مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ باب: غزوہ حنین کا بیان
عَنْ أَنَسٍ قَالَ : قَالَ غُلَامٌ مِنَّا مِنَ الْأَنْصَارِ يَوْمَ حُنَيْنٍ : لَنْ نُغْلَبَ الْيَوْمَ مِنْ قِلَّةٍ . فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ لَقِينَا عَدُوَّنَا فَانْهَزَمَ الْقَوْمُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ ، وَأَبُو سُفْيَانَ بْنُ الْحَارِثِ آخِذٌ بِلِجَامِهَا ، وَالْعَبَّاسُ عَمُّهُ آخِذٌ بِغَرْزِهَا . وَكُنَّا فِي وَادٍ دَهْسٍ ، فَارْتَفَعَ النَّقْعُ فَمَا مِنَّا أَحَدٌ يُبْصِرُ كَفَّهُ ، إِذَا شَخْصٌ أَقْبَلَ فَقَالَ : " إِلَيْكَ مَنْ أَنْتَ ؟ " قَالَ : أَنَا أَبُو بَكْرٍ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، وَبِهِ بِضْعُ عَشْرَةَ ضَرْبَةٍ . ¤ ثُمَّ إِذَا شَخْصٌ قَدْ أَقْبَلَ ، فَقَالَ : " إِلَيْكَ مَنْ أَنْتَ ؟ " قَالَ : أَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ، وَبِهِ بِضْعُ عَشْرَةَ ضَرْبَةٍ . ¤ وَإِذَا شَخْصٌ قَدْ أَقْبَلَ وَبِهِ بِضْعٌ وَعِشْرُونَ ضَرْبَةً ، فَقَالَ : " إِلَيْكَ مَنْ أَنْتَ ؟ " . قَالَ : عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي . ¤ ثُمَّ إِذَا شَخْصٌ قَدْ أَقْبَلَ وَبِهِ بِضْعُ عَشْرَةَ ضَرْبَةً ، فَقَالَ : " إِلَيْكَ مَنْ أَنْتَ ؟ " فَقَالَ : عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي . ¤ ثُمَّ أَقْبَلَ النَّاسُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا رَجُلٌ صَيِّتٌ يَنْطَلِقُ فَيُنَادِي فِي الْقَوْمِ ؟ " . فَانْطَلَقَ رَجُلٌ فَصَاحَ فَمَا هُوَ إِلَّا أَنْ وَقَعَ صَوْتُهُ فِي أَسْمَاعِهِمْ فَأَقْبَلُوا رَاجِعِينَ ، فَحَمَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَحَمَلَ الْمُسْلِمُونَ مَعَهُ ، فَانْهَزَمَ الْمُشْرِكُونَ ، وَانْحَازَ دُرَيْدُ بْنُ الصِّمَّةِ عَلَى جُبَيْلٍ - أَوْ قَالَ : عَلَى أَكَمَةٍ - فِي زُهَاءِ سِتِّمِائَةٍ فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ : أَرَى وَاللَّهِ كَتِيبَةً قَدْ أَقْبَلَتْ ، فَقَالَ : حِلُّوهُمْ لِي ، فَقَالُوا : سِيمَاهُمْ كَذَا ، حِلْيَتُهُمْ كَذَا . قَالَ : لَا بَأْسَ عَلَيْكُمْ ، قُضَاعَةُ مُنْطَلِقَةٌ فِي آثَارِ الْقَوْمِ . ¤ فَقَالُوا : نَرَى وَاللَّهِ كَتِيبَةً خَشْنَاءَ قَدْ أَقْبَلَتْ . قَالَ : حِلُّوهُمْ لِي . قَالُوا : سِيمَاهُمْ كَذَا ، حِلْيَتُهُمْ كَذَا . قَالَ : لَا بَأْسَ عَلَيْكُمْ هَذِهِ سُلَيْمٌ . ¤ ثُمَّ قَالُوا : نَرَى فَارِسًا قَدْ أَقْبَلَ ، قَالَ : وَيْلَكُمُ ، وَحْدَهُ ؟ قَالُوا : وَحْدَهُ . قَالَ : حِلُّوهُ لِي ، قَالُوا : مُعْتَجِرٌ بِعِمَامَةٍ سَوْدَاءَ ، قَالَ دُرَيْدٌ : ذَاكَ وَاللَّهِ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ ، وَهُوَ وَاللَّهِ قَاتِلُكُمْ ، وَمُخْرِجُكُمْ مِنْ مَكَانِكُمْ هَذَا ، قَالَ : فَالْتَفَتَ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ : عَلَامَ هَؤُلَاءِ هَاهُنَا ؟ فَمَضَى وَمَنِ اتَّبَعَهُ فَقَتَلَ بِهَا ثَلَاثَ مِائَةٍ وَحَزَّ رَأْسَ دُرَيْدِ بْنِ الصِّمَّةِ ، فَجَعَلَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمِ بْنِ صُهَيْبٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ لِكَثْرَةِ غَلَطِهِ وَتَمَادِيهِ فِيهِ ، وَقَدْ وُثِّقَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : غزوہ حنین کے دن انصار سے تعلق رکھنے والے ہمارے ایک نوجوان نے یہ کہا: کہ آج ہم قلت کی وجہ سے مغلوب نہیں ہوں گے ، اور پھر یہ ہوا کہ جب ہم نے دشمن کا سامنا کیا ، تو ہم لوگ پسپا ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خچر پر سوار تھے سیدنا ابوسفیان بن حارث رضی اللہ عنہ نے اس کی لگام پکڑی ہوئی تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اس کی رکاب تھامی ہوئی تھی ہم ایک ایسی وادی میں تھے جس کی زمین نرم تھی اور غبار بلند ہوا تھا ہم میں سے کوئی شخص اپنی تھیلی کو نہیں دیکھ پاتا تھا اسی دوران کوئی شخص آتا ہوا محسوس ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھہرو تم کون ہو انہوں نے جواب دیا میں ابوبکر ہوں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ ان کے جسم پر دس سے زیادہ ضربیں لگی ہوئی تھیں پھر کوئی اور شخص آتا ہوا دکھائی دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم ٹھہرو تم کون ہو انہوں نے عرض کی : میں عمر بن خطاب ہوں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ۔ ان کے جسم پر بھی دس سے زیادہ ضربیں تھیں اسی دوران ایک شخص آتا ہوا دکھائی دیا جس کے جسم پر بیس سے زیادہ ضربیں تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم کون ہو انہوں نے عرض کی : میں عثمان بن عفان ہوں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں پھر ایک اور شخص آتا ہوا محسوس ہوا اس کے جسم پر دس سے زیادہ ضربیں تھیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھہرو تم کون ہو انہوں نے عرض کی : میں علی بن ابوطالب ہوں میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں پھر لوگ آ گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا کوئی اونچی آواز والا شخص جا کر لوگوں میں اعلان نہیں کرتا تو ایک صاحب گئے انہوں نے چیخ کر کہا: ان کی آواز لوگوں کی سماعت تک پہنچی تو وہ لوگ واپس پلٹ آئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ کے ساتھ مسلمانوں نے حملہ کیا ، تو مشرکین پسپا ہو گئے درید بن صمہ ایک چھوٹے پہاڑ پر یا ایک ٹیلے پر چڑھ گیا اس کے ساتھ چھ سو افراد تھے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے کسی نے آپ کی خدمت میں عرض کی : اللہ کی قسم مجھے لگتا ہے کوئی چھوٹا سا دستہ آ رہا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کا حلیہ میرے سامنے بیان کرو لوگوں نے بتایا : ان کی نشانی یہ ہے ، اور ان کا حلیہ اس طرح کا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں ہے یہ قضاعہ قبیلے کے لوگ ہیں جو دشمن کے پیچھے گئے تھے لوگوں نے عرض کی : اللہ کی قسم ہمیں ایک سخت قسم کا دستہ آتا ہوا محسوس ہو رہا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کا حلیہ میرے سامنے بیان کرو لوگوں نے بتایا : ان کی نشانی یہ ہے ، اور ان کا حلیہ اس طرح ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پر کوئی حرج نہیں ہے یہ سلیم قبیلے کے لوگ ہیں پھر لوگوں نے بتایا : ہمیں ایک شہسوار آتا ہوا نظر آ رہا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا ستیاناس ہو کیا وہ اکیلا ہے لوگوں نے عرض کی : وہ اکیلا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کا حلیہ میرے سامنے بیان کرو لوگوں نے بتایا : اس نے سیاہ عمامہ باندھا ہوا ہے ، تو درید نے کہا: اللہ کی قسم وہ زبیر بن عوام ہو گا اور اللہ کی قسم وہ تمہیں قتل کر دے گا اور وہ تمہیں تمہاری جگہ سے نکلوا دے گا راوی کہتے ہیں : پھر میں نے ان لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر دیکھا کہ لوگ کیا کر رہے ہیں ، تو وہ شخص اور اس کے پیروکار چلے گئے ، اور وہاں تین سو افراد قتل ہو گئے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ نے درید بن صمہ کا سر کاٹ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے رکھ دیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی علی بن عاصم بن صہیب ہے ، اور وہ اپنی کثرت سے غلطیوں اور زیادتی کی وجہ سے ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔