حدیث نمبر: 10227
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غَضِبَ فِيمَا كَانَ مِنْ شَأْنِ بَنِي كَعْبٍ غَضَبًا لَمْ أَرَهُ غَضِبَهُ مُنْذُ زَمَانٍ ، وَقَالَ : " لَا نَصَرَنِي اللَّهُ إِنْ لَمْ أَنْصُرْ بَنِي كَعْبٍ " . قَالَتْ : وَقَالَ لِي : " قُولِي لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ يَتَجَهَّزَا لِهَذَا الْغَزْوِ " . ¤ قَالَ : فَجَاءَا إِلَى عَائِشَةَ ، فَقَالَا : أَيْنَ يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : فَقَالَتْ : لَقَدْ رَأَيْتُهُ غَضِبَ فِيمَا كَانَ مِنْ شَأْنِ بَنِي كَعْبٍ غَضَبًا لَمْ أَرَهُ غَضِبَهُ مُنْذُ زَمَانٍ مِنَ الدَّهْرِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى عَنْ حِزَامِ بْنِ هِشَامِ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْهَا ، وَقَدْ وَثَّقَهُمَا ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ایک مرتبہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ بنو کعب کے معاملے میں غصے میں آ گئے ، اور اتنے شدید غصے میں آئے کہ میں نے ایک طویل عرصے سے کبھی آپ کو اتنے غصے میں نہیں دیکھا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ میری مدد نہ کرے اگر میں بنو کعب کی مدد نہیں کرتا“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا ابوبکر اور عمر سے کہہ دو کہ وہ اس جنگ کے لئے تیاری کر لیں راوی بیان کرتے ہیں : یہ دونوں صاحبان سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے ، اور بولے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں کا ارادہ رکھتے ہیں ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بنو کعب کے معاملے میں اتنے غصے میں دیکھا ہے کہ میں نے ایک طویل عرصے سے آپ کو کبھی اتنے غصے میں نہیں دیکھا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے حرام بن ہشام بن حبیش کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے ابن حبان نے ان دونوں کو ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے حرام بن ہشام بن حبیش کے حوالے سے ان کے والد کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کی ہے ابن حبان نے ان دونوں کو ثقہ قرار دیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10228
وَعَنْ ذِي الْجَوْشَنِ الضَّبَابِيِّ ، قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعْدَ أَنْ فَرَغَ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ بِابْنِ فَرَسٍ [ لِي ] يُقَالُ لَهَا : الْقَرْحَاءُ ، فَقُلْتُ : يَا مُحَمَّدُ ، قَدْ جِئْتُكَ بِابْنِ الْقَرْحَاءِ لِتَتَّخِذَهُ ، قَالَ : " لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ ، وَإِنْ أَرَدْتَ أَنْ أَقِيضُكَ بِهَا الْمُخْتَارَةَ مِنْ دُرُوعِ بَدْرٍ فَعَلْتُ " . ¤ قَالَ : مَا كُنْتُ لِأَقِيضَهُ الْيَوْمَ بِغُرَّةٍ ، قَالَ : " لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ " ثُمَّ قَالَ : " يَا ذَا الْجَوْشَنِ أَلَا تُسْلِمُ فَتَكُونَ مِنْ أَوَّلِ هَذَا الْأَمْرِ ؟ " فَقُلْتُ : لَا ، قَالَ : " لِمَ ؟ " قَالَ : قُلْتُ : رَأَيْتُ قَوْمَكَ قَدْ وَلِعُوا بِكَ ، قَالَ : " كَيْفَ بَلَغَكَ عَنْ مَصَارِعِهِمْ بِبَدْرٍ ؟ " ، قُلْتُ : قَدْ بَلَغَنِي ، قَالَ : " فَأَنَّا نَهْدِي لَكَ " ، قُلْتُ : إِنْ تَغْلِبْ عَلَى الْكَعْبَةِ وَتَقْطُنْهَا ، قَالَ : " لَعَلَّكَ إِنْ عِشْتَ تَرَى ذَلِكَ " . ¤ ثُمَّ قَالَ : " يَا فُلَانُ ، خُذْ حَقِيبَةَ الرَّجُلِ فَزَوِّدْهُ مِنَ الْعَجْوَةِ " فَلَمَّا أَدْبَرْتُ ، قَالَ : " أَمَا إِنَّهُ مِنْ خَيْرِ فُرْسَانِ بَنِي عَامِرٍ " قَالَ : فَوَاللَّهِ إِنِّي بِأَهْلِي بِالْغَوْرِ إِذْ أَقْبَلَ رَاكِبٌ ، فَقُلْتُ : مَا فَعَلَ النَّاسُ ؟ قَالَ : وَاللَّهِ قَدْ غَلَبَ مُحَمَّدٌ عَلَى الْكَعْبَةِ وَقَطَنَهَا ، قُلْتُ : هَبِلَتْنِي أُمِّي ، وَلَوْ أَسْلَمْتُ يَوْمَئِذٍ ثُمَّ أَسْأَلُهُ الْحِيرَةَ لَأَقْطَعَنِيهَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ذوالجوشن ضبابی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل بدر سے فارغ ہونے کے بعد میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اپنے گھوڑے کے بچے کو لے کے آیا جس کا نام قرحہ تھا میں نے کہا: اے محمد ! میں آپ کے پاس قرحہ کے بچے کو لے کے آیا ہوں تاکہ آپ اسے لے لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے اگر تم چاہو ، تو میں تمہیں اس کی جگہ بدر کی زرہوں میں سے کوئی منتخب زرہ ادا کر دیتا ہوں ، اس نے کہا: میں آج کوئی چیز جرمانے کے طور پر نہیں لوں گا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے ذوالجوشن تم اسلام کیوں نہیں قبول نہیں کر لیتے ہیں ؟ تاکہ تم اس معاملے کے آغاز میں شریک ہونے والے بن جاؤ میں نے کہا: جی نہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : وہ کیوں میں نے کہا: میں نے آپ کی قوم کو دیکھا ہے کہ وہ آپ سے اختلاف کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بدر میں ان کا جو حال ہوا ہے اس کے بارے میں تمہیں پتہ نہیں چلا میں نے کہا: مجھے اس کے بارے میں پتہ چلا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہم تمہیں ہدایت دیں گے میں نے کہا: اگر آپ خانہ کعبہ پر غالب آ گئے اور آپ نے اس کو اپنا وطن بنا لیا ( یا اس جگہ پر آپ کو تسلط حاصل ہو گیا ) ، تو ٹھیک ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر تم زندہ رہے ، تو تم یہ چیز بھی دیکھ لو گے پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے فلاں تم اس شخص کی تھیلی پکڑو اور اس میں عجوہ کھجوریں زاد راہ کے طور پر ڈال دو جب میں واپس آ گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ بنو عامر کے شہسواروں میں بہتر افراد میں سے ایک ہے ۔ راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم میں غور نامی جگہ پر اپنے گھر والوں میں موجود رہا اسی دوران ایک سوار آیا میں نے دریافت کیا : لوگوں کا کیا معاملہ ہے ۔ انہوں نے بتایا : اللہ کی قسم سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کعبہ پر غالب آ گئے ہیں اور وہاں ان کا تسلط قائم ہو گیا ہے ، تو میں نے کہا: میری ماں مجھے کھو دے اگر میں نے اس وقت اسلام قبول کر لیا ہوتا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ” خیرہ “ نامی جگہ مانگتا تو آپ نے مجھے وہ بھی جاگیر کے طور پر عطا کر دینی تھی ۔
حدیث نمبر: 10229
وَفِي رِوَايَةٍ : فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا يَمْنَعُكَ مِنْ ذَلِكَ ؟ " قَالَ : رَأَيْتُ قَوْمَكَ قَدْ كَذَّبُوكَ وَأَخْرَجُوكَ وَقَاتَلُوكَ ، فَأَنْظُرُ مَاذَا تَصْنَعُ ، فَإِنْ ظَهَرْتَ عَلَيْهِمْ آمَنْتُ بِكَ وَاتَّبَعْتُكَ ، وَإِنْ ظَهَرُوا عَلَيْكَ لَمْ أَتَّبِعْكَ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ بَعْضَهُ . رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ وَأَبُوهُ ، وَلَمْ يَسُقِ الْمَتْنَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تمہیں اس بات سے کیا چیز روکتی ہے ، تو انہوں نے جواب دیا میں نے آپ کی قوم کو دیکھا ہے کہ انہوں نے آپ کو جھٹلایا انہوں نے آپ کو نکلنے پر مجبور کیا ۔ انہوں نے آپ کے ساتھ لڑائی کی تو میں یہ دیکھتا ہوں کہ ابھی آپ کا کیا بنتا ہے اگر آپ ان پر غالب آ گئے ، تو میں آپ پر ایمان لے آؤں گا اور آپ کی پیروی کر لوں گا اور اگر وہ لوگ آپ پر غالب آ گئے ، تو میں آپ کی پیروی نہیں کروں گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت کا کچھ حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد اور ان کے والد نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے متن کا سیاق نقل نہیں کیا ہے
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد اور ان کے والد نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے متن کا سیاق نقل نہیں کیا ہے
یہ روایت امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10230
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ قَائِلَ خُزَاعَةَ قَالَ : ¤ اللَّهُمَّ إِنِّي نَاشِدٌ مُحَمَّدًا حِلْفَ أَبِينَا وَأَبِيهِ الْأَتْلَدَا انْصُرْ هَدَاكَ اللَّهُ نَصْرًا اعْتَدَى ¤ وَادْعُ عِبَادَ اللَّهِ يَأْتُوا مَدَدَا رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : خزاعہ کے قائد نے یہ اشعار کہے : ” اے اللہ ! میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ( خدا کا ) واسطہ دیتا ہوں جو قدیم زمانے سے میرے اور ان کے آباء کے درمیان حلف ( چلا آ رہا ہے ) اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت پر ثابت قدم رکھے آپ ایسی مدد کریں ، جو سب سے مضبوط ہو آپ اللہ کے بندوں کو بلائیں ، وہ مدد ( یا ) کمک کے طور پر آ جائیں گے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن عمرو کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف محمد بن عمرو کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 10231
وَعَنْ عَلِيٍّ قَالَ : لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ ، أَرْسَلَ إِلَى نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِهِ أَنَّهُ يُرِيدُ مَكَّةَ فِيهِمْ حَاطِبُ بْنُ أَبِي بَلْتَعَةَ ، وَفَشَا فِي النَّاسِ أَنَّهُ يُرِيدُ حُنَيْنًا . ¤ قَالَ : فَكَتَبَ حَاطِبٌ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُرِيدُكُمْ . ¤ قَالَ : فَأُخْبِرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَأَبَا مَرْثَدٍ الْغَنَوِيَّ وَلَيْسَ مَعَنَا رَجُلٌ إِلَّا وَمَعَهُ فَرَسٌ ، فَقَالَ : " ائْتُوا رَوْضَةَ الْخَاخِ ; فَإِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بِهَا امْرَأَةً وَمَعَهَا كِتَابٌ فَخُذْهُ مِنْهَا " . ¤ قَالَ : فَانْطَلَقْنَا حَتَّى رَأَيْنَاهَا بِالْمَكَانِ الَّذِي ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْنَا لَهَا : هَاتِي الْكِتَابَ . فَقَالَتْ : مَا مَعِي كِتَابٌ . قَالَ : فَوَضَعْنَا مَتَاعَهَا فَفَتَّشْنَاهَا فَلَمْ نَجِدْهُ فِي مَتَاعِهَا ، فَقَالَ أَبُو مَرْثَدٍ : فَلَعَلَّهُ أَنْ لَا يَكُونَ مَعَهَا كِتَابٌ ، فَقُلْنَا : مَا كَذَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا كَذَبْنَا ، فَقُلْنَا لَهَا : لَتُخْرِجِنَّهُ أَوْ لَنُعَرِّيَنَّكِ . فَقَالَتْ : أَمَا تَتَّقُونَ اللَّهَ ، أَمَا أَنْتُمْ مُسْلِمُونَ ؟ ! فَقُلْنَا : لَتُخْرِجِنَّهُ أَوْ لَنُعَرِّيَنَّكِ . ¤ قَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ : فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ حُجْزَتِهَا . وَقَالَ حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ : مِنْ قُبُلِهَا . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ الْحَارِثُ الْأَعْوَرُ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کی طرف جانے کا ارادہ کیا ، تو آپ نے اپنے اصحاب میں سے کچھ افراد کو یہ پیغام دیا کہ آپ مکہ کی طرف جانا چاہتے ہیں ان اصحاب میں ایک سیدنا حاطب بن ابوبلتعہ رضی اللہ عنہ بھی تھے لوگوں کے سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ چیز ظاہر کی تھی کہ آپ حنین کی طرف جانا چاہتے ہیں راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا حاطب رضی اللہ عنہ نے اہل مکہ کو خط لکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تمہاری طرف آنے کا ارادہ رکھتے ہیں راوی بیان کرتے ہیں : تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں پتہ چل گیا آپ نے مجھے اور ابومرثد غنوی کو بھیجا ہمارے ساتھ جو شخص بھی تھا اس کے ساتھ گھوڑا بھی موجود تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم خاخ نامی باغ میں جاؤ وہاں تمہاری ملاقات ایک عورت سے ہو گی اس کے پاس ایک مکتوب ہو گا تم وہ اس سے لے لینا راوی کہتے ہیں : ہم لوگ روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ ہم نے اس مقام پر اس عورت کو دیکھا جس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ہم نے اس عورت سے کہا: وہ مکتوب ہمیں دو اس نے کہا: میرے پاس کوئی مکتوب نہیں ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہم نے اس عورت کا سامان اتروایا اس کی تلاشی لی لیکن ہمیں اس کے سامان میں وہ مکتوب نہیں ملا ابومرثد نے کہا: ہو سکتا ہے کہ اس عورت کے پاس مکتوب نہ ہو ، تو ہم نے کہا: اللہ کے رسول نے غلط بیانی نہیں کی اور نہ ہی ہمارے ساتھ غلط بیانی کی گئی ہے ہم نے اس عورت سے کہا: یا تو تم اس مکتوب کو نکال دو ورنہ ہم تمہاری جامہ تلاشی لیں گے اس عورت نے کہا: کیا تم لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے نہیں ہو کیا تم لوگ مسلمان نہیں ہو ؟ ہم نے کہا: تم یا تو اسے نکال دو یا ہم تمہاری جامہ تلاشی لیں گے عمرو بن مرہ نامی نے یہاں یہ الفاظ نقل کیے ہیں کہ اس عورت نے اپنے جوڑے میں سے وہ نکال دیا ۔ حبیب بن ابوثابت نامی راوی نے یہاں یہ الفاظ نقل کیے ہیں اس نے اپنے جسم کے آگے والے حصے سے اسے نکال دیا اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت “ صحیح “ میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت “ صحیح “ میں اس سیاق کے بغیر مذکور ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی حارث اعور ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10232
وَعَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَاتَ عِنْدَهَا فِي لَيْلَةٍ ، فَقَامَ يَتَوَضَّأُ لِلصَّلَاةِ ، قَالَتْ : فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِهِ : " لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ " ثَلَاثًا " نُصِرْتَ نُصِرْتَ " ثَلَاثًا . ¤ فَلَمَّا خَرَجَ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، سَمِعْتُكَ تَقُولُ فِي مُتَوَضَّئِكَ : " لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ " ثَلَاثًا " نُصِرْتَ نُصِرْتَ " ثَلَاثًا كَأَنَّكَ تُكَلِّمُ إِنْسَانًا ، وَهَلْ كَانَ مَعَكَ أَحَدٌ ؟ قَالَ : " هَذَا رَاجِزُ بَنِي كَعْبٍ يَسْتَصْرِخُنِي ، وَيَزْعُمُ أَنَّ قُرَيْشًا أَعَانَتْ عَلَيْهِمْ بَكْرَ بْنَ وَائِلٍ " . ¤ ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ عَائِشَةَ أَنْ تُجَهِّزَهُ وَلَا تُعْلِمَ أَحَدًا ، قَالَتْ : فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو بَكْرٍ ، فَقَالَ : يَا بُنَيَّةُ ، مَا هَذَا الْجِهَازُ ؟ فَقَالَتْ : وَاللَّهِ مَا أَدْرِي ، فَقَالَ : مَا هَذَا بِزَمَانِ غَزْوَةِ بَنِي الْأَصْفَرِ ، فَأَيْنَ يُرِيدُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَتْ : وَاللَّهِ لَا عِلْمَ لِي ، قَالَتْ : فَأَقَمْنَا ثَلَاثًا ، ثُمَّ صَلَّى الصُّبْحَ بِالنَّاسِ ، فَسَمِعْتُ الرَّاجِزَ يُنْشِدُ : ¤ يَا رَبِّ إِنِّي نَاشِدٌ مُحَمَّدَا حِلْفَ أَبِينَا وَأَبِيهِ الْأَتْلَدَا إِنَّا وَلَدْنَاكَ فَكُنْتَ وَلَدَا ¤ ثُمَّ أَسْلَمْنَا فَلَمْ نَنْزِعْ يَدَا إِنَّ قُرَيْشًا أَخْلَفُوكَ الْمَوْعِدَا ¤ وَنَقَضُوا مِيثَاقَكَ الْمُؤَكَّدَا وَزَعَمُوا أَنْ لَسْتَ تَدْعُو أَحَدَا ¤ فَانْصُرْ هَدَاكَ اللَّهُ نَصْرًا أَيَّدَا وَادْعُوَا عِبَادَ اللَّهِ يَأْتُوا مَدَدَا ¤ فِيهِمْ رَسُولُ اللَّهِ قَدْ تَجَرَّدَا [ أَبْيَضَ مِثْلَ الْبَدْرِ يُنْحِي صُعُدَا ] ¤ إِنْ سِيمَ خَسْفًا وَجْهُهُ تَرَبَّدَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ " ثَلَاثًا " نُصِرْتَ نُصِرْتَ " ثَلَاثًا ، ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا كَانَ بِالرَّوْحَاءِ نَظَرَ إِلَى سَحَابٍ مُنْتَصِبٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ هَذَا السَّحَابَ لَيَنْصَبُّ بِنَصْرِ بَنِي كَعْبٍ " . ¤ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ عَمْرٍو ، أَخُو بَنِي كَعْبِ بْنِ عَمْرٍو : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَنَصْرُ بَنِي عَدِيٍّ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " [ تَرِبَ نَحْرُكَ ] وَهَلْ عَدِيٌّ إِلَّا كَعْبٌ ، وَكَعْبٌ إِلَّا عَدِيٌّ ؟ " . فَاسْتُشْهِدَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فِي ذَلِكَ السَّفَرِ ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اللَّهُمَّ عَمِّ عَلَيْهِمْ خَبَرَنَا حَتَّى نَأْخُذَهُمْ بَغْتَةً " . ¤ ثُمَّ خَرَجَ حَتَّى نَزَلَ بِمَرٍّ ، وَكَانَ أَبُو سُفْيَانَ ، وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ ، وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ خَرَجُوا تِلْكَ اللَّيْلَةَ حَتَّى أَشْرَفُوا عَلَى مَرٍّ ، فَنَظَرَ أَبُو سُفْيَانَ إِلَى النِّيرَانِ فَقَالَ : يَا بُدَيْلُ ، هَذِهِ نَارُ بَنِي كَعْبٍ أَهْلِكَ . فَقَالَ : جَاشَتْهَا إِلَيْكَ الْحَرْبُ . ¤ فَأَخَذَتْهُمْ مُزَيْنَةُ تِلْكَ اللَّيْلَةَ - وَكَانَتْ عَلَيْهِمُ الْحِرَاسَةُ - فَسَأَلُوا أَنْ يَذْهَبُوا بِهِمْ إِلَى الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَذَهَبُوا بِهِمْ فَسَأَلَهُ أَبُو سُفْيَانَ أَنْ يَسْتَأْذِنَ لَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَخَرَجَ بِهِمْ حَتَّى دَخَلَ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَأَلَهُ أَنْ يُؤَمِّنَ لَهُ مَنْ أَمَّنَ ، فَقَالَ : " قَدْ أَمَّنْتُ مَنْ أَمَّنْتَ مَا خَلَا أَبَا سُفْيَانَ " . فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَا تَحْجُرْ عَلَيَّ . فَقَالَ : " مَنْ أَمَّنْتَ فَهُوَ آمِنٌ " . ¤ فَذَهَبَ بِهِمُ الْعَبَّاسُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ خَرَجَ بِهِمْ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَذْهَبَ ، فَقَالَ : " أَسَفِرُوا " . ¤ وَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَتَوَضَّأُ ، وَابْتَدَرَ الْمُسْلِمُونَ وَضَوْءَهُ يَنْتَضِحُونَهُ فِي وُجُوهِهِمْ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : يَا أَبَا الْفَضْلِ ، لَقَدْ أَصْبَحَ مُلْكُ ابْنِ أَخِيكَ عَظِيمًا ، فَقَالَ : لَيْسَ بِمُلْكٍ وَلَكِنَّهَا النُّبُوَّةُ ، وَفِي ذَلِكَ يَرْغَبُونَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ نَضْلَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں ٹھہرے پھر آپ نماز کے لئے اٹھ کر وضو کرنے لگے ، تو سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے آپ کو وضو کرنے کے دوران یہ کہتے ہوئے سنا میں حاضر ہوں ۔ میں حاضر ہوں یہ بات آپ نے تین مرتبہ کہی پھر تین مرتبہ یہ کلمات کہے تمہاری مدد کر دی گئی تمہاری مدد کر دی گئی جب آپ تشریف لائے ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے آپ کو وضو کرنے کے دوران تین مرتبہ یہ کہتے ہوئے سنا میں حاضر ہوں ، میں حاضر ہوں ، اور تین مرتبہ یہ کہتے ہوئے سنا تمہاری مدد کر دی گئی تمہاری مدد کر دی گئی ، تو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے آپ کسی انسان کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں کیا آپ کے ساتھ کوئی تھا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : بنو کعب سے تعلق رکھنے والا رجز پڑھنے والا شخص مجھے مدد کے لئے پکار رہا تھا اس کا یہ کہنا تھا کہ قریش نے ان لوگوں کے خلاف بکر بن وائل کی مدد کی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ ہدایت کی کہ وہ ان کے لئے سامان تیار کریں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو کسی بات کا علم نہیں تھا وہ بیان کرتی ہیں ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے ، اور بولے : اے میری بیٹی یہ تیاری کس سلسلے میں ہے ، تو انہوں نے عرض کی : اللہ کی قسم مجھے نہیں معلوم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ بنو اصفر کے ساتھ جنگ کرنے کا زمانہ بھی نہیں ہے ، تو پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کہاں کا ارادہ رکھتے ہیں ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اللہ کی قسم مجھے اس کا علم نہیں ہے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں پھر ہم تین دن تک ٹھہرے رہے پھر ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی ، تو میں نے ایک رجز پڑھنے والے کو یہ اشعار پڑھتے ہوئے سنا ” اے اللہ ! میں سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ( خدا کا واسطہ دیتا ہوں جو قدیم زمانے سے میرے اور ان کے آباء کے درمیان حلف ( چلا آ رہا ہے ) ہم نے آپ کو جنم دیا تو آپ کا جنم ہوا ، پھر ہم نے اسلا قبول کر لیا تو آپ نے ہاتھ نہیں کھینچا ، قریش نے آپ کے ساتھ عہد شکنی کی ہے ، اور آپ کے ساتھ کیے ہوئے مضبوط معاہدے کو توڑ دیا ہے ، ان کا یہ خیال ہے کہ آپ کسی کو ( قریش کے خلاف ) نہیں بلائیں گے ، اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت پر ثابت قدم رکھے آپ ایسی مدد کریں ، جو سب سے مضبوط ہو آپ اللہ کے بندوں کو بلائیں ، وہ مدد ( یا ) کمک کے طور پر آ جائیں گے ان لوگوں کے درمیان اللہ کے رسول ہوں گے جو ظاہر ہیں ، چودھویں کے چاند کی طرح ، سفید رنگ کے ہیں وہ مشکلات کا سامنا کرتے ہیں ( اگر ان کے ساتھیوں کو ) ذلت کا سامنا ہو رہا ہو تو ان کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو جاتا ہے “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں حاضر ہوں ۔ میں حاضر ہوں یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر تین مرتبہ فرمایا تمہاری مدد کر دی گئی تمہاری مدد کر دی گئی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے جب آپ روحاء کے مقام پر پہنچے تو آپ نے ایک بادل کو دیکھا جو جمع ہوا تھا تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہ بادل بنو کعب کی مدد کرنے کے لئے جمع ہوا ہے اس وقت بنو عدی بن عمرو سے تعلق رکھنے والے ایک فرد نے جو بنوکعب بن عمرو کے بھائی تھے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اور بنو عدی کی مدد کرنے کے لئے بھی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری گردن خاک آلود ہو ، عدی ، کعب ہی ہے ، اور کعب ، عدی ہی ہے اس سفر کے دوران اس شخص نے جام شہادت نوش کر لیا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ انہیں ہم سے بے خبر رکھنا یہاں تک کہ ہم اچانک ان پر گرفت کر لیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے ، یہاں تک کہ آپ نے ” مر“ کے مقام پر پڑاؤ کیا ابوسفیان ، حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقا اس رات نکلے اور انہوں نے جھانک کر ” مر“ کے مقام کو دیکھا ابوسفیان نے آگ جلتی ہوئی دیکھی تو بولا: اے بدیل یہ تمہارے اہلخانہ بنو کعب کی آگ ہے ، تو بدیل نے کہا: جنگ اسے حرکت دے کر تمہاری طرف لا رہی ہے اس رات مزینہ کے لوگوں نے ان لوگوں کو گرفت میں لے لیا اور ان لوگوں پر پہرا داری لازم تھی ، ان لوگوں نے یہ درخواست کی کہ وہ انہیں لے کر عباس بن عبدالمطلب کے پاس جائیں وہ ان لوگوں کو لے کے عباس بن عبدالمطلب کے پاس آ گئے ابوسفیان نے ان سے یہ درخواست کی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کے لئے اجازت لیں وہ انہیں ساتھ لے کے نکلے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی کہ آپ انہیں امان دے دیں جنہیں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے امان دی ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : آپ نے جسے امان دی ہو اسے میں بھی امان دیتا ہوں لیکن ابوسفیان اس میں شامل نہیں ہو گا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ آپ میرے اوپر پابندی عائد نہ کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جسے آپ نے امان دی وہ مامون ہے پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ان لوگوں کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے پھر وہ وہاں سے نکلے ، تو ابوسفیان نے کہا: میں جانا چاہتا ہوں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: تم صبح ہو لینے دو صبح کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وضو کرنے کے لئے اٹھے تو مسلمان آپ کے وضو کی طرف لپکے اور وضو کے گرنے والے پانی کو لے کے اپنے چہرے پے مل لیتے تھے ، تو ابوسفیان نے کہا: اے ابوالفضل آپ کے بھتیجے کی بادشاہی زبردست ہو گئی ہے ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ بادشاہی نہیں ہے بلکہ یہ نبوت ہے ، اور اسی چیز میں وہ لوگ رغبت رکھتے ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سلیمان بن نضلہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن سلیمان بن نضلہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10233
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِسَفَرِهِ ، وَاسْتَخْلَفَ عَلَى الْمَدِينَةِ أَبَا رُهْمٍ كُلْثُومَ بْنَ الْحُصَيْنِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ خَلَفٍ الْغِفَارِيَّ ، وَخَرَجَ لِعَشْرٍ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ ، فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَامَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْكَدِيدِ - [ مَاءٌ ] بَيْنَ عُسْفَانَ وَأَمْجٍ - أَفْطَرَ ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى نَزَلَ مَرَّ الظَّهْرَانِ فِي عَشَرَةِ آلَافٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ فِي الصِّيَامِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ ابْنِ إِسْحَاقَ ، وَقَدْ صَرَّحَ بِالسَّمَاعِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سفر پر روانہ ہو گئے آپ نے مدینہ منورہ میں اپنا نائب سیدنا ابورهم کلثوم بن حصین بن عتبہ بن خلف غفاری کو مقرر کیا آپ دس رمضان گزرنے کے بعد نکلے تھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا ، یہاں تک کہ آپ جب عسفان اور امج کے درمیان موجود کدید نامی پانی کے چشمے کے پاس پہنچے تو آپ نے روزہ ختم کر دیا پھر آپ چلتے رہے ، یہاں تک کہ آپ نے مرظہران کے مقام پر پڑاؤ کیا اس وقت آپ کے ساتھ دس ہزار مسلمان تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ روزوں سے متعلق باب میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف ابن اسحاق کا معاملہ مختلف ہے ، اور اس نے سماع کی صراحت کی ہے ۔
حدیث نمبر: 10234
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَاسْتَعْمَلَ عَلَى الْمَدِينَةِ أَبَا رُهْمٍ كُلْثُومَ بْنَ الْحُصَيْنِ الْغِفَارِيَّ ، وَخَرَجَ لِعَشْرٍ مَضَيْنَ مِنْ رَمَضَانَ ، فَصَامَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَصَامَ النَّاسُ مَعَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ - مَاءٍ بَيْنَ عُسْفَانَ وَأَمْجٍ - أَفْطَرَ . ¤ ثُمَّ مَضَى حَتَّى نَزَلَ مَرَّ الظَّهْرَانِ فِي عَشَرَةِ آلَافٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، وَأَلْفٍ مِنْ مُزَيْنَةَ وَسُلَيْمٍ ، وَفِي كُلِّ الْقَبَائِلِ عُدَدٌ وَإِسْلَامٌ ، وَأَوْعَبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ لَمْ يَتَخَلَّفْ مِنْهُمْ أَحَدٌ . ¤ فَلَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَرَّ الظَّهْرَانِ ، وَقَدْ عَمِيَتِ الْأَخْبَارُ عَلَى قُرَيْشٍ فَلَمْ يَأْتِهِمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَبَرٌ ، وَلَمْ يَدْرُوا مَا هُوَ فَاعِلٌ ، خَرَجَ فِي تِلْكَ اللَّيْلَةِ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ ، وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ ، وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ يَتَجَسَّسُونَ وَيَنْظُرُونَ هَلْ يَجِدُونَ خَبَرًا أَوْ يَسْمَعُونَ بِهِ ؟ . ¤ وَقَدْ كَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ تَلَقَّى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ الطَّرِيقِ ، وَقَدْ كَانَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ قَدْ لَقِيَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِيمَا بَيْنَ الْمَدِينَةِ وَمَكَّةَ ، وَالْتَمَسَا الدُّخُولَ عَلَيْهِ فَكَلَّمَتْهُ أُمُّ سَلَمَةَ فِيهِمَا ، فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ابْنُ عَمِّكَ ، وَابْنُ عَمَّتِكَ وَصِهْرُكَ ، قَالَ : " لَا حَاجَةَ لِي بِهِمَا ، أَمَّا ابْنُ عَمِّي فَهَتَكَ عِرْضِي بِمَكَّةَ ، وَأَمَّا ابْنُ عَمَّتِي وَصِهْرِي فَهُوَ الَّذِي قَالَ لِي بِمَكَّةَ مَا قَالَ " . ¤ فَلَمَّا خَرَجَ إِلَيْهِمَا بِذَلِكَ وَمَعَ أَبِي سُفْيَانَ بُنَيٌّ لَهُ ، فَقَالَ : وَاللَّهِ لَتَأْذَنُنَّ لِي أَوْ لَآخُذَنَّ بِيَدِ بُنَيِّ هَذَا ثُمَّ لَنَذْهَبَنَّ بِالْأَرْضِ حَتَّى نَمُوتَ عَطَشًا وَجُوعًا ، فَلَمَّا بَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَقَّ لَهُمَا ، ثُمَّ أَذِنَ لَهُمَا فَدَخَلَا فَأَسْلَمَا . ¤ فَلَمَّا نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِمَرِّ الظَّهْرَانِ ، قَالَ الْعَبَّاسُ : وَاصَبَاحَ قُرَيْشٍ وَاللَّهِ لَئِنْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ عَنْوَةً قَبْلَ أَنْ يَسْتَأْمِنُوهُ إِنَّهُ لَهَلَاكُ قُرَيْشٍ [ إِلَى ] آخِرَ الدَّهْرِ . ¤ قَالَ : فَجَلَسْتُ عَلَى بَغْلَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْبَيْضَاءِ ، فَخَرَجْتُ عَلَيْهَا حَتَّى جِئْتُ الْأَرَاكَ ، فَقُلْتُ لَعَلِّي أَلْقَى بَعْضَ الْحَطَّابَةِ أَوْ صَاحِبَ لَبَنٍ أَوْ ذَا حَاجَةٍ يَأْتِي مَكَّةَ فَيُخْبِرُهُمْ بِمَكَانِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَيَسْتَأْمِنُوهُ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَهَا [ عَلَيْهِمْ ] عَنْوَةً . ¤ قَالَ : فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَسِيرُ عَلَيْهَا وَأَلْتَمِسُ مَا خَرَجْتُ لَهُ ، إِذْ سَمِعْتُ كَلَامَ أَبِي سُفْيَانَ ، وَبُدَيْلِ بْنِ وَرْقَاءَ وَهُمَا يَتَرَاجَعَانِ ، وَأَبُو سُفْيَانَ يَقُولُ : مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ قَطُّ نِيرَانًا وَلَا عَسْكَرًا . قَالَ : يَقُولُ بُدَيْلٌ : هَذِهِ وَاللَّهِ نِيرَانُ خُزَاعَةَ حَشَتْهَا الْحَرْبُ . قَالَ : يَقُولُ أَبُو سُفْيَانَ : خُزَاعَةُ وَاللَّهِ أَذَلُّ وَأَلْأَمُ مِنْ أَنْ تَكُونَ هَذِهِ نِيرَانَهَا وَعَسْكَرَهَا . قَالَ : فَعَرَفْتُ صَوْتَهُ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا حَنْظَلَةَ فَعَرَفَ صَوْتِي ، فَقَالَ : أَبُو الْفَضْلِ ؟ فَقُلْتُ : نَعَمْ . فَقَالَ : مَا لَكَ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ؟ فَقُلْتُ : وَيْحَكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي النَّاسِ وَاصَبَاحَ قُرَيْشٍ وَاللَّهِ ! . ¤ قَالَ : فَمَا الْحِيلَةُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ؟ قَالَ : قُلْتُ : لَئِنْ ظَفِرَ بِكَ لَيَضْرِبَنَّ عُنُقَكَ فَارْكَبْ مَعِي هَذِهِ الْبَغْلَةَ حَتَّى آتِيَ بِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْتَأْمِنُهُ لَكَ . ¤ قَالَ : فَرَكِبَ خَلْفِي ، وَرَجَعَ صَاحِبَاهُ ، وَحَرَّكْتُ بِهِ فَكُلَّمَا مَرَرْتُ بِنَارٍ مِنْ نِيرَانِ الْمُسْلِمِينَ قَالُوا : مَنْ هَذَا ؟ فَإِذَا رَأَوْا بَغْلَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالُوا : عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَغْلَتِهِ . ¤ حَتَّى مَرَرْتُ بِنَارِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ : مَنْ هَذَا ؟ وَقَامَ إِلَيَّ ، فَلَمَّا رَأَى أَبَا سُفْيَانَ عَلَى عَجُزِ الْبَغْلَةِ قَالَ : أَبُو سُفْيَانَ عَدُوُّ اللَّهِ ؟ ! الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَمْكَنَ اللَّهُ مِنْكَ بِغَيْرِ عَقْدٍ وَلَا عَهْدٍ ، ثُمَّ خَرَجَ يَشْتَدُّ نَحْوَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَكَضَتِ الْبَغْلَةُ فَسَبَقْتُهُ بِمَا تَسْبِقُ الدَّابَّةُ الرَّجُلَ الْبَطِيءَ ، فَاقْتَحَمْتُ عَنِ الْبَغْلَةِ ، فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَخَلَ عُمَرُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا أَبُو سُفْيَانَ قَدْ أَمْكَنَ اللَّهُ مِنْهُ بِغَيْرِ عَقْدٍ وَلَا عَهْدٍ فَدَعْنِي فَلْأَضْرِبْ عُنُقَهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أَجَرْتُهُ ، ثُمَّ جَلَسْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - [ فَأَخَذْتُ بِرَأْسِهِ ] فَقُلْتُ : لَا وَاللَّهِ لَا يُنَاجِيهِ اللَّيْلَةَ رَجُلٌ دُونِي . قَالَ : فَلَمَّا أَكْثَرَ عُمَرُ فِي شَأْنِهِ قُلْتُ : مَهْلًا يَا عُمَرُ ، أَمَا وَاللَّهِ أَنْ لَوْ كَانَ مِنْ رِجَالِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ مَا قُلْتَ هَذَا ، وَلَكِنَّكَ عَرَفْتَ أَنَّهُ مِنْ رِجَالِ بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ ، فَقَالَ : مَهْلًا يَا عَبَّاسُ ، وَاللَّهِ لَإِسْلَامُكَ يَوْمَ أَسْلَمْتَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ إِسْلَامِ أَبِي لَوْ أَسْلَمَ ، وَمَا بِي إِلَّا أَنِّي قَدْ عَرَفْتُ أَنَّ إِسْلَامَكَ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ إِسْلَامِ الْخَطَّابِ . ¤ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " اذْهَبْ بِهِ إِلَى رَحْلِكَ يَا عَبَّاسُ ، فَإِذَا أَصْبَحْتَ فَأْتِنِي بِهِ " . فَذَهَبْتُ بِهِ إِلَى رَحْلِي فَبَاتَ عِنْدِي فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَوْتُ بِهِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَيْحَكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ أَلَمْ يَأْنِ لَكَ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ؟ " . قَالَ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، مَا أَكْرَمَكَ وَأَحْلَمَكَ وَأَوْصَلَكَ [ وَاللَّهِ ] ، لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنْ لَوْ كَانَ مَعَ اللَّهِ غَيْرٌ لَقَدْ أَغْنَى عَنِّي شَيْئًا . ¤ قَالَ : " وَيْحَكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ ، أَلَمْ يَأْنِ لَكَ أَنْ تَعْلَمَ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ " . قَالَ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي ، مَا أَحْلَمَكَ وَأَكْرَمَكَ وَأَوْصَلَكَ ، هَذِهِ وَاللَّهِ كَانَ فِي النَّفْسِ مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى الْآنَ . ¤ قَالَ الْعَبَّاسُ : وَيْحَكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ ، أَسْلِمْ وَاشْهَدْ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَبْلَ أَنْ يُضْرَبَ عُنُقُكَ ، قَالَ : فَشَهِدَ شَهَادَةَ الْحَقِّ وَأَسْلَمَ . ¤ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ [ رَجَلٌ ] يُحِبُّ هَذَا الْفَخْرَ ، فَاجْعَلْ لَهُ شَيْئًا ، قَالَ : " نَعَمْ مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَهُوَ آمِنٌ " . ¤ فَلَمَّا ذَهَبَ لِيَنْصَرِفَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا عَبَّاسُ ، احْبِسْهُ بِمَضِيقِ الْوَادِيَ عِنْدَ حَطَمِ الْجَبَلِ حَتَّى تَمُرَّ بِهِ جُنُودُ اللَّهِ فَيَرَاهَا " . قَالَ : فَخَرَجْتُ بِهِ حَتَّى حَبَسْتُهُ بِمَضِيقِ الْوَادِي حَيْثُ أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ أَحْبِسَهُ . ¤ قَالَ : وَمَرَّتْ بِهِ الْقَبَائِلُ عَلَى رَايَاتِهَا فَكُلَّمَا مَرَّتْ قَبِيلَةٌ قَالَ : مَنْ هَؤُلَاءِ يَا عَبَّاسُ ؟ فَيَقُولُ : بَنِي سُلَيْمٍ ، فَيَقُولُ : مَا لِي وَلِسُلَيْمٍ . قَالَ : ثُمَّ تَمُرُّ الْقَبِيلَةُ فَيَقُولُ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ فَأَقُولُ : مُزَيْنَةُ . فَيَقُولُ : مَا لِي وَلِمُزَيْنَةَ . حَتَّى تَعَدَّتِ الْقَبَائِلُ - يَعْنِي جَاوَزَتْ - لَا تَمُرُّ قَبِيلَةٌ إِلَّا قَالَ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ فَأَقُولُ بَنُو فُلَانٍ فَيَقُولُ : مَا لِي وَلِبَنِي فُلَانٍ . ¤ حَتَّى مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْخَضْرَاءِ [ كَتِيبَةٍ ] فِيهَا الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ لَا يُرَى مِنْهُمْ سِوَى الْحَدَقِ ، قَالَ : سُبْحَانَ اللَّهِ ! مَنْ هَؤُلَاءِ يَا عَبَّاسُ ؟ قُلْتُ : هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ قَالَ : مَا لِأَحَدٍ بِهَؤُلَاءِ قِبَلٌ وَلَا طَاقَةٌ ، وَاللَّهِ يَا أَبَا الْفَضْلِ ، لَقَدْ أَصْبَحَ مُلْكُ ابْنِ أَخِيكَ الْغَدَاةَ عَظِيمًا . قُلْتُ : يَا أَبَا سُفْيَانَ إِنَّهَا النُّبُوَّةُ . قَالَ : فَنِعْمَ إِذًا . قُلْتُ : النَّجَاءُ إِلَى قَوْمِكَ . ¤ قَالَ : فَخَرَجَ حَتَّى [ إِذَا ] جَاءَهُمْ صَرَخَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ : يَا [ مَعْشَرَ ] قُرَيْشُ ، هَذَا مُحَمَّدٌ قَدْ جَاءَكُمْ بِمَا لَا قِبَلَ لَكُمْ بِهِ ، فَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ ، فَقَامَتْ إِلَيْهِ امْرَأَتُهُ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ فَأَخَذَتْ بِشَارِبِهِ فَقَالَتْ : اقْتُلُوا الدَّسَمَ الْأَحْمَسَ ، فَبِئْسَ طَلِيعَةُ قَوْمٍ ، قَالَ : وَيْحَكُمْ لَا تَغُرَّنَّكُمْ هَذِهِ مِنْ أَنْفُسِكُمْ ، فَإِنَّهُ قَدْ جَاءَ بِمَا لَا قِبَلَ لَكُمْ بِهِ ، مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ ، قَالُوا : وَيْحَكَ وَمَا تُغْنِي عَنَّا دَارُكَ ؟ قَالَ : وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ دَخَلَ الْمَسْجِدَ فَهُوَ آمِنٌ . فَتَفَرَّقَ النَّاسُ إِلَى دُورِهِمْ وَإِلَى الْمَسْجِدِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے آپ نے مدینہ منورہ کا نگران سیدنا ابورهم کلثوم بن حصین غفاری کو مقرر کیا رمضان کی دس تاریخ کو آپ نکلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا آپ کے ساتھ لوگوں نے بھی روزہ رکھا ہوا تھا جب آپ کدید کے مقام پر پہنچے جو عسفان اور امج کے درمیان پانی ( کا چشمہ یا تالاب ) ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ ختم کر دیا پھر آپ چلتے رہے ، یہاں تک کہ آپ نے دس ہزار مسلمانوں سمیت مرالظہر ان کے مقام پر پڑاؤ کیا ایک ہزار افراد مزینہ اور سلیم قبیلے سے تعلق رکھتے تھے ہر قبیلے کے متعدد افراد آپ کے ساتھ شامل تھے اور تمام مہاجرین اور انصار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ان میں سے کوئی بھی پیچھے نہیں رہا تھا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مر ظہران کے مقام پر پڑاؤ کیا ، تو اس بارے میں قریش کو کوئی اطلاع نہیں تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ان تک کوئی اطلاع نہیں تھی اور انہیں یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں اس رات ابوسفیان بن حرب اور حکیم بن حزام اور بدیل بن ورقا نکلے وہ لوگ جاسوسی کرنا چاہتے تھے اور دیکھنا چاہتے تھے کہ کیا انہیں کوئی خبر ملتی ہے یا وہ اس بارے میں کچھ سنتے ہیں راستے میں کسی جگہ پر سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ کی ملاقات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گئی ابوسفیان بن حارث بن عبدالمطلب اور عبداللہ بن ابوامیہ بن مغیرہ اس سے پہلے مدینہ اور مکہ کے درمیان میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مل چکے تھے ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کی درخواست کی سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کی انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ کے چچازاد اور آپ کے ایک پھوپھی زاد جو آپ کے سسرالی عزیز بھی ہیں وہ ملنا چاہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں ان دونوں سے نہیں ملنا چاہتا جہاں تک میرے چچازاد کا تعلق ہے ، تو اس نے مکہ میں میری بے عزتی کی تھی اور جہاں تک میرے پھوپھی زاد کا تعلق ہے ، جو میرا سرالی عزیز بھی بنتا ہے ، تو اس نے مکہ میں میرے بارے میں یہ یہ کچھ کہا: تھا تو جب وہ نکل کر ان کی طرف گئے ، تو ابوسفیان کے ساتھ ان کا بیٹا بھی تھا ابوسفیان ( بن حارث بن عبدالمطلب ) نے کہا: اللہ کی قسم یا تو آپ مجھے اجازت دیں گے یا میں اس بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر جاؤں گا اور پھر کسی ایسی سرزمین پر چلا جاؤں گا جہاں ہم بھوک اور پیاس کے عالم میں مر جائیں گے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ کا دل ان دونوں کے لئے نرم ہوا اور آپ نے ان دونوں کو اجازت دے دی ان دونوں نے اندر داخل ہو کے اسلام قبول کر لیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مر ظہران کے مقام پر پڑاؤ کیا ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہائے قریش کی بربادی اللہ کی قسم اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں بزور بازو داخل ہوئے ، اور یہ اہل مکہ کے آپ سے امن حاصل کرنے سے پہلے ہوا تو قریش ہمیشہ کے لئے ہلاکت کا شکار ہو جائیں گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفید خچر پر سوار ہوا اور وہاں سے نکلا ، یہاں تک کہ میں اراک کے مقام پر آیا میں نے علی سے کہا: میں نے لکڑیاں اکٹھی کرنے والوں میں سے کسی سے ملتا ہوں یا کسی دودھ والے سے ملتا ہوں یا کسی اور کام کاج والے سے ملتا ہوں جو مکہ جائے ، اور ان لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہاں موجودگی کے بارے میں بتائے ، اور وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے امان حاصل کر لیں اس سے پہلے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بزور بازو ان پر داخل ہوں ۔ راوی کہتے ہیں : اللہ کی قسم میں اس پر سوار ہو کر چل رہا تھا ، اور اس شخص کو تلاش کر رہا تھا جو اس کام کے لئے موزوں ہو اسی دوران میں نے ابوسفیان اور بدیل بن ورقا کی آواز سنی وہ دونوں بات چیت کر رہے تھے ابوسفیان کہہ رہا تھا میں نے آج کے دن کی طرح کبھی آگ نہیں دیکھی اور کبھی اتنا بڑا لشکر نہیں دیکھا جب کہ بدیل یہ کہہ رہا تھا اللہ کی قسم یہ خزاعہ کی آگ ہے ، اور اس جنگ کو کھینچ کے لائی ہے ، تو ابوسفیان نے کہا: خزاعہ ۔ اللہ کی قسم وہ تو اس سے زیادہ ذلیل ہیں ، اور اس سے زیادہ کمزور ہیں کہ یہ ان کی آگ ہو ، اور ان کا لشکر ہو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے اس کی آواز پہچان لی میں نے کہا: اے ابوحنظلہ اس نے بھی میری آواز پہنچا لی اس نے بولا: ابوالفضل ؟ میں نے کہا: جی ہاں اس نے کہا: میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں کیا بات ہے میں نے کہا: اے ابوسفیان تمہارا ستیاناس ہو یہ اللہ کے رسول ہیں جو لوگوں کے درمیان موجود ہیں ، اور اللہ کی قسم اب قریش کی بربادی ہو جائے گی اس نے کہا: میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں پھر اب کیا حیلہ ہو سکتا ہے میں نے کہا: اگر انہوں نے تم پر کامیابی حاصل کر لی تو وہ تمہاری گردن اڑا دیں گے تم میرے ساتھ اس خچر پر سوار ہو جاؤ تاکہ میں تمہیں ساتھ لے کے اللہ کے رسول کے پاس جاؤں اور ان سے تمہارے لئے امان حاصل کروں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں وہ میرے پیچھے سوار ہوا اور اس کے دونوں ساتھی واپس چلے گئے میں نے اس خچر کو حرکت دی جب میں کسی مسلمان کی آگ کے پاس سے گزرتا تو وہ لوگ دریافت کرتے یہ کون ہے پھر جب وہ اللہ کے رسول کے خچر کو دیکھتے تھے ، تو کہتے تھے اللہ کے رسول کے چچا ان کے خچر پر سوار ہیں ، یہاں تک کہ ہم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ والی آگ کے پاس سے گزرے انہوں نے کہا: یہ کون ہے ؟ وہ اٹھ کر میری طرف آئے جب انہوں نے ابوسفیان کو خچر کے پچھلے حصے پر بیٹھے ہوئے دیکھا تو بولے : ابوسفیان اللہ کا دشمن ہر طرح کی حمد اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہے ، جس نے کسی معاہدے کے بغیر تم پر ق ابودے دیا ہے پھر وہ دوڑتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف گئے میں نے بھی خچر کو ایڑ لگائی اور ان سے اتنا آگے نکل گیا کہ جس طرح کوئی جانور کسی شخص سے آگے نکل سکتا ہے میں خچر سے اترا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی آ گئے ، اور بولے : یا رسول اللہ یہ ابوسفیان ہے ۔ جسے اللہ تعالیٰ نے کسی عقد اور معاہدے کے بغیر ہمارے ق ابومیں دے دیا ہے آپ مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ میں نے اسے پناہ دی ہے پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا میں نے آپ کا سر پکڑ لیا میں نے عرض کی : جی نہیں اللہ کی قسم آج رات میرے علاوہ کوئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت نہیں کرے گا جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس نے اس بارے میں زیادہ اصرار کیا ، تو میں نے کہا: اے عمر تم ٹھہر جاؤ اللہ کی قسم اگر یہ بنوعدی بن کعب سے تعلق رکھنے والا کوئی فرد ہوتا تو تم نے یہ بات نہیں کہنی تھی لیکن تم یہ بات جانتے ہو کہ اس کا تعلق بنوعبد مناف سے ہے ، تو عمر نے کہا: اے عباس آپ ٹھہر جائیں اللہ کی قسم جب آپ نے اسلام قبول کیا تھا تو آپ کا اسلام قبول کرنا میرے نزدیک میرے باپ کے اسلام قبول کرنے سے زیادہ پسندیدہ تھا کہ اگر اس نے بھی اسلام قبول کیا ہوتا اور اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ میں یہ بات جانتا ہوں کہ آپ کا اسلام قبول کرنا اللہ کے رسول کے نزدیک خطاب کے اسلام قبول کرنے سے زیادہ پسندیدہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عباس تم اسے اپنے ساتھ اپنی رہائشی جگہ پر لے جاؤ صبح اسے میرے پاس لے کے آنا میں ابوسفیان کو ساتھ لے کر اپنی رہائشی جگہ پر آ گیا اس نے رات میرے ساتھ گزاری اگلے دن میں اسے ساتھ لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ملاحظہ فرمایا تو ارشاد فرمایا ابوسفیان تمہارا ستیاناس ہو کیا ابھی تمہارے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ابوسفیان نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کتنے معزز ہیں کتنے بردبار ہیں کتنی صلہ رحمی کرنے والے ہیں اللہ کی قسم میں یہ سمجھتا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور بھی معبود ہوتا تو وہ میرے کسی کام آ جاتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ابوسفیان تمہارا ستیاناس ہو کیا ابھی تمہارے لئے وہ وقت نہیں آیا کہ تم یہ بات جان لو کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ ابوسفیان نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں آپ کتنے بردبار کتنے معزز کتنے صلہ رحمی کرنے والے ہیں اللہ کی قسم میرے دل میں یہ بات کافی عرصے سے تھی ، یہاں تک کہ یہ وقت آ گیا ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا: اے ابوسفیان تمہارا ستیاناس ہو تم اسلام قبول کرو اور اس بات کی گواہی دو کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں اس سے پہلے کہ وہ تمہاری گردن اڑا دیں راوی کہتے ہیں : تو ابوسفیان نے حقیقی گواہی دی اور اسلام قبول کر لیا ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ابوسفیان ایک ایسا شخص ہے ، جو فخر کو پسند کرتا ہے ، تو آپ اس کے لئے کوئی چیز مقرر کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ٹھیک ہے ، جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو گا وہ امن کی حالت میں ہو گا ، جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے گا وہ مامون ہو گا ، جو شخص مسجد میں داخل ہو جائے گا وہ مامون ہو گا جب وہ مڑ کر جانے لگے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عباس وادی کے تنگ حصے میں اسے روک کے رکھیے گا ، جو پہاڑ کے دامن میں ہے ، اس وقت تک جب تک اللہ کے لشکر وہاں سے نہیں گزرتے اور یہ انہیں دیکھا نہیں ہے ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں اسے لے کے نکلا ، یہاں تک کہ وادی کے تنگ حصے میں میں نے اسے روک لیا جہاں کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ حکم دیا تھا کہ میں اسے وہاں پر روکوں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں وہاں سے مختلف قبائل اپنے جھنڈے لے کے گزرنے لگے جب بھی کوئی قبیلہ گزرتا تو وہ دریافت کرتا اے عباس یہ کون ہے ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ فرماتے یہ بنوسلیم ہے ، تو وہ جواب دیتا میرا بنوسلیم کے ساتھ کیا واسطہ پھر ایک اور قبیلہ گزرا اس نے دریافت کیا : یہ کون ہے میں نے جواب دیا یہ مزینہ ہے اس نے کہا: میرا مزینہ کے ساتھ کیا واسطہ یہاں تک کہ متعدد قبائل گزرے جب بھی کوئی قبیلہ گزرتا تو وہ یہی کہتا کہ یہ کون لوگ ہیں ، تو میں یہی جواب دیتا یہ بنوفلاں ہیں ، تو وہ یہ کہتا کہ میرا بنو فلاں کے ساتھ کیا واسطہ ہے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سبز دستے کے درمیان گزرے جس میں مہاجرین اور انصار تھے ، ان میں آنکھوں کے علاوہ اور کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا ، تو اس نے کہا: سبحان اللہ اسے عباس یہ کون ہے میں نے کہا: یہ اللہ کے رسول ہیں جو مہاجرین اور انصار کے درمیان ہیں ، تو اس نے کہا: ان کا سامنا کرنے کی کسی کے اندر طاقت نہیں ہے اللہ کی قسم اے ابوالفضل تمہارے بھتیجے کی بادشاہی زبردست ہو چکی ہے میں نے کہا: اے ابوسفیان یہ نبوت ہے اس نے کہا: ہاں پھر ٹھیک ہے میں نے کہا: اب نجات تمہاری قوم کی طرف ہے ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں پھر ابوسفیان وہاں سے نکلا ، یہاں تک کہ وہ ان لوگوں کے پاس آیا اور اس نے بلند آواز میں پکار کر کہا: اے قریش کے گروہ یہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) تمہارے پاس ان لوگوں کو ساتھ لے کے آ گئے ہیں ، جن کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہے ، جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو گا وہ مامون ہو گا ، تو ابوسفیان کی بیوی ہند بنت عتبہ اٹھ کر اس کے پاس آئی اس نے اس کی مونچھوں کو پکڑا اور بولی: اس نالائق شخص کو قتل کر دو یہ قوم کا برا جاسوس ہے ابوسفیان نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو تم اپنے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہ ہو کیونکہ تمہاری طرف وہ چیز آ گئی ہے ، جس کا سامنا کرنے کی طاقت نہیں ہے ، جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو گا وہ مامون ہو گا لوگوں نے کہا: تمہارا ستیاناس ہو تمہارے گھر میں کتنے لوگ آ جائیں گے اس نے کہا: جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے گا وہ بھی مامون ہو گا ، جو شخص مسجد میں داخل ہو جائے گا وہ بھی مامون ہو گا ، تو لوگ بکھر کر اپنے گھروں کی طرف اور مسجد کی طرف چلے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10235
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : أَمَّنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ النَّاسَ إِلَّا أَرْبَعَةً مِنَ النَّاسِ : عَبْدُ الْعُزَّى بْنَ خَطَلٍ ، وَمَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، وَسَارَّةُ امْرَأَةٌ . ¤ فَأَمَّا عَبْدُ الْعُزَّى فَإِنَّهُ قُتِلَ وَهُوَ آخِذٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ . قَالَ : وَنَذَرَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ أَنْ يَقْتُلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ إِذَا رَآهُ ، وَكَانَ أَخَا عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ مِنَ الرَّضَاعَةِ ، فَأَتَى بِهِ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَسْتَشْفِعُ ، فَلَمَّا بَصُرَ بِهِ الْأَنْصَارِيُّ اشْتَمَلَ عَلَى السَّيْفِ ثُمَّ خَرَجَ فِي طَلَبِهِ ، فَوَجَدَهُ فِي حَلْقَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَهَابَ قَتْلَهُ . ¤ فَجَعَلَ يَتَرَدَّدُ وَيَكْرَهُ أَنْ يُقْدِمَ عَلَيْهِ لِأَنَّهُ فِي حَلْقَةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَسَطَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ فَبَايَعَهُ ، ثُمَّ قَالَ لِلْأَنْصَارِيِّ : " قَدِ انْتَظَرْتُكَ أَنْ تُوفِيَ بِنَذْرِكَ " . قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هِبْتُكَ أَفَلَا أَوْمَضْتَ إِلَيَّ ؟ قَالَ : " إِنَّهُ لَيْسَ لِنَبِيٍّ أَنْ يُومِضَ " . ¤ وَأَمَّا مَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ فَإِنَّهُ كَانَ لَهُ أَخٌ قُتِلَ خَطَأً مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَعَثَ مَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَجُلًا مِنْ بَنِي فِهْرٍ لِيَأْخُذَ لَهُ مِنَ الْأَنْصَارِ الْعَقْلَ ، فَلَمَّا جَمَعَ لَهُ الْعَقْلَ وَرَجَعَ نَامَ الْفِهْرِيُّ ، فَوَثَبَ مَقِيسٌ فَأَخَذَ حَجَرًا فَجَلَدَ بِهِ رَأْسَهُ فَقَتَلَهُ ، ثُمَّ أَقْبَلَ وَهُوَ يَقُولُ : ¤ شَفَى النَّفْسَ مَنْ قَدْ مَاتَ بِالْقَاعِ مُسْنَدَا يَضَرِّجُ ثَوْبَيْهِ دِمَاءُ الْأَجَادِعِ وَكَانَتْ هُمُومُ النَّفْسِ مِنْ قَبْلِ قَتْلِهِ ¤ تَهِيجُ فَتُنْسِينِي وَطْأَةَ الْمَضَاجِعِ حَلَلْتُ بِهِ ثَأْرِي وَأَدْرَكْتُ مُؤْرَبِي ¤ وَكُنْتُ إِلَى الْأَوْثَانِ أَوَّلَ رَاجِعِ . ¤ وَأَمَّا سَارَّةُ فَإِنَّهَا كَانَتْ مَوْلَاةً لِقُرَيْشٍ فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَكَتْ إِلَيْهِ الْحَاجَةَ فَأَعْطَاهَا شَيْئًا ، ثُمَّ أَتَاهَا رَجُلٌ فَدَفَعَ إِلَيْهَا كِتَابًا لِأَهْلِ مَكَّةَ يَتَقَرَّبُ بِهِ إِلَيْهِمْ ; لِيُحْفَظَ فِي عِيَالِهِ - وَكَانَ لَهُ بِهَا عِيَالٌ - فَأَخْبَرَ جِبْرِيلُ بِذَلِكَ ، فَبَعَثَ فِي أَثَرِهَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، وَعَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ فَلَحِقَاهَا فَفَتَّشَاهَا فَلَمْ يَقْدِرَا عَلَى شَيْءٍ مِنْهَا ، فَأَقْبَلَا رَاجِعَيْنِ . ¤ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : وَاللَّهِ مَا كَذَّبْنَا وَلَا كُذِّبْنَا ، ارْجِعْ بِنَا إِلَيْهَا ، فَرَجَعَا إِلَيْهَا فَسَلَّا سَيْفَيْهِمَا فَقَالَا : وَاللَّهِ لَنُذِيقَنَّكِ الْمَوْتَ أَوْ لَتَدْفَعِنَّ إِلَيْنَا الْكِتَابَ ، فَأَنْكَرَتْ ثُمَّ قَالَتْ : أَدْفَعُهُ إِلَيْكُمَا عَلَى أَنْ لَا تَرُدَّانِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَبِلَا مِنْهَا ، فَحَلَّتْ عِقَاصَهَا فَأَخْرَجَتْ كِتَابًا مِنْ قُرُونِهَا فَدَفَعَتْهُ إِلَيْهِمَا . ¤ فَرَجَعَا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَدَفَعَاهُ إِلَيْهِ ، فَبَعَثَ إِلَى الرَّجُلِ فَقَالَ : " مَا هَذَا الْكِتَابُ ؟ " قَالَ : أُخْبِرُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَيْسَ أَحَدٌ مَعَكَ إِلَّا لَهُ مَنْ يَحْفَظُهُ فِي عِيَالِهِ ، فَكَتَبْتُ هَذَا الْكِتَابَ لِيَكُونُوا فِي عِيَالِي . فَأَنْزَلَ اللَّهُ : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ . إِلَى آخِرِ الْآيَاتِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو امان دے دی تھی صرف چار افراد کو مستثنی قرار دیا تھا عبدالعزی بن خطل ، مقیس بن صبابہ ، عبداللہ بن سعد بن ابوسرح اور سارہ نامی ایک عورت جہاں تک عبدالعزی کا تعلق ہے ، تو اسے قتل کر دیا گیا جبکہ اس نے خانہ کعبہ کے پردوں کو پکڑا ہوا تھا راوی کہتے ہیں : انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے یہ نذر مانی تھی کہ وہ عبداللہ بن سعد بن ابوسرح کو قتل کر دے گا جب وہ اسے دیکھے گا عبداللہ بن سعد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا رضاعی بھائی تھا ۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ، اور اس کی سفارش کی جب انصاری نے اسے دیکھا تو اس نے اپنی تلوار پکڑ لی اور پھر اس کی طلب میں نکلا اس نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقے میں موجود پایا تو اسے قتل کرنے سے ڈر گیا اور تردد کا شکار ہو گیا اسے یہ بات اچھی نہیں لگی کہ وہ اس پر حملہ آور ہو کیونکہ وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلقے میں تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک بڑھایا اور اس سے بیعت لے لی پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصاری سے فرمایا میں تمہارا انتظار کرتا رہا کہ تم اس سے اپنی نذر پوری کر لو گے اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں آپ سے ڈر گیا تھا آپ نے مجھے اشارہ کر دینا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ خفیہ اشارے کرے ۔ جہاں تک مقیس بن صبابہ کا تعلق ہے ، تو اس کا ایک بھائی تھا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قتل خطاء کے طور پر قتل ہوا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ساتھ بنو فہر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو بھیجا تھا تاکہ وہ انصار سے دیت لے جب اس کے لئے دیت کی چیزیں اکٹھی ہو گئیں تو وہ واپس جا رہا تھا تو فہری شخص سو گیا تو مقیس نے اٹھ کر ایک پتھر پکڑا اور اس کے ذریعے فہری شخص کو قتل کر دیا پھر وہ آتے ہوئے یہ اشعار پڑھ رہا تھا : ” نفس کو شفا دیدی ہے ، اس شخص نے جو میدان میں ٹیک لگا کر مر گیا اس نے اپنے کپڑے مختلف رگوں کے خون سے رنگین کر لیے اس کے قتل سے پہلے نفس کی پریشانیاں اتنی زیادہ تھیں کہ انہوں نے مجھے بستر پر آرام کرنا بھلا دیا تھا ، میں نے اس کے ذریعے اپنا بدلہ لیا ہے ، اور اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے ، اور بتوں کی طرف لوٹنے والا میں پہلا فرد بن گیا ہوں “ ۔ جہاں تک سارہ نامی عورت کا تعلق ہے ، تو وہ قریش کی کنیز تھی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور حاجت مند ہونے کی آپ کے سامنے شکایت کی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ دے دیا پھر ایک شخص اس کے پاس آیا اور اس نے اس عورت کو اہل مکہ کے لئے ایک مکتوب دیا اس کے ذریعے وہ اہل مکہ کا قرب حاصل کرنا چاہتا تھا تاکہ اس کے اہل خانہ کی حفاظت ہو سکے کیونکہ اس کے اہلخانہ مکہ میں موجود تھے سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتا دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے پیچھے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو بھیجا وہ دونوں اس عورت کے پاس پہنچ گئے انہوں نے اس عورت کی تلاشی لی لیکن انہیں اس عورت سے کچھ نہیں ملا پھر وہ دونوں واپس آ گئے اسی دوران ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: اللہ کی قسم نہ تو ہمارے ساتھ غلط بیانی کی گئی ہے ، اور نہ ہی ہم نے غلط بیانی کی ہے ہم واپس اس عورت کے پاس چلتے ہیں پھر وہ دونوں اس عورت کے پاس واپس گئے ان دونوں نے اپنی تلواریں سونتیں اور کہا: اللہ کی قسم ہم تمہیں ضرور موت کا ذائقہ چکھا دیں گے یا پھر وہ مکتوب تم ہمارے حوالے کر دو اس عورت نے انکار کیا پھر اس عورت نے کہا: کہ میں وہ تمہارے حوالے کر دیتی ہوں اس شرط پر کہ تم دونوں مجھے واپس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں لے جاؤ گے ، تو ان دونوں نے وہ شرط مان لی اس عورت نے اپنے جوڑے کو کھولا اور اپنی مینڈھیوں میں سے ایک مکتوب نکالا اور وہ ان دونوں کے حوالے کر دیا وہ دونوں حضرات وہ مکتوب لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے ، اور وہ آپ کی خدمت میں پیش کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو پیغام بھیج کر دریافت کیا : یہ مکتوب کا کیا معاملہ ہے ، تو اس نے کہا: یا رسول اللہ ! میں آپ کو اس بارے میں بتاتا ہوں آپ کے ساتھ جتنے بھی لوگ ہیں ان کا مکہ میں کوئی نہ کوئی ایسا عزیز ہے ، جو ان کے گھر والوں کی حفاظت کر سکتا ہے ، تو میں نے ان لوگوں کو یہ مکتوب اس لئے لکھا تھا تاکہ وہ میرے گھر والوں کی حفاظت کریں تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیات نازل کیں : اے ایمان والو ! تم میرے اور اپنے دشمن کو دوست نہ بناؤ ، تم ان کے ساتھ محبت رکھنا چاہتے ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ آیات کے آخر تک ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبد الملک ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبد الملک ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10236
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّاسَ إِلَّا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ ، وَقَالَ : " اقْتُلُوهُمْ وَلَوْ وَجَدْتُمُوهُمْ مُتَعَلِّقِينَ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ : عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَطَلٍ ، وَمَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ " . ¤ فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَطَلٍ فَأُدْرِكَ وَهُوَ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ ، فَاسْتَبَقَ إِلَيْهِ سَعِيدُ بْنُ حُرَيْثٍ ، وَعَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ ، فَسَبَقَ سَعِيدٌ عَمَّارًا - وَكَانَ أَشَبَّ الرَّجُلَيْنِ - فَقَتَلَهُ . ¤ وَأَمَّا مَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ فَأَدْرَكَهُ رَجُلٌ مِنَ السُّوقِ فِي السُّوقِ . وَأَمَّا عِكْرِمَةُ فَرَكِبَ الْبَحْرَ فَأَصَابَتْهُمْ عَاصِفٌ ، فَقَالَ أَصْحَابُ السَّفِينَةِ لِأَهْلِ السَّفِينَةِ : أَخْلِصُوا فَإِنَّ آلِهَتَكُمْ لَا تُغْنِي عَنْكُمْ شَيْئًا هَاهُنَا ، فَقَالَ عِكْرِمَةُ : لَئِنْ لَمْ يُنَجِّنِي فِي الْبَحْرِ إِلَّا الْإِخْلَاصُ ، مَا يُنَجِّينِي فِي الْبَرِّ غَيْرُهُ ، اللَّهُمَّ إِنَّ لَكَ عَلَيَّ عَهْدًا ، إِنْ أَنْتَ عَافَيْتَنِي مِمَّا أَنَا فِيهِ آتِي مُحَمَّدًا فَأَضَعُ يَدِي فِي يَدِهِ فَلَأَجِدَنَّهُ عَفُوًّا كَرِيمًا ، قَالَ : فَجَاءَ فَأَسْلَمَ . وَذَكَرَ الْحَدِيثَ - قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ وَغَيْرُهُ بِاخْتِصَارٍ - رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَالْبَزَّارُ وَزَادَ : فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ; فَإِنَّهُ أَحْنَى عَلَيْهِ عُثْمَانُ فَلَمَّا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - النَّاسَ لِلْبَيْعَةِ ، جَاءَ بِهِ حَتَّى أَوْقَفَهُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ ، بَايِعْ عَبْدَ اللَّهِ . فَرَفَعَ رَأْسَهُ يَنْظُرُ إِلَيْهِ . كُلُّ ذَلِكَ يَأْبَى ، فَبَايَعَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ بِأَصَابِعِهِ ، ثُمَّ أَقْبَلَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ : " أَمَا كَانَ فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ يَنْظُرُ إِذْ رَآنِي كَفَفْتُ يَدِي عَنْ بَيْعَتِهِ فَيَقْتُلُهُ ؟ " . قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوْ أَوْمَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ ؟ قَالَ : " فَإِنَّهُ لَا يَنْبَغِي لِنَبِيٍّ أَنْ تَكُونَ لَهُ خَائِنَةُ الْأَعْيُنِ " . وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ سَعِيدِ بْنِ يَرْبُوعٍ بَعْدُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَعَ أَحَادِيثَ نَحْوِ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام لوگوں کو امان دے دی تھی صرف چار افراد اور دو خواتین کا معاملہ مختلف تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ انہیں قتل کر دو اگرچہ تم انہیں خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ لیٹے ہوئے پاؤ عکرمہ بن ابوجہل عبداللہ بن خطل ، مقیس بن صبابہ اور عبدالله بن سعد بن ابوسرح جہاں تک عبداللہ بن خطل کا تعلق ہے ، تو وہ خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ لپٹا ہو پایا گیا اور وہاں مارا گیا سیدنا سعید بن حریث رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ اس کی طرف لپکے تھے سیدنا سعید رضی اللہ عنہ سیدنا عمار رضی اللہ عنہ سے پہلے پہنچ گئے کیونکہ وہ دونوں میں نوجوان تھے اور انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔ جہاں تک مقیس بن صبابہ کا تعلق ہے تو لوگوں نے اسے بازار میں پا لیا ۔ جہاں تک عکرمہ کا تعلق ہے ، تو وہ سوار ہو کر سمندری سفر پر روانہ ہوئے راستے میں طوفان آ گیا کشتی چلانے والوں نے کشتی والوں سے کہا: کہ اب تم لوگ اخلاص کے ساتھ ( اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو ) کیونکہ اب تمہارے معبود یہاں کسی کام نہیں آئیں گے ، تو عکرمہ نے کہا: کہ اگر سمندر میں صرف اخلاص مجھے نجات دے سکتا ہے ، تو خشکی میں بھی کوئی چیز مجھے نجات نہیں دے گی اے اللہ میں تیرے ساتھ یہ عہد کرتا ہوں کہ اگر تو نے مجھے نجات دے دی جس مصیبت میں مبتلا ہوں تو میں سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس جاؤں گا اور اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دوں گا اور میں انہیں معاف کرنے والا مہربان پاؤں گا ۔ راوی کہتے ہیں : پھر وہ آئے ، اور انہوں نے اسلام قبول کر لیا اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں یہ روایت امام ابوداؤد اور دیگر حضرات نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں جہاں تک عبداللہ بن سعد بن ابوسرح کا تعلق ہے ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس پر مہربانی کی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا تو سیدنا عثمان اسے ساتھ لے کے آئے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کے کھڑا کر دیا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ عبداللہ سے بیعت لے لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور آپ نے یہ بات قبول نہیں کی تین مرتبہ کے بعد آپ نے اس سے بیعت لے لی آپ نے اپنی انگلیوں کے ذریعے اس سے بیعت لی پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : کیا تمہارے درمیان کوئی سمجھ دار شخص موجود نہیں تھا جو یہ دیکھ لیتا کہ جب اس نے مجھے دیکھا ہے کہ میں نے اپنے ہاتھ اس کی بیعت سے پیچھے کیے ہوئے ہیں ، تو وہ اسے قتل کر دیتا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے آنکھ کے ذریعے ہماری طرف اشارہ کر دینا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ آنکھ کی خیانت کرنے والا ہو ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سعید بن یربوع کے حوالے سے مذکور حدیث آگے چل کر اس نوعیت کی دیگر احادیث کے ہمراہ آئے گی اگر اللہ نے چاہا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے بھی نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں جہاں تک عبداللہ بن سعد بن ابوسرح کا تعلق ہے ، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس پر مہربانی کی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بیعت کے لئے بلایا تو سیدنا عثمان اسے ساتھ لے کے آئے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لا کے کھڑا کر دیا انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ عبداللہ سے بیعت لے لیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا اور آپ نے یہ بات قبول نہیں کی تین مرتبہ کے بعد آپ نے اس سے بیعت لے لی آپ نے اپنی انگلیوں کے ذریعے اس سے بیعت لی پھر آپ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کرنے کے بعد ارشاد فرمایا : کیا تمہارے درمیان کوئی سمجھ دار شخص موجود نہیں تھا جو یہ دیکھ لیتا کہ جب اس نے مجھے دیکھا ہے کہ میں نے اپنے ہاتھ اس کی بیعت سے پیچھے کیے ہوئے ہیں ، تو وہ اسے قتل کر دیتا لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے آنکھ کے ذریعے ہماری طرف اشارہ کر دینا تھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نبی کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ آنکھ کی خیانت کرنے والا ہو ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سعید بن یربوع کے حوالے سے مذکور حدیث آگے چل کر اس نوعیت کی دیگر احادیث کے ہمراہ آئے گی اگر اللہ نے چاہا ۔
حدیث نمبر: 10237
وَعَنِ الزُّبَيْرِ - يَعْنِي ابْنَ الْعَوَّامِ - عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : أَنَّهُ أُعْطِيَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ لِوَاءَ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ ، فَدَخَلَ الزُّبَيْرُ مَكَّةَ بِلِوَاءَيْنِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ جِدًّا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فتح مکہ کے دن سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کا جھنڈا انہیں دے دیا تھا تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ مکہ میں دو جھنڈے لے کر داخل ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زیالہ ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن بن زیالہ ہے اور وہ انتہائی ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10238
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ ، اسْتَشْرَفَهُ النَّاسُ ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى رَحْلِهِ تَخَشُّعًا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے ، تو لوگ آپ کو جھانک کر دیکھنے لگے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خشوع و خضوع کی وجہ سے اپنا سر پالان پر رکھ لیا ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابوبکر مقدمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن ابوبکر مقدمی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10239
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كُنَّا بِسَرِفَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ قَرِيبٌ مِنْكُمْ فَاحْذَرُوهُ " ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " [ أَسْلِمْ ] يَا أَبَا سُفْيَانَ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَوْمِي قَوْمِي . قَالَ : " قَوْمُكَ مَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ " قَالَ : اجْعَلْ لِي شَيْئًا . قَالَ : " مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب ہم سرف کے مقام پر موجود تھے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابوسفیان تم لوگوں کے قریب ہے تم اس سے بچنا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : اے ابوسفیان تم اسلام قبول کر لو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری قوم میری قوم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہاری قوم میں جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے گا وہ مامون ہو گا اس نے عرض کی : میرے لئے بھی کوئی چیز مقرر کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو گا وہ مامون ہو گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10240
وَعَنْ أَبِي لَيْلَى قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ فِي الْأَرَاكِ " . فَدَخَلْنَا فَأَخَذْنَاهُ فَجَعَلَ الْمُسْلِمُونَ يَحْوُونَهُ بِجُفُونِ سُيُوفِهِمْ حَتَّى جَاءُوا بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ لَهُ : " وَيْحَكَ يَا أَبَا سُفْيَانَ ، قَدْ جِئْتُكُمْ بِالدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ; فَأَسْلِمُوا تَسْلَمُوا " . ¤ وَكَانَ الْعَبَّاسُ لَهُ صَدِيقًا ، فَقَالَ لَهُ الْعَبَّاسُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ يُحِبُّ الصَّوْتَ ، فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُنَادِيًا يُنَادِي بِمَكَّةَ : " مَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ أَلْقَى سِلَاحَهُ فَهُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ " . ¤ ثُمَّ بَعَثَ مَعَهُ الْعَبَّاسَ حَتَّى جَلَسَا عَلَى عَقَبَةِ الثَّنِيَّةِ فَأَقْبَلَتْ بَنُو سَلَمَةَ ، فَقَالَ : يَا عَبَّاسُ مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَذِهِ بَنُو سُلَيْمٍ ، فَقَالَ : وَمَا أَنَا وَسُلَيْمٌ . ¤ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فِي الْمُهَاجِرِينَ ، فَقَالَ : يَا عَبَّاسُ مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فِي الْمُهَاجِرِينَ ، ثُمَّ أَقْبَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : يَا عَبَّاسُ مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قَالَ : هَؤُلَاءِ الْمَوْتُ الْأَحْمَرُ ، هَذَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْأَنْصَارِ . ¤ فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : لَقَدْ رَأَيْتُ مُلْكَ كِسْرَى وَقَيْصَرَ ، فَمَا رَأَيْتُ مِثْلَ مُلْكِ ابْنِ أَخِيكَ ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ : إِنَّمَا هِيَ النُّبُوَّةُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ حَرْبُ بْنُ الْحَسَنِ الطَّحَّانُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
ابولیلی بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے ارشاد فرمایا : ابوسفیان ، پیلو کے درختوں میں ہے ، ہم اس میں داخل ہوئے ، اور ہم نے اسے پکڑ لیا مسلمان اسے اپنی تلواروں کے درمیان لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ابوسفیان تمہارا ستیاناس ہو میں تمہارے پاس دنیا اور آخرت لے کے آ رہا ہوں تم اسلام قبول کر لو تم سلامت رہو گے ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ابوسفیان کے دوست تھے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ابوسفیان نمایاں ہونے کو پسند کرتا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو یہ حکم دیا کہ وہ مکہ میں یہ اعلان کرے کہ جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے گا وہ مامون ہو گا ، جو شخص ہتھیار ڈال دے گا وہ مامون ہو گا ، جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو گا وہ مامون ہو گا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کے ساتھ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو بھیجا یہ دونوں حضرات گھاٹی کے پاس بیٹھ گئے بنو سلمہ آئے ، تو ابوسفیان نے کہا: اے عباس یہ کون لوگ ہیں انہوں نے بتایا : یہ بنو سلیم ہیں اس نے کہا: میرا سلیم کے ساتھ کیا واسطہ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مہاجرین کے درمیان تشریف لائے ، تو اس نے دریافت کیا : اے عباس یہ کون ہیں انہوں نے بتایا : یہ علی بن ابوطالب مہاجرین کے درمیان موجود ہیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے درمیان تشریف لائے ، تو اس نے دریافت کیا : اے عباس یہ کون ہیں انہوں نے بتایا : یہ سرخ موت ہے یہ اللہ کے رسول ہیں جو انصار کے درمیان ہیں ابوسفیان نے کہا: میں نے کسری اور قیصر کی بادشاہی دیکھی ہے لیکن میں نے تمہارے بھتیجے جیسی بادشاہی نہیں دیکھی تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ نبوت ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حرب بن حسن طحان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حرب بن حسن طحان ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 10241
وَعَنْ عُرْوَةَ قَالَ : ثُمَّ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي اثْنَيْ عَشَرَ أَلْفًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ ، وَأَسْلَمَ ، وَغِفَارٍ ، وَجُهَيْنَةَ ، وَبَنِي سُلَيْمٍ ، وَقَادُوا الْخُيُولَ حَتَّى نَزَلُوا بِمَرِّ الظَّهْرَانِ ، وَلَمْ تَعْلَمْ بِهِمْ قُرَيْشٌ ، وَبَعَثُوا بِحَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ ، وَأَبِي سُفْيَانَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالُوا : خُذْ لَنَا مِنْهُ جِوَارًا أَوْ آذِنُوهُ بِالْحَرْبِ . ¤ فَخَرَجَ أَبُو سُفْيَانَ بْنُ حَرْبٍ ، وَحَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ فَلَقِيَا بُدَيْلَ بْنَ وَرْقَاءَ فَاسْتَصْحَبَاهُ حَتَّى إِذَا كَانَا بِالْأَرَاكِ مِنْ مَكَّةَ - وَذَلِكَ عِشَاءً - رَأَوُا الْفَسَاطِيطَ وَالْعَسْكَرَ ، وَسَمِعُوا صَهِيلَ الْخَيْلِ فَرَاعَهُمْ ذَلِكَ وَفَزِعُوا مِنْهُ . ¤ وَقَالُوا : هَؤُلَاءِ بَنُو كَعْبٍ حَاشَتْهُمُ الْحَرْبُ ، فَقَالَ بُدَيْلٌ : هَؤُلَاءِ أَكْثَرُ مَنْ بَنِي كَعْبٍ مَا بَلَغَ تَأْلِيبُهَا هَذَا ، أَفَتَنْتَجِعُ هَوَازِنُ أَرْضَنَا ؟ وَاللَّهِ مَا نَعْرِفُ هَذَا أَيْضًا ، إِنَّ هَذَا لِمِثْلُ حَاجِّ النَّاسِ . وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَدْ بَعَثَ بَيْنَ يَدَيْهِ خَيْلًا تَقْبِضُ الْعُيُونَ ، وَخُزَاعَةُ عَلَى الطَّرِيقِ لَا يَتْرُكُونَ أَحَدًا يَمْضِي . ¤ فَلَمَّا دَخَلَ أَبُو سُفْيَانَ وَأَصْحَابُهُ عَسْكَرَ الْمُسْلِمِينَ أَخَذَتْهُمُ الْخَيْلُ تَحْتَ اللَّيْلِ ، وَأَتَوْا بِهِمْ خَائِفِينَ الْقَتْلَ ، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِلَى أَبِي سُفْيَانَ فَوَجَأَهُ فِي عُنُقِهِ ، وَالْتَزَمَهُ الْقَوْمُ وَخَرَجُوا بِهِ لِيُدْخِلُوهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَافَ الْقَتْلَ . ¤ وَكَانَ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ خَالِصَةً لَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَصَاحَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ : أَلَا تَأْمُرُوا لِي إِلَى عَبَّاسٍ ؟ فَأَتَاهُ عَبَّاسٌ فَدَفَعَ عَنْهُ ، وَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَقْبِضَهُ إِلَيْهِ ، وَمَشَى فِي الْقَوْمِ مَكَانَهُ ، فَرَكِبَ بِهِ عَبَّاسٌ تَحْتَ اللَّيْلِ فَسَارَ بِهِ فِي عَسْكَرِ الْقَوْمِ حَتَّى أَبْصَرُوهُ أَجْمَعُ . ¤ وَقَدْ كَانَ عُمَرُ قَدْ قَالَ لِأَبِي سُفْيَانَ حِينَ وَجَأَ عُنُقَهُ : وَاللَّهِ لَا تَدْنُو مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى تَمُوتَ . ¤ فَاسْتَغَاثَ بِعَبَّاسٍ ، فَقَالَ : إِنِّي مَقْتُولٌ . فَمَنَعَهُ مِنَ النَّاسِ أَنْ يَنْتَهِبُوهُ ، فَلَمَّا رَأَى كَثْرَةَ النَّاسِ وَطَاعَتَهُمْ قَالَ : لَمْ أَرَ كَاللَّيْلَةِ جَمْعًا لِقَوْمٍ . فَخَلَّصَهُ الْعَبَّاسُ مِنْ أَيْدِيهِمْ ، وَقَالَ : إِنَّكَ مَقْتُولٌ إِنْ لَمْ تُسْلِمْ وَتَشْهَدْ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . فَجَعَلَ يُرِيدُ يَقُولُ الَّذِي يَأْمُرُهُ الْعَبَّاسُ فَلَا يَنْطَلِقُ لِسَانُهُ ، فَبَاتَ مَعَ عَبَّاسٍ . ¤ وَأَمَّا حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ ، وَبُدَيْلُ بْنُ وَرْقَاءَ فَدَخَلَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْلَمَا ، وَجَعَلَ يَسْتَخْبِرُهُمَا عَنْ أَهْلِ مَكَّةَ . ¤ فَلَمَّا نُودِيَ بِالصَّلَاةِ - صَلَاةِ الصُّبْحِ - تَحَسَّسَ الْقَوْمَ ، فَفَزِعَ أَبُو سُفْيَانَ ، فَقَالَ : يَا عَبَّاسُ ، مَاذَا تُرِيدُونَ ؟ قَالَ : هُمُ الْمُسْلِمُونَ يَتَيَسَّرُونَ لِحُضُورِ رَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . فَخَرَجَ بِهِ عَبَّاسٌ ، فَلَمَّا أَبْصَرَهُمْ أَبُو سُفْيَانَ قَالَ : يَا عَبَّاسُ ، أَمَا يَأْمُرُهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا فَعَلَوْهُ ؟ فَقَالَ عَبَّاسٌ : لَوْ نَهَاهُمْ عَنِ الطَّعَامِ وَالشَّرَابِ لَأَطَاعُوهُ . ¤ قَالَ عَبَّاسٌ : فَكَلِّمْهُ فِي قَوْمِكَ هَلْ عِنْدَهُ مِنْ عَفْوٍ عَنْهُمْ ؟ فَأَتَى الْعَبَّاسُ بِأَبِي سُفْيَانَ حَتَّى أَدْخَلَهُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ عَبَّاسٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذَا أَبُو سُفْيَانَ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : يَا مُحَمَّدُ ، إِنِّي قَدِ اسْتَنْصَرْتُ إِلَهِي ، وَاسْتَنْصَرْتَ إِلَهَكَ ، فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُكَ إِلَّا قَدْ ظَهَرْتَ عَلَيَّ ، فَلَوْ كَانَ إِلَهِي مُحِقًّا وَإِلَهُكَ مُبْطِلًا لَظَهَرْتُ عَلَيْكَ . فَشَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . ¤ فَقَالَ عَبَّاسٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْذَنَ لِي آتِيَ قَوْمَكَ فَأُنْذِرَهُمْ مَا نَزَلَ وَأَدْعُوَهُمْ إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ . فَأَذِنَ لَهُ ، فَقَالَعَبَّاسٌ : كَيْفَ أَقُولُ لَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ بَيِّنْ لِي مِنْ ذَلِكَ أَمَانًا يَطْمَئِنُّونَ إِلَيْهِ . ¤ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَقُولُ لَهُمْ : مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ فَهُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ جَلَسَ عِنْدَ الْكَعْبَةِ فَوَضَعَ سِلَاحَهُ فَهُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ أَغْلَقَ عَلَيْهِ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ " . ¤ فَقَالَ عَبَّاسٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَبُو سُفْيَانَ ابْنُ عَمِّنَا ، وَأُحِبُّ أَنْ يَرْجِعَ مَعِي فَلَوِ اخْتَصَصْتَهُ بِمَعْرُوفٍ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ " . فَجَعَلَ أَبُو سُفْيَانَ يَسْتَفْقِهُهُ ، وَدَارُ أَبِي سُفْيَانَ بِأَعْلَى مَكَّةَ " وَمَنْ دَخَلَ دَارَ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ وَكَفَّ يَدَهُ فَهُوَ آمِنٌ " . وَدَارُ حَكِيمٍ بِأَسْفَلِ مَكَّةَ . ¤ وَحَمَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَبَّاسًا عَلَى بَغْلَتِهِ الْبَيْضَاءِ الَّتِي كَانَ أَهْدَاهَا إِلَيْهِ دِحْيَةُ الْكَلْبِيُّ ، فَانْطَلَقَ عَبَّاسٌ بِأَبِي سُفْيَانَ قَدْ أَرْدَفَهُ . فَلَمَّا سَارَ عَبَّاسٌ بَعَثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَثَرِهِ ، فَقَالَ : " أَدْرِكُوا عَبَّاسًا فَرُدُّوهُ عَلَيَّ " . ¤ وَحَدَّثَهُمْ بِالَّذِي خَافَ عَلَيْهِ فَأَدْرَكَهُ الرَّسُولُ فَكَرِهَ عَبَّاسٌ الرُّجُوعَ وَقَالَ : أَيَرْهَبُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَرْجِعَ أَبُو سُفْيَانَ رَاغِبًا فِي قِلَّةِ النَّاسِ فَيَكْفُرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ ؟ ، فَقَالَ : احْبِسْهُ . فَحَبَسَهُ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : أَغَدْرًا يَا بَنِي هَاشِمٍ ، فَقَالَ عَبَّاسٌ : إِنَّا لَسْنَا نَغْدِرُ ، وَلَكِنَّ لِي إِلَيْكَ بَعْضَ الْحَاجَةِ ، قَالَ : وَمَا هِيَ أَقْضِيهَا لَكَ ؟ قَالَ : تُفَادِهَا حِينَ يَقْدَمُ عَلَيْكَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ، فَوَقَفَ عَبَّاسٌ بِالْمَضِيقِ دُونَ الْأَرَاكِ مِنْ مَرٍّ ، وَقَدْ وَعَى أَبُو سُفْيَانَ مِنْهُ حَدِيثَهُ ، ثُمَّ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخَيْلَ بَعْضَهَا عَلَى أَثَرِ بَعْضٍ ، وَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْخَيْلَ شَطْرَيْنِ فَبَعَثَ الزُّبَيْرَ ، وَرَدِفَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بِالْجَيْشِ مِنْ أَسْلَمَ وَغِفَارٍ وَقُضَاعَةَ ، فَقَالَ أَبُو سُفْيَانَ : رَسُولُ اللَّهِ هَذَا يَا عَبَّاسُ ؟ قَالَ : لَا ، وَلَكِنْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ بَيْنَ يَدَيْهِ فِي كَتِيبَةٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَقَالَ : " الْيَوْمَ يَوْمُ الْمَلْحَمَةِ الْيَوْمَ تُسْتَحَلُّ الْحُرُمَةُ " . ¤ ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي كَتِيبَةِ الْإِيمَانِ : الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ . فَلَمَّا رَأَى أَبُو سُفْيَانَ وُجُوهًا كَثِيرَةً لَا يَعْرِفُهَا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَكْثَرْتَ - أَوِ : اخْتَرْتَ - هَذِهِ الْوُجُوهَ عَلَى قَوْمِكَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْتَ فَعَلْتَ ذَلِكَ وَقَوْمُكَ ، إِنَّ هَؤُلَاءِ صَدَّقُونِي إِذْ كَذَّبْتُمُونِي وَنَصَرُونِي إِذْ أَخْرَجْتُمُونِي " . ¤ وَمَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَئِذٍ الْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ ، وَعَبَّاسُ بْنُ مِرْدَاسٍ ، وَعُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنِ بْنِ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ ، فَلَمَّا أَبْصَرَهُمْ حَوْلَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : مَنْ هَؤُلَاءِ يَا عَبَّاسُ ؟ قَالَ : هَذِهِ كَتِيبَةُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمَعَ هَذِهِ الْمَوْتُ الْأَحْمَرُ ، هَؤُلَاءِ الْمُهَاجِرُونَ وَالْأَنْصَارُ ، قَالَ : امْضِ يَا عَبَّاسُ ، فَلَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ جُنُودًا قَطُّ وَلَا جَمَاعَةً . ¤ فَسَارَ الزُّبَيْرُ فِي النَّاسِ حَتَّى وَقَفَ بِالْحَجُونِ ، وَانْدَفَعَ خَالِدٌ حَتَّى دَخَلَ مِنْ أَسْفَلِ مَكَّةَ فَلَقِيَهُ أَوْبَاشُ بَنِي بَكْرٍ فَقَاتَلُوهُمْ فَهَزَمَهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ ، وَقَتَلُوا بِالْحَزْوَرَةِ حَتَّى دَخَلُوا الدُّورَ ، وَارْتَفَعَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ عَلَى الْخَيْلِ عَلَى الْخَنْدَمَةِ ، وَاتَّبَعَهُ الْمُسْلِمُونَ فَدَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أُخْرَيَاتِ النَّاسِ وَنَادَى مُنَادٍ : " مَنْ أَغْلَقَ عَلَيْهِ دَارَهُ وَكَفَّ يَدَهُ فَإِنَّهُ آمِنٌ " . ¤ وَنَادَى أَبُو سُفْيَانَ بِمَكَّةَ : أَسْلِمُوا تَسْلَمُوا ، وَكَفَّهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْ عَبَّاسٍ . وَأَقْبَلَتْ هِنْدُ بِنْتُ عُتْبَةَ فَأَخَذَتْ بِلِحْيَةِ أَبِي سُفْيَانَ ثُمَّ نَادَتْ : يَا آلَ غَالِبٍ اقْتُلُوا هَذَا الشَّيْخَ الْأَحْمَقَ . قَالَ : فَأَرْسِلِي لِحْيَتِي ، فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ إِنْ أَنْتِ لَمْ تُسْلِمِي لَتُضْرَبَنَّ عُنُقُكِ ، وَيْلَكِ جَاءَ بِالْحَقِّ فَادْخُلِي أَرِيكَتَكِ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - وَاسْكُتِي . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین انصار اسلم قبیلے غفار قبیلے جہینہ قبیلے اور بنوسلیم سے تعلق رکھنے والے بارہ ہزار افراد کے ہمراہ روانہ ہوئے ان کی قیادت گھڑ سوار کر رہے تھے ، یہاں تک کہ ان لوگوں نے مرظہران کے مقام پر پڑاؤ کیا قریش کو ان کے بارے میں علم نہیں تھا ۔ انہوں نے حکیم بن حزام اور ابوسفیان کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا اور یہ کہا: کہ تم ان سے ہمارے لئے پناہ لے لینا یا پھر انہیں ، جنگ کی دعوت دے دینا ابوسفیان بن حرب اور حکیم بن حزام نکلے ان دونوں کی ملاقات بدیل بن ورقاء سے ہوئی ان دونوں نے اسے اپنے ساتھ آنے کے لئے کہا: ، یہاں تک کہ یہ لوگ مکہ میں اراک کے مقام تک پہنچ گئے رات ہو چکی تھی ان لوگوں نے خیمے اور لشکر دیکھے اور گھوڑوں کی آوازیں سنی تو اس سے گھبرا گئے ، اور خوف زدہ ہو گئے انہوں نے کہا: یہ تو بنوکعب لگتے ہیں جو جنگ کے لئے آ گئے ہیں ، تو بدیل نے کہا: ان کی تعداد بنو کعب سے زیادہ ہے ، اللہ کی قسم ہم اس سے واقف نہیں ہیں یہ تو حاجیوں کی مانند ( بے شمار لوگ ) ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سے آگے کچھ گھڑ سوار بھیجے ہوئے تھے جو جاسوسوں کو پکڑ لیتے تھے خزاعہ قبیلے کے لوگ راستے میں تھے وہ کسی کو گزرنے نہیں دیتے تھے جب ابوسفیان اور اس کے ساتھی مسلمانوں کے لشکر میں داخل ہوئے ، تو رات کے وقت شہسواروں نے انہیں پکڑ لیا اور انہیں لے کے آ گئے ان لوگوں کو یہ اندیشہ تھا کہ کہیں انہیں قتل نہ کر دیا جائے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اٹھ کر ابوسفیان کی طرف بڑھے اور انہوں نے ابوسفیان کی گردن پر ضرب لگائی ، تو لوگوں نے ابوسفیان کو پکڑ لیا اور اس سے ساتھ لے کے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے ابوسفیان کو قتل ہونے کا اندیشہ تھا ۔ سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ زمانہ جاہلیت سے اس کے دوست چلے آ رہے تھے اس نے بلند آواز میں کہا: کیا تم لوگ مجھے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس نہیں لے کے جاتے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے ، اور اُس سے لوگوں کو پرے کیا ۔ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ درخواست کی کہ آپ ابوسفیان کو اُن کے حوالے کر دیں ، اور لوگ اپنی جگہ پر چلے گئے رات کے وقت سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ابوسفیان کو اپنے ساتھ سوار کیا اور اسے لے کے لشکر میں گھومتے رہے ، یہاں تک کہ سب لوگوں نے اسے دیکھ لیا جس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ابوسفیان کی گردن پر ضرب لگائی تھی اس وقت انہوں نے یہ کہا: تھا اللہ کی قسم تم اس وقت تک اللہ کے رسول کے قریب نہیں ہو گے جب تک تم مر نہیں جاتے تو ابوسفیان نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ سے مدد مانگی تھی اور کہا: تھا میں مارا جاؤں گا ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اس بات سے منع کیا کہ وہ اسے کچھ کہیں جب ابوسفیان نے لوگوں کی کثرت اور ان کی فرمانبرداری دیکھی تو بولا: میں نے آج رات کی طرح کبھی کسی قوم کا مجموعہ نہیں دیکھا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں سے اسے چھڑوا لیا اور فرمایا : اگر تم اسلام قبول نہیں کرتے اور اس بات کی گواہی نہیں دیتے کہ سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اللہ کے رسول ہیں ، تو تم مارے جاؤ گے پھر اس نے یہ ارادہ کیا کہ وہ اس کلمے کو پڑھ لے جس کے بارے میں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اسے ہدایت کر رہے تھے لیکن اس کی زبان نہیں چلی اس نے وہ رات سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ گزار دی ۔ جہاں تک حکیم بن حزام اور ورقاء کا تعلق ہے ، تو وہ دونوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور ان دونوں نے اسلام قبول کر لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اہل مکہ کے بارے میں دریافت کرتے رہے جب صبح کی نماز کے لئے اذان دی گئی اور لوگوں میں حرکت شروع ہوئی ، تو ابوسفیان گھبرا گیا اور بولا: اے عباس کیا تم لوگ کیا کرنا چاہتے ہو ؟ انہوں نے بتایا : یہ مسلمان ہیں جو اللہ کے رسول کی موجودگی پر خوش ہیں پھر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ اسے ساتھ لے کر باہر نکلے ابوسفیان نے جب ان لوگوں کا طرز عمل دیکھا تو بولا: اے عباس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو جو بھی حکم دیتے ہیں یہ اسے بجا لاتے ہیں ، تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو کھانے پینے سے منع کر دیں تو یہ اس بارے میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں گے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اپنی قوم کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کرو کہ کیا ان کے پاس ان لوگوں کو معاف کرنے کی کوئی گنجائش ہے ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ ابوسفیان کو ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ ابوسفیان ہے ابوسفیان نے کہا: اے محمد میں نے اپنے معبود سے مدد مانگی اور آپ نے اپنے معبود سے مدد مانگی اللہ کی قسم میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ مجھ پر غالب آ گئے ہیں اگر میرا معبود حق ہوتا اور آپ کا معبود جھوٹا ہوتا تو میں نے آپ پر غالب آنا تھا ، پھر ابوسفیان نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اور سیدنا محمد اللہ کے رسول ہیں ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں یہ چاہتا ہوں کہ آپ مجھے اجازت دیں تاکہ میں آپ کی قوم کے پاس جاؤں اور انہیں اس صورت حال کے حوالے سے ڈراؤں جو پیش آ گئی ہے ، اور میں انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ میں ان سے کیا کہوں آپ میرے لئے امان کو واضح کر دیں تاکہ وہ لوگ اس کے حوالے سے مطمئن ہو جائیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آپ ان لوگوں سے یہ کہیں کہ جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی معبود ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، تو وہ شخص مامون شمار ہو گا ، جو شخص خانہ کعبہ کے پاس بیٹھ جائے گا اور ہتھیار رکھ دے گا وہ مامون شمار ہو گا ، جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے گا وہ مامون شمار ہو گا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ابوسفیان ہمارا چچا زاد ہے وہ یہ پسند کرتا ہے کہ وہ میرے ساتھ واپس جائے اگر آپ اس کے حوالے سے کوئی بھلائی مخصوص کر دیں تو یہ مناسب ہو گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو گا وہ مامون ہو گا ، کیا ابوسفیان کا گھر مکہ کے بالائی حصے میں تھا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) جو شخص حکیم بن حزام کے گھر میں داخل ہو جائے گا اور اپنا ہاتھ روک لے گا وہ مامون ہو گا حکیم کا گھر مکہ کے زیریں حصے میں تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو اپنا سفید خچر سواری کے لئے دیا جو سیدنا دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفہ کے طور پر دیا تھا ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے ابوسفیان کو اپنے پیچھے بٹھایا اور روانہ ہو گئے ۔ جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ روانہ ہوئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے کسی کو بھیجا اور فرمایا : سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر انہیں میرے پاس واپس لے کے آؤ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اس چیز کے بارے میں بتایا جس کے حوالے سے آپ کو اندیشہ تھا وہ قاصد سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے واپس جانے کو ناپسند کیا اور یہ کہا: کہ کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ ہے کہ ابوسفیان لوگوں کی قلت میں رغبت رکھتے ہوئے رجوع کر لے گا اور مسلمان ہونے کے بعد کافر ہو جائے گا قاصد نے کہا: آپ اسے روک کے رکھیں تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اسے روک لیا ابوسفیان نے کہا: اے بنو ہاشم کیا یہ عہد شکنی ہے ۔ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم عہد شکنی نہیں کرتے ہیں لیکن مجھے تم سے ایک کام ہے اس نے کہا: وہ کیا ہے میں وہ کام کروا دوں گا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جب خالد بن ولید اور زبیر بن عوام تمہارے سامنے آئیں گے ، تو تم نے انہیں دیکھنا ہے ، تو سیدنا عباس رضی اللہ اراک سے پہلے مرنامی جگہ پر ایک تنگ مقام پر ٹھہر گئے ابوسفیان نے ان کی بات کو محفوظ کر لیا تھا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یکے بعد دیگرے گھڑ سواروں کو بھجوایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑ سواروں کو دو حصوں میں تقسیم کیا تھا آپ نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور ان کے پیچھے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو اس لشکر کے ساتھ بھیجا جس کا تعلق اسلم غفار اور قضاعہ قبیلے سے تھا ابوسفیان نے دریافت کیا : اے عباس یہ اللہ کے رسول ہیں انہوں نے جواب دیا جی نہیں بلکہ یہ خالد بن ولید میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کو ان کے آگے انصار کے ایک چھوٹے دستے میں بھیجا تھا ۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: آج کا دن لڑائی کا دن ہے ، اور آج کے دن حرمت کو حلال کر دیا جائے گا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین اور انصار کے ایک دستے کے درمیان تشریف لائے جب ابوسفیان نے بہت سے ایسے چہرے دیکھے جن سے وہ واقف نہیں تھا تو اس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! آپ نے اپنی قوم کے مقابلے میں ان لوگوں کی تعداد زیادہ کر لی ہے ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) ان لوگوں کو اختیار کر لیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے اور تمہاری قوم نے جو کیا سو کیا ان لوگوں نے اس وقت میری تصدیق کی جب تم لوگوں نے مجھے جھٹلایا تھا ، اور ان لوگوں نے اس وقت میری مدد کی جب تم لوگوں نے مجھے نکال دیا تھا راوی بیان کرتے ہیں : اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اقرع بن حابس ، عباس بن مرداس ، عیینہ بن حصن بن بدر فزاری بھی تھے جب اس نے ان لوگوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد دیکھا تو دریافت کیا : اے عباس یہ کون لوگ ہیں انہوں نے بتایا : یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا دستہ ہے ، اور اس کے ہمراہ سرخ موت ہے یہ مہاجرین اور انصار ہیں ابوسفیان نے کہا: اے عباس چل پڑو میں نے آج کے دن کی طرح کے لشکر اور جماعت کبھی نہیں دیکھے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ لوگوں کے ساتھ چلتے ہوئے حجون کے مقام پر آ کر ٹھہر گئے سیدنا خالد رضی اللہ عنہ مکہ کے زیریں حصے سے شہر میں داخل ہوئے بنو بکر کے کچھ اوباش لوگوں نے ان کا سامنا کیا ، تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے انہیں قتل کر دیا ، اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو پسپا کر دیا وہ لوگ حزورہ کے مقام پر قتل ہوئے تھے ، یہاں تک کہ وہ محلوں میں داخل ہو گئے ان میں سے ایک گروہ اوپر کی طرف پہاڑ پر خندمہ پر آیا مسلمانوں نے ان کا پیچھا کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیچھے آنے والے افراد میں موجود تھے ایک منادی نے یہ اعلان کیا کہ جو شخص اپنے گھر کا دروازہ بند کر لے گا اور اپنا ہاتھ روک کے رکھے گا وہ مامون شمار ہو گا ابوسفیان نے مکہ میں یہ اعلان کیا تم لوگ اسلام قبول کر لو تم سلامت رہو گے یوں اللہ تعالیٰ نے انہیں سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے حوالے سے محفوظ کیا اسی دوران ہند بنت عتبہ آئی اس نے ابوسفیان کی داڑھی پکڑی اور پھر بلند آواز میں بولی: اے آل غالب اس بوڑھے احمق کو قتل کر دو ابوسفیان نے کہا: تم میری داڑھی چھوڑ دو میں اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ کہتا ہوں کہ اگر تم نے اسلام قبول نہ کیا ، تو تمہاری گردن اڑا دی جائے گی تمہارا ستیاناس ہو حق آ چکا ہے تم اپنے گھر میں چلی جاؤ اور خاموش رہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل“ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل“ روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 10242
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ يَرْبُوعٍ - وَكَانَ يُسَمَّى الصَّرْمَ - أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ : " أَرْبَعَةٌ لَا أُؤَمِّنُهُمْ فِي حِلٍّ وَلَا حَرَمٍ : الْحُوَيْرِثُ بْنُ نُفَيْلٍ ، وَمَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ ، وَهِلَالُ بْنُ خَطَلٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ " . ¤ فَأَمَّا الْحُوَيْرِثُ فَقَتَلَهُ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَأَمَّا مَقِيسُ بْنُ صُبَابَةَ فَقَتَلَهُ ابْنُ عَمٍّ لَهُ لَحَّاءٌ ، وَأَمَّا هِلَالُ بْنُ خَطَلٍ فَقَتَلَهُ الزُّبَيْرُ ، وَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ فَأَسْتَأْمَنَ لَهُ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَكَانَ أَخَاهُ مِنَ الرَّضَاعَةِ . وَقَيْنَتَيْنِ كَانَتَا لِمَقِيسٍ تُغَنِّيَانِ بِهِجَاءِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُتِلَتْ إِحْدَاهُمَا ، وَأَقْبَلَتِ الْأُخْرَى فَأَسْلَمَتْ . ¤ قُلْتُ : رَوَى أَبُو دَاوُدَ مِنْهُ طَرَفًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ نَحْوَ هَذَا قَبْلُ بِوَرَقَتَيْنِ فِي هَذَا الْمَعْنَى . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن یربوع رضی اللہ عنہ جن کا نام ” صرم “ ہے وہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چار افراد ایسے ہیں ، جنہیں میں حل میں یا حرم میں امان نہیں دوں گا حویرث بن نفیل ، مقیس بن صبابہ ہلال بن خطل اور عبداللہ بن سعد بن ابوسرح جہاں تک حویرث کا تعلق ہے ، تو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا ۔ جہاں تک مقیس بن صبابہ کا تعلق ہے ، تو اس کے چچا زاد نے اسے قتل کر دیا جہاں تک حلال بن خطل کا تعلق ہے ، تو سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا جہاں تک عبداللہ بن سعد بن ابوسرح کا تعلق ہے ، تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اس کے لئے امان حاصل کر لی کیونکہ وہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کا رضاعی بھائی تھا اسی طرح مقیس کی دو کنیزیں تھیں جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو میں شاعری گایا کرتی تھیں ان میں سے ایک قتل ہو گئی اور دوسری آ گئی اور اس نے اسلام قبول کر لیا ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں امام ابوداؤد نے اس روایت کا ایک حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے دو ورق پہلے اس موضوع سے متعلق اس نوعیت کی احادیث اس سے پہلے گزر چکی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے دو ورق پہلے اس موضوع سے متعلق اس نوعیت کی احادیث اس سے پہلے گزر چکی ہیں ۔
حدیث نمبر: 10243
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : لَمَّا وَقَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِذِي طُوًى ، قَالَ أَبُو قُحَافَةَ لِابْنَةٍ لَهُ مِنْ أَصْغَرِ وَلَدِهِ : أَيْ بُنَيَّةُ أَظْهِرِينِي عَلَى أَبِي قُبَيْسٍ . قَالَ : وَقَدْ كُفَّ بَصَرُهُ . قَالَتْ : فَأَشْرَفْتُ بِهِ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : يَا بُنَيَّةُ مَاذَا تَرَيْنَ ؟ قَالَتْ : أَرَى سَوَادًا مُجْتَمِعًا قَالَ : تِلْكَ الْخَيْلُ . ¤ قَالَتْ : وَأَرَى رَجُلًا يَسْعَى بَيْنَ ذَلِكَ السَّوَادِ مُقْبِلًا وَمُدْبِرًا ، قَالَ : يَا بُنَيَّةُ ، ذَلِكَ الْوَازِعُ - يَعْنِي الَّذِي يَأْمُرُ الْخَيْلَ وَيَتَقَدَّمُ إِلَيْهَا - قَالَتْ : قَدْ وَاللَّهِ انْتَشَرَ السَّوَادُ ، قَالَ : إِذًا وَاللَّهِ دَفَعَتِ الْخَيْلُ ، أَسْرِعِي بِي إِلَى بَيْتِي . وَانْحَطَّتْ بِهِ ، وَتَلَقَّاهُ الْخَيْلُ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى بَيْتِهِ ، وَفِي عُنُقِ الْجَارِيَةِ طَوْقٌ مِنْ وَرِقٍ فَتَلَقَّاهَا رَجُلٌ فَاقْتَلَعَهُ مِنْهَا . ¤ قَالَتْ : فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَدَخَلَ الْمَسْجِدَ أَتَى أَبُو بَكْرٍ بِأَبِيهِ يَقُودُهُ ، فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " هَلَّا تَرَكْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ حَتَّى أَكُونَ أَنَا آتِيهِ فِيهِ ؟ " . فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هُوَ أَحَقُّ أَنْ يَمْشِيَ إِلَيْكَ مِنْ أَنْ تَمْشِيَ إِلَيْهِ ، قَالَ : فَأَجْلَسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ ، ثُمَّ مَسَحَ صَدْرَهُ ثُمَّ قَالَ لَهُ : " أَسْلِمْ " فَأَسْلَمَ ، وَدَخَلَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَرَأْسُهُ كَأَنَّهَا ثَغَامَةٌ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " غَيِّرُوا هَذَا مِنْ شَعْرِهِ " . ¤ ثُمَّ قَامَ أَبُو بَكْرٍ فَأَخَذَ بِيَدِ أُخْتِهِ ، فَقَالَ : أَنْشُدُ اللَّهَ وَالْإِسْلَامَ طَوْقَ أُخْتِي ، فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ ، فَقَالَ : يَا أُخَيَّةُ ، احْتَسِبِي طَوْقَكِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ وَزَادَ : فَوَاللَّهِ إِنَّ الْأَمَانَةَ الْيَوْمَ فِي النَّاسِ لَقَلِيلَةٌ . وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ . وَرَوَاهُ مِنْ طَرِيقٍ آخَرَ عَنْ أَسْمَاءَ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ مِثْلَهُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہما بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ذی طولی کے مقام پر ٹھہرے تو سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ نے اپنی اولاد میں سے سب سے چھوٹی صاحبزادی سے فرمایا : اے میری بیٹی تم مجھے لے کے جبل ابوقبیس پر جاؤ راوی کہتے ہیں : اس وقت ان کی بینائی رخصت ہو چکی تھی وہ خاتون بیان کرتی ہیں میں انہیں لے کے پہاڑ پر چڑھ گئی ۔ انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹی تم کیا دیکھ رہی ہو ؟ اس لڑکی نے جواب دیا میں بہت سے لوگوں کو دیکھ رہی ہوں ۔ انہوں نے فرمایا : وہ گھڑ سوار ہوں گے اس خاتون نے کہا: میں ایک شخص کو دیکھ رہی ہوں جو ان لوگوں کے آگے کبھی ادھر ادھر آ رہا ہے کبھی جا رہا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : میری بیٹی وہ واضح ہو گا اس سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص جو گھڑ سواروں کو حکم دیتا ہے ، اور انہیں آگے کرتا ہے وہ خاتون بیان کرتی ہیں اللہ کی قسم اب وہ لوگ بکھرنا شروع ہو گئے ہیں ، تو ابوقحافہ نے کہا: اللہ کی قسم ایسی صورت میں گھڑ سوار روانہ ہو گئے ہوں گے تم مجھے جلدی سے لے کے میرے گھر چلی جاؤ وہ لوگ وہاں سے نیچے اترے ان کے گھر پہنچنے سے پہلے گھڑ سوار ان تک پہنچ چکے تھے اس لڑکی کی گردن میں چاندی کا ایک ہار تھا ایک شخص اس لڑکی کے پاس آیا اور اس نے وہ ہار اس لڑکی کی گردن سے کھینچ لیا وہ لڑکی بیان کرتی ہیں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، اور مسجد میں آئے ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے والد کو ساتھ لے کے آپ کی خدمت میں آئے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ملاحظہ فرمایا تو ارشاد فرمایا : تم نے ان بزرگوار کو گھر میں کیوں نہیں رہنے دیا میں خود ان کے پاس آتا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ یہ چل کر آپ کے پاس آئیں بہ نسبت اس کے کہ آپ چل کر ان کے پاس جائیں راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اپنے سامنے بٹھا لیا پھر آپ نے ان کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور پھر ان سے فرمایا آپ اسلام قبول کر لیں تو انہوں نے اسلام قبول کر لیا جس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ انہیں ساتھ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ، تو سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کا سر ثغامہ نامی پھول کی طرح سفید تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کے بالوں کی رنگت تبدیل کر دو پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اٹھے انہوں نے اپنی بہن کا ہاتھ پکڑا اور بولے : میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر یہ کہتا ہوں کہ میری بہن کا ہار واپس کر دو لیکن کسی نے انہیں جواب نہیں دیا ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے میری بہن اپنے ہار کے حوالے سے ثواب کی امید رکھو ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں اللہ کی قسم اب لوگوں میں امانت کم رہ گئی ہے ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔ انہوں نے اسے ایک اور سند کے ساتھ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے حوالے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مانند نقل کیا ہے ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں اللہ کی قسم اب لوگوں میں امانت کم رہ گئی ہے ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔ انہوں نے اسے ایک اور سند کے ساتھ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے حوالے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مانند نقل کیا ہے ۔ اس روایت کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10244
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : جَاءَ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - بِأَبِيهِ أَبِي قُحَافَةَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُودُهُ - شَيْخٌ أَعْمَى - يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا تَرَكْتَ الشَّيْخَ فِي بَيْتِهِ حَتَّى نَأْتِيَهُ ؟ " قَالَ : أَرَدْتُ أَنْ يُؤْجِرَهُ اللَّهُ . ¤ لَأَنَا كُنْتُ بِإِسْلَامِ أَبِي طَالِبٍ أَشَدَّ فَرَحًا مِنِّي بِإِسْلَامِ أَبِي ، أَلْتَمِسُ بِذَلِكَ قُرَّةَ عَيْنِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَدَقْتَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَالْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنے والد سیدنا ابوقحافہ رضی اللہ عنہ کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے وہ انہیں ساتھ لے کر چلتے ہوئے آئے تھے کیونکہ وہ ایک بوڑھے نابینا شخص تھے یہ فتح مکہ کے دن کی بات ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم نے ان بزرگوار کو گھر میں کیوں نہیں رہنے دیا تاکہ ہم ان کے پاس چلے جاتے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : میں نے یہ ارادہ کیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں اجر عطا کرے میری یہ حالت تھی کہ جناب ابوطالب کا اسلام قبول کرنا میرے نزدیک میرے والد کے اسلام قبول کرنے سے زیادہ خوشی کا باعث تھا ، اور رسول اللہ میرا مقصد اس کے ذریعے یہ تھا تاکہ اس کے ذریعے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم نے سچ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی اور امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10245
وَعَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : وَفَرَّ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهِلٍ عَامِدًا إِلَى الْيَمَنِ ، وَأَقْبَلَتْ أُمُّ الْحَكَمِ بِنْتُ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ مُسْلِمَةٌ ، وَهِيَ تَحْتَ عِكْرِمَةَ بْنِ أَبِي جَهْلٍ فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي طَلَبِ زَوْجِهَا ، فَأَذِنَ لَهَا وَأَمَّنَهُ . ¤ فَخَرَجَتْ بِعَبْدٍ لَهَا رُومِيٍّ فَرَاوَدَهَا عَنْ نَفْسِهَا ، فَلَمْ تَزَلْ تُمَنِّيهِ وَتُقَرِّبُ لَهُ حَتَّى أَدْلَتْ عَلَى أُنَاسٍ مِنْ عَكٍّ فَاسْتَعَانَتْهُمْ عَلَيْهِ فَأَوْثَقُوهُ ، فَأَدْرَكَتْ زَوْجَهَا بِبَعْضِ تِهَامَةَ ، وَقَدْ كَانَ رَكِبَ سَفِينَةً فَلَمَّا جَلَسَ فِيهَا نَادَى بِاللَّاتِ وَالْعُزَّى ، فَقَالَ أَصْحَابُ السَّفِينَةِ : لَا يَجُوزُ أَنْ تَدْعُوَ هَا هُنَا أَحَدًا إِلَّا اللَّهَ وَحْدَهُ مُخْلِصًا . فَقَالَ عِكْرِمَةُ : وَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ فِي الْبَحْرِ إِنَّهُ لَفِي الْبَرِّ وَحْدَهُ ، فَأُقْسِمُ بِاللَّهِ لَأَرْجِعَنَّ إِلَى مُحَمَّدٍ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ فَرَجَعَ عِكْرِمَةُ مَعَ امْرَأَتِهِ فَدَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَبَايَعَهُ ، وَقَبِلَ مِنْهُ . وَدَخَلَ رَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ حِينَ هَزَمَتْ بَنُو بَكْرٍ عَلَى امْرَأَتِهِ فَارًّا ، فَلَامَتْهُ وَعَجَّزَتْهُ وَعَيَّرَتْهُ بِالْفِرَارِ ، فَقَالَ : ¤ وَأَنْتِ لَوْ رَأَيْتِنَا بِالْخَنْدَمَهْ إِذْ فَرَّ صَفْوَانُ وَفَرَّ عِكْرِمَهْ وَلَحِقَتْنَا بِالسُّيُوفِ الْمُسْلِمَهْ ¤ يَقْطَعْنَ كُلَّ سَاعِدٍ وَجُمْجُمَهْ لَمْ تَنْطِقِي فِي اللَّوْمِ أَدْنَى كَلِمَهْ ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
عروہ بن زبیر بیان کرتے ہیں : عکرمہ بن ابوجہل فرار ہو کر یمن کی طرف روانہ ہوئے اُم حکیم بنت حارث بن ہشام جو اس وقت مسلمان ہو چکی تھیں اور عکرمہ بن ابوجہل کی اہلیہ تھیں انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اجازت مانگی کہ وہ اپنے شوہر کو تلاش کریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی اور عکرمہ کے لئے امان بھی دے دی وہ خاتون اپنے رومی غلام کو ساتھ لے کر وہاں سے روانہ ہوئیں ، اس غلام کی نیت میں فتور آ گیا وہ خاتون اس کو بہلاتی پھسلاتی رہیں ، یہاں تک کہ جب وہ ” عک “ کے مقام پر پہنچیں تو اس خاتون نے اس غلام کے خلاف ان لوگوں سے مدد مانگی ، تو ان لوگوں نے اسے باندھ دیا ، تہامہ میں کسی جگہ پر وہ خاتون اپنے شوہر کے پاس پہنچ گئیں جن کی یہ حالت تھی کہ وہ ایک کشتی میں سوار ہوئے تھے جب وہ اس کشتی میں بیٹھے تو انہوں نے لات اور عزی کو پکارا تو کشتی والوں نے کہا: کہ یہاں اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو پکارنا درست نہیں ہے اخلاص کے ساتھ صرف اسی کو پکارا جا سکتا ہے تو عکرمہ نے کہا: اللہ کی قسم اگر وہ سمندر میں کام آتا ہے ، تو خشکی میں بھی صرف وہی کام آ سکتا ہے میں اللہ کے نام کی قسم اٹھا کر یہ کہتا ہوں کہ میں واپس سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے پاس چلا جاؤں گا ، تو عکرمہ اپنی بیوی کے ساتھ واپس آ گئے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بیعت کو قبول کر لیا ۔ جب بنوبکر نے فرار ہوتے ہوئے ان کی اہلیہ کو پسپا کیا تھا اس وقت ہذیل قبیلے کا ایک شخص داخل ہوا تو اس خاتون نے انہیں ملامت کی انہیں عاجز قرار دیا ، اور انہیں فرار کے حوالے سے عار دلائی اور یہ اشعار کہے : ” کاش تم نے ہمیں خندمہ میں دیکھا ہوتا جب صفوان بھی فرار ہو گیا اور مکرمہ بھی ، اور ہمارے پاس سونتی ہوئی وہ تلواریں آ گئیں ، جوہر کلائی اور سر کو کاٹ دیتی ہیں ، ملامت کے بارے میں وہ کوئی چھوٹی سی بات بھی نہیں کہتی ہیں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور
یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور
یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 10246
وَعَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ قَالَ : أَخَذْتُ بِيَدِ أَبِي سُفْيَانَ فَجِئْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ يُحِبُّ السَّمَاعَ فَأَعْطِهِ شَيْئًا ، فَقَالَ : " مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ ، وَمَنْ أَغْلَقَ بَابَهُ فَهُوَ آمِنٌ " . ¤ ثُمَّ قَامَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَأَقْعَدْتُهُ عَلَى الطَّرِيقِ فَجَعَلَ يَمُرُّ بِهِ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَوْكَبَةً كَوْكَبَةً يَقُولُ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ فَأَقُولُ : هَؤُلَاءِ مُزَيْنَةُ ، فَيَقُولُ : مَا لِي وَلِمُزَيْنَةَ ، مَا كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَهُمْ حَرْبٌ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ ، ثُمَّ تَمُرُّ الْكَوْكَبَةُ فَيَقُولُ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ فَأَقُولُ : هَؤُلَاءِ جُهَيْنَةُ ، حَتَّى مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْمُهَاجِرِينَ فَلَمَّا نَظَرَ إِلَيْهِمْ مُقْبِلِينَ فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَقَالَ : لَقَدْ أُوتِيَ ابْنُ أَخِيكَ مُلْكًا عَظِيمًا . قَالَ : وَذَكَرَ كَلَامًا كَثِيرًا . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ بِاخْتِصَارٍ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ الْهَاشِمِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے ابوسفیان کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ابوسفیان ایک ایسا شخص ہے ، جو شہرت کو پسند کرتا ہے ، تو آپ اسے کوئی چیز دے دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص ابوسفیان کے گھر میں داخل ہو گا وہ مامون ہو گا ، جو شخص اپنا دروازہ بند کر لے گا وہ مامون ہو گا “ ۔ پھر وہ کھڑا ہوا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے راستے میں بٹھا لیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب دستوں کی شکل میں وہاں سے گزرنے لگے وہ دریافت کرتا تھا یہ کون لوگ ہیں ، تو میں یہ کہتا تھا یہ مزینہ قبیلے کے لوگ ہیں ، تو وہ یہ کہتا تھا میرا مزینہ کے ساتھ کیا واسطہ میری ان کے ساتھ نہ زمانہ جاہلیت میں کوئی جنگ تھی اور نہ زمانہ اسلام میں کوئی جنگ ہے پھر ایک اور دستہ گزرا ، تو اس نے دریافت کیا : یہ کون لوگ ہیں میں نے کہا: یہ جہینہ قبیلے کے لوگ ہیں ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین کے درمیان گزرے جب اس نے ان لوگوں کو آتے ہوئے دیکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ آ رہے ہیں ، تو اس نے کہا: تمہارے بھتیجے کو بڑی بادشاہی دے دی گئی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : اس کے بعد اس نے بہت سا کلام ذکر کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ ہاشمی ہے ، اور وہ متروک ہے یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
یہ روایت امام ابوداؤد نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسین بن عبداللہ بن عبیداللہ ہاشمی ہے ، اور وہ متروک ہے یحیی بن معین نے ایک روایت کے مطابق اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔
حدیث نمبر: 10247
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ كَانَ قَيْسٌ فِي مُقَدِّمَتِهِ فَكَلَّمَ سَعْدٌ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يَصْرِفَهُ عَنِ الْمَوْضِعِ الَّذِي هُوَ فِيهِ مَخَافَةَ أَنْ يُقْدِمَ عَلَى شَيْءٍ فَصَرَفَهُ عَنْ ذَلِكَ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے ، تو قیس ہر اول دستے میں تھے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات چیت کی کہ وہ جس مقام پر ہیں انہیں وہاں سے منتقل کر دیا جائے انہیں یہ اندیشہ تھا کہ وہ کسی چیز پر حملہ آور نہ ہوں تو انہیں ان کی جگہ سے ہٹا دیا گیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10248
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " النَّاسُ آمِنُونَ كُلُّهُمْ غَيْرَ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ خَطَلٍ " . فَقُتِلَ وَهُوَ مُتَعَلِّقٌ بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النَّشِيطِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ” سب لوگوں کو امان حاصل ہو گی صرف عبدالعزای بن خطل کا معاملہ مختلف ہے “ راوی کہتے ہیں : اسے اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ کعبہ کے پردوں سے لپٹا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سلیمان نشیطی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سعید بن سلیمان نشیطی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10249
وَعَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ : قَتَلْتُ عَبْدَ الْعُزَّى بْنَ خَطَلٍ وَهُوَ مُتَعَلِّقٌ بِسِتْرِ الْكَعْبَةِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوبرزہ اسلمی علی بیان کرتے ہیں : میں نے عبدالعزی بن خطل کو قتل کیا تھا جبکہ وہ خانہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ چمٹا ہوا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے ایک طویل حدیث میں نقل کی ہے ، اور امام طبرانی نے بھی نقل کی ہے ، اور امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10250
وَعَنِ السَّائِبِ بْنِ يَزِيدَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَتَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ خَطَلٍ يَوْمَ الْفَتْحِ ، أَخْرَجُوهُ مِنْ تَحْتِ أَسْتَارِ الْكَعْبَةِ فَضَرَبَ عُنُقَهُ بَيْنَ زَمْزَمَ وَالْمَقَامِ ، وَقَالَ : " لَا يُقْتَلُ قُرَشِيٌّ بَعْدَ هَذَا صَبْرًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ أَبُو مَعْشَرٍ نَجِيحٌ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن خطل کو قتل کروا دیا تھا لوگوں نے اسے خانہ کعبہ کے پردوں کے نیچے سے باہر نکالا اور پھر زمزم اور مقام ابراہیم کے درمیان اس کی گردن اڑا دی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : آج کے بعد کسی قریشی کو باندھ کر قتل نہیں کیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابومعشر نجیح ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10251
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى أُمِّ هَانِئٍ بِنْتِ أَبِي طَالِبٍ يَوْمَ الْفَتْحِ ، وَكَانَ جَائِعًا فَقَالَتْ لَهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَصْهَارًا لِي قَدْ لَجَأُوا إِلَيَّ ، وَإِنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ لَا تَأْخُذُهُ فِي اللَّهِ لَوْمَةُ لَائِمٍ ، وَإِنِّي أَخَافُ أَنْ يَعْلَمَ بِهِمْ فَيَقْتُلَهُمْ ، فَاجْعَلْ مَنْ دَخَلَ دَارَ أُمِّ هَانِئٍ آمِنًا حَتَّى يَسْمَعُوا كَلَامَ اللَّهِ . ¤ فَأَمَّنَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " قَدْ أَجَرْنَا مَنْ أَجَارَتْ أُمُّ هَانِئٍ " . ¤ وَقَالَ : " هَلْ عِنْدَكِ مِنْ طَعَامٍ نَأْكُلُهُ ؟ " فَقَالَتْ : لَيْسَ عِنْدِي إِلَّا كِسَرٌ يَابِسَةٌ ، وَإِنِّي لَأَسْتَحِي أَنْ أُقَدِّمَهَا إِلَيْكَ . فَقَالَ : " هَلُمِّي بِهِنَّ " . فَكَسَّرَهُنَّ فِي مَاءٍ وَجَاءَتْ بِمِلْحٍ . فَقَالَ : " هَلْ مِنْ إِدَامٍ ؟ " . فَقَالَتْ : مَا عِنْدِي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا شَيْءٌ مِنْ خَلٍّ . فَقَالَ : " هَلُمِّيهِ فَصُبِّيهِ عَلَى الطَّعَامِ " . ¤ فَأَكَلَ مِنْهُ ثُمَّ حَمِدَ اللَّهَ ثُمَّ قَالَ : " نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ ، يَا أُمَّ هَانِئٍ لَا يُقْفَرُ بَيْتٌ فِيهِ خَلٌّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ سَعْدَانُ بْنُ الْوَلِيدِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ ام ہانی بنت ابوطالب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لائے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوک محسوس ہو رہی تھی سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے کچھ سسرالی عزیز ہیں ، جنہوں نے میرے ہاں پناہ لی ہے ، اور سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ ایک ایسے فرد ہیں جو اللہ تعالیٰ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے مجھے یہ اندیشہ ہے کہ اگر انہیں میرے عزیزوں کے بارے میں پتہ چل گیا تو وہ انہیں قتل کر دیں گے ، تو آپ یہ چیز مقرر کر دیں کہ جو شخص اُم ہانی کے گھر میں داخل ہو گا وہ مامون شمار ہو گا یہاں تک کہ وہ لوگ اللہ کا کلام سنیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو امان دے دی آپ نے ارشاد فرمایا : ام ہانی نے جسے پناہ دی ہو اسے ہم بھی پناہ دیتے ہیں ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا تمہارے پاس کوئی ایسی چیز ہے ۔ جسے ہم کھا لیں ؟ انہوں نے عرض کی : میرے پاس تو صرف ایک روٹی کا خشک ٹکڑا ہے ، اور اسے آپ کے سامنے پیش کرتے ہوئے مجھے شرم آتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہی لے آؤ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے اس کو توڑ کر پانی میں ڈالا پھر وہ نمک لے کے آئیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا کوئی سالن ہے ؟ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس کچھ نہیں ہے صرف تھوڑا سا سرکہ ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہی لے آؤ اور اسے کھانے پر ڈال دو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھا لیا اور پھر آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : سرکہ اچھا سالن ہے اے اُم ہانی اس گھر کے لوگ سالن کے بغیر نہیں ہوتے جس میں سرکہ موجود ہو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی سعدان بن ولید ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی سعدان بن ولید ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 10252
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَوْمَ الْفَتْحِ قَاعِدًا ، وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمٌ عَلَى رَأْسِهِ بِالسَّيْفِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ وَهْبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے سرہانے تلوار لے کے کھڑے ہوئے تھے ۔
یہ روایت امام بزار نے اسحاق بن وہب کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اسحاق بن وہب کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 10253
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا قَدِمَ مَكَّةَ وَجَدَ بِهَا ثَلَاثَ مِائَةٍ وَسِتِّينَ صَنَمًا ، فَأَشَارَ بِعَصَاهُ إِلَى كُلِّ صَنَمٍ مِنْهَا ، وَقَالَ : " جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا " . فَيَسْقُطُ الصَّنَمُ وَلَمْ يَمَسَّهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : يُخَالِفُ وَيُخْطِئُ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے ، تو آپ نے وہاں تین سو ساٹھ بت پائے آپ اپنے عصا کے ذریعے ان میں سے ہر ایک بت کی طرف اشارہ کرتے تھے اور یہ پڑھتے تھے ” حق آ گیا اور باطل رخصت ہو گیا بے شک باطل نے رخصت ہی ہونا تھا “ تو وہ بت گر جاتا تھا آپ اس بت کو چھوتے نہیں تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عمر عمری ہے ، اور وہ متروک ہے ابن اسحاق نے اسے ثقہ قرار دیا ہے وہ یہ کہتے ہیں یہ ( دوسرے راویوں کے ) بر خلاف بھی نقل کرتا ہے ، اور غلطی بھی کرتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عمر عمری ہے ، اور وہ متروک ہے ابن اسحاق نے اسے ثقہ قرار دیا ہے وہ یہ کہتے ہیں یہ ( دوسرے راویوں کے ) بر خلاف بھی نقل کرتا ہے ، اور غلطی بھی کرتا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10254
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْفَتْحِ وَعَلَى الْكَعْبَةِ ثَلَاثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ صَنَمًا ، وَقَدْ شَدَّ لَهُمْ إِبْلِيسُ أَقْدَامَهُمْ بِالرَّصَاصِ ، فَجَاءَ وَمَعَهُ قَضِيبُهُ فَجَعَلَ يَهْوِي بِهِ إِلَى كُلِّ صَنَمٍ مِنْهَا فَيَخِرُّ لِوَجْهِهِ ، وَيَقُولُ : " جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا " . حَتَّى مَرَّ عَلَيْهَا كُلِّهَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم داخل ہوئے خانہ کعبہ میں اس وقت تین سو ساٹھ بت تھے ابلیس نے ان کے پاؤں سیسے کے ذریعے مضبوط کروائے ہوئے تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، تو آپ کے پاس ایک چھڑی تھی آپ اس کے ذریعے ان میں سے ہر ایک بت کی طرف اشارہ کرتے تھے ، تو وہ منہ کے بل گر جاتا تھا آپ یہ پڑھ رہے تھے : ” حق آ گیا اور باطل چلا گیا بے شک باطل نے جانا ہی تھا “ ۔ یہاں تک کہ آپ ان میں سے ہر ایک بت کے پاس سے گزرے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں
یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں
یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
حدیث نمبر: 10255
وَعَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ قَالَ : لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَكَّةَ بَعَثَ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ إِلَى نَخْلَةٍ ، وَكَانَتْ بِهَا الْعُزَّى ، فَأَتَاهَا خَالِدٌ وَكَانَتْ عَلَى ثَلَاثِ سَمُرَاتٍ ، فَقَطَعَ السَّمُرَاتِ ، وَهَدَمَ الْبَيْتَ الَّذِي كَانَ عَلَيْهَا ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : " ارْجِعْ فَإِنَّكَ لَمْ تَصْنَعْ شَيْئًا " . ¤ فَرَجَعَ خَالِدٌ فَلَمَّا نَظَرَتْ إِلَيْهِ السَّدَنَةُ وَهُمْ حَجَبَتُهَا أَمْعَنُوا فِي الْجِبَلِ ، يَقُولُونَ : يَا عُزَّى خَبِّلِيهِ ، يَا عُزَّى عَوِّرِيهِ ، فَأَتَاهُ خَالِدٌ فَإِذَا امْرَأَةٌ عُرْيَانَةٌ نَاشِرَةٌ شَعْرَهَا تَحْثُو التُّرَابَ عَلَى رَأْسِهَا ، فَغَمَّمَهَا بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلَهَا ثُمَّ رَجَعَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ ، فَقَالَ : " تِلْكَ الْعُزَّى " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ الْمُنْذِرِ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوطفیل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا ، تو آپ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو کھجوروں کے ایک باغ کی طرف بھیجا جہاں عزی نامی بت تھا سیدنا خالد رضی اللہ عنہ اس باغ میں آئے وہاں ٹیلے پر کچھ درخت تھے ، تو سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ان کو کٹوا دیا ، اور اس گھر کو منہدم کروا دیا جو اس پر موجود تھا ، پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم واپس جاؤ کیونکہ تم نے کچھ نہیں کیا ( یعنی پورا کام نہیں کیا ) سیدنا خالد رضی اللہ عنہ واپس گئے جب وہاں کے محافظین نے انہیں دیکھا تو انہیں پہاڑ میں نہیں آنے دیا وہ لوگ یہ کہہ رہے تھے اسے عزی ! اسے جنون لاحق کر دے ، اس کو قبیح کر دے ، سیدنا خالد رضی اللہ عنہ وہاں آئے ، تو وہاں ایک برہنہ عورت موجود تھی جس نے بال بکھرائے ہوئے تھے وہ اپنے سر پر مٹی ڈال رہی تھی سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اس پر تلوار کا وار کر کے اسے قتل کر دیا پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آئے ، اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ عزی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن منذر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن منذر ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 10256
وَعَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ مَرَّ عَلَى اللَّاتِ ، فَقَالَ : ¤ كُفْرَانَكِ لَا سُبْحَانَكِ إِنِّي رَأَيْتُ اللَّهَ قَدْ أَهَانَكِ ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّهُ مُرْسَلٌ . ¤
محمد محی الدین
ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں : سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا گزر ” لات “ سے ہوا ، تو انہوں نے یہ شعر کہا: ” تمہارا انکار کیا جائے گا تمہاری پاکی بیان نہیں ہو گی ، میں نے دیکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں کمتر قرار دیا ہے “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں تاہم
یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں تاہم
یہ روایت ” مرسل “ ہے ۔
حدیث نمبر: 10257
وَعَنِ الزُّهْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعُثْمَانَ يَوْمَ الْفَتْحِ : " ائْتِنِي بِمِفْتَاحِ الْكَعْبَةِ " . فَأَبْطَأَ عَلَيْهِ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمٌ يَنْتَظِرُهُ حَتَّى إِنَّهُ لَيَتَحَدَّرُ مِنْهُ مِثْلُ الْجُمَانِ مِنَ الْعَرَقِ ، وَيَقُولُ : " مَا يَحْبِسُهُ ؟ " . فَسَعَى إِلَيْهِ رَجُلٌ وَجَعَلَتِ الْمَرْأَةُ الَّتِي عِنْدَهَا الْمِفْتَاحُ - حَسِبَتْ أَنَّهُ قَالَ : أُمُّ عُثْمَانَ - تَقُولُ : إِنْ أَخَذَهُ مِنْكُمْ لَمْ يُعْطِيكُمُوهُ أَبَدًا ، فَلَمْ يَزَلْ بِهَا عُثْمَانُ حَتَّى أَعْطَتْهُ الْمِفْتَاحَ ، فَانْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَفَتَحَ الْبَابَ ، ثُمَّ دَخَلَ الْبَيْتَ ، ثُمَّ خَرَجَ وَالنَّاسُ مَعَهُ فَجَلَسَ عِنْدَ السِّقَايَةِ ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَئِنْ كُنَّا أُوتِينَا النُّبُوَّةَ وَأُعْطِينَا السِّقَايَةَ وَأُعْطِينَا الْحِجَابَةَ ، مَا قَوْمٌ بِأَعْظَمَ نَصِيبًا مِنَّا . فَكَأَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَرِهَ مَقَالَتَهُ ثُمَّ دَعَا عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَةَ فَدَفَعَ إِلَيْهِ الْمِفْتَاحَ وَقَالَ : " غَيِّبُوهُ " . ¤ قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ : فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عُيَيْنَةَ ، فَقَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَلِيٍّ يَوْمَئِذٍ حِينَ كَلَّمَهُ فِي الْمِفْتَاحِ : " إِنَّمَا أُعْطِيكُمْ مَا تُرْزَءُونَ ، وَلَمْ أُعْطِكُمْ مَا تَرْزُءُونَ " . يَقُولُ : أُعْطِيكُمُ السِّقَايَةَ لِأَنَّكُمْ تَغْرَمُونَ فِيهَا ، وَلَمْ أُعْطِكُمُ الْبَيْتَ . أَيْ إِنَّهُمْ يَأْخُذُونَ مِنْ هَدِيَّتِهِ ، هَذَا قَوْلُ عَبْدِ الرَّزَّاقِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
زہری بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا میرے پاس خانہ کعبہ کی چابی لے کے آؤ انہیں آنے میں تاخیر ہو گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ان کا انتظار کر رہے تھے ، یہاں تک کہ آپ کے پسینے کے قطرے نکل آئے جو موتیوں کی مانند تھے آپ نے فرمایا : وہ کیوں نہیں آ رہا ایک شخص دوڑتا ہوا ان کے پاس گیا تو پتہ چلا کہ جس خاتون کے پاس چابی تھی وہ انہیں چابی نہیں دے رہی تھی راوی نے یہ بات بیان کی ہے وہ خاتون سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی والدہ تھیں وہ یہ کہہ رہی تھیں کہ اگر انہوں نے تم سے یہ چابی لے لی تو پھر وہ تمہیں کبھی بھی یہ نہیں دیں گے ، اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس خاتون سے یہ کہہ رہے تھے کہ چابی دے دیں یہاں تک کہ اس خاتون نے انہیں وہ چابی دے دی وہ اس چابی کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دروازہ کھولا پھر آپ خانہ کعبہ کے اندر تشریف لے گئے پھر آپ باہر تشریف لائے آپ کے ساتھ کچھ لوگ تھے آپ سقایہ کے پاس تشریف فرما ہوئے ، تو سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہمیں نبوت عطا کی گئی ہمیں سقایہ کا منصب دیا گیا ہمیں حجابہ کا منصب دیا گیا تو کوئی بھی قوم ہم سے زیادہ حصے والی نہیں ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی یہ بات گویا ناگوار گزری آپ نے سیدنا عثمان بن طلحہ رضی اللہ عنہ کو بلایا اور چابی ان کو دیتے ہوئے فرمایا اسے سنبھال کے رکھو ۔ امام عبدالرزاق بیان کرتے ہیں : میں نے ابن عیینہ کو یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے بتایا : ابن جریج نے مجھے یہ بات بیان کی ہے کہ ابن ابوملیکہ نے یہ بات بیان کی ہے جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چابی کے بارے میں بات چیت کی تھی اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے یہ فرمایا تھا کہ میں تمہیں وہ چیز دوں گا ، جس میں تمہیں مشقت کا سامنا ہو وہ چیز نہیں دوں گا جس کا تم ہدیہ وصول کرو ، راوی کہتے ہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ کے ذریعے مراد یہ ہے : میں نے تمہیں ” سقایہ “ دیا ہے کیونکہ تم اس حوالے سے مشقت کا شکار ہوتے ہو میں نے تمہیں بیت اللہ کی چابی نہیں دی اس لئے کہ لوگ اس حوالے سے تحفے قبول کرتے ہیں یہ بیان امام عبدالرزاق کا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 10258
وَعَنْ عُرْوَةَ فِي تَسْمِيَةِ مَنِ اسْتُشْهِدَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَ الْفَتْحِ مِنْ قُرَيْشٍ ثُمَّ مِنْ بَنِي مُحَارِبِ بْنِ فِهْرٍ : كُرْزُ بْنُ جَابِرٍ . ¤
محمد محی الدین
عروہ نے فتح مکہ کے موقع پر شہید ہونے والے مسلمانوں کے ناموں میں یہ بات ذکر کی ہے کہ قریش کی شاخ بنو محارب بن فہر سے تعلق رکھنے والے سیدنا کرز بن جابر رضی اللہ عنہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10259
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ أَوْ حُنَيْنٍ أَلْفٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ وَكِلَاهُمَا ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے موقع پر ( راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ) غزوہ حنین کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بنوسلیم سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار افراد نے شرکت کی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں یزید نحوی اور عبداللہ بن أحمد بن حنبل کا معاملہ مختلف ہے ویسے یہ دونوں ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں یزید نحوی اور عبداللہ بن أحمد بن حنبل کا معاملہ مختلف ہے ویسے یہ دونوں ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10260
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : شَهِدَ فَتْحَ مَكَّةَ أَلْفٌ وَتِسْعُمِائَةٍ مِنْ جُهَيْنَةَ ، وَأَلْفٌ مِنْ مُزَيْنَةَ ، وَتِسْعُمِائَةٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، وَأَرْبَعُمِائَةٍ وَنَيِّفٌ مِنْ بَنِي غِفَارٍ ، وَأَرْبَعُمِائَةٍ وَنَيِّفٌ مِنْ أَسْلَمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُثْمَانَ أَبُو شَيْبَةَ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے موقع پر جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار نو سو افراد مزینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار افراد بنو سلیم سے تعلق رکھنے والے نو سو افراد اور بنوغفار سے تعلق رکھنے والے چار سو سے زیادہ افراد اور اسلم قبیلے سے تعلق رکھنے والے چار سو سے زیادہ افراد شامل تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عثمان ابوشیبہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم بن عثمان ابوشیبہ ہے ، اور وہ متروک ہے ۔
حدیث نمبر: 10261
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ الْفَتْحُ فِي ثَلَاثَ عَشْرَةَ خَلَتْ مِنْ رَمَضَانَ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : رمضان کی تیرہ تاریخ کو فتح مکہ ہوا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10262
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : لَمَّا فُتِحَتْ مَكَّةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " كُفُّوا السِّلَاحَ إِلَّا خُزَاعَةَ عَنْ بَنِي بَكْرٍ " ، فَأَذِنَ لَهُمْ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ قَالَ : " كُفُّوا السِّلَاحَ " ، فَلَقِيَ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ رَجُلًا مِنْ بَنِي بَكْرٍ مِنْ غَدٍ بِالْمُزْدَلِفَةِ فَقَتَلَهُ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَامَ خَطِيبًا ، فَقَالَ ، وَرَأَيْتُهُ وَهُوَ مُسْنِدٌ ظَهْرَهُ إِلَى الْكَعْبَةِ : " إِنَّ أَعْدَى النَّاسِ عَلَى اللَّهِ مَنْ قَتَلَ فِي الْحَرَمِ ، أَوْ قَتَلَ غَيْرَ قَاتِلِهِ ، أَوْ قَتَلَ بِذُحُولِ الْجَاهِلِيَّةِ " ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : إِنْ فُلَانًا ابْنِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا دَعْوَةَ فِي الْإِسْلَامِ ، ذَهَبَ أَمْرُ الْجَاهِلِيَّةِ ، الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ ، وَلِلْعَاهِرِ الْأَثْلَبُ " . قَالُوا : وَمَا الْأَثْلَبُ ؟ قَالَ : " الْحَجَرُ " . ¤ قَالَ : وَقَالَ : " لَا صَلَاةَ بَعْدَ الْغَدَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَلَا صَلَاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ " . قَالَ : " وَلَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا ، وَلَا عَلَى خَالَتِهَا " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ مِنْهُ النَّهْيُ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ ، وَفِي السُّنَنِ بَعْضُهُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبدالله بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے مکہ فتح ہو گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا : ہتھیاروں کو روک لو البتہ بنوبکر کے حوالے سے خزاعہ کا معاملہ مختلف ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو اجازت دے دی ، یہاں تک کہ جب آپ نے عصر کی نماز ادا کی تو پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ہتھیاروں کو روک لو اس دوران خزاعہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا ایک شخص بنو بکر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے مزدلفہ میں ملا اس نے اسے قتل کر دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ نے خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے راوی کہتے ہیں : میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے اپنی پشت خانہ کعبہ کے ساتھ لگائی ہوئی تھی آپ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے سامنے سب سے زیادہ سرکشی کرنے والا شخص وہ ہے ، جو حرم میں کسی کو قتل کرتا ہے یا اپنے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کرتا ہے یا زمانہ جاہلیت کی دشمنی کی بنیاد پر کسی کو قتل کرتا ہے ، تو ایک شخص آپ کے سامنے کھڑا ہوا اس نے عرض کی : فلاں شخص میرا بیٹا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسلام میں ایسے کسی دعوی کی کوئی حیثیت نہیں ہو گی زمانہ جاہلیت کے معاملات ختم ہو چکے ہیں بچہ فراش والے کو ملے گا اور زنا کرنے والے کو اثلب ملے گا لوگوں نے دریافت کیا : اثلب سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : پتھر ( یا محرومی ) راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : صبح کی نماز کے بعد کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ، یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے ، اور عصر کی نماز کے بعد کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی ، یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے ۔ آپ نے یہ بھی فرمایا : عورت کے ساتھ اُس کی پھوپھی پر یا اس کی خالہ پر نکاح نہیں کیا جائے گا ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ” صحیح“ میں اس روایت میں سے صبح کی نماز کے بعد نماز کی ممانعت والا حصہ مذکور ہے سنن میں بھی اس روایت کا کچھ حصہ مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 10263
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُمْ يَوْمَ الْفَتْحِ : " إِنَّ هَذَا الْعَامَ الْحَجُّ الْأَكْبَرُ ، قَدِ اجْتَمَعَ حَجُّ الْمُسْلِمِينَ ، وَحَجُّ الْمُشْرِكِينَ فِي ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ ، وَاجْتَمَعَ حَجُّ الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ مُتَتَابِعَاتٍ ، وَلَمْ يَجْتَمِعْ مُنْذُ خُلِقَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ ، وَلَا يَجْتَمِعُ بَعْدَ هَذَا الْعَامِ حَتَّى تَقُومَ السَّاعَةُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يُوسُفُ بْنُ خَالِدٍ السَّمْتِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : فتح مکہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے فرمایا : ” یہ سال حج اکبر کا ہے اس میں مسلمانوں کے حاجی اور مشرکین کے حاجی مسلسل تین دن تک اکٹھے رہے اس میں یہودیوں کا حج اور عیسائیوں کا حج مسلسل چھ دن تک اکٹھا ہوا جب سے آسمان اور زمین پیدا ہوئے ہیں اس وقت سے لے کر ( اب تک ) یہ کبھی اکٹھی نہیں ہوئے ، اور اس سال کے بعد بھی قیامت تک یہ کبھی اکٹھے نہیں ہوں گے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی یوسف بن خالد سمتی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔