حدیث نمبر: 10272
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْفِهْرِيِّ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي غَزْوَةِ حُنَيْنٍ فِي يَوْمٍ قَائِظٍ شَدِيدِ الْحَرِّ ، فَنَزَلْنَا تَحْتَ ظِلَالِ الشَّجَرِ ، فَلَمَّا زَالَتِ الشَّمْسُ لَبِسْتُ لَأْمَتِي ، وَرَكِبْتُ فَرَسِي ، فَأَتَيْتُهُ فِي فُسْطَاطِهِ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : " وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ " . فَقُلْتُ : حَانَ الرَّوَاحُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " فَنَادِ بِلَالًا " ، فَثَارَ بِلَالٌ مِنْ تَحْتِ شَجَرَةٍ كَأَنَّ ظِلَّهُ ظِلُّ طَائِرٍ ، فَقَالَ : لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ ، وَأَنَا فِدَاؤُكَ ، فَقَالَ : " أَسْرِجْ لِي فَرَسِي " [ فَأَخْرَجَ ] سَرْجًا دَفَّتَاهُ مِنْ لِيفٍ ، لَيْسَ فِيهِ أَشَرٌ وَلَا بَطَرٌ " . ¤ فَأَسْرَجَ لَهُ ثُمَّ رَكِبَ وَمَضَيْنَا عَشِيَّتَنَا وَلَيْلَتَنَا ، فَلَمَّا تَشَامَّتِ الْخَيْلَانِ وَلَّى الْمُسْلِمُونَ مُدْبِرِينَ ، كَمَا قَالَ اللَّهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عِبَادَ اللَّهِ ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ " . وَاقْتَحَمَ عَنْ فَرَسِهِ فَنَزَلَ فَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى . ¤ قَالَ : فَحَدَّثَنِي مَنْ هُوَ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنِّي أَنَّهُ ضَرَبَ وُجُوهَهُمْ ، وَقَالَ : " شَاهَتِ الْوُجُوهُ " . فَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ . ¤ قَالَ : فَحَدَّثَنِي أَبْنَاؤُهُمْ أَنَّ آبَاءَهُمْ ، قَالُوا : فَمَا بَقِيَ مِنَّا يَوْمَئِذٍ أَحَدٌ إِلَّا امْتَلَأَتْ عَيْنَاهُ وَفَمُهُ تُرَابًا ، وَسَمِعْنَا صَلْصَلَةً مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ كَإِمْرَارِ الْحَدِيدِ عَلَى الطَّسْتِ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ إِلَى قَوْلِهِ : " لَيْسَ فِيهِ أَشَرٌ وَلَا بَطَرٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوعبدالرحمن فہری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے وہ ایک شدید گرم دن تھا ہم نے درختوں کے نیچے پڑاؤ کیا ہوا تھا دھوپ مسلسل میرے ہتھیاروں پر پڑ رہی تھی میں اپنے گھوڑے پر سوار ہوا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخصوص خیمے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے آپ کو سلام کیا آپ نے ارشاد فرمایا : تم پر بھی سلام ہو ، اور اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! روانگی کا وقت ہو چلا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلال کو آواز دو تو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ ایک ایسے درخت کے نیچے سے نکل کر آئے جس کا سایہ پرندے کے سائے کی مانند تھا انہوں نے عرض کی : میں حاضر ہوں ۔ میں آپ پر فدا ہو جاؤں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے گھوڑے پر میرے لئے زین رکھو تو انہوں نے ایک ایسی زین نکالی جس کے دونوں کناروں کے درمیان پتے بھرے ہوئے تھے ، آپ میں کوئی تکبر اور خود پسندی نہیں تھی انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے زین رکھ دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے اس شام اور اس رات ہم چلتے رہے ، یہاں تک کہ جب دونوں طرف کے شہسوار ایک دوسرے کے مد مقابل آئے ، تو مسلمان پیٹھ پھیر کر مڑ گئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ کے بندو میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھوڑے سے اترے آپ نے مٹھی بھر کنکریاں لیں مجھے اس شخص نے یہ بات بیان کی ہے ، جو میرے سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ کنکریاں دشمن کی طرف پھینکیں اور ارشاد فرمایا : ان کے چہرے قبیح ہو جائیں تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو پسپا کر دیا ۔ راوی بیان کرتے ہیں ؟ ان لوگوں کے بیٹوں نے ہمیں یہ بات بتائی ہے کہ ان کے آباء یہ بات بیان کرتے تھے کہ اس دن ہم میں سے ہر ایک کی آنکھوں اور منہ میں مٹی بھر گئی تھی اور ہمیں آسمان سے زمین کی طرف آنے والی ایک آواز یوں سنائی دی جیسے کسی لوہے کو طشت پر پھیرا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے یہ روایت ان الفاظ تک نقل کی ہے : «ليس فيه الشر ولا بطر» ( آپ میں کوئی تکبر اور خود پسندی نہیں تھی ) ۔
یہ روایت امام بزار اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10272
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1833)»