حدیث نمبر: 10284
وَعَنْ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ ، وَاللَّهِ مَا أَخْرَجَنِي الْإِسْلَامُ ، وَلَا مَعْرِفَةٌ بِهِ ، وَلَكِنِّي أَنِفْتُ أَنْ تَظْهَرَ هَوَازِنُ عَلَى قُرَيْشٍ ، فَقُلْتُ وَأَنَا وَاقِفٌ مَعَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَرَى خَيْلًا بُلْقًا قَالَ : " يَا شَيْبَةُ ، إِنَّهُ لَا يَرَاهَا إِلَّا كَافِرٌ " . ¤ فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى صَدْرِي ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اهْدِ شَيْبَةَ " ثُمَّ ضَرَبَهَا ثَانِيَةً ثُمَّ قَالَ : " اللَّهُمَّ اهْدِ شَيْبَةَ " فَوَاللَّهِ مَا رَفَعَ يَدَهُ مِنَ الثَّالِثَةِ مِنْ صَدْرِي حَتَّى مَا كَانَ أَحَدٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُ . ¤ قَالَ : فَالْتَقَى النَّاسُ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى نَاقَةٍ أَوْ بَغْلَةٍ ، وَعُمَرُ آخِذٌ بِلِجَامِهَا ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ آخِذٌ بِثَغْرِ دَابَّتِهِ ، فَانْهَزَمَ الْمُسْلِمُونَ ، فَنَادَى الْعَبَّاسُ بِصَوْتٍ لَهُ جَهْرٌ فَقَالَ : أَيْنَ الْمُهَاجِرُونَ الْأَوَّلُونَ ؟ أَيْنَ أَصْحَابُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ؟ وَالنَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ قُدُمًا : أَنَا النَّبِيُّ لَا كَذِبْ أَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ " . ¤ فَعَطَفَ الْمُسْلِمُونَ فَاصْطَلَمُوا بِالسُّيُوفِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْآنَ حَمِيَ الْوَطِيسُ " قَالَ : وَهَزَمَ اللَّهُ الْمُشْرِكِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ جَابِرٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

مصعب بن شیبہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلا اللہ کی قسم نہ تو اسلام نے مجھے نکالا تھا ، اور نہ ہی اس کی معرفت نے مجھے نکلنے پر مجبور کیا تھا لیکن میری یہ خواہش تھی کہ ہوازن قریش پر غالب آ جائیں میں نے کہا: میں اس وقت آپ کے ساتھ تھا یا رسول اللہ ! میں نے ابلق گھوڑا دیکھا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے شیبہ اسے کوئی کافر ہی دیکھ سکتا ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مارا اور پھر دعا کی اے اللہ تو شیبہ کو ہدایت نصیب کر پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری مرتبہ اسے مارا اور فرمایا : اے اللہ تو شیبہ کو ہدایت نصیب کر تو اللہ کی قسم تیسری مرتبہ ابھی آپ نے اپنا ہاتھ میرے سینے سے بلند نہیں کیا تھا کہ اللہ کی مخلوق میں کوئی بھی میرے نزدیک آپ سے زیادہ محبوب نہیں تھا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب دونوں فریقوں کا مقابلہ ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اونٹنی پر یا شاید خچر پر سوار تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی لگام پکڑی ہوئی تھی سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے اس جانور کا منہ پکڑا ہوا تھا مسلمان پسپا ہو گئے ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے بلند آواز میں کہا: مہاجرین اولین کہاں ہیں ؟ سورت بقرہ والے لوگ کہاں ہیں ؟ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما رہے تھے آگے بڑھو ۔ میں نبی ہوں اس میں کوئی جھوٹ نہیں ہے ، اور میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں تو مسلمان پلٹ آئے ، اور انہوں نے اپنی تلواریں نکال لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اب بھٹی گرم ہو گئی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو پسپا کر دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن جابر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10284
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7191)»