حدیث نمبر: 10265
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ : لَمَّا اسْتَقْبَلْنَا وَادِيَ حُنَيْنٍ قَالَ : انْحَدَرْنَا فِي وَادٍ مِنْ أَوْدِيَةِ تِهَامَةَ أَجْوَفَ حَطُوطٍ إِنَّمَا نَنْحَدِرُ فِيهِ انْحِدَارًا ، قَالَ : وَفِي عَمَايَةِ الصُّبْحِ ، وَقَدْ كَانَ الْقَوْمُ قَدْ كَمَنُوا لَنَا فِي شِعَابِهِ ، وَفِي أَجْنَابِهِ ، وَمَضَائِقِهِ ، قَدْ أَجْمَعُوا وَتَهَيَّئُوا وَأَعَدُّوا . ¤ قَالَ : فَوَاللَّهِ مَا رَاعَنَا وَنَحْنُ مُنْحَطُّونَ إِلَّا الْكَتَائِبُ قَدْ شَدَّتْ عَلَيْنَا شَدَّةَ رَجُلٍ وَاحِدٍ ، وَانْهَزَمَ النَّاسُ رَاجِعِينَ فَانْشَمَرُوا لَا يَلْوِي أَحَدٌ عَلَى أَحَدٍ . ¤ وَانْحَازَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ الْيَمِينِ ، ثُمَّ قَالَ : " إِلَيَّ أَيُّهَا النَّاسُ ، إِلَّا أَنَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَهْطًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ، وَأَهْلِ بَيْتِهِ غَيْرَ كَثِيرٍ . ¤ وَفِي مَنْ ثَبَتَ مَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ ، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ ، وَمِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَابْنُهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ ، وَرَبِيعَةُ بْنُ الْحَارِثِ ، وَأَيْمَنُ بْنُ عُبَيْدٍ وَهُوَ ابْنُ أُمِّ أَيْمَنَ ، وَأُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَلَيْهِمَا السَّلَامُ . ¤ قَالَ : وَرَجُلٌ مِنْ هَوَازِنَ عَلَى جَمَلٍ لَهُ أَحْمَرَ ، فِي يَدِهِ رَايَةٌ لَهُ سَوْدَاءُ فِي رَأْسِ رُمْحٍ لَهُ طَوِيلٍ أَمَامَ النَّاسِ وَهَوَازِنُ خَلْفَهُ ، فَإِذَا أَدْرَكَ طَعَنَ بِرُمْحِهِ ، فَإِذَا فَاتَهُ النَّاسُ رَفَعَ لِمَنْ وَرَاءَهُ فَاتَّبَعُوهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب ہم لوگ وادی حنین میں آئے ، تو ہم تہامہ کی وادیوں میں سے ایک وادی کے اندر آئے تھے جو درمیان میں تھی اور اس میں نیچے کی طرف آنا پڑتا تھا انہوں نے یہ بھی بتایا : اس وقت صبح کا اندھیرا پایا جاتا تھا ، اور لوگوں نے اس گھاٹی کے اندر ہمارے لئے کمین گاہیں بنا لی ہوئی تھیں اس کے اطراف میں اور اس کی تنگ جگہ پر وہ لوگ جمع تھے وہ اکٹھے ہو گئے تھے وہ تیار تھے راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم ہمیں پتہ بھی نہیں چلا ہم نیچے کی طرف اتر رہے تھے اسی دوران کچھ دستوں نے ہم پر حملہ کر دیا ، تو لوگ واپس پلٹے وہ لوگ الٹے قدموں واپس آئے تھے کوئی بھی مڑا نہیں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دائیں طرف ہو گئے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : میری طرف آؤ اے لوگو میری طرف آؤ اے لوگو میں اللہ کا رسول ہوں ۔ میں محمد بن عبداللہ ہوں راوی کہتے ہیں : کوئی معاملہ نہیں ہوا ، یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ گھتم گتھا ہو گئے ، اور لوگ ادھر ادھر ہو گئے ، البتہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مہاجرین انصار اور آپ کے گھر والوں سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد تھے جن کی تعداد زیادہ نہیں تھی جو لوگ آپ کے ساتھ ثابت قدم رہے ان میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تھے آپ کے اہل بیت میں سے سیدنا علی بن ابوطالب رضی الله عنہ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ ان کے صاحبزادے سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ سیدنا ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ سیدنا ایمن بن عبید رضی اللہ عنہ جو سیدہ ام ایمن رضی اللہ عنہا کے صاحبزادے ہیں ، اور سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما تھے ۔ راوی کہتے ہیں : ہوازن قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اپنے سرخ اونٹ پر سوار تھا اس کے ہاتھ میں سیاہ رنگ کا جھنڈا تھا ، اور اس کے نیزے کا سرا لمبا تھا وہ لوگوں کے سامنے تھا ہوازن اس کے پیچھے تھے جب اس تک کوئی پہنچتا تھا تو وہ اپنے نیزے کے ذریعے حملہ کر دیتا تھا ، اور جب لوگ اس سے دور ہوتے تھے ، تو وہ اس کو اپنے پیچھے والوں کے لئے بلند کر لیتا تھا ، اور وہ اس کے پیچھے آ جاتے تھے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10265
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1834) أخرجه ابو يعلى فى المسند (1862) اخرجه احمد فى المسند (376/3)»