مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ باب: غزوہ حنین کا بیان
قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ : وَحَدَّثَنِي عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِيهِ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : بَيْنَمَا ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْ هَوَازِنَ صَاحِبُ الرَّايَةِ عَلَى جَمَلِهِ ذَلِكَ يَصْنَعُ مَا يَصْنَعُ ، إِذْ هَوَى لَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَرَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُرِيدَانِهِ ، قَالَ : فَيَأْتِيهِ عَلِيٌّ مِنْ خَلْفِهِ فَيَضْرِبُ عُرْقُوبَيِ الْجَمَلِ فَيُوقَعُ عَلَى عَجُزِهِ ، وَوَثَبَ الْأَنْصَارِيُّ عَلَى الرَّجُلِ فَضَرَبَهُ ضَرْبَةً أَطَنَّ قَدَمَهُ بِنِصْفِ سَاقِهِ فَانْعَجَفَ عَنْ رَحْلِهِ ، وَاجْتَلَدَ النَّاسُ ، فَوَاللَّهِ مَا رَجَعَتْ رَاجِعَةُ النَّاسِ [ مِنْ هَزِيمَتِهِمْ ] حَتَّى [ وَجَدُوا ] الْأَسَارَى مُكَتَّفِينَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى وَزَادَ : وَصَرَخَ حِينَ كَانَتِ الْهَزِيمَةُ كَلَدَةً ، وَكَانَ أَخَا صَفْوَانِ بْنِ أُمَيَّةَ يَوْمَئِذٍ مُشْرِكًا فِي الْمُدَّةِ الَّتِي ضَرَبَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَلَا بَطَلَ السِّحْرُ الْيَوْمَ ، فَقَالَ لَهُ صَفْوَانُ : اسْكُتْ فَضَّ اللَّهُ فَاكَ ، فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَرُبَّنِي رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَرُبَّنِي رَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ فِي رِوَايَةِ أَبِي يَعْلَى ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابن اسحاق بیان کرتے ہیں : عاصم بن عمر بن قتادہ نے عبدالرحمن بن جابر کے حوالے سے ان کے والد سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کیا ہے اس دوران ہوازن قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص تھا جو ان کا علم بردار تھا وہ اپنے اونٹ پر سوار تھا ، اور یہ یہ کر رہا تھا سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ اور انصار سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اس کی طرف بڑھے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پیچھے کی طرف سے اس کے پاس آئے ، اور انہوں نے اونٹ کی پچھلی ٹانگوں پر ضرب لگائی ، تو وہ پشت کے بل نیچے گر گیا انصاری شخص نے اس شخص پر اچھیل کر ضرب لگائی ، تو نصف پنڈلی کے پاس سے اس کا پاؤں کاٹ دیا وہ اپنے پالان سے نیچے گرا اور لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی اللہ کی قسم ابھی لوگ واپس نہیں آئے تھے کہ انہوں نے قیدیوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بندھے ہوئے پایا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں جب پسپائی ہو گئی ، تو کلدہ نے چیخ کر کہا: جو صفوان بن امیہ کا بھائی تھا ، اور اس وقت مشرک تھا ، اور یہ اس مدت میں تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے مقرر کی تھی اس نے کہا: آج جادو باطل ہو گیا تو صفوان نے اس سے کہا: تم خاموش ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تمہارا منہ بند کرے اللہ کی قسم قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص میری دیکھ بھال کرے یہ میرے نزدیک اس سے زیادہ پسندیدہ ہے کہ ہوازن قبیلے سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص میرا آقا بن جائے ۔
یہ روایت بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، جس نے سماع کی صراحت کی ہے ، اور یہ امام ابویعلیٰ کی روایت کے مطابق ہے ۔ امام أحمد کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔