حدیث نمبر: 10268
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : لَمَّا كَانَ يَوْمُ حُنَيْنٍ انْهَزَمَ النَّاسُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، وَأَبَا سُفْيَانَ بْنَ الْحَارِثِ ، وَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُنَادَى : " يَا أَصْحَابَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ ، يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ " . ثُمَّ اسْتَحَرَّ النِّدَاءُ فِي بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ، فَلَمَّا سَمِعُوا النِّدَاءَ أَقْبَلُوا ، فَوَاللَّهِ مَا شَبَّهْتُهُمْ إِلَّا [ إِلَى ] الْإِبِلَ تَحِنُّ إِلَى أَوْلَادِهَا ، فَلَمَّا الْتَقَوُا الْتَحَمَ الْقِتَالُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْآنَ حَمِيَ الْوَطِيسُ " . وَأَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى أَبْيَضَ فَرَمَى بِهِ ، وَقَالَ : " هُزِمُوا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ " . ¤ وَكَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ يَوْمَئِذٍ أَشَدَّ النَّاسِ قِتَالًا بَيْنَ يَدَيْهِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عِمْرَانَ بْنِ دَاوَرَ وَهُوَ أَبُو الْعَوَّامِ ، وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے موقع پر لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر پسپا ہو گئے صرف سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ کا معاملہ مختلف ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ یہ اعلان کیا جائے اے سورت بقرہ کے ماننے والو ! اے انصار کے گروہ پھر بنو حارث بن خزرج کو پکارا گیا جب انہوں نے آواز سنی تو وہ آ گئے اللہ کی قسم ان کی مثال میں یوں دے سکتا ہوں کہ جس طرح کوئی اونٹ اپنی اولاد کی طرف آتا ہے جب وہ لوگ آئے ، تو لڑائی تیز ہو گئی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اب بھٹی گرم ہو گئی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفید کنکریاں مٹھی میں لیں اور انہیں پھینکا تو فرمایا رب کعبہ کی قسم یہ لوگ پسپا ہو گئے ۔ راوی کہتے ہیں : اس وقت سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے شدید ترین لڑائی کی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف عمران بن داور کا معاملہ مختلف ہے وہ ابوعوام ہے ابن حبان اور دیگر حضرات نے اسے ثقہ قرار دیا ہے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10268
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (3606)»