مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ باب: غزوہ حنین کا بیان
وَعَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ : رَأَيْتُ يَوْمَ حُنَيْنٍ شَيْئًا أَسْوَدَ مِثْلَ الْبِجَادِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ، فَلَمَّا دُفِعَ إِلَى الْأَرْضِ فَشَا [ فِي الْأَرْضِ ] ذَرًّا وَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا عَبَّادُ بْنُ آدَمَ ، وَلَمْ يُوَثِّقْهُ أَحَدٌ وَلَمْ يُجَرِّحْهُ . ¤سیدنا یزید بن عامر سوائی رضی اللہ عنہ جو غزوہ حنین میں مشرکین کے ساتھ شریک ہوئے تھے اور پھر بعد میں انہوں نے اسلام قبول کر لیا تھا راوی کہتے ہیں : ہم نے ان سے اس رعب کے بارے میں دریافت کیا : جو غزوہ حنین کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے دلوں میں ڈال دیا تھا وہ کیسا تھا ؟ تو سیدنا یزید بن عامر سوائی رضی اللہ عنہ نے کنکریاں لیں اور انہیں طشت پر ڈالا تو ان کی آواز آئی ، تو انہوں نے فرمایا : ہمیں اپنے پیٹ میں اس کی مانند محسوس ہو رہا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے دن میں نے آسمان اور زمین کے درمیان چادر کی مانند ایک سیاہ چیز دیکھی جب وہ زمین کی طرف آئی ، تو زمین میں ذروں کی طرح پھیل گئی اور مشرکین پسپا ہو گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے ، جس میں سے ایک سند میں ایک راوی عباد بن آدم ہے کسی نے اس کی توثیق نہیں کی اور اس پر جرح نہیں کی ۔