کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: ہوازن کے مال غنیمت اور ان کے قیدیوں کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
عَنْ بُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَرَهُ أَنْ يَحْبِسَ السَّبَايَا وَالْأَمْوَالَ بِالْجِعْرَانَةِ حَتَّى يَقْدَمَ فَحُبِسَتْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَالْبَزَّارُ عَنِ ابْنِ بُدَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَلَمْ يُسَمِّ ابْنَ بُدَيْلٍ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بدیل بن ورقاء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ قیدیوں اور اموال کو جعرانہ کے مقام پر روک کے رکھیں جب تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف نہیں لے آتے راوی کہتے ہیں : تو میں نے اسے روک کے رکھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے بھی اسے نقل کیا ہے ۔ انہوں نے اسے سیدنا بدیل رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کیا ہے ۔ انہوں نے سیدنا بدیل رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کا نام بیان نہیں کیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ امام بزار نے بھی اسے نقل کیا ہے ۔ انہوں نے اسے سیدنا بدیل رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کیا ہے ۔ انہوں نے سیدنا بدیل رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کا نام بیان نہیں کیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ أَبِي جَرْوَلٍ زُهَيْرِ بْنِ صُرَدَ قَالَ : لَمَّا أَسَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ يَوْمَ هَوَازِنَ ، وَذَهَبَ يُفَرِّقُ السَّبْيَ وَالشَّاءَ أَتَيْتُهُ ، فَأَنْشَأْتُ أَقُولُ هَذَا الشِّعْرَ : ¤ امْنُنْ عَلَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ فِي كَرَمٍ فَإِنَّكَ الْمَرْءُ نَرْجُوهُ وَنَنْتَظِرُ امْنُنْ عَلَى بَيْضَةٍ قَدْ عَاقَهَا قَدَرٌ ¤ مُشَتَّتٌ شَمْلُهَا فِي دَهْرِهَا غِيَرُ أَبْقَتْ لَنَا الدَّهْرَ هُتَّافًا عَلَى حَزَنٍ ¤ عَلَى قُلُوبِهِمُ الْغَمَّاءُ وَالْغَمْرُ إِنْ لَمْ تُدَارِكْهُمُ رَحْمَاءُ تَنْشُرُهَا ¤ يَا أَرْجَحَ النَّاسِ حِلْمًا حِينَ يُخْتَبَرُ امْنُنْ عَلَى نِسْوَةٍ قَدْ كُنْتَ تَرْضَعُهَا ¤ إِذْ فُوكَ يَمْلَأُهُ مِنْ مَخْضِهَا الدُّرَرُ إِذْ كُنْتَ طِفْلًا صَغِيرًا كُنْتَ تَرْضَعُهَا ¤ وَإِذْ يُزَيِّنُكَ مَا تَأْتِي وَمَا تَذَرُ لَا تَجْعَلَنَّا كَمَنْ شَالَتْ نَعَامَتُهُ ¤ وَاسْتَبْقِ مِنَّا فَإِنَّا مَعْشَرٌ زُهْرُ إِنَّا لَنَشْكُرُ لِلنَّعْمَاءِ إِذْ كُفِرَتْ ¤ وَعِنْدَنَا بَعْدَ هَذَا الْيَوْمِ مُدَّخَرُ فَأَلْبِسِ الْعَفْوَ مَنْ قَدْ كُنْتَ تَرْضَعُهُ ¤ مِنْ أُمَّهَاتِكَ إِنَّ الْعَفْوَ مُشْتَهِرُ يَا خَيْرَ مَنْ مَرِحَتْ كُمْتُ الْجِيَادِ بِهِ ¤ عِنْدَ الْهَيَاجِ إِذَا مَا اسْتَوْقَدَ الشَّرَرُ إِنَّا نُؤَمِّلُ عَفْوًا مِنْكَ تَلْبَسُهُ ¤ هَادِي الْبَرِيَّةِ إِذْ يَعْفُو وَيَنْتَصِرُ فَاعْفُ عَفَا اللَّهُ عَمَّا أَنْتَ رَاهِبُهُ ¤ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِذْ يُهْدِي لَكَ الظَّفَرُ فَلَمَّا سَمِعَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَذَا الشِّعْرَ ، قَالَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ " . وَقَالَتْ قُرَيْشٌ : مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ . وَقَالَتِ الْأَنْصَارُ : مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الثَّلَاثَةِ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوجرول زہیر بن صرد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب غزوہ حنین کے موقع پر ہوازن کے ساتھ جنگ کے موقع پر اللہ کے رسول نے ہمیں قیدی بنا لیا تو آپ قیدیوں اور بھیڑ بکریوں کو الگ کرنے لگے میں آپ کے پاس آیا اور میں نے یہ اشعار سنانے شروع کیے : ” اے اللہ کے رسول اکرم کے ہمراہ ہم پر احسان کیجیے ! کیونکہ آپ ایک ایسے فرد ہیں ، جن سے ہم امید رکھتے ہیں اور ہم ( آپ کے کرم کے ) منتظر ہیں ، آپ اس جماعت پر احسان کیجیے جس کو تقدیر نے عاق کر دیا ہے ، اور اس کی اجتماعیت کو منتشر کر کے زمانے نے ان کے احوال تبدیل کر دیے ہیں ، زمانے نے ہمیں یوں باقی رکھا ہے کہ ہم غم کی چیخ و پکار کرتے ہیں ، ان کے دلوں پر شدید غم اور پریشانی ہے ، اگر آپ نے رحمت کو پھیلا کر ، ان کی مدد نہ کی ، اے وہ فرد کہ جب تحقیق کی جائے تو برد باری کے حوالے سے آپ لوگوں میں سب سے زیادہ راجح ہوں گے ، آپ ان خواتین پر مہربانی کیجیئے ، جن کا آپ نے دودھ پیا ہے ، کیونکہ آپ کے منہ میں ، ان کے دودھ کے برتن کے ذریعے خالص دودھ آیا ، جب آپ چھوٹے بچے تھے تو آپ ان کا دودھ پیتے تھے ، جب آپ کو وہ چیز اچھی لگتی تھی جو وہ لے کر آتی تھی اور جو وہ چھوڑ جاتی تھی ، آپ ہمیں اس کی طرح نہ بنا دیں ، جس کی اجتماعیت منتشر ہو گئی ، اور ہمیں باقی رہنے دیں کیونکہ ہم روشن گروہ ہیں ، جب کفران نعمت کیا جائے تو ہم اس وقت ( نعمتوں کے ) شکر گزار ہوتے ہیں ، اور اس دن کے بعد بھی ہمارے پاس ذخیرہ ہے ، تو آپ انہیں معافی عطا کر دیں جن کے ہاں آپ کی رضاعت ہوئی تھی ، جن میں آپ کی ( رضاعی ) مائیں بھی ہیں ، کیونکہ معاف کرنا مشہور ہوتا ہے ، اے ان میں سب سے بہتر ، کہ جنگ کے وقت ، سرخ و سیاہ رنگ کے گھوڑے جس سے آرام پاتے ہیں ، جب تک ( جنگ کے ) شعلے بھڑکتے رہیں ، ہم آپ کی طرف سے معافی کی امید رکھتے ہیں ، آپ کو ” مخلوق کو ہدایت دینے والے “ کا لقب دیا گیا ہے ، کیونکہ آپ معاف کرتے ہیں اور مدد کرتے ہیں ، تو آپ معاف کر دیں ، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آپ کو ان چیزوں سے بچا کر رکھے ، جن سے آپ بچنا چاہتے ہیں اور آپ کو کامیابی نصیب کرے “ ۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اشعار سنے تو آپ نے فرمایا : جو چیز میرے حصے میں اور بنو عبدالمطلب کے حصے میں آتی ہے وہ تمہاری ہوئی قریش نے کہا: جو چیز ہمارے حصے میں آتی ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کی ہوئی انصار نے کہا: جو چیز ہمارے حصے میں آتی ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کی ہوئی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے تینوں کتابوں میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ وَفْدَ هَوَازِنَ لَمَّا أَتَوْا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْجِعْرَانَةِ ، وَقَدْ أَسْلَمُوا قَالُوا : إِنَّا أَصْلٌ وَعَشِيرَةٌ ، وَقَدْ أَصَابَنَا مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ ، فَامْنُنْ عَلَيْنَا مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ . ¤ وَقَالَ رَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ مِنْ بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ يُقَالُ لَهُ : زُهَيْرٌ ، وَيُكَنَّى بِأَبِي صُرَدَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نِسَاؤُنَا عَمَّاتُكَ وَخَالَاتُكَ وَحَوَاضِنُكَ اللَّاتِي كَفَلْنَكَ ، وَلَوْ أَنَّا لَحِقَنَا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي شِمْرٍ ، وَالنُّعْمَانُ بْنُ الْمُنْذِرِ ، ثُمَّ نَزَلَ بِنَا مِنْهُ مِثْلُ الَّذِي أَنْزَلْتَ بِنَا لَرَجَوْنَا عَطْفَهُ وَعَائِدَتَهُ عَلَيْنَا ، وَأَنْتَ خَيْرُ الْمَكْفُولِينَ . ¤ ثُمَّ أَنْشَدَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - شِعْرًا قَالَهُ ، وَذَكَرَ فِيهِ قَرَابَتَهُ ، وَمَا كَفَلُوا مِنْهُ فَقَالَ : ¤ امْنُنْ عَلَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ فِي كَرَمٍ فَإِنَّكَ الْمَرْءُ نَرْجُوهُ وَنَنْتَظِرُ امْنُنْ عَلَى بَيْضَةٍ قَدْ عَاقَهَا قَدَرٌ ¤ مُفَرَّقٌ شَمْلُهَا فِي دَهْرِهَا غِيَرُ أَبْقَتْ لَنَا الدَّهْرَ هُتَّافًا عَلَى حَزَنٍ ¤ عَلَى قُلُوبِهِمُ الْغَمَّاءُ وَالْغِمْرُ إِنْ لَمْ تُدَارِكْهُمُ رَحْمَاءُ تَنْشُرُهَا ¤ يَا أَرْجَحَ النَّاسِ حِلْمًا حِينَ يُخْتَبَرُ امْنُنْ عَلَى نِسْوَةٍ قَدْ كُنْتَ تَرْضَعُهَا ¤ إِذْ فُوكَ تَمْنَؤُهُ مِنْ مَخْضِهَا دُرَرُ إِذْ كُنْتَ طِفْلًا صَغِيرًا كُنْتَ تَرْضَعُهَا ¤ وَإِذْ يُزَيِّنُكَ مَا تَأْتِي وَمَا تَذَرُ لَا تَجْعَلَنَّا كَمَنْ شَالَتْ نَعَامَتُهُ وَاسْتَبْقِ مِنَّا فَإِنَّا مَعْشَرٌ زُهْرُ ¤ . ¤ قَالَ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہوازن قبیلے کا وفد جب جعرانہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو وہ لوگ اسلام قبول کر چکے تھے انہوں نے عرض کی : ہم اصل ہیں ، اور خاندان کے لوگ ہیں ہمیں جو آزمائش لاحق ہوئی ہے وہ آپ سے مخفی نہیں ہے آپ ہم پر احسان کیجئے اللہ تعالیٰ آپ پر مہربانی کرے ہوازن قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا تعلق بنو سعد بن بکر سے تھا جن کا نام زہیر تھا ، اور ان کی کنیت ابوصرد تھی انہوں نے یہ بات بیان کی یا رسول اللہ ہماری عورتیں آپ کی پھوپھیاں ہیں آپ کی خالائیں ہیں آپ کی دائی مائیں ہیں ، جنہوں نے آپ کی کفالت کی تھی اگر ہم حارث بن ابوشمر یا نعمان بن منذر سے جا کے ملے ہوتے اور پھر اس کی طرف سے ہمیں اس طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا جس طرح کی صورت حال کا ہمیں سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، تو ہمیں اس کی اپنے اوپر مہربانی اور عنایت کی امید ہونی تھی اور آپ تو کفالت کرنے والوں میں سب سے بہتر ہیں پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اشعار سنائے جو انہوں نے کہے تھے اور اس میں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنی قرابت کا ذکر کیا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو انہوں نے کفالت کی تھی اس کا ذکر کیا اور یہ اشعار سنائے : ” اے اللہ کے رسول ! کرم کے ہمراہ ہم پر احسان کیجیے ! کیونکہ آپ ایک ایسے فرد ہیں ، جن سے ہم امید رکھتے ہیں اور ہم ( آپ کے کرم کے ) منتظر ہیں ، آپ اس جماعت پر احسان کیجیے جس کو تقدیر نے عاق کر دیا ہے ، اور اس کی اجتماعیت کو منتشر کر کے زمانے نے ان کے احوال تبدیل کر دیے ہیں ، زمانے نے ہمیں یوں باقی رکھا ہے کہ ہم غم کی چیخ و پکار کرتے ہیں ان کے دلوں پر شدید غم اور پریشانی ہے ، اگر آپ نے رحمت کو پھیلا کر ، ان کی مدد نہ کی ، اے وہ فرد کہ جب تحقیق کی جائے تو برد باری کے حوالے سے آپ لوگوں میں سب سے زیادہ راجح ہوں گے ، آپ ان خواتین پر مہربانی کیجئے جن کا آپ نے دودھ پیا ہے ، کیونکہ آپ کے منہ میں ، ان کے دودھ کے برتن کے ذریعے خالص دودھ آیا ، جب آپ چھوٹے بچے تھے تو آپ ان کا دودھ پیتے تھے ، جب آپ کو وہ چیز اچھی لگتی تھی جو وہ لے کر آتی تھی اور جو وہ چھوڑ جاتی تھی ، آپ ہمیں اس کی طرح نہ بنا دیں ، جس کی اجتماعیت منتشر ہو گئی اور ہمیں باقی رہنے دیں کیونکہ ہم روشن گروہ ہیں “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے لیکن وہ ثقہ ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ مدلس ہے لیکن وہ ثقہ ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ يَوْمَ حُنَيْنٍ ] وَجَاءَتْهُ وُفُودُ هَوَازِنَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا أَهْلٌ وَعَشِيرَةٌ فَمُنَّ عَلَيْنَا مَنَّ اللَّهُ عَلَيْكَ ; فَإِنَّهُ [ قَدْ ] نَزَلَ بِنَا مِنَ الْبَلَاءِ مَا لَمْ يَخْفَ عَلَيْكَ ، فَقَالَ : " اخْتَارُوا بَيْنَ نِسَائِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ وَأَنْسَابِكُمْ " . قَالُوا : خَيَّرْتَنَا بَيْنَ أَحْسَابِنَا وَأَمْوَالِنَا ، نَخْتَارُ أَبْنَاءَنَا ، فَقَالَ : " مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ ، فَإِذَا صَلَّيْتُ الظُّهْرَ فَقُولُوا : إِنَّا [ نَسْتَشْفِعُ ] بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الْمُسْلِمِينَ وَبِالْمُسْلِمِينَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي نِسَائِنَا وَأَبْنَائِنَا " . ¤ قَالَ : فَفَعَلُوا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكُمْ " ، وَقَالَ الْمُهَاجِرُونَ : مَا كَانَ لَنَا فَهُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَتِ الْأَنْصَارُ مِثْلَ ذَلِكَ ، وَقَالَ عُيَيْنَةُ بْنُ بَدْرٍ : أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي فَزَارَةَ فَلَا ، وَقَالَ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ : أَمَّا أَنَا وَبَنُو تَمِيمٍ فَلَا ، وَقَالَ عَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ : أَمَّا أَنَا وَبَنُو سُلَيْمٍ فَلَا ، فَقَالَ الْحَيَّانِ : كَذَبْتَ ! ! بَلْ هُوَ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ [ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ] : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، رُدُّوا عَلَيْهِمْ نِسَاءَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ فَمَنْ تَمَسَّكَ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا الْفَيْءِ فَلَهُ عَلَيْنَا سِتَّةُ فَرَائِضَ مِنْ أَوَّلِ مَا يَفِيءُ اللَّهُ عَلَيْنَا " . ¤ ثُمَّ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ وَتَعَلَّقَ بِهِ النَّاسُ يَقُولُونَ : اقْسِمْ عَلَيْنَا فَيْئَنَا بَيْنَنَا حَتَّى أَلْجَئُوهُ إِلَى سَمُرَةٍ فَخَطَفَتْ رِدَاءَهُ ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، رُدُّوا عَلَيَّ رِدَائِي ، فَوَاللَّهِ لَوْ كَانَ بِعَدَدِ شَجَرِ تِهَامَةَ نَعَمً لَقَسَمْتُهُ بَيْنَكُمْ ، ثُمَّ لَا تَلْقُونِي بَخِيلًا وَلَا جَبَانًا وَلَا كَذُوبًا " . ¤ ثُمَّ دَنَا مِنْ بَعِيرٍ فَأَخَذَ وَبَرَةً مِنْ سَنَامِهِ فَجَعَلَهَا بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَى ثُمَّ رَفَعَهَا ، فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، لَيْسَ لِي مِنْ هَذَا الْفَيْءِ وَلَا هَذِهِ ، إِلَّا الْخُمُسُ ، وَالْخَمُسُ مَرْدُودٌ عَلَيْكُمْ ، فَرُدُّوا الْخِيَاطَ وَالْمَخِيطَ ، فَإِنَّ الْغُلُولَ يَكُونُ عَلَى أَهْلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَارًا وَنَارًا وَشَنَارًا " . ¤ فَقَامَ رَجُلٌ مَعَهُ كُبَّةٌ مِنْ شَعْرٍ ، فَقَالَ : إِنِّي أَخَذْتُ هَذِهِ أُصْلِحُ بِهَا بَرْدَعَةَ بَعِيرٍ لِي دَبِرَ . فَقَالَ : " أَمَّا مَا كَانَ لِي وَلِبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَهُوَ لَكَ " . فَقَالَ الرَّجُلُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَّا إِذَا بَلَغَتْ مَا أَرَى فَلَا أَرَبَ لِي بِهَا . وَنَبَذَهَا . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُ أَحَدِ إِسْنَادَيْهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا ہوازن کے وفود آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اصل ہیں اور خاندان کے لوگ ہیں آپ ہم پر احسان کیجئے اللہ تعالیٰ آپ پر احسان کرے گا کیونکہ ہمیں جس آزمائش کا سامنا کرنا پڑا ہے وہ آپ سے مخفی نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اپنی بیویوں اموال اور بچوں میں سے کسی کو اختیار کر لو انہوں نے عرض کی : آپ نے ہمارے حسب اور ہمارے اموال کے درمیان ہمیں اختیار دیا ہے تو ہم اپنے بیٹوں کو اختیار کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو میرے حصے میں اور بنو عبدالمطلب کے حصے میں آتا ہے وہ تمہارا ہوا جب میں ظہر کی نماز ادا کر لوں گا ، تو تم یہ کہنا کہ ہم اللہ کے رسول کی سفارش مسلمانوں کے سامنے پیش کرتے ہیں ، اور مسلمانوں کی سفارش اللہ کے رسول کے سامنے پیش کرتے ہیں جو ہماری خواتین اور ہمارے بچوں کے بارے میں ہے ۔ انہوں نے ایسا ہی کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : جو کچھ میرے حصے میں اور بنو عبدالمطلب کے حصے میں آتا ہے وہ تمہارا ہوا مہاجرین نے کہا: جو ہمارے حصے میں آتا ہے وہ اللہ کے رسول کا ہوا انصار نے بھی اس کی مانند بات کہی عیینہ بن بدر نے کہا: جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے ، جو میرے اور بنوفزارہ کے حصے میں آتی ہے ، تو وہ ہم نہیں دیتے اقرع بن حابس نے کہا: جو چیز میرے اور بنو تمیم کے حصے میں آتی ہے وہ بھی ہم نہیں چھوڑتے عباس بن مرداس نے کہا: جو چیز میرے اور بنوسلیم کے حصے میں آتی ہے وہ ہم نہیں چھوڑتے حیان نے کہا: تم غلط کہہ رہے ہو بلکہ وہ بھی اللہ کے رسول کی ہو گی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو تم ان کی عورتیں اور ان کے بیٹے انہیں واپس کر دو تم میں سے جو شخص اس مال غنیمت میں سے کوئی چیز رکھنا چاہتا ہو ، تو اللہ تعالیٰ ہمیں جو پہلا مال فئے عطا کرے گا اس میں سے ہم چھ حصے اسے دے دیں گے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوئے ، اور لوگوں کے ساتھ ملے لوگوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ آپ ہمارے درمیان تقسیم کریں جو ہمارا مال فئے ہے ، یہاں تک کہ لوگوں نے آپ کو درخت کی طرف جانے پر مجبور کر دیا آپ کی چادر کھینچ لی گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے لوگو میری چادر مجھے واپس کرو اللہ کی قسم اگر تمہارے لئے تہامہ کے درختوں کی تعداد جتنی نعمتیں ہوں تو میں وہ تمہارے درمیان تقسیم کر دوں گا اور پھر تم مجھ سے ایسی حالت میں نہیں ملو گے کہ مجھے کنجوس یا بزدل یا جھوٹا پاؤ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اونٹ کے قریب ہوئے آپ نے اس کی کوہان میں سے ایک بال لیا اور اسے اپنی دو انگلیوں کے درمیان شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کے درمیان رکھا پھر اسے بلند کیا اور فرمایا : اے لوگو اس مال فئے میں سے اور اس میں سے میرے لئے اتنی چیز لینے کی بھی اجازت نہیں ہے البتہ خمس کا حکم مختلف ہے ، اور خمس بھی تم لوگوں کی طرف لوٹا دیا جائے گا ، تو تم دھاگہ اور سوئی تک ادا کر دو کیونکہ خیانت قیامت کے دن اپنے کرنے والے کے لئے شرمندگی آگ اور رسوائی کا باعث ہو گی تو ایک شخص کھڑا ہوا جس کے پاس بالوں کا ایک گچھا تھا اس نے کہا: یا رسول اللہ ! یہ میں نے اس لئے لیا تھا تاکہ اپنے اونٹ کو نکلنے والے پھوڑے کی خاطر اسے پالان کے نیچے رکھ دوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو کچھ میرا اور بنو عبدالمطلب کے حصے کا ہے وہ تمہارا ہوا اس شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اب میں نے جو چیز دیکھی ہے جب یہ صورت حال ہو چکی ہے ، تو پھر مجھے اس میں کوئی دلچسپی نہیں ہے پھر اس نے اسے رکھ دیا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور ان کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور ان کی مختلف اسانید میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنْ عَطِيَّةَ أَنَّهُ كَانَ مِمَّنْ كَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ سَبْيِ هَوَازِنَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، عَشِيرَتُكَ وَأَصْلُكَ ، وَكُلُّ الْمُرْضِعِينَ دُونَكَ ، وَلِهَذَا الْيَوْمِ اخْتَبَأْنَاكَ ، وَهُنَّ أُمَّهَاتُكَ وَأَخَوَاتُكَ وَخَالَاتُكَ . ¤ فَكَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصْحَابَهُ فَرَدُّوا عَلَيْهِمْ سَبْيَهُمْ إِلَّا رَجُلَيْنِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اذْهَبُوا فَخَيِّرُوهُمَا " ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا : إِنِّي أَتْرُكُهُ . وَقَالَ الْآخَرُ : لَا أَتْرُكُهُ . ¤ فَلَمَّا أَدْبَرَ قَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ أَخِسَّ سَهْمَهُ " . فَكَانَ يَمُرُّ بِالْجَارِيَةِ الْبِكْرِ وَالْغُلَامِ فَيَدَعُهُ حَتَّى مَرَّ بِعَجُوزٍ قَالَ : فَإِنِّي آخُذُ هَذِهِ فَإِنَّهَا أُمُّ حَيٍّ ، وَيَسْتَفْدُونَهَا مِنِّي بِمَا قَدَرُوا عَلَيْهِ ، فَكَبَّرَ عَطِيَّةُ وَقَالَ : خُذْهَا . ¤ ثُمَّ قَالَ لِلرَّسُولِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا فُوهَا بِبَارِدٍ ، وَلَا ثَدْيُهَا بِنَاهِدٍ ، وَلَا وَافِدُهَا بِوَاجِدٍ ، عَجُوزٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَقْرَاءُ سَبِيَّةٌ مَا لَهَا أَحَدٌ ، فَلَمَّا رَآهَا لَا يَعْرِضُ لَهَا أَحَدٌ تَرَكَهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي إِسْنَادِهِ الزُّبَيْرُ وَالِدُ النُّعْمَانِ بْنِ الزُّبَيْرِ الصَّنْعَانِيُّ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ہوازن کے قیدیوں کے بارے میں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات چیت کی گئی ، تو انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ آپ کے خاندان کے لوگ اور آپ کے اصل ہیں ، اور دودھ پلانے کے حوالے سے آپ کے رشتے دار ہیں آج کے دن کے لئے ہی ہم نے آپ کو سنبھال کے رکھا ہوا تھا یہ خواتین آپ کی مائیں ہیں آپ کی بہنیں ہیں آپ کی خالائیں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ اس بارے میں بات چیت کی اور ان لوگوں کے قیدی انہیں واپس کر دیے صرف دو افراد کا معاملہ مختلف تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ جاؤ اور ان دونوں کو اختیار دو تو ان دونوں میں سے ایک نے کہا: میں اپنا حصہ چھوڑتا ہوں ، اور دوسرے نے کہا: میں اسے نہیں چھوڑوں گا جب وہ شخص چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ تو اس کے حصے کو خراب کر دے ، تو وہ شخص ایک کنواری کنیز اور لڑکے کے پاس سے گزرا اس نے اسے چھوڑ دیا پھر وہ ایک بوڑھی عورت کے پاس سے گزرا ، تو اس نے یہ سوچا کہ مجھے اس کو لے لینا چاہیے کیونکہ یہ قبیلے کی ماں ہے وہ لوگ بھرپور کوشش کر کے مجھ سے اس کو چھڑوائیں گے ، تو سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ نے تکبیر کہی اور کہا: اسے لے لو پھر انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: یا رسول اللہ نہ تو اس عورت کا منہ ٹھنڈا ہے ، اور نہ ہی اس کی چھاتی ابھری ہے ، اور نہ ہی اس کا کوئی سگا ہے ، یا رسول اللہ یہ ایک بوڑھی عورت ہے ، اس کا کوئی نہیں ہے ، جب اس شخص نے یہ صورت حال دیکھی کہ کوئی اس عورت کی طرف توجہ نہیں دے رہا تو اس نے اس عورت کو چھوڑ دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زبیر ہے ، جو نعمان بن زبیر صنعانی کا والد ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زبیر ہے ، جو نعمان بن زبیر صنعانی کا والد ہے میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
قَالَ الطَّبَرَانِيُّ : حَكِيمُ بْنُ حِزَامِ بْنِ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيِّ بْنِ كِلَابٍ ، يُكَنَّى أَبَا خَالِدٍ وَأُمُّهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ زُهَيْرِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَسَدٍ وَأُمُّهَا سَلْمَى بِنْتُ عَبْدِ مَنَافِ بْنِ عَبْدِ الدَّارِ ، وَكَانَ إِسْلَامُهُ يَوْمَ الْفَتْحِ ، وَكَانَ مِنَ الْمُؤَلَّفَةِ أَعْطَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِائَةَ بَعِيرٍ مِنْ غَنَائِمِ حُنَيْنٍ . ¤
محمد محی الدین
امام طبرانی بیان کرتے ہیں : سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بن خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی بن کلاب ان کی کنیت ابوخالد ہے ان کی والدہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا بنت زہیر بن حارث بن اسد ہیں اور ان کی والدہ سلمہ بنت عبد مناف بن عبدالدار ہیں ان صحابی نے فتح مکہ کے موقع پر اسلام قبول کیا تھا یہ مؤلفۃ القلوب میں سے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کے مال غنیمت میں سے ایک سو اونٹ انہیں عطا کیے تھے ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَسَمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ قَسْمًا عَلَى الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ ، فَوَجَدَتِ الْأَنْصَارُ فِي أَنْفُسِهَا ، فَقَالُوا : قَسَمَ فِيهِمْ ، فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ ، أَلَا تَرْضَوْنَ أَنْ تَذْهَبُوا بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَكُمْ ؟ " . قَالُوا : بَلَى . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حَفْصُ بْنُ عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، قَالَ ابْنُ الطَّهْرَانِيِّ : كَانَ ثِقَةً . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ حنین کا مال غنیمت مؤلفۃ القلوب کے درمیان تقسیم کر دیا ، تو انصار کو اس حوالے سے الجھن ہوئی ۔ انہوں نے یہ کہا: کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے درمیان ( مال غنیمت ) تقسیم کر دیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے انصار کے گروہ ! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم لوگ اپنے ساتھ اللہ کے رسول کو لے جاؤ تو انہوں نے عرض کی : جی ہاں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمر عدنی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ابن طہرانی کہتے ہیں یہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی حفص بن عمر عدنی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ابن طہرانی کہتے ہیں یہ ثقہ ہے ۔
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِوَفْدِ هَوَازِنَ بِحُنَيْنٍ ، وَسَأَلَهُمْ عَنْ مَالِكِ بْنِ عَوْفٍ النَّصْرِيِّ : " مَاذَا فَعَلَ مَالِكٌ ؟ " . قَالَ : هُوَ بِالطَّائِفِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَخْبِرُوا مَالِكًا أَنَّهُ إِنْ يَأْتِنِي مُسْلِمًا رَدَدْتُ إِلَيْهِ أَهْلَهُ وَمَالَهُ ، وَأَعْطَيْتُهُ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ " . فَأُتِيَ مَالِكٌ بِذَلِكَ ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّائِفِ ، وَكَانَ مَالِكٌ خَافَ ثَقِيفًا عَلَى نَفْسِهِ أَنْ يَعْلَمُوا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ قَالَ لَهُ مَا قَالَ ، فَيَحْبِسُوهُ ، فَأَمَرَ بِرَاحِلَةٍ لَهُ فَهُيِّئَتْ ، وَأَمَرَ بِفَرَسٍ لَهُ فَأُتِيَ بِهِ مِنَ الطَّائِفِ ، فَخَرَجَ لَيْلًا فَجَلَسَ عَلَى فَرَسِهِ فَلَحِقَ بِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَدْرَكَهُ بِالْجِعْرَانَةِ أَوْ مَكَّةَ ، فَرَدَّ عَلَيْهِ أَهْلَهُ وَمَالَهُ ، وَأَعْطَاهُ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن اسحاق بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین میں ہوازن قبیلے کے وفد سے فرمایا جب کہ ان لوگوں سے آپ نے مالک بن عوف نصری کے بارے میں دریافت کیا تھا کہ مالک کا کیا حال ہے ، تو انہوں نے بتایا : وہ طائف میں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ مالک کو یہ بتا دو کہ اگر وہ مسلمان ہو کر میرے پاس آ گیا تو میں اس کے اہلخانہ اور اس کا مال اسے واپس کر دوں گا اور اسے ایک سو اونٹ بھی دوں گا ، اس بات کی اطلاع مالک کو دی گئی ، تو وہ طائف سے نکل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے مالک کو اپنی ذات کے حوالے سے ثقیف قبیلے کے لوگوں سے اندیشہ تھا کہ وہ یہ بات جان چکے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں یہ بات کہی ہے ، تو کہیں وہ ان کو قید نہ کر لیں مالک نے اپنی سواری کے بارے میں حکم دیا وہ تیار کی گئی ۔ انہوں نے اپنے گھوڑے کے بارے میں حکم دیا وہ طائف سے ان کے پاس لایا گیا اور وہ رات کے وقت نکل آئے وہ اپنے گھوڑے پر بیٹھے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آ ملے وہ جعرانہ یا شاید مکہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچے تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے اہلخانہ اور ان کا مال انہیں واپس کر دیا ، اور انہیں ایک سو اونٹ بھی عطا کیے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُقَسِّمُ غَنَائِمَ حُنَيْنٍ وَجِبْرِيلُ إِلَى جَنْبِهِ ، فَجَاءَ مَلَكٌ فَقَالَ : إِنَّ رَبَّكَ يَأْمُرُكَ بِكَذَا وَكَذَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِجِبْرِيلَ : " تَعْرِفُهُ ؟ " ، فَقَالَ : هُوَ مَلَكٌ وَمَا كُلُّ مَلَائِكَةِ رَبِّكَ أَعْرِفُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَزَادَ : فَخَشِيَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَكُونَ شَيْطَانًا . ¤ وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْأَشْقَرُ وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ ، وَرُمِيَ بِالْكَذِبِ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . وَأَحَادِيثُ كَثِيرَةٌ فِي مَنَاقِبِ الْأَنْصَارِ فِي غَنَائِمِ حُنَيْنٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ حنین کا مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے ، تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پہلو میں موجود تھے ایک فرشتہ آیا اس نے کہا: آپ کے پروردگار نے آپ کو اس اس بات کا حکم دیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے دریافت کیا : کیا تم اسے پہنچانتے ہو ؟ انہوں نے عرض کی : یہ فرشتہ ہی ہے آپ کے پروردگار کے تمام فرشتوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ شیطان نہ ہو ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن اشقر ہے ، اور وہ منکر الحدیث ہے ، اس پر جھوٹا ہونے کا الزام ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ غزوہ حنین کے مال غنیمت کے بارے میں انصار کے مناقب سے متعلق باب میں بہت سی احادیث آئیں گی ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ شیطان نہ ہو ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی حسین بن حسن اشقر ہے ، اور وہ منکر الحدیث ہے ، اس پر جھوٹا ہونے کا الزام ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔ غزوہ حنین کے مال غنیمت کے بارے میں انصار کے مناقب سے متعلق باب میں بہت سی احادیث آئیں گی ۔