مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ باب: غزوہ حنین کا بیان
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ السُّوَائِيِّ ; أَنَّهُ قَالَ عِنْدَ انْكِشَافَةٍ انْكَشَفَهَا الْمُسْلِمُونَ يَوْمَ حُنَيْنٍ فَتَبِعَتْهُمُ الْكُفَّارُ ، فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَبْضَةً مِنَ الْأَرْضِ فَرَمَى بِهَا وُجُوهَهُمْ وَقَالَ : " ارْجِعُوا شَاهَتِ الْوُجُوهُ " . ¤ فَمَا مِنَّا مِنْ أَحَدٍ يَلْقَى أَخَاهُ إِلَّا وَهُوَ يَشْكُو الْقَذَى وَيَمْسَحُ عَيْنَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤اور سیدنا یزید بن عامر سوائی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، وہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہِ حنین کے دن جب مسلمانوں میں بھگدڑ مچ گئی (اور وہ پیچھے ہٹ گئے ) تو کفار نے ان کا پیچھا کیا ۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین سے ایک مٹھی مٹی لی اور اسے ان (کفار) کے چہروں پر پھینکا اور فرمایا :” لوٹ جاؤ ! یہ چہرے ذلیل و رسوا ہو گئے “ ۔ (چونکہ یزید بن عامر اس وقت کافروں کے لشکر میں تھے ، اس لیے وہ بتاتے ہیں کہ اس مٹھی کا اثر یہ تھا کہ) ہم میں سے جو بھی اپنے کسی ساتھی سے ملتا تھا تو وہ آنکھ میں کرکری (مٹی یا تنکا) پڑنے کی شکایت کر رہا ہوتا تھا اور اپنی آنکھیں مل رہا ہوتا تھا ۔
(اسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے ، اور اس کے تمام راوی ثقہ ہیں) ۔