حدیث نمبر: 10279
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ عَامِرٍ السُّوَائِيِّ - وَكَانَ شَهِدَ حُنَيْنًا مَعَ الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ أَسْلَمَ - قَالَ : سَأَلْنَاهُ عَنِ الرُّعْبِ الَّذِي أَلْقَاهُ اللَّهُ فِي قُلُوبِهِمْ يَوْمَ حُنَيْنٍ كَيْفَ كَانَ ؟ فَأَخَذَ حَصَاةً فَرَمَى بِهَا طَسْتًا فَطَنَّ ، قَالَ : كُنَّا نَجِدُ فِي أَجْوَافِنَا مِثْلَ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

یزید بن عامر سوائی کے بارے میں یہ بات منقول ہے کہ جب مسلمان غزوہ حنین کے موقع پر بکھر گئے ، اور کفار نے ان کا پیچھا کیا ، تو اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین سے مٹی لی اور اسے دشمن کی طرف پھینکا اور فرمایا : واپس چلے جاؤ تمہارے چہرے قبیح ہوں راوی کہتے ہیں : تو ہم میں سے جو شخص بھی اپنے بھائی سے ملتا تھا تو وہ گندگی ( یا غبار ) کی شکایت کرتا تھا ، اور اپنی آنکھیں مل رہا ہوتا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10279
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (237/22)»