنَا أَشُكُّ - بِسَهْمٍ فِي ثُنْدُوَتِهِ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْزَعِ السَّهْمَ ، قَالَ : " يَا رَافِعُ ، إِنْ شِئْتَ نَزَعْتُ السَّهْمَ وَالْقُطْبَةَ جَمِيعًا ، وَإِنْ شِئْتَ نَزَعْتُ السَّهْمَ وَتَرَكْتُ الْقُطْبَةَ ، وَشَهِدْتُ لَكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنَّكَ شَهِيدٌ ؟ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، انْزَعِ السَّهْمَ وَدَعِ الْقُطْبَةَ ، قَالَ : فَنَزَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - السَّهْمَ وَتَرَكَ الْقُطْبَةَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَامْرَأَةُ رَافِعٍ لَمْ أَعْرِفْهَا ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی اہلیہ بیان کرتی ہیں سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کو غزوہ احد کے موقع پر یا جنگ حنین کے موقع پر پہلو میں ایک تیر لگ گیا وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ تیر نکال دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے رافع اگر تم چاہو ، تو تم تیر اور اس کا پھل دونوں نکلوا لو اگر تم چاہو ، تو میں تیر نکال دیتا ہوں ، اور پھل اندر رہنے دیتا ہوں ، اور قیامت کے دن میں تمہارے حق میں یہ گواہی دوں گا کہ تم شہید ہو ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ تیر نکال دیں ، اور پھل اندر رہنے دیں راوی کہتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیر نکال دیا ، اور پھل رہنے دیا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ کی اہلیہ سے میں واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ حَبِيبٍ الْعَوْذِيِّ [ عَنْ أَبِيهِ ] قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ سِنَانِ بْنِ سَلَمَةَ - يَعْنِي ابْنَ الْمُحَبَّقِ - فَقَالَ : وُلِدْتُ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَبُشِّرَ بِي أَبِي ، فَقَالُوا : وُلِدَ لَكَ غُلَامٌ ، فَقَالَ : سَهْمٌ أَرْمِي بِهِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَحَبُّ إِلَيَ مِمَّا بَشَّرْتُمُونِي بِهِ ، وَسَمَّانِي سِنَانًا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَحَبِيبٌ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ غَيْرُ ابْنِهِ . ¤
محمد محی الدین
عبدالصمد بن حبیب عوذی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ہم نے سیدنا سنان بن سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ایک جنگ میں حصہ لیا تو انہوں نے بتایا : میں غزوہ حنین کے دن پیدا ہوا تھا میرے بارے میں جب میرے والد کو خوشخبری سنائی گئی اور لوگوں نے کہا: کہ آپ کے ہاں بیٹا ہوا ہے ، تو انہوں نے فرمایا : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ایک سنان ( یعنی تیر ) پھینکوں یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ محبوب ہو گا جس کی تم نے مجھے خوشخبری سنائی ہے پھر انہوں نے میرا نام سنان رکھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے حبیب نامی راوی سے ان کے صاحبزادے کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے حبیب نامی راوی سے ان کے صاحبزادے کے علاوہ اور کسی نے روایت نقل نہیں کی ہے ۔
وَعَنِ الْعَدَّاءِ بْنِ خَالِدِ بْنِ هَوْذَةَ ، قَالَ : قَاتَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَنْصُرْنَا اللَّهُ وَلَمْ يُظْهِرْنَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عداء بن خالد بن ہوذہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لڑائی کی تو اللہ تعالیٰ نے ہماری مدد نہیں کی اور اس میں ہمیں غلبہ نہیں دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔