مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب المغازي والسير— مغازی اور سیر کے بارے میں روایات
بَابُ غَزْوَةِ حُنَيْنٍ باب: غزوہ حنین کا بیان
وَعَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ : قَالَ شَيْبَةُ بْنُ عُثْمَانَ : لَمَّا غَزَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حُنَيْنٍ ، تَذَكَّرْتُ أَبِي وَعَمِّيَ قَتَلَهُمَا عَلِيٌّ وَحَمْزَةُ ، فَقُلْتُ : الْيَوْمَ أُدْرِكُ ثَأْرِي فِي مُحَمَّدٍ ، [ فَجِئْتُهُ ] فَإِذَا الْعَبَّاسُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَلَيْهِ دِرْعٌ بَيْضَاءُ كَأَنَّهَا الْفِضَّةُ ، فَكَشَفَ عَنْهَا الْعَجَاجَ ، فَقُلْتُ : عَمُّهُ لَنْ يَخْذُلَهُ . ¤ فَجِئْتُهُ عَنْ يَسَارِهِ فَإِذَا أَنَا بِأَبِي سُفْيَانَ بْنِ الْحَارِثِ ، فَقُلْتُ : ابْنُ عَمِّهِ لَنْ يَخْذُلَهُ ، فَجِئْتُهُ مِنْ خَلْفِهِ فَدَنَوْتُ وَدَنَوْتُ حَتَّى لَمْ يَبْقَ إِلَّا أَنْ أَسُورَ سَوْرَةً بِالسَّيْفِ ، رُفِعَ لِي شُوَاظٌ مِنْ نَارٍ كَأَنَّهُ الْبَرْقُ فَخِفْتُ أَنْ يَحْبِسَنِي فَنَكَصْتُ الْقَهْقَرَى ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " تَعَالَ يَا شَيْبُ " . ¤ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدَهُ عَلَى صَدْرِي فَاسْتَخْرَجَ اللَّهُ الشَّيْطَانَ مِنْ قَلْبِي فَرَفَعْتُ إِلَيْهِ بَصَرِي وَهُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ سَمْعِي وَبَصَرِي وَمِنْ كَذَا ، فَقَالَ لَهُ : " يَا شَيْبُ ، قَاتِلِ الْكُفَّارَ " . ¤ ثُمَّ قَالَ : " يَا عَبَّاسُ ، اصْرُخْ بِالْمُهَاجِرِينَ الْأَوَّلِينَ الَّذِينَ بَايَعُوا تَحْتَ الشَّجَرَةِ ، وَبِالْأَنْصَارِ الَّذِينَ آوَوْا وَنَصَرُوا " . فَمَا شَبَّهْتُ عَطْفَةَ الْأَنْصَارِ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا الْبَقَرَ عَلَى أَوْلَادِهَا حَتَّى نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَأَنَّهُ حَرَجَةٌ . ¤ قَالَ : فَلَرِمَاحُ الْأَنْصَارِ كَانَتْ عِنْدِي أَخْوَفَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ رِمَاحِ الْكُفَّارِ ، ثُمَّ قَالَ : " يَا عَبَّاسُ ، نَاوِلْنِي مِنَ الْبَطْحَاءِ " . فَأَفْقَهَ اللَّهُ الْبَغْلَةَ كَلَامَهُ فَاخْتَفَضَتْ بِهِ حَتَّى كَادَ بَطْنُهَا يَمَسُّ الْأَرْضَ ، فَتَنَاوَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الْحَصْبَاءِ فَنَفَخَ فِي وُجُوهِهِمْ وَقَالَ : " شَاهَتِ الْوُجُوهُ حم، لَا يُنْصَرُونَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَبُو بَكْرٍ الْهُذَلِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤مکرمہ بیان کرتے ہیں : سیدنا شیبہ بن عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے کہ جب غزوہ حنین کے لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیاری کی تو مجھے اپنے والد اور اپنے چچا یاد آ گئے جنہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا تھا میں نے کہا: آج میں سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے اپنا بدلہ لے لوں گا میں آپ کے پاس آیا تو سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آپ کے دائیں طرف موجود تھے انہوں نے سفید زرہ پہنی ہوئی تھی یوں جیسے وہ چاندی کی بنی ہوئی ہو ، غبار ہٹا ، تو میں نے کہا: یہ تو ان کے چچا ہیں یہ انہیں رسوائی کا شکار نہیں کریں گے پھر میں بائیں طرف سے آپ کے پاس آیا تو وہاں ابوسفیان بن حارث موجود تھے میں نے کہا: یہ تو ان کے چچا زاد ہیں یہ انہیں رسوائی کا شکار نہیں کریں گے پھر میں پیچھے سے آپ کی طرف آیا میں قریب ہوتا گیا قریب ہوتا گیا ، یہاں تک کہ اتنا فاصلہ باقی رہ گیا کہ میں آپ کو تلوار مار سکتا تھا لیکن اسی دوران آگ کا ایک شعلہ میرے سامنے آیا جو برق کی مانند تھا مجھے یہ ڈر ہوا کہ کہیں وہ مجھے جلا نہ دے تو میں الٹے پاؤں پیچھے ہٹ گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرمایا : اے شیب آگے آ جاؤ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر رکھا تو اللہ تعالیٰ نے میرے دل سے شیطان کو نکال دیا میں نے نگاہ اٹھا کر آپ کی طرف دیکھا تو آپ میری سماعت اور میری بصارت میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھے پھر آپ نے مجھ سے فرمایا : اے شیب کفار کے ساتھ لڑائی کرو پھر آپ نے فرمایا : اے عباس مہاجرین اولین کو بلند آواز میں بالائیں جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی اور انصار کو بلائیں جنہوں نے پناہ دی تھی اور مدد کی تھی راوی کہتے ہیں : تو انصار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اس طرح واپس آئے جس طرح گائے اپنی اولاد کی طرف آتی ہے ، یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سواری سے یوں نیچے اتر آئے جیسے وہ درختوں کے اکٹھے ہونے کی جگہ ہوتی ہے ۔ راوی کہتے ہیں : انصار کے نیزوں کے حوالے سے میرے نزدیک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کفار کے نیزوں سے زیادہ خوف تھا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : اے عباس مجھے مٹی پکڑائیں اللہ تعالیٰ نے آپ کے خچر کو آپ کا کلام سمجھا دیا وہ نیچے جھک گیا ، یہاں تک کہ اس کا پیٹ زمین کے ساتھ مس ہونے لگا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریاں اٹھائیں اور پھر ان کے چہروں کی طرف پھونک ماری اور پھر یہ کہا: ان کے چہرے قبیح ہو جائیں ، حم لا ینصرون ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوبکر ہذلی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔